مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دین کا تحفظ

تحفظِ دین کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے دو حصے ہیں: پہلا حصہ ارکانِ اسلام پر مشتمل ہے۔ جس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام اہل ایمان کے لیے قرآن و سنت کے مطابق کیا جاتا ہے، جب کہ غیر مسلم شہری اپنے اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق اپنی عبادت گاہوں اور مذہبی تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں۔ البتہ جان و مال، عزت و آبرو، عقل و ذہانت اور نسل وغیرہ کے تحفظ کا حق ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حاصل ہے۔

تحفظِ دین کی ہم اس طرح بھی تعبیر کر سکتے ہیں کہ دین کا وہ حصہ جس کا تعلق ارکانِ اسلام اور وحی وغیرہ سے ہے، اس کی تعلیم کا اہتمام مسلمانوں کے لیے ان کے عقیدے کے مطابق کیا جاتا ہے، اور غیر مسلم شہریوں کو آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کرنے اور اپنے مذہب کی تعلیم کا اہتمام کریں۔ البتہ دین کا وہ حصہ جس کا تعلق علم و اخلاق سے ہے، وہ سب کے لیے مشترک ہے۔

ارکان اسلام سے ہٹ کر بھی علم کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ہر فرد کو حصولِ علم کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ حکومت اور معاشرے کی ذمہ د اری ہے کہ وہ ہر شخص کو تعلیمی سہولتیں مہیا کرے۔ علم و فن کے تمام شعبوں میں تعلیم و تعلّم اور بحث و تحقیق کا سلسلہ آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ حفاظتِ دین کے لیے تمام علوم میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مہارت اور کمال حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس میں ملک کے تمام شہریوں کو شرکت کا موقع ملنا چاہیے۔ اسی طرح فضائلِ اخلاق کی تعلیم بھی تحفظِ دین کے لیے ضروری ہے۔ اس میں بھی مملکت کے تمام باشندوں کو شریک رکھنا ضروری ہے۔

دین کے تحفظ کے لیے دو قسم کے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اقدام ایجابی (Affirmative) کہلاتا ہے۔ ایجابی اقدام کے ذریعے ان تمام علوم و فنون کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا ضروری ہے، جو ملک کی تعمیر و ترقی اور شہریوں کی تہذیب و تربیت کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اس فریضے کو انجام دینے کےلیے حالات اور زمانے کے مطابق تمام وسائل و ذرائع کو انتہائی ذہانت اور سمجھ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل کے زمانے میں تو بعض ممالک ذرائع ابلاغ کو جنگی مقاصد اور مملکتوں میں انتشار پھیلانے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اب جنگیں صرف میدانِ جنگ میں یا سرحدوں پر ہی نہیں لڑی جاتیں، بلکہ جنگ کی بہت سی نئی نئی صورتیں اختیار کرلی گئی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا استعمال مختلف علاقوں میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے بھی ہو رہا ہے۔ ان سب سے نمٹنے کے لیے نہ صرف دفاعی تیاریوں کی ضرورت ہے بلکہ اقدامی صلاحیت پیدا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جو ملک اقدامی صلاحیت سے محروم ہو وہ اپنے دفاع کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتا ہے۔ علم کے اس شعبے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مسلم ممالک مسلسل نقصان اُٹھا رہے ہیں۔

مسلم ممالک میں معاشرتی استحکام اور تہذیبی روایات کو مستحکم کرنے اور لوگوں کی فکر و اذہان میں اخلاقی حِس کو بیدار کرنے اور شعور کو اجاگر کرنے کے لیے اخلاقی تربیت کے نظام کو فروغ دینے کی انتہائی ضرورت ہے۔ اخلاقی تربیت دراصل بنیادی طور پر والدین کی ذمہ داری ہے۔ والدین اپنے بچوں کے لیے مثال اور نمونہ ہوتے ہیں۔ بچّے اپنے والدین کے عمل اور ان کی تعلیم و تربیت سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کے اثرات بہت دیر پا ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں خاندانی نظم کو مضبوط کرنے اور گھریلو نظم کو ایک مکتب اور تربیت گاہ بنانے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ گھر کے ساتھ اور گھر کے باہر تعلیمی اداروں کا کردار شروع ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں تعلیمی اداروں کو تربیت گاہوں میں تبدیل کرنا ہوگا، تاکہ ہمارے طلبہ مثبت فکر، تعمیری کردار اور بلند فکر و نظر کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بن سکیں۔

عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور لوگوں کے درمیان معاملات کو درست رکھنے کے لیے لوگوں کی فکری پختگی اور اخلاقی بالادستی بہت ضروری ہے۔ اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ علمی بحث و تحقیق کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ اس لیے علوم و فنون میں ارتقائی منازل طے کرنے اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد و منافع انسانوں تک پہنچانے کے لیے اجتہادی بصیرت سے کام لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ابلاغ کی نئی نئی صورتوں کو دریافت کرنا اور انھیں معروف، خیر اور نیکی کے قیام اور منکرات، شر اور بدی کی روک تھام کے لیے استعمال کرنا اور ابلاغ کے ذرائع پر مکمل دسترس حاصل کرنا بھی تحفظِ دین کے لیے ضروری ہے۔

تحفظِ دین کے لیے دوسرا اقدام سلبی (Preventive) ہے۔ سلبی اقدام کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے، جب معاشرے میں موجود شر کی قوتیں انسانی جانوں، مال، عزت و آبرو اور ملک کے نظم و نسق کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ معاشرے میں ارتکابِ جرائم اور فتنہ و فساد کی روک تھام کے لیے حالات و ضروریات کے مطابق سزاؤں کا مؤثر نظام ہر مہذب معاشرے کی اجتماعی و سماجی زندگی کی مسلسل تعمیروترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔

انسانی معاشرے میں، خواہ وہ معاشرہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، وہاں کچھ نہ کچھ شر کی قوتیں بھی موجود ہوتی ہیں، جو جرائم کا ارتکاب کرکے معاشرے کے ماحول کو خراب کرتی ہیں۔ جرائم میں مبتلا لوگوں کو سزا دینے اور ان کی اصلاح کا عمل ساتھ ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ معاشرتی جرائم اور شر کی قوتوں کے خلاف سزاؤں اور پابندیوں سے متعلق قانون سازی کا کام بہت حکمت اور مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اُمت کے ذمّہ اصل کام تو انسان کی اصلاح و تربیت ہے۔ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سزاؤں کا مقصد بھی اصلاح کرنا ہی ہے، لہٰذا مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجتہادی عمل کے ذریعے سزاؤں کا ایسا نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جس میں جرم کرنے والوں کے حالات اور نفسیات وغیرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیم و تربیت کے ذریعے اصلاح کی کوشش کرنا مؤثر ہوسکے۔ ہمارے خیال میں ملک میں رائج جیلوں کے نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہم جیلوں کو قید خانوں کے بجائے تعلیم و تربیت کی درس گاہوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے بہت مثبت اور مفید نتائج برآمد ہوں گے۔

وہ جرائم جن کی سزائیں قرآن و سنت میں مقرر کر دی گئی ہیں، وہ تو اسی طرح جاری کی جائیں گی، البتہ ان سزاؤں کو نافذ کرتے ہوئے ہمدردی اور یُسْر کے پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے علاوہ باقی تمام جرائم کی سزاؤں کے لیے قوانین، وقت و حالات اور ضرورت کے مطابق ہر دور میں فقہاء، عدلیہ اور قانون سازی کے ادارے اجتماعی طور پر طے کر سکتے ہیں۔

مسلمان فقہاء اور اہل علم نے ابتدائی چا رپانچ صدیوں میں بہت سے نئے نئے علوم سے دنیا کو متعارف کروایا، اور بحث و دریافت کی نئی نئی صورتیں سامنے لائے۔ یہ سب کچھ ان کی اجتہادی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ علم اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، جرح و تعدیل اور تصوف کے سلسلے، اجتہاد ہی کے مرہونِ منت ہیں۔

