مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مواخات کا منفرد اقدام

اوس اور خزرج میں سے کافی حد تک لوگ مسلمان ہوچکے تھے اور بہت تیزی سے آغوشِ اسلام میں آرہے تھے۔ اُن میں نوواردوں کا جوش و جذبہ تھا، لیکن قدیم عادات و روایات بھی بہت راسخ تھیں، اس لیے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاقِ فاضلہ اور موعظۂ حسنہ سے اُنھیں اوس اور خزرج کے محدود درجے سے اُٹھا کر ایک بلند ترین درجے پر فائز کردیا، یعنی اُنھیں انصار بنادیا، مددگار، ممدومعاون اور دست گیر و دست ِ راست۔ مہاجر تھوڑے سے تھے یعنی صرف ۴۵،۴۶ مگر یہ وہ لوگ تھے، جو مکہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے اور کفروضلالت کی بادِ صرصر میں چٹان کی طرح کھڑے رہے تھے۔ اُن سے ماضی کا خول بالکل اُتر چکا تھا اور وہ سرتاپاکُندن بن چکے تھے، لیکن وہ ایک عجیب صورتِ حال کے مظہر تھے۔ اُن کے کاروبار، مال و منال اور اہل و عیال مکہ میں تھے اور ان میں سے بیش تر صرف تن کے کپڑوںمیں چھپ چھپا کر مدینہ پہنچ گئے تھے۔ پھر بھی وہ بے حد خوش تھے، مطمئن تھے۔ مدینۃ النبیؐ تو ان کی منزلِ مقصود تھی۔

آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس بن مالکؓ کے دولت کدہ پر تشریف فرما ہیں۔ انصار بھی ہیں اور مہاجر بھی۔ آپؐ انصار میں سے ایک کو بلاتے ہیں اور مہاجرین میں سے ایک کو اور فرماتے ہیں: ’’یہ تمھارا بھائی ہے‘‘ اور یوں پینتالیس چھیالیس مہاجرین کو پینتالیس چھیالیس انصار کے ساتھ رشتۂ مواخات میں پرو دیتے ہیں۔ اس طرح کہ عمر، مزاج اور سماجی مرتبے کا بھی لحاظ رکھتے ہیں تاکہ یہ سب تسبیحِ وحدت کے دانے بن جائیں اور یوں حضرت ابوبکرؓ حضرت خارجہ بن زیدؓ کے، حضرت عمرفاروقؓ حضرت عتبانؓ بن مالک کے، حضرت عثمان غنیؓ حضرت اوسؓ بن ثابت کے، حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف حضرت سعدؓ بن ربیع کے، حضرت ابوعبیدہ ابن الجراحؓ حضرت سعد بن معاذؓ کے، حضرت بلالؓ حضرت ابوردیحہؓ کے، حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہؓ حضرت عباد بن بشرؓ کے، حضرت مصعب بن عمیرؓ حضرت ابوایوب انصاریؓ کے، حضرت سلمان فارسیؓ حضرت ابودرداءؓ کے بھائی قرار پاتے ہیں۔ رسمی یا موروثی بھائی نہیں بلکہ دینی بھائی، اسلامی بھائی۔

آں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نامزد کردہ بھائیوں نے اپنے گھر کی سوئیوں سے لے کر اپنے سرسبز و شاداب باغات کے پیڑوں تک کے نصف کو دل و جان سے اپنے مہاجر بھائیوں کے لیے وقف کردیا۔ اپنی جائیدادوں کا وارث بنادیا، حتیٰ کہ سعدؓ بن ربیعہ نے اپنے خداداد بھائی حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف کے حضور میں اپنی دوبیویاں بھی پیش کردیں کہ وہ جسے پسند فرمائیں، اسے طلاق دے دی جائے تاکہ وہ ان کی منکوحہ بن سکے۔ یہ قابیل و ہابیل والا دُنیاوی بھائی چارہ نہ تھا، یہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ نظامِ مواخات تھا اور اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ (الحجرات ۴۹:۱۰)کی جیتی جاگتی زندئہ جاوید عملی تصویر۔