ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
عقلی ثبوت
میں اسی جستجو اور حقیقت کی تلاش میں تھا کہ آوازسنائی دی: ’’اِدھر آؤ، ہم بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے!‘‘
دیکھا تو وہ ایک ایسی پاکیزہ کردار شخصیّت کی آواز تھی، جس نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں کبھی معمولی سا جھوٹ بھی نہیں بولا تھا۔ اس نے اپنی بات کا آغاز کرنے سے پہلے بستی والوں کو بلا کر پوچھا:’’اگرمیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن پہنچ چکے ہیں تو کیا تم مان لوگے؟‘‘ سب نے بیک زبان کہا :’’آپ ایک سچّے انسان ہیں، اس لیے ہمیں یقین ہے کہ آپ سچ ہی بولیں گے، اور ہم آپ کی ہر بات تسلیم کریں گے‘‘۔
پھر اس سو فی صد سچے انسان نے ایک ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران و پریشان ہوگئے۔ اُس پاکیزہ کردار انسان نے کسی استاد سے تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ سوائے ملک شام کے ایک تجارتی سفر کے اور کوئی ملک بھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر اب اس نے انسانی ذہن کے سب سے بڑے سوال کا جواب بتانا شروع کردیا۔ اب اس نے صرف قریش یا اہلِ مکہ نہیں، بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کو مخاطب کرنا شروع کردیا، اور زندگی گزارنے کے طریقے اور ضابطے بتانے شروع کردیئے۔ اور جب اس نے یہ کہا:’’اس کائنات اور انسانوں کا خالق اور پالنہار صرف ایک اللہ ہے، وہی ہر چیز کا خالق بھی ہے اور مالک بھی، اس لیے اپنی پوری زندگی کے افکار و افعال صرف اسی کی ہدایات و احکام کے مطابق ڈھالو، صرف اس کے آگے سجدہ کرو اور صرف اسی سے مانگو۔ وہ تمھارے ہر عمل اور فعل کا حساب رکھتا ہے۔ اس زندگی کے بعد سب کو اس کے حضور پیش ہونا ہوگا اور وہ دنیا میں تمھارے تمام اعمال کا حساب کرکے مکمل عدل کے ساتھ سزا اور جزا دے گا‘‘۔ یہ پیغام سننے کے بعد اس بستی کے بڑوں کو اپنی سرداریاں خطرے میں نظر آئیں۔ لہٰذا، وہ سب اس کی جان کے دشمن بن گئے۔
سرداروں نے پوچھا :’’آپ ایسی باتیں کیوں کرنے لگے ہو، تو جواب آیا: ’’کائنات کے خالق نے انسانوں تک اپنا پیغام اور ہدایات پہنچانے کے لیے مجھے اپنا نمائندہ (رسول) مقرر کیا ہے، جس طرح کہ مجھ سے پہلے بھی اللہ نے اپنے نمائندے (نبی اور رسول) مقرر کیے تھے۔ اللہ کا فرشتہ مجھے جوپیغام پہنچاتا ہے وہ میں آپ کو بتارہا ہوں‘‘۔ وہ کلام سنایا گیا تو سننے والے حیران و ششدر رہ گئے۔ یہ تو کوئی انوکھا اور حیرت انگیز کلام تھا۔ عرب کے بڑے بڑے ماہرین زبان و ادب جنھیں اپنی فصاحت وبلاغت پر ناز تھا، اس کلام کا طرزِ تخاطب اور حسنِ کلام دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے۔
ایسا کلام کسی نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ اختلاف کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بن جانے والے سردار وں کواب بھی اس کی صداقت وامانت پر پورا یقین تھا، پھر بھی پورا کھوج لگایا گیا کہ یہ کلام کہاں سے لکھوایا جاتا ہے؟ مگر کچھ بھی نہ ملا۔ پیغام بر (رسولؐ) چالیس سال تک اس بستی میں انھی لوگوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی زبان سے وہ اچھی طرح واقف تھے، اسی لیے ان سب کو معلوم ہوگیا کہ اس کی اپنی زبان و انداز اور ہے اور جسے یہ اللہ کا کلام کہتا ہے اس کا اسلوب و انداز، زبان اور طرزِ کلام بالکل مختلف ہے۔ اس نئے کلام میں ایک جلال ہے۔ یہ ایک commanding voice ہے۔ اس کا انداز authoritartive ہے۔ اس کا ایک ایک فقرہ بتاتا ہے کہ اس کلام کی وساطت سے کلام کرنے والا مخاطبین سے ایسے بات کررہا ہے، جیسے کوئی حاکم اپنی رعایا سے اور مالک اپنے غلاموں سے بات کرتا ہے۔ اس کلام کا جلال اور کمانڈنگ طرزِ تخاطب پہلے فقرے سے لے کر آخری فقرے تک ایک جیسا ہی رہتا ہے۔
۲۳برس تک آسمانوں اور پردئہ غیب سے پیغام آتا رہا۔ اس دوران پیغام بر (رسولؐ) کو شدید مظالم سہنے پڑے اور ذاتی صدموں سے بھی گزرنا پڑا، مگر اس پیغام کا شکوہ اور جلال اسی طرح برقرار رہا اور اس میں انسانی صدمات یا جذبات کی معمولی سی بھی جھلک نظر نہیں آتی۔ اس کے ایک ایک لفظ سے یہ واضح نظر آتا ہے کہ پیغام بھیجنے والے کی سطح اپنے مخاطبین سے بہت بلند ہے۔ سننے والوں میں دو باتوں پر مکمل اتفاق تھا کہ اپنے آپ کو اللہ کا نمائندہ (رسول) قرار دینے والا شخص بڑے سے بڑے فائدے کے لیے بھی جھوٹ نہیں بولتا، اور دوسرا یہ کہ جسے وہ آسمانوں سے اُترنے والا کلام کہتا ہے وہ اس کا نہیں ہے۔ اس کا اسلوب اور معیار بہت ہی مختلف اور بہت ہی بلند ہے۔ وہ دل سے مانتے تھے کہ یہ کلام نہ صرف پیغام بر کا نہیں بلکہ یہ کسی بھی انسان کا کلام نہیں لگتا ۔
انتہائی پاکیزہ کردار کا حامل انتہائی سچا اور حق گو انسان چالیس سال تک اپنی چھوٹی سی بستی مکّہ میں عام لوگوں جیسی زندگی گزارتا رہا اور عام لوگوں جیسی باتیں کرتا رہا۔ مگر اچانک ایک روز اس نے بستی کے لوگوں کو یہ بتا کر حیران کردیا کہ ’’زمین وآسمان کو ایک عظیم الشان ہستی نے تخلیق کیا ہے، وہ پوری کائنات کا خالق بھی ہے اور منتظم و مدبر بھی۔ خالق انسانوں کو تخلیق کرکے ان سے بے نیاز ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ وہ ہر انسان کے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے۔ اس دنیا کو اس نے انسانوں کا امتحان لینے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کے خاتمے کے بعد وہ اپنی عدالت لگائے گا اور وہ یومِ حساب ہوگا، جب ہر انسان کے اعمال کے مطابق اس کی جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا‘‘۔
