ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اللہ کے محبوب بندے
اللہ ربّ العزت اُن بندوں کو پسند فرماتا ہے اور انھیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے جو لوگوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنے والے ہیں ۔ بعض احادیث میں اس نکتہ کو بڑے دل نشیں انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ متعلقہ حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو: حضرت زید خیر ؓ سے روایت ہے: میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! اس شخص میں اللہ کی کیا نشانی ہے جس کو وہ چاہے، اور جس کو وہ نہ چاہے، اس میں اس کی کیا علامت ہے؟ فرمایا: اے زید تم نے کس حال میں صبح کی؟ میں نے عرض کیا کہ اس حالت میں کہ نیکی اور نیکی کرنے والوں سے مجھے محبت ہے اور اگر میں نیکی پر قادر ہوں تو اسے جلدی کرتا ہوں اور اگر نیکی فوت ہوجائے تو غمگین ہوجاتا ہوں اور رو پڑتا ہوں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’یہی اللہ تعالیٰ کی نشانی اس شخص میں ہے جس کو وہ چاہتا ہے اور اگر وہ تیرے لیے کسی اور چیز کا ارا دہ فرما لیتا تو تجھے اس کے لیے مستعد کر دیتا ‘‘۔(ابن الاثیر)
اس حدیث کی تشریح کے آخر میں مولانا محمد فاروق خاں رقم طراز ہیں: ’’نیکی سے کسی کی رغبت اس بات کی واضح علامت ہے کہ اللہ اسے چاہتا ہے اور اگر آدمی بجائے بھلائی اور خیر کے کسی اور چیز کے لیے مستعد ی دکھا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ و ہ اللہ کا مقبول بندہ نہیں ہے۔ اسی لیے اللہ نے اسے دوسرے کاموں کے لیے چھوڑ دیا‘‘ دو( کلام نبوت،م،محمد فاروق خاں، ص۱۷۳)۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی بندے کو محبوب بنالینا یقینی طور پر بہت بڑا اعزاز ہے جس سے خیر سے محبت و رغبت رکھنے والے مشرف کیے جاتے ہیں۔
اگر ہم غور کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی انتہا نہیں۔ وہ اپنے بندوں کو اکتسابِ خیر یا نیکی کمانے کی راہیں دکھاتا ہے۔ انھیں کارِ خیر کی تو فیق بخشتا ہے،نیک کام کے اجرِ جزیل اور ثوابِ کثیر کو اپنی کتابِ ہدایت میں بار بار بیان فرماکر نیکیاں کمانے کی تر غیب دیتا ہے اور اس میدان میں مسابقت کو مومن کا امتیازی وصف قرار دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہم ان آیات کو سمجھ کر پڑھیں جن میں بڑے دل نشیں انداز میں نیکی کمانے کی ترغیب دی گئی ہے اور اکتسابِ خیر پر ابھار ا گیا ہے: ’’جو شخص بھلائی کا کوئی کام انجام دے گا اسے اس سے زیادہ اجر ملے گا‘‘(النمل۲۷: ۸۹)۔’’جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے (کم از کم) دس گنا اجر ہے‘‘ (الانعام۶: ۱۶۰)۔ ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں‘‘۔( ھود۱۱:۱۱۴)