ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تجارت کے اسلامی اصول
اسلام چونکہ زندگی کا مکمل ضابطہ ہے، اس لیے حیاتِ انسانی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کے بارے میں اس نےفکری و عملی رہنمائی نہ کی ہو۔ زندگی کا انفرادی پہلو ہو یااجتماعی، سیاسی ہو یا معاشرتی، اخلاقی ہو یا معاشی، اسلام کی اصولی رہنمائی ہرجگہ موجود ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو وہ ہے جس میں وہ اپنی بقائے ذات اور اتصال جسم و روح کے لیے ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کی کوشش کرتاہے۔ حیاتِ انسانی کی ہماہمی کا ایک بڑا حصہ اس کی انھی کوششوں کے باعث ہے، جو وسائل رزق کے حصول کے لیے وہ سرانجام دیتا ہے۔ اس سلسلے میں انسان کی ابتدائی کوشش شکار، پھلوں کا حصول اور پھر گلہ بانی اور کھیتی باڑی کا تجربہ تھا، جیساکہ آدم علیہ السلام کے دوبیٹوں قابیل اور ہابیل کے قصہ سے واضح ہے۔ ان سرگرمیوں میں بتدریج ترقی ہوئی۔ جیسے جیسے کاروانِ زندگی آگے بڑھا، انسان نے مختلف چیزوں کا باہم تبادلہ کرنا سیکھا اور یہیں سے تجارت کے طریقے وجود میں آئے۔ اور پھر زر کے تعین نے تجارت کو ایک مستقل پیشے کی حیثیت دے دی۔ انسانی معاشرت کے ابتدائی مراحل میں بھی ہمیں تجارت کا سادا سا تصور ملتا ہے۔
انسانی قافلۂ حیات نے بتدریج ترقی کے جن مراحل کو طے کیا، ان میں رزق حاصل کرنے کے ذرائع بھی شامل ہیں۔ تہذیب و تمدن کے عروج و زوال کی داستانوں میں زراعت، پیشہ ورانہ مہارت اور تجارت کو خاص مقام حاصل رہا ہے، بالخصوص تجارت تو وہ واحد ذریعہ تھی جو مختلف اقوام کو باہم روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کا مقالہ نگار کہتا ہے کہ رومی سلطنت کے عروج کے وقت، تجارت بین الاقوامی دائرہ میں داخل ہوچکی تھی (انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا، ج۴،ص ۸۰۲)۔ ایران اور ہندوستان کے تجارتی قافلے اور منڈیاں خاصی شہرت رکھتی تھیں۔ اقتصادی نظام کی ترقی اور اس کی برتری کا راز کم و بیش تجارت میں مضمر ہے۔ جو قوم جس قدر اس سے دلچسپی لیتی ہے، اسی قدر وہ اجتماعی لحاظ سے ترقی یافتہ ہوتی ہے اور جو قوم تجارت سے دلچسپی نہیں رکھتی، وہ اقتصادی نظام میں ہمیشہ دوسروں کی دست نگر رہتی ہے۔ اور اس راہ سے دوسری اقوام اس کے تمدن، تہذیب، معیشت و سیاست بلکہ مذہب پر بھی قابض ہوجاتی ہیں۔ جس قوم کے ہاں تجارت نہیں، وہ آج نہیں تو کل ضرور غلام بن کر رہے گی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تجارت کسی قوم کے اقتصادی نظام کی جان ہوتی ہے۔ اسی سے اس کی مادی حیثیت مستحکم ہوتی ہے اور اسی استحکام سے کسی ملک کی معاشرتی، سیاسی اور تہذیبی پختگی کا پتہ چلتا ہے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام جس شہر میں پیدا ہوئے وہ تجارت کا مرکز تھا اور آپؐ کے خاندان قریش کا ذریعۂ معاش ’تجارت‘ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعثت سے پہلے تجارت کو ہی معاش کا ذریعہ بنایا۔ آپؐ کے تجارتی سفر تاریخ سے ثابت ہیں اور حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کی تاجرانہ مہارت و صداقت ہی کی بنیاد پر آپؐ کو اپنا مال بغرضِ تجارت دے کر بھیجا تھا۔ قرآن و سنت نے مسلمانوں کو بار بار تجارت کی ترغیب دی اور اس کے فضائل و برکات بیان کیے:
<<فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہِ (الجمعہ ۶۲:۱۰)>> جب نماز مکمل ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کے فضل (یعنی رزق) کو تلاش کرو۔
<<لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۰ۣ (النساء ۴:۲۹)>> اپنے اموال کو آپس میں باطل کی راہ سے نہ کھائو بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو۔
<<يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ (البقرہ ۲:۲۶۷)>> اے ایمان والو! تم خرچ کرو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں۔
احادیث ِ نبویؐ میں آیا ہے:
<<عَنْ اَبِی سَعِیْد قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: التَّاجرُ الصَّدوقُ الامینُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِیْقِیْنَ وَالشُّھْدَاءِ>>(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، ص ۲۴۳، مطبوعہ کانپور) ابوسعیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچا اور امین تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔
<<عَنْ عبید بن رفاعۃ عن ابیہ عَن النَّبِی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: التُجَّارُ یُحْشَرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فُـجَارًا اِلَّا من اتَّقٰی وَبَــرَّ وَصَدَقَ (رواہ الترمذی)>> رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن تاجر، فاسق و فاجر اُٹھیں گے اِلا یہ کہ انھوں نے تقویٰ، بھلائی اور سچائی سے کاروبار کیا ہو۔
<<عَنِ المِقْدَامِ بنِ مَعْدِیکَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: مَا اَکَلَ اَحَدٌ قَــطُّ خَیْرًا مِن عَمَلِ یَدَیْہِ وَ اِنَّ نَبِیَّ اللہِ دَاؤْدَ کَانَ یَاکُلْ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ (رواہ البخاری)>> حضرت مقدام بن معدیکربؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے کبھی اس کھانے سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو ہاتھ کی محنت سے حاصل ہو اور اللہ کے نبی داؤدؑ ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔
<<عَن عَبدُاللہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: طَلَبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)>> حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال کمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنا بھی اللہ کے مقرر کردہ فریضہ [رزقِ حلال] کے بعد فرض کا ہی درجہ رکھتا ہے۔
انسانوں نے اپنی غلط روی سے جس طرح زندگی کے دوسرے اُمور میں خرابیاں پیدا کردی تھیں، اسی طرح تجارت میں بھی غلط کاریوں کی آمیزش ہوگئی تھی۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس طرح بداخلاقی، بے حیائی اور کفروشرک کا انسداد کیا۔ اسی طرح تجارت میں بھی غلط طریقوں کو ختم کیا اور صداقت و امانت کے مقدس اصولوں کوروشناس کرایا۔