اجتہاد کے عمل میں فقہائے احناف کا یہ اصول بھی بہت اہم ہے کہ ’’فقیہ آنے والے زمانے پر نظر رکھے اور مستقبل میں پیش آنے والے مسائل اور چیلنجوں کا پہلے سے اندازہ کرکے حل تجویز کردیا جائے‘‘۔ اس اصول کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کا حل بھی پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ البتہ اجتہادی امور میں اس بات کی گنجائش ہوتی ہے کہ کسی واقعے کی حقیقت کو دیکھتے ہوئے رائے میں مناسب ترمیم کر لی جائے۔

تحفظِ دین کے سلسلے میں جو بھی مشکلات اور مسائل پیش آئیں، ان سے نمٹنے کے لیے غیرذمہ دارانہ رد عمل کا مظاہرہ کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ مشکلات جو بھی ہوں، مسائل جتنے بھی شدید ہوں، ان سے نمٹنے اور ان سے نکلنے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ ان سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کے لیے مسائل کو تحمل اور بصیرت و حکمت کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اہل علم جب اجتہادی عمل میں مصروف ہوتے ہیں تو انھیں مسائل کے حل کی بہت سی صورتیں مل جاتی ہیں۔

مقاصد شریعہ اصولی طور پر تحفظِ دین کی طرف توجہ دلاتے ہیں، لیکن تحفظِ دین کی صورتوں کا احاطہ کرکے انھیں محدود نہیں کرتے۔ تحفظِ دین کی صورتوں کی دریافت ہر دور اور زمانے کے فقہاء کی ذمہ داری ہے۔ تحفظِ دین کی دو صورتیں بہت اہم ہیں:

ایک صورت اس وقت پیش آتی ہے، جب دین کے بنیادی عقائد، کتاب و سنت اور اصولی ہدایات کے خلاف فکری یلغار کی جا رہی ہو۔ ایسی صورت میں کسی جذباتی رد عمل کا مظاہرہ کرنے کے بجائے نہایت تحمل کے ساتھ علمی انداز میں، دلائل و شواہد کے ساتھ معترضین کا جواب دینا چاہیے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم معترضین کے فلسفہ، دلائل اور اسلوبِ استدلال کو سمجھیں۔ مسلمان اہلِ علم کو یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ان کی حیثیت داعی کی ہے، اور داعی ہمیشہ تہذیب و اخلاق کے دائرہ میں رہتے ہوئے علمی دلائل کو بھی ناصحانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس کے پاس دونوں قوتیں ہوتی ہیں، علم و دلیل کی قوت بھی ہوتی ہے اور تہذیب و اخلاق کی قوت بھی۔

تحفظِ دین کی دوسری صورت اس وقت پیش آتی ہے، جب دشمن کی طرف سے مسلم اُمت کے خلاف جنگی تیاریوں کی اطلاع ملتی ہے۔ دشمن کی جنگی تیاریوں سے نمٹنے کے لیے اُمتِ مسلمہ پر جہاد واجب ہوجاتا ہے، لیکن عملاً جہاد کے آغاز سے قبل دو اہم کام کرنا بھی ضروری ہیں: ایک جہاد کے لیے پوری طرح تیاری کرنا، اس کا حکم قرآن حکیم میں اس طرح دیا گیا ہے:

<<وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ۝۰ۚ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ۝۰ۚ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ۝۰ۭ (الانفال۸: ۶۰)>> ان کے مقابلے کے لیے تم اپنی استطاعت کے مطابق جس قدر قوت اور جنگی تیاری کرسکتے ہو، ضرور کرو۔ اپنے گھوڑے تیار رکھو، اس قدر تیاری کرو کہ تمھارے دشمنوں اور اللہ سے دشمنی کرنے والوں پر تمھاