مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ایک قائد کا جنازہ اور کشمیر میں پھیلا ظلم

اگست ۲۰۱۹ء کو نئی دہلی حکومت نے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو یک طرفہ طور پر روند کر صرف آئینی شقوں کا خاتمہ نہیں کیا تھا، بلکہ ایک قوم کی شناخت، تاریخ، سیاسی وجود اور اجتماعی شعور کو مٹانے کی کوشش تھی۔ اس کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر پر پوری قوت سے خوف، جبر اور خاموشی مسلط کی گئی۔گلیوں میں بندوقوں کی حکمرانی حاوی ہوگئی اور عوام کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک انتظام کیا گیا۔ دہلی میں آر ایس ایس کی حکومت نے یہ طے کرلیا تھا کہ کشمیری قیادت کو غیرمؤثر اور ان کی آواز کو بے معنی بنا دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے مزاحمت کی علامت شخصیات کو جیل خانوں کی تاریکیوں میں دھکیل دیا گیا اور مسلسل قید، ذہنی اذیت، تنہائی اور منصوبہ بند طبی غفلت اور من چاہے عدالتی فیصلوں سے انھیں موت کے دہانے تک پہنچایا گیا۔

دہلوی بھاجپا حکومت، کشمیری قائدین کے جنازوں سے بھی خوف محسوس کرتی آرہی ہے۔ انڈیا کے اس خوف کی وجہ کشمیری قائدین کی میتیں نہیں بلکہ وہ محبت ہے جو کشمیری عوام اپنے قائدین کی نسبت سے اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں۔ نسل پرست دہلوی حکومت جانتی ہے کہ اگر کشمیری عوام کو اپنے محبوب رہنماؤں کے جنازوں میں شرکت کی آزادی دی جائے تو مقبوضہ ریاست کی فضائیں انڈین تسلط کے خلاف نفرت اور آزادی کے نعروں سے گونج اٹھیں گی۔ اسی لیے ستمبر۲۰۲۱ء میں سیّد علی گیلانیؒ کو رات کی تاریکی میں زور زبردستی سے سپردِ خاک کرایا گیا، محمداشرف صحرائیؒ کی تدفین پر پابندیوں کا حصار قائم کیا گیا اور افضل گورو شہید کا جسدِ خاکی ورثا کے حوالے نہ کیا گیا۔ یہ سب واقعات اس خوف کی علامت ہیں جو ایک قابض قوت کو نہتے مگر باوقار عوام سے لاحق ہوتا ہے۔

یہ طے شدہ حقیقت ہے اور تاریخ کے سینے میں یہ اصول ہمیشہ زندہ رہا ہے کہ نظریات کو ہتھکڑیوں میں قید نہیں کیا جاسکتا اور محبت کو فوجی چھاؤنیوں میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ یہی حقیقت ۱۶مئی ۲۰۲۶ء کو سابق امیر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر شیخ غلام حسنؒ کے جنازے میں پوری شان سے آشکار ہوئی۔ یہ جنازہ نہیں تھا بلکہ خاموش وادی کی گھن گرج تھی۔ ایسے دکھائی دے رہا تھا جیسے کشمیر کی روح اپنے درویش صفت قائد کو الوداع کہنے نکل آئی تھی۔ دُور دراز بستیوں، قصبوں اور شہروں سے انسانوں کا ایک بے کنار سمندر امڈ آیا تھا۔ راستے تنگ پڑ گئے تھے، زمین سمٹتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ فضا عقیدت، غم اور عزم کے احساسات کی برقی رو میں بدل گئی تھی۔ لوگ دیواروں پر کھڑے تھے، چھتوں سے جھک جھک کر دیکھ رہے تھے، درختوں کے سائے تلے آنسو بہارہے تھے۔ یہ رقت آمیز مناظر اپنے محبوب قائد کی آخری جھلک دیکھنے کی تصویر تھے۔

شیخ غلام حسنؒ استقامت کا ایک استعارہ تھے۔ ان کی زندگی خاموش خدمت، فکری وابستگی اور نظریاتی پختگی کی داستان تھی۔ انھوں نے ایسے دور میں حق کی شمع روشن رکھی، جب اندھیروں کو گہرا بنانے کے لیے طاقت کے تمام وحشیانہ ہتھکنڈے آزمائے جارہے تھے۔ اسی لیے ان کا جنازہ ایک فرد کا جنازہ نہیں بلکہ ایک فکر کی تجدید بن گیا۔ جنازے کا یہ منظر دراصل نئی دہلی کے لیے ایک کھلا پیغام تھا کہ کشمیر آج بھی زندہ ہے، اہل کشمیر کی یادداشت تر و تازہ ہے، ان کی مزاحمت قائم و دائم ہے اور وہ آج بھی اپنے نظریے، تشخص اور حقِ آزادی سے وابستہ ہیں۔

