ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بھلائی کرنے والے، اللہ کے پسندیدہ
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: <<اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۱۹۵ (البقرۃ۲:۱۹۵) ’’بے شک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتاہے ‘‘۔
قرآن کریم میں یہ آیت مزید چار مقام (اٰل عمرٰن۳: ۱۳۴،۱۴۸، المائدۃ ۵:۱۳،۹۳) پر آئی ہے۔ مترجمینِ قرآن نے ’ محسنین‘ کا ترجمہ اس طور پر کیا ہے: احسان کرنے والے،احسان کی روش رکھنے والے، نیکی کرنے والے، نیک کام کرنے والے، نیک لوگ،نیک عمل لوگ،نیک کردار لوگ، نیکو کار، خوب کار،خوبی کے ساتھ کام کرنے والے۔ مذکورہ بالا آیت سے پہلے کی آیت؍ آیات اور ان کے الفاظ کو ذہن میں رکھا جائے تو ’ محسنین‘کا مفہوم مزید واضح ہوجاتا ہے۔
اِن آیات میں (<< اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۱۹۵>> اللہ محسنین کو پسند فرماتا ہے ) سے پہلے اہلِ ایمان کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں ان کا مفہوم یہ ہے:اللہ کی راہ میں، فقراء،مساکین و محتاجوں کی اعانت میں مال خرچ کرنے والے، بخل سے اپنے آپ کو بچانے والے، غصہ پر قابو رکھنے والے، لوگوں کے ساتھ عفو و در گزر کا معاملہ کرنے والے،گناہ کے ارتکاب کے بعد متنبہ ہونے پر توبہ کرنے والے، گناہ سے پرہیز کا پختہ ارادہ کرنے والے، روز مرّہ زندگی میں (جسمانی، قلبی، فکری و عملی) پاکیز گی اختیار کرنے والے۔ اس کے علاوہ بعض آیات میں جن کاموں کی ہدایت کے معاً بعد اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۱۹۵>> کا ذکر ہے وہ ہیں : گناہ سے پرہیز کرنا، خوفِ الٰہی سے دل کو معمور رکھنا، تقویٰ اختیار کرنا، کسی سے غلطی یا خطا سرزد ہونے پر اسے معاف کردینا یا درگذر سے کام لینا (یعنی مشتعل ہوکر انتقام نہ لینا)، نیکی کا راستہ اختیار کرنا اور دوسروں کو اس کی دعوت دینا۔ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ اوصافِ محمودہ کے فیوض و ثمرات پر غور کیا جائے تو ان سب میں لوگوں کے ساتھ بھلائی یا احسان کرنے کا معاملہ غالب نظر آتا ہے، یعنی اُن کاموں کے سیاق میں اس آیت کا ذکر ہے جن سے معاشرے کے مختلف طبقات کے لوگوں کا بھلا ہوتا ہے، انھیں راحت پہنچتی ہے یا وہ تکلیف دہ، ضرر رساں ا ور اذیت ناک چیزوں سے محفوظ رہتے ہیں۔