ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ثقافتی یلغار اور نوجوانوں میں نشے کا رجحان
نوجوانوں کا ایک مسئلہ بڑھتا ہوا نشے کا رجحان ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۷۰،۸۰ لاکھ سے زائد نوجوان کسی نہ کسی طور پر منشیات کا شکار ہوچکے ہیں، ایڈکٹ ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے ثقافتی یلغار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کر دیا ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ جہاں ایک ضروری سہولت ہے، وہیں اس میڈیا پر موجود اکثروبیش تر مواد بُرائی اور اخلاقی گراوٹ اور فکری انتشار کا بہت مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ ایسے میں بُرائی سے بچنا کچھ آسان نہیں رہا۔ اسی لیے معاشرے میں بُرائی بہت تیزی سے نفوذ کر رہی ہے۔
اس منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس صورتِ حال کا سامنا اس طرح کرسکتے ہیں کہ سب سے پہلے خود اپنے مقصد ِ تخلیق (الکہف ۱۸:۷، الذاریات ۵۱:۵۶، الملک ۶۷:۲) اور خلیفہ اللہ فی الارض (البقرہ ۲:۳۰، الانعام ۶:۳۵) ہونے کی ذمہ داری کے تقاضوں کو قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ جان کر شرحِ صدر حاصل کریں۔ اور پھر اپنے گھر میں اپنے اہل خانہ اور بچوں کو بامقصد قیمتی وقت دیتے ہوئے ان مباحث و دلائل کو تدریجاً محبت و ہمدردی اور شرح صدر کے ساتھ زیربحث لاتے ہوئے اولادِ آدم کے مقصد ِ تخلیق، خالق و مالک کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کے ناتے سے عائد ہونے والی حق کی قولی و عملی شہادت کی ذمہ داری اور مقصد ِ زندگی سے روشناس کرائیں، اور ایسی بامقصد سچّی زندگی گزارنے اور دُنیا و آخرت میں ملنے والے اجر سے آگاہ کریں۔ پھر یہ بنیادی بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ جس جماعت اور جس تحریک کو ہم نے اپنے مشن کے طور پر اختیار کیا ہے، ہماری ہرممکن کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارے بچّے اپنی پوری آمادگی کے ساتھ اس مشن سے جڑجائیں۔
سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: <<وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۰ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا۶۹ (النساء۴:۶۹)>> ’’جو لوگ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاؑ اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں‘‘۔یہاں انبیاؑ کے بعد شہدا کا نہیں بلکہ صدیقین کا تذکرہ ہے۔ اندازہ کیجیے کہ حق و سچ پر مبنی بامقصد زندگی گزارنے کا کتنا بلند مقام و مرتبہ ہے!
ہم پر لازم ہے کہ اہل خانہ اور بچوں کی تربیت کے لیے ایک متوازن انداز اپنائیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کردہ بُردباری،وقار اور متانت پر مبنی ایک مشفقانہ نگرانی بھی بطور سربراہِ خاندان بچوں پر رکھیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان سے محبت بھی کریں۔ جہاں ان کی ضروریات بھی پوری کریں وہیں ان کو بھلائی کی ترغیب دیں۔
یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ برائیوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آگے بڑھ کر نیکی و بھلائی کی دعوت دینا شروع کر دیں۔ اگر آگے بڑھ کر پورے نظام کے خلاف، اس کی خرابیوں کے خلاف، اچھے لوگوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے، تو بُرائیوں کا مقابلہ بھی کرسکیں گے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت یہ ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ ہے کہ اشاعت و اقامت دین کی جدوجہد منظم انداز میں کی جائے۔ انفرادی کام کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اجتماعیت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے، یداللہ مع الجماعۃ (جامع الترمذی)۔انفرادی حیثیت میں بہت سارے لوگ اپنے دائرے میں خیر اور بھلائی کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر انسان جب اکیلا ہوتا ہے تو وہ شیطان کے گوناگوں حملوں کا شکار ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سارے انفرادی کام معاشرے میں خیر کا پہلو غالب کرنے کے حوالے سے غیرمؤثر رہتے ہیں، اور جب آپ اجتماعیت کے ساتھ وابستہ ہو کر کام کرتے ہیں تو تھوڑا کام بھی زیادہ بابرکت ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں قوت پیدا کر دیتا ہے۔