مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

بنیادی اصول

قرآن و سنت میں اسلوبِ تجارت کے سلسلے میں دوطرح کے اصول و قواعد ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ تجارت کو کن صحیح اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے اور دوسرے یہ کہ وہ کون سے مفاسد ہیں، جن سے تجارت کو پاک صاف رکھنا لازمی ہے۔ قرآن و سنت کے ان مثبت و منفی اصولوں کو اپنانے سے تجارت ایک مقدس پیشہ اور مبارک طرزِعمل بن جاتی ہے۔

(۱) تجارت کا وجود چونکہ فریقین کے باہمی تعاون پر قائم ہے ، اس لیے جانبین کا درست تعاون بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور اس معاملے میں لوٹ کھسوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرآن پاک میں ہے: <<وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۝۰۠ (المائدہ ۵:۲)>> ’’بھلائی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و ظلم پر ہرگز کسی کے ساتھ تعاون نہ کرو‘‘۔

(۲) تجارت میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ جانبین کی حقیقی رضامندی ضروری ہے۔ خریدنے والے اور فروخت کرنے والے کا معاملے پر راضی ہونا نہایت ضروری ہے، لہٰذا اضطراری و جبری رضامندی معتبر نہیں ہوسکتی۔

<<يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۝۰ۣ (النساء۴:۲۹)>> اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ پر نہ کھائو اِلا یہ کہ [مال کا اکتساب] تجارت کی راہ سے باہمی رضامندی کے ساتھ ہو۔

<<عَنْ عَلِی رَضِی اللہ عنہ قَالَ: نَھٰی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَنْ بَیَعِ الْمُضْطَرِّ وَعَن بَیْعِ الغَرَرِ وَعَن بَیْعِ الثَّمْر قَبْلَ اَنْ تُدْرِکَ (ابوداؤد، کتاب البیوع باب فی بیع المضطر، ص ۳۴۸، مکتبہ التجاریہ، مصر)>> حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مضطر، بیع غرر اور پھلوں کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔

(۳) تجارت کا تیسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدوفروخت کرنے والے دونوں فریق معاملہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ قانونی اعتبار سے اہلیت کا مطلب یہ ہے کہ ان پر عمل کی ذمہ داری ڈالی جاسکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

<<قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم رُفَعِ القَلَمُ عَن ثَلٰـــثَۃٍ ، عَنِ المَجْنُونِ حَتّٰی یَبْرَءِ وَعَن النَائِم حَتّٰی یَستَیْقِظَ وَعَن الصَّبْیِ حَتّٰی یَعْقِلَ (ابوداؤد، ج۴، کتاب الحدود، ص ۱۹۷، مطبوعہ مصر)>> رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخصوں پر تکلیف [احکامِ]شرعی عائد نہیں ہے: مجنون پر حتیٰ کہ وہ ٹھیک ہوجائے۔ سونے والے پر تاآنکہ وہ بیدار ہوجائے، اور نابالغ بچّے پر جب تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائے۔

(۴) چوتھا اہم اصول یہ ہے کہ معاملے میں کسی قسم کا دھوکا، خیانت، ضرر و نقصان اور معصیت کا دخل نہ ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

<<قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اَفْضَلُ الکَسَبِ بِیْعٌ مَبْرُوْزَ وَعَـمِلُ الرَّجْلِ بِیَدِہٖ (احمد و طبرانی بحوالہ الفقہ علی مذاہب الاربعہ، ج۲،ص ۱۵۲، مطبوعہ مصر)>> رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین کسب بیع مبرور [جائز تجارت] اور دست کاری سے معاش پیدا کرنا ہے۔

<<قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: مَبْرُوْزِ لَا ضَرَر وَلَا ضِرَارَ(رواہ مالک فی المؤطاء )>> رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ نقصان اُٹھانا اور نہ نقصان پہنچانا۔