ظلم وقتی طور پر خاموشی تو مسلط کرسکتا ہے مگر دلوں کے اندر روشن ہونے والی آزادی کی شمع کو بجھا نہیں سکتا۔ فضا میں گونجتے تحریکِ اسلامی کے نعرے سوگواروں کی محض بلند آوازیں نہ تھیں بلکہ وہ ایک قوم کی زندگی کا اعلان تھے۔ ہر چہرہ ایک داستان تھا، ہر آنکھ ایک عہد کی گواہ تھی اور ہراُٹھنے والا قدم پیغام دے رہا تھا کہ خوف کی موٹی چادریں کبھی دلوں کے یقین کو سرد نہیں کرسکتیں۔ کیمرے کی آنکھ حدِ نگاہ تک پھیلے اس انسانی سمندر کو محفوظ کررہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ مناظر کیمرے نہیں بلکہ تاریخ اپنے حافظے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرتی ہے اور شیخ غلام حسنؒ کا جنازہ انھی مناظر سے رقم ہوا۔

نئی دہلی حکومت یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ جموں و کشمیر جماعت اسلامی پر پابندیاں عائد کرکے، اس کے کارکنان کو زندانوں میں ڈال کر، اس کے ادارے بند کرکے اور اس کی زمینیں ضبط کرکے وہ اس فکر کو مٹا دے گی، جو آٹھ عشروں سے کشمیری معاشرے کی روح میں رچی بسی ہے۔ شیخ غلام حسنؒ کے جنازے نے ثابت کردیا کہ تحریکیں دفاتر سے نہیں، بلکہ دلوں سے جنم لیتی ہیں، دلوں پر راج کرتی ہیں اور ایسے دلوں پر نہ پہرے بٹھائے جاسکتے اور نہ پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔

وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ جائے گا، خبروں کی سرخیاں بدل جائیں گی، چہرے تبدیل ہوجائیں گے، سیاسی موقف بھی وقت کی گرد میں کہیں گم ہوجائیں گے، مگر شیخ غلام حسنؒ کے جنازے کے مناظر تاریخ کی پیشانی پر ہمیشہ روشن رہیں گے۔ جو مسلسل اعلان کرتے رہیں گے کہ قومیں اپنے شہیدوں، اپنے اسیروں اور اپنے نظریات کے سہارے زندہ رہتی ہیں اور جن دلوں میں یقین کی شمع روشن ہو، انھیں نہ جبر شکست دے سکتا ہے اور نہ وقت مٹا سکتا ہے۔

جموں وکشمیر میں انڈین قابض سیکورٹی فورسز نے ممتاز عالم دین اور جماعت اسلامی کے سابق امیر شیخ غلام حسن کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے پر کولگام میں نوجوانوں اور جماعت اسلامی کے کارکنوں سمیت ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔یہ مقدمات مقبوضہ علاقے میں خوف اور دہشت کے ماحول کے باوجود ہزاروں افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد درج کیے گئے۔ ان مقدمات اور پکڑ دھکڑ کی مقامی لوگوں نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اجتماعات اوراظہار غم کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔

’کل جماعتی حریت کانفرنس‘ کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری اپنے بیان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی نسل پرست حکومت کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی حکومت کی جانب سے بے گناہ لوگوں کے خلاف مقدمات کے اندراج کو ظلم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انڈین حکومت اپنی جابرانہ فوجی پالیسیوں کو ترک کرے جن کا مقصد کشمیریوں کے جذبۂ حُریت کو دبانا ہے۔ پُرامن مطالبات کو جرم قراردینے سے کشمیری عوام کی امنگوں کو دبایا نہیں جاسکتا۔

جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ضلع کولگام کے محمد یوسف تاریگامی علاقے کا دورہ کر کے جماعت اسلامی کشمیر کے سابق امیر شیخ غلام حسن کے انتقال پر اُن کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے پارٹی کارکنان، مقامی باشندگان اور متعدد افراد کے سامنے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اور سوگوار خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ شیخ غلام حسن ایک بڑے اسلامی اسکالر تھے جنھیں عوام میں بے حد عزت و احترام حاصل تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف آر ایس ایس کے ایک بڑے لیڈر پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان روابط بڑھانے کی بات کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف جماعت اسلامی کشمیر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس کے تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ہے اور اب جنازے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جارہے ہیں، جو افسوس ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اسکولوں سے بڑے بڑے اسکالر، ڈاکٹرز اور انجینئرز نکلے ہیں جنھوں نے معاشرے کی خدمت کی ہے جس کا اعتراف کرنا چاہیے۔