ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نوجوانوں کا مطلوبہ کردار
جب آپ کی تعلیم و تربیت سے نوجوان اپنا مقصد ِ تخلیق، اپنی ذمہ داری اور مقصد ِ زندگی جان لیں گے، تو نوجوانوں کو اپنا کردار سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے حق و باطل کی کش مکش میں نوجوان ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو دعوت دینے کا آغاز کیا۔ پھر جب آپؐ کو حکم ہوا کہ اپنے قریب ترین لوگوں تک دعوت پہنچائیں (الشعراء ۲۶:۵۶)تو آپؐ نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کرکے دعوت پہنچائی۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں تمھیں ایک اللہ کی اُلوہیت کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ اس کی عبادت و اطاعت میں آجاؤ۔اپنا پرانا طرز ِزندگی چھوڑ دو۔ اس پر لوگ آپؐ کے مخالف ہو گئے کہ تم ہمیں باپ دادا کے دین سے پھیرنا چاہتے ہو۔ صرف یہی بات کرنے کے لیے ہمیں بلایا تھا!
حضرت علیؓ جن کی عمر صرف ۱۰ برس تھی، انھوں نے کہا کہ اگرچہ میری ٹانگیں کمزور ہیں، میں بہت کمزور ہوں لیکن میں آپؐ کا ساتھ دوں گا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ساتھ نبھایا۔ آپ رضی اللہ عنہ تو وہ تھے جن کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے وقت اپنے بستر پر چھوڑا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ وہ تھے کہ جنھوں نے بڑے بڑے دشمنوں کو چت کر دیا تھا، اور آپؓ ہی خیبر کے فاتح تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ زیدؓ بن خطاب، مصعب بن عمیرؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، عمرؓ بن خطاب، یہ سب نوجوان تھے۔ صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپؐ سے دو تین سال چھوٹے تھے۔ اس جدوجہد میں زیادہ تر نوجوان آپؐ کے ساتھ شریک تھے۔
سیّد ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی قائم کی تھی۔ اس سے پہلے انھوں نے اپنی تحریروں سے لوگوں کو اسلام کی حقیقت سے آگاہ کیا کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا حکم و ہدایت یہ ہے کہ اسلام ایک نظام کی صورت میں غالب ہو۔ دین مغلوب رہنے کے لیے نہیں بلکہ غالب ہونے کے لیے آیا ہے۔ لہٰذا، اسلام کے غلبہ کی جدوجہد شروع کی جانی چاہیے۔اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اس جدوجہد کے لیے ایک جماعت قائم کی جائے۔ جب جماعت اسلامی کا تاسیسی اجلاس ہوا تو ابتدائی طور پر ۷۵؍افراد جماعت کا حصہ بنے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اُس وقت ۳۸برس کے تھے۔ مولانا سے عمر میں بڑے شاید سات آٹھ افراد ہوں گے۔ باقی سب ۲۰ سے ۳۰ برس تک کی عمر کے نوجوان تھے۔ نوجوانوں ہی نے سب سے زیادہ اس دعوت کو قبول کیا۔ اسی طرح فلسطین کے نوجوانوں نے حماس کی اقامت ِ دین کی دعوت کو دل و جان سے قبول کیا ہے۔ اخوان المسلمون کی دعوت بھی نوجوان قبول کرتے ہیں اور پھر کام کرتے کرتے ان کی عمریں گزر جاتی ہیں۔ جس اسلامی تحریک کو دیکھیں اس میں نوجوان نظر آئیں گے۔
دنیا میں بڑے بڑے کام چھوٹی عمر کے نوجوان ہی کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان اس تحریک کا حصہ بنیں۔اگر طالب علم ہیں تو اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ بنیں۔ اگر مدرسے میں پڑھتے ہیں تو جمعیت طلبہ عربیہ میں شامل ہوں۔ اسکول کے طالب علم ’بزمِ پیغام‘ سے وابستہ ہوں یا جماعت اسلامی کے شعبۂ اطفال کا حصہ بنیں۔ جماعت اسلامی سے شعوری طور پر وابستہ گھرانہ نہ صرف اپنے بچوں کی تربیت کرسکتا ہے بلکہ اہل محلہ کے لیے بھی ایک مرکزِ تربیت بن سکتا ہے۔ اس طرح سے نوجوان احیائے اسلام اور معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