مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اجتہاد بالمقاصد اور ہمارا معاشرہ

عہد ِ رسالتؐ اور خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں فقہ اسلامی (اجتہاد جس کا ایک اہم باب ہے) ہرقسم کے حالات میں زندگی کے تمام دائروں کے تمام معاملات سے متعلق قرآن و سنت کی تعلیمات یا دوسرے الفاظ میں اسلامی نظامِ حیات کے گہرے اور جامع فہم و ادراک کو سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسولؐ اللہ کی تعلیم و تربیت کے زیراثر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوئوںپر، ہرطرح کے حالات میں، وحی الٰہی کی روشنی میں غوروفکر کرنے کے عادی تھے۔خود رسولؐ اللہ بھی ان معاملات میں جہاں وحی الٰہی خاموش ہوتی، صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرماتے، ان کی آراء کو غور سے سنتے اور باہمی مشاورت سے مسائل کا حل فرماتے۔

عہدِ رسالت مآبؐ میں اُمت کے معاملات و مسائل کا حل تلاش کرنا زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔ اس لیے کہ آپؐ کو منصب ِ نبوت پرفائز ہونے کی بناپر مؤید بالوحی ہونے کی وجہ سے فیصلہ کن حیثیت حاصل تھی۔ لیکن رسولؐ اللہ نے اپنے اعلیٰ ترین منصب کے باوجود نہ صرف اپنے اصحاب کے ساتھ مشاورت کی بلکہ عموماً ان کی رائے کو قبول بھی فرمایا اور فیصلے ان کی رائے کے مطابق فرمائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد خلفائے راشدینؓ نے اس سنت پر پوری طرح عمل جاری رکھا۔اُمت کے معاملات میں انھوں نے اجتماعی یا مشاورتی اجتہاد کا اسلوب اپنایا۔ خلفائے راشدینؓ نے اجتہادی رائے قائم کرتے ہوئے شریعت کے بیان کردہ احکام کی حکمتوں اور اُمت مسلمہ کی مصلحتوں کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھا۔ انھوں نے اپنے دور میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کا حل ہمیشہ قرآن و سنت کے طے کردہ اصولوں ، مصالح اور ہدایات کی روشنی میں ہی تلاش کیا۔ خلفائے راشدینؓ کے فیصلوں کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ ان کے دل و دماغ میں شریعت کے مقاصد اور حکمتیں بھی واضح تھیں اور فیصلہ سازی میں اُمت مسلمہ کی مصلحتوں کو ملحوظ رکھنے کا تصور بھی واضح تھا۔

دورِ رسالت مآبؐ اور خلافت راشدہ کے عہد میں مقاصد شریعہ اور اجتہاد اور ان کے باہمی تعلق کا تصور بہت واضح تھا لیکن بعد میں ملوکیت کے زیراثر یہ تصور کمزور پڑنے لگا۔ بعد کے اَدوار میں جب مسلمان حکمرانوں میں ملوکیت کے رجحانات مزید بڑھے اور ان میں اپنی شان و شوکت کا مظاہرہ اور اختیارات کو وسعت دینے کا شوق غالب ہوا، تو انھوں نے اسلامی تعلیمات و احکام کو مسجدو محراب تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف فقہ اسلامی کی مباحث محدودیت کا شکار ہوئیں بلکہ اجتہادی عمل بھی جمود کا شکار ہوگیا اور اُمت میں جمود اور تقلیدِ محض کا رجحان بڑھنے لگا۔

چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں بعض فقہاء نے اَزسرنو مقاصدِ شریعہ کی طرف توجہ دلائی۔ امام الحرمین الجوینی (م:۴۷۸ھ) اور ان کے شاگرد امام غزالیؒ (م:۵۰۵ھ) نے اپنی تحریروں میں مقاصدِ شریعت پر بحث کی۔ عزالدین السلمیؒ (م:۶۶۰ھ) اور امام ابن قیمؒ نے بہت ہی علمی انداز میں مقاصدالشریعہ اور مصالح عامہ کے تصور پر کام کیا۔ امام شاطبی ؒ (م:۷۹۰ھ) کا کام مقاصد الشریعہ کے موضوع پر بہت وقیع ہے۔ انھوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ اسے فقہ اسلامی کے ایک مستقل موضوع کی حیثیت سے متعارف کرایا۔

عصرحاضر میں اُمت کا درد رکھنے والے بعض اہل علم نے اُمت مسلمہ کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے اصلاحِ احوال کی طرف توجہ دی ہے۔ انھوں نے اجتماعی اور مقاصدی اجتہاد پر علمی انداز میں کام کیا ہے۔ یہ علمی تحقیقی کام اسلام کی نشاتِ ثانیہ کی جدوجہد میں مصروف اسلامی تحریکات کی قیادت اور کارکنان کے لیے تحریکی جدوجہد کو ٹھوس اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے اور عصرحاضر کے چیلنجوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے مطلوب فکری، علمی و عملی تربیت کی اساس ہے۔

مسلم اہل علم اور فقہا مقاصد الشریعہ پر مختلف زاویوں سے لکھ رہے ہیں، خاص طور پر المعہد العالمی للفکر الاسلامی (امریکا) اور فقہ اکیڈمی (دہلی) نے اس موضوع پر بہت وقیع کام کیا ہے۔

فقہا ئے اسلام نے مقاصد الشریعہ کو تین قسموں: ’ضروریات‘، ’حاجیات‘ اور’ تحسینیات‘ میں تقسیم کیا ہے اور ہرقسم پر عمدہ بحث کی ہے۔ ہم نے اس مقالہ میں مسلم اُمہ کی موجودہ ضروریات اوران کی مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ’ضروریات‘ کے تحت آنے والے مقاصد ِ خمسہ کی تشریح و وضاحت تک اپنی بحث کو محدود رکھا ہے،اور کوشش کی ہے کہ مقاصد و مصالح کی اس انداز سے تشریح کی جائے کہ ہماری مقننہ، قانون ساز ادارے اور ملکی نظم و نسق کے ذمہ دار اہل حل وعقد موجودہ حالات میں درپیش مسائل و تحدیات کے حل کے لیے رہنمائی حاصل کرسکیں۔

’ضروریات‘ میں انسان کی وہ بنیادی ضرورتیں شامل ہیں، جن کے بغیر زندگی کا تصور مشکل ہے۔ ان میں: دین کا تحفظ، جان کا تحفظ، مال کا تحفظ، عقل و ذہانت کا تحفظ اور نسل کا تحفظ شامل ہیں۔ بعض فقہاء نے عزّت و آبرو کے تحفظ کو بھی ’ضروریات‘ میں شامل کیا ہے۔