ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مسلم عائلی قوانین‘ میں اجنبی پیوند کاری
[پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد | مئی ۲۰۲۶ | فقہ و اجتہاد] پچھلے کچھ عرصے سے ہماری اعلیٰ عدلیہ نے نکاح، طلاق اور وراثت سے متعلق امور میں کچھ ایسے فیصلوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جن کے ذریعے خاندان اور معاشرے کی ساخت میں دُوررس تبدیلیاں واقع ہونے کا امکان ہے۔
مثال کے طور پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سیّدمنصور علی شاہ نے نفقہ اور بچے کی حضانت جیسے مسئلوں پر بعض ایسے فیصلے کیے جن کی بنیاد اسلامی قانون کےاصولوں پر نہیں تھی، بلکہ انھوں نے بعض بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے مسلمانوں کے شخصی قانون میں سمونے کی کوشش کی (مثلاً دیکھیے: محمد نواز بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ (PLD ۲۰۲۳ء سپریم کورٹ ۴۶۱)، ڈاکٹر محمد آصف بنام ڈاکٹر ثنا ستار (CRP ۴۵۸ بابت ۲۰۲۴ء))۔ اسی طرح سپریم کورٹ میں یہ رجحان جسٹس عائشہ ملک اور سابق جج جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلوں میں بھی نظر آتا ہے۔ (مسماۃ فاخرہ جبین بنام واصف علی (CPLA ۷۶۸ بابت ۲۰۲۲ء)، راجا محمد اویس بنام مسماۃ نازیہ جبین (SCMR ۲۱۲۳، بابت۲۰۲۲ء))۔
ان فیصلوں میں پاکستان کے قانونی نظام کے یہ مسلّمہ اصول نظرانداز کیے گئے ہیں کہ: ’بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کو پاکستان کی عدالتیں اس وقت تک نافذ نہیں کرسکتیں، جب تک ان دفعات کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے پاکستان کے قانون کا حصہ نہ بنایا جائے‘ اور یہ کہ ’جب ایسی قانون سازی ہو جائے تو اس کے بعد بھی اس قانون کی ایسی تعبیر لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو‘۔
یہ رجحان صرف سپریم کورٹ میں ہی نہیں بلکہ عدالت ہائے عالیہ کے کئی جج اسی نہج پر فیصلے دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۲۰۲۲ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ایک مقدمے میں کم عمری کے نکاح کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر جنسی تشدد (rape) کے قانون کا بھی اطلاق کردیا اور ایسا کرتے ہوئے فاضل جج نے اسلامی جمہوریہ میں ایک مسلم جوڑے کے نکاح پر انگریزی قانونِ عقد کے اصولوں کا اطلاق کیا ( مسماۃ ممتاز بی بی بنام قاسم (PLD ۲۰۲۲ اسلام آباد ۲۲۸))۔
اس فیصلے کے بعد وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک کمیٹی بنائی جس میں مجھے بھی شامل کیا گیا۔ میں نے اپنے تفصیلی تجزیے میں یہ رائے پیش کی کہ آئین و قانون کے بنیادی اصول نظر انداز کرنے کی بنا پر اس فیصلے کو ’لازمی نظیر‘ کی حیثیت حاصل نہیں ہے، نیز اس موضوع پر عدالت ہائے عالیہ کی جانب سے باہم متعارض فیصلوں کی بنا پر کسی ایک فیصلے پر عمل درآمد ممکن بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے اس موضوع پر تفصیلی قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ میری ان دونوں تجاویز کو کمیٹی نے اپنی سفارشات میں شامل تو ضرور کیا، مگر یہ معاملہ یہاں پر نہیں رُکا۔