ظاہر ہے کہ مجھ جیسا عقل اور شعور رکھنے والا انسان، ایسی باتیں کرنے والے کی جانب ضرور متوجہ ہوگا اور اس کی بات ماننے یا نہ ماننے سے پہلے دیکھے گا کہ چالیس سال تک اس شخص نے کبھی معمولی سا بھی جھوٹ نہیں بولا۔ اب اگر اس کی بات غلط ہے تو اسے اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے؟ اس کا اصل مقصداور محرک (motive) کیا ہے؟ وہ ایک انتہائی مخالفانہ ماحول میں نہ صرف خود اپنے موقف پر قائم رہا، بلکہ دوسروں کو بھی اپنے نظریے کا قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایسا کرنا خونخوار بھیڑیوں کے منہ میں ہاتھ دینے کے مترادف تھا، مگر وہ ایسا کرگزرا۔ اس پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑے گئے، مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ اسے کہاگیا کہ وہ ایسی باتیں کہنا چھوڑدے۔ اگر وہ اپنے نظریے کا پرچار نہ کرے تو سب سے خوب صورت عورت سے اس کا نکاح کردیا جائے گا اور پورے عرب کی سرداری اسے سونپ دی جائے گی۔
یہ اس زمانے اور حالات کے مطابق سب سے دل کش پیش کشیں تھیں، مگر اس نے ہرپیش کش کو ٹھکرادیا اور اس کے پائے استقامت میں معمولی سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔ وہ تکالیف سہتا رہا مگر اپنے موقف پر قائم رہا۔ اب ایک باشعور شخص یہ دیکھے گا کہ مکّہ کے تمام اکابرین کو ناراض کرنے میں اس کا مفاد کیا ہے؟ میں قانون کا طالب علم ہوں جس میں کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے طرزِعمل (conduct ) اور محرک (motive ) بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر اس کا کوئی دنیاوی مفاد ہوتا تو وہ اتنی دلکش آفرز قبول کرلیتا، مگر اس نے تمام پیش کشیں مسترد کرکے نہ صرف مصیبتوں کو گلے لگالیا بلکہ اپنی اور اپنے جانثاروں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ آخر کیوں؟
اب یہ دیکھا جائے گا کہ وہ اس پیغام کے ذریعے اپنے لیے کون سی مراعات یا کون سا سٹیٹس طلب کررہا تھا؟ ممکن ہے کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ وہ شاید اپنے لیے کسی مافوق الفطرت مرتبے کا طلب گار ہو؟ مگر وہ جو کلام اور پیغام سناتا ہے، اس میں تو اس کے لیے صرف ’پیغام بر‘ کی ذمّہ داری کا ذکر ہے۔ اس نے کائنات کی حقیقتوں یا روزِ قیامت کے بارے میں بھی کسی قسم کا علم یا اختیار رکھنے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ وہ تو ہر سوال کا یہی جواب دیتا ہے کہ ’’ہر چیز کی خبر اور علم رکھنے والا صرف اللہ ہے۔ میں تو صرف اس کا پیغام بر ہوں اور اس کا پیغام اور ہدایات آپ تک پہنچاتا ہوں‘‘۔
اب میں یہ سوچوں گا کہ ایک انتہائی حق گو انسان کسی دنیاوی مفاد کے بغیر اتنی تکلیفیں برداشت کررہا ہے مگر پیغام میں معمولی سی بھی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں، آخر کیوں؟ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب اسے اپنے پیغام کی صداقت پر ہزار فی صد یقین ہو۔ اتنا حق گو اور بے لوث شخص جو پیغام سنارہا تھا، وہ بھی حیرت انگیزاور غیرمعمولی ہے۔ اور پھر یہ دیکھ کر تواس کے مخالفین بھی حیران وششدر رہ گئے، کہ پیغام بر نے نہ صرف خدائی حکومت میں کوئی اختیار رکھنے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا بلکہ دو تین موقعوں پر معمولی انسانی لغزش پر پیغام بھیجنے والی ہستی نے پیغام بر کوجو تنبیہ کی تھی، وہ بھی اس نے چھپائی نہیں بلکہ سب کو صاف صاف بتادی۔ اس پر بستی کے کچھ سمجھ دار لوگ کہنے لگے کہ ’’اگر یہ کلام اس کا اپنا ہوتا تو سرزنش والا حصہ اس میں کبھی شامل نہ ہوتا‘‘۔ صاحبانِ دانش اب آپس میں کہنے لگے کہ یہ اب جس نوعیّت کی باتیں کررہا ہے، یہ صرف اس کی نہیں، یہ تو مکہ کے ہر شخض کی علمی اور عقلی سطح سے بہت بلند ہیں۔ یہ انسانی پیدائش کے مختلف مدارج بتارہا ہے۔ یہ انصاف کی اور انسانوں کے درمیان برابری کی بات کرتا ہے، عورتوں اور یتیموں کے حقوق بتا رہا ہے اور یہ جو اس نے وراثت کا پورا قانون بناکر دے دیا ہے، اس طرح کا پیچیدہ اور منصفانہ قانون تو عرب کے قابل ترین افراد اکٹھے مل کر بھی نہیں بناسکتے۔
اب اندر سے وہ اس کے دعوے کے قائل ہورہے ہیں اور ان کا نظریۂ الحاد پر اعتقاد ڈگمگانے لگا ہے، ہر نئی وحی آنے کے ساتھ گروہِ منکرین پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور نظریۂ الحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اس لیے فیصلہ ہوتا ہے کہ سرزمینِ عرب کے زبان و بیان کے تمام ماہرین اور شعراء کو کہا جائے کہ اس کلام کا توڑ پیش کریں۔ اِدھر یہ منصوبے بن رہے ہیں اور اُدھر اس پر آسمانوں سے وحی اترتی ہے کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر لائو، سب اکٹھے ہوکر اس جیسی ایک آیت ہی بنا کر لے آئو۔ بڑے بڑے ماہرین زبان و ادب یہ چیلنج سن کر گنگ ہوجاتے ہیں، کوئی ایک بھی یہ چیلنج قبول کرنے کی ہمّت نہیں کرتا۔
اس کے ساتھ ہی کچھ عمر رسیدہ اسکالرز کی زبانی پتہ چلتا ہے کہ یہ پیغام پہلی بار انسانوں کو نہیں سنایا جارہا، بلکہ ہزاروں سال پہلے وقت کے ایک جلیل القدر انسان ابراہیم علیہ السلام نے، جو اسی کی طرح سچّا اور حق گوانسان تھا، اپنی بستی کے لوگوں کو ہو بہو ایسا ہی پیغام سنایا تھا کہ زمین و آسمان کو کسی اور نے نہیں بلکہ اللہ نے تخلیق کیا ہے۔ تمام انسانوں کو اس کے سامنے پیش ہونا پڑ ے گا، جہاں ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ اس کے صدیوں بعد ایک اور غیر معمولی شخصیّت نے بالکل ویسا ہی پیغام اس وقت کے انسانوں تک پہنچایا۔ اُس کا نام موسیٰ علیہ السلام تھا اور پھر سیکڑوں برسوں بعد ایک اور جلیل القدر ہستی عیسیٰؑ اِبن مریم نے انسانوں تک یہی پیغام پہنچایا، اس کے بنیادی نکات بھی یہی تھے۔ لہٰذا، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ صرف پیغام بر بدلتے رہے ہیں، مگر ذریعہ (Source) ایک ہی ہے یعنی پیغام بھیجنے والی ہستی اور اس کا پیغام ایک ہی ہے۔
