ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تعلیم و تدریس
مرحومہ کا تعلق انڈیا کے شہر حیدرآباد (تلنگانہ) سے تھا، جہاں انھوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد عثمانیہ یونی ورسٹی حیدرآباد سے گریجوایشن کیا۔ پھر وینکٹ سورا یونی ورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے پہلے ایم فل اور پھر ۱۹۹۱ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ حیدرآباد ہی کے ایک نوجوان اسکالر جناب ڈاکٹر ممتاز علی سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ ملائشیا منتقل ہو گئیں، جہاں انھوں نے طویل عرصے تک انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی آف ملائشیا کے شعبہ سیاسیات میں تدریس و تحقیق کی خدمات انجام دیں اور پھر قطر یونی ورسٹی سے بھی وابستہ رہیں۔
۱۹۷۰ء سے لے کر ۱۹۸۰ء تک اپنی تعلیم کے دوران وہ علامہ محمد اقبال، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا ابو الکلام آزاد، سعید النورسی، ڈاکٹر علی شریعتی، ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی، اور علامہ یوسف القرضاوی رحمہم اللہ اجمعین کے علمی اثاثے کا مطالعہ کرتی رہیں۔ تاہم، زینت کوثر سب سے زیادہ مولانا مودودی کی فکر اور ان کے طریقۂ استدلال سے متاثر ہوئیں۔ اس لیے وہ اسلام کو ایک تصورِ حیات اور نظامِ زندگی کے طور پر پیش کرتیں ہیں۔ وہ مغرب کے فکری غلبہ سے متاثر یا مرعوب نہیں ہوئیں، بلکہ زندگی کی حقیقت اور سچائی کو علمی اور سائنسی بنیادوں پر پیش کرتی، اور مغربی تصورات و نظریات پر اپنی متعدد تحریروں میں تجزیہ کرتی نظر آتی ہیں۔