ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کتنا سلیقہ مند ، کتنا مہذب ، کتنا کارآمد
اس فکر کی سب سے نمایاں پہچان، اس کی سفاکانہ سنگ دلی ہے۔ بلاشبہ مزاحمتی تحریکوں کے کسی پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے طریقوں پر تنقید بھی ہوسکتی ہے، حتیٰ کہ بعض اقدامات کی مذمت بھی کی جاسکتی ہے۔ مگر غزہ، لبنان، ایران، کشمیر یا افغانستان کے بارے میں کسی ایک تجزیہ کار کا جذبات سے عاری ہوکر بات کرنا، پرلے درجے کی اخلاقی بے حسی ہے۔ بچے ملبے تلے دفن ہو رہے ہیں، خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ رہے ہیں، قیدیوں پر وحشیانہ تشدد ہو رہا ہے، معاشرے بھوک اور ننگ کا شکار ہیں اور ’معتدل‘ عالم یاد دلاتا ہے کہ اسکول کی ڈگری اور گنتی کی صلاحیت اہم ہے۔
یقیناً صلاحیت و تعلیم اہم ہے، حکمتِ عملی اہم ہے اور نتائج بہت اہم ہیں۔ مگر یک جہتی کے بغیر حکمت، حکمت نہیں، جسم و جان اور روح و تہذیب میں رچی بزدلی کا درس ہے۔ وہ ’احتیاط‘ جو کبھی طاقت سے ٹکراتی نہیں، وہ مزاجاً ظلم اور ظالم سے تعاون بن جاتی ہے۔ اور وہ مخصوص ’الٰہیات‘ جو مظلوم کو غیر معینہ مدت تک صرف جینے کی تلقین کرے، مگر مزاحمت کا کوئی سنجیدہ نظریہ نہ دے، وہ نبویؐ احتیاط نہیں بلکہ روحانی خود سپردگی و بزدلی کا نقارہ ہے۔
اسی لیے نائن الیون کے بعد مذکورہ صاحب کا کردار و بیان اہم ہے۔ وہ ایک ایسے دور کے لیے کچھ طاقت ور حلقوں کے ’محبوب‘ مصلح کے طور پر سامنے آئے، جو ’طاقت ور‘ حلقے متن سے دُوری پر رکھتے، اور لبرل اشرافیہ کے لیے باعثِ اطمینان بن کر ’اچھے‘ اور ’خطرناک‘ مسلمانوں میں فرق کی گنتی کرتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی نام نہاد ’روشن خیالی و اعتدال پسندی‘ کے تحت یہ طرزِ فکر اُس ریاست کو خودساختہ مذہبی جواز فراہم کرتا رہا ہے، جو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ تھی۔ اور اب یہی منطق عوامی مزاحمت کے بارے میں شکوک کو ہوا دیتی ہے۔
یہ سفر حادثاتی نہیں ہے۔ سامراج کو درکار ’معتدل مسلمانوں‘ کی کھیپ کی تیاری مطلوب ہے۔ وہ مسلمان جو محض نام نہاد ’انتہاپسندی‘ کا مخالف نہیں ہوتا۔(اگرچہ انتہا پسندی نہ قابلِ تعریف ہے اور نہ نظرانداز کرنے کے قابل، بلکہ یہ لفظ سامراجی لغت میں مخصوص پس منظر کے ساتھ مخصوص حلقوں پر ہی تھوپا جاتا ہے) مگر صرف اس حد تک نہیں رُکتا بلکہ وہ اس کھڑکی سے فائدہ اُٹھا کر پورا کھیل کھیلتا ہے اور ’انتہاپسندی‘ کی تعریف کو اس قدر وسیع کردیتا ہے کہ ہرسطح کی مزاحمت اپنی جگہ مشکوک بن جاتی ہے۔ وہ مسلم غصے کی شدت سے مذمت کرتا ہے اور سامراجی یا سامراج نواز مقامی عناصر کے تشدد و سفاکیت کی مذمت کرتے وقت الفاظ اس کے گلے میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔
موصوف کے مداح ہماری ان گزارشات کو ’ناانصافی‘ قرار دیتے ہوئے کہیں گے کہ ’وہ مستقل مزاج ہیں‘۔ واقعی ان کی یہ ’مستقل مزاجی‘ اس بات میں ہے کہ وہ مستضعفین اور زمین کے دبے کچلے لوگوں کو اپنی سیاسی فکریات کا نقطۂ آغاز بنانے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ مخصوص لفاظی کا کھیل کھیلتے ہوئے ترتیب، استحکام، صلاحیت اور نتائج کی اصطلاحوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ یہ سب الفاظ اور اُمور اہم ہیں، مگر جب یہ سب اصطلاحیں اور الفاظ ظالم کا ہتھیار بن جائیں تو انصاف ایک جھوٹا خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ مظلوم کو تھپکی دے کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت تک انتظار کرے جب تک وہ آزادی کا ’اہل‘ نہ ہو جائے۔
تاریخ، انتظار کرنے والوں نے نہیں بنائی۔ نوآبادیاتی حاکمیت اور جبر کے خلاف جدوجہد ہمیشہ خطرے، غلطیوں، قربانیوں اور ناممکن فیصلوں سے آگے بڑھی ہے۔ اس جدوجہد میں تخیل اور عزم شامل تھا، وہی شے جو غامدی صاحب کی سیاست میں گم ہے۔ ان کی دنیا اُن جامد درجہ بندیوں کے بھیس میں سامنے آتی ہے: ’’طاقت ور عمل کرتا ہے، کمزور برداشت کرتا ہے، اور ’عالم‘ وضاحت کرتا ہے‘‘۔
مگر اب دنیا بدل رہی ہے۔ سامراج مطلق العنان نہیں، صہیونیت ناقابلِ شکست نہیں، مسلم حکمران اور مسلم عوام ایک نہیں، اور کوئی ایسا مدرسہ نہیں جہاں شکست خوردہ بچّے ایسے ’ناصحین‘ کی نصیحت کے منتظر ہوں۔ یہ ایک زخم زخم تاریخی قوت ہے زندہ اور دھوکا کھائی ہوئی، مگر خاموش ہرگز نہیں۔ ان صاحب کا المیہ یہ نہیں کہ وہ احتیاط کی تلقین کر رہے ہیں، احتیاط تو بہرحال ضروری ہے۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کی احتیاط سیاسی خاموشی اور موت میں ڈھلنے کا درس دیتی ہے، اور یہ گونگاپن اور اطاعت انگیز فکریات، غلامی کا شکنجہ کسنے سے زیادہ کچھ نہیں۔انھوں نے خودکشی سے بچنے کے حکم کو، مقابلے سے بچنے کا حکم سمجھ لیا ہے، اخلاقی پسپائی کو حکمتِ عملی کی فالج زدگی سے خلط ملط کردیا ہے، اور اعتدال کو مخملی پٹے سے باندھ کر رکھ دیا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مسلمانوں کو بے باک ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم فکر کو محض اس نصیحت تک محدود کر دینا چاہیے کہ مظلوم، جبر کے باڑے میں بند مجبور بھیڑ بکریوں کا سا رویہ اختیار کریں؟ موصوف کا جواب غالباً ’ہاں‘ ہے۔ سامراج اس سے بہتر خطیب اور خطبہ نہیں مانگ سکتا تھا! (ترجمہ: س م خ)