مکّہ میں انتہائی سچے پیغام برؐ نے جو پیغام سنایا، اس میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ پیغام نیا نہیں، یہی پیغام ہم پہلے پیغام بروں (انبیاؑ اور رسولوںؑ)کے ذریعے بھیج چکے ہیں۔ یہ سارے حقائق ، شواہد اور واقعاتی شہادتیں (Circumstantial Evidences) پیغام بر کا کیس مضبوط بنارہی ہیں۔ پوری کوشش کے باوجود مخالفین نہ پیغام بر میں کوئی کمزوری ڈھونڈ سکے اور نہ پیغام میں کوئی جھول تلاش کرسکے ہیں۔ اگر اب تک کی شہادتوں کا جائزہ لیں، یعنی سب سے پہلے پیغام بر کے طرزِ عمل کا جائزہ لیں تو پورے عرب میں اس کے پائے کا سچّا اور پاکیزہ کردار انسان کوئی نہیں۔ پھر محرک کا جائزہ لیں تو پوری کوشش کے باوجود مخالفین اس کا کوئی دنیاوی مفاد تلاش نہیں کرسکے ۔ پورے عرب کا حکمران بننے کے بعد بھی اس کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ رہا اور اکثر اس کے ہاں ون ڈش یعنی ایک سالن بھی نہیں پکتا تھا۔اور پھر جو پیغام وہ سنارہا تھا، وہ بھی نیا نہیں، یہ وہی پیغام تھا جو صدیوں سے کچھ اور جلیل القدر اور سچّے افراد، انسانوں تک پہنچاتے رہے، یہ اُسی کا تسلسل ہے۔ اب عقل ماننے لگی ہے کہ اس کا کیس بہت مضبوط ہے۔
دوسری طرف گروہِ ملحدین کی جانب مکمل خاموشی ہے یا مکمّل اندھیرا۔ ان سے صرف یہی پوچھ لیا جائے کہ آپ انسانی جسم کے ایک عضو’ جگر‘ کے بارے میں حتمی طور پر بتادیں کہ کیا جگر خودبخود بن گیا ہے اور اس کے سارے وظائف و افعال (functions) اپنے آپ ہی شروع ہوگئے ہیں؟ تو کوئی ایک سائنس دان یا ماہرِ اجسام وثوق سے یہ نہیں کہہ سکے گا کہ یہ خود بخود ہی سب کچھ کررہا ہے۔ وہ اب مانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کسی کی منصوبہ بندی کار فرما ہے۔ مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے، کس کی ہے؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ۔مگر دوسری جانب واضح جواب موجود ہے کہ صرف انسانوں کو نہیں پوری کائنات کو ایک عظیم الشان ہستی نے پیدا کیا ہے۔ اس ہستی کا مکمل تعارف بھی کرایا جاتا ہے اور انسانوں کو پیدا کرنے کا مقصد بھی بتایا جاتا ہے۔
اب گروہِ ملحدین کے پاس نہ ماننے کی صرف ایک دلیل رہ جاتی ہے کہ مانا کہ پیغام بر کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کا کوئی دُنیاوی محرک اور مفاد بھی نہیں، اس ذمّہ داری کے باعث اس نے ایک پُرامن اور خوش حال زندگی چھوڑ کر اپنے لیے بے پناہ مصیبتیں مول لے لیں اور جان خطرے میں ڈال لی۔ اس کا پیغام بھی انسانی نہیں بلکہ واقعی آسمانی لگتاہے۔ جس کی صداقت کی گواہیاں صدیوں سے دی جارہی ہیں، مگر ہم خالق یا اللہ کو اُس وقت ہی مانیں گے جب اسے آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اس پر کچھ اہلِ دانش نے ان ملحدین سے کہا کہ ’’کچھ حقیقتیںعینی شہادت نہیں واقعاتی شہادت کی بنا پر تسلیم کی جاتی ہیں، جس طرح آپ اپنے باپ کے خانے میں جو نام لکھتے ہیں، وہ تو آپ آنکھوں سے مشاہدہ کیے بغیر یا ڈی این اے دیکھے یا چیک کرائے بغیر صرف ماں اور باپ کی بات مان کر یقین کرلیتے ہیں، تو ہم دنیا بھر کے والدین سے زیادہ سچّے اور اُجلے کردار کی حامل ہستی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر کیوں یقین نہ کریں، جب کہ ان کی پیش کردہ اور بیان شدہ Corroborative Evidence (تائیدی شہادت) تو اور بھی بہت مضبوط ہے ‘‘۔