فقہا نے کہا ہے کہ بیع مبرور وہ بیع (خریدوفروخت) ہے جس میں جانبین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بھلائی کا طریقہ اختیار کریں اور اس میں دھوکا، خیانت اور خدا کی معصیت نہ ہو۔ تاجر کے اخلاق میں سب سے اچھا خلق ایفائے عہد اور صداقت ہے۔ اس سے تجارت کو فروغ نصیب ہوتا اور معاشرے کی مالی حالت مستحکم ہوتی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے بھی اس اخلاقی کمال کا بہترین نمونہ تھے۔ اسی طرح صداقت اور صاف گوئی کا بہترین نمونہ بھی آپؐ کی سیرت میں موجود تھا۔ قرآن و سنت نے تجارت کے سلسلے میں مثبت اصول بیان کرنے کے بعد یہ بھی بتایا کہ وہ کون سے طریقے ہیں، جو تجارت کو غیراسلامی اور غیر انسانی بنا دیتے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں ایسی تجارت کو بیع فاسد کا نام دیا گیا ہے۔ جھوٹ، ناپ تول کی کمی بیشی، دھوکا اور فریب، سود، بددیانتی، ذخیرہ اندوزی و نفع خوری وغیرہ، حضورؐ کے ارشادات سے ان [فاسد] اُمور پر کچھ روشنی پڑتی ہے، مثلاً:

<<عَن اَبِی قَتَادَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اِیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الحَلفِ فِی الْبَیعِ فَاِنَّہُ یُنَفِّقُ ثُمَّ یَمْحَقُ (رواہ مسلم)>> ابوقتادہؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھیں خریدوفروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا پہلے مال کو نکالتا ہے اور پھر روک دیتا ہے۔

<<عَن اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یَقُوْلُ: الْـحَلفُ مُنْفِقَۃٌ لِلْسِلْعَۃِ مُمْحِقَۃٌ لِلْبَرَکَۃِ (صحیح البخاری، کتاب البیوع)>> ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قسم مال کو چلانے والی مگر برکت کو زائل کرنے والی ہے۔

<<عَن اَبِی ذَّرٍ عَنِ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: ثَلٰثَۃَ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظرُ اِلَیْھِمْ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ قَالَ اَبُوذْرِّ قُلْتُ:قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوْا مَن ھُمْ یَارَسُولَ اللہَ ؟ قَالَ: السبِلٌ وَالْمَنَّانٌ وَالْمُنَفقُّ سَلعتَہٗ بِالْحلفِ الْکَاذِبْ (رواہ مسلم)>> ابوذرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن خداوند تعالیٰ بات نہ کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ابوذرؓ نے پوچھا: یارسولؐ اللہ ! وہ بدبخت اور نیکی سے محروم کون سے اشخاص ہیں؟ فرمایا: تہبند کو لٹکا کر چلنے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے والا۔

جائر و حلال تجارت کا ایک اہم پہلو پیمانوں کا صحیح رکھنا بھی ہے۔ قرآن پاک نے اسے عدل قرار دیا ہے اور اس میں کمی کرنے کو جرم۔ قرآن پاک نے قومِ شعیب ؑ کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی بتایا ہے کہ وہ ناپ تول میں کمی بیشی کرتی تھی۔ ناپ تول میں کمی بیشی کرنا حقیقت میں دوسرے کے حق کو غصب کرنا ہے۔ جو کوئی لینے میں تول کو بڑھاتا ہے اور دینے میں گھٹاتا ہے، وہ دوسرے کی چیز پر بے ایمانی سے قبضہ کرتا ہے، اور یہ بھی چوری ہی کی قسم بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اس سے بچنے کی تلقین آئی ہے۔ حضرت شعیبؑ اپنی قوم کو سمجھاتے ہیں:

<< اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ۝۱۸۱ۚ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ۝۱۸۲ۚ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۝۱۸۳ۚ (الشعراء ۲۶:۱۸۱-۱۸۳)>> پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو۔

سورئہ بنی اسرائیل میں جو اخلاقی نصیحتیں فرمائی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے:

<<وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۝۳۵ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۵)>> اور جب کوئی چیز ماپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کر و اور (جب تول کردو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہترین عمل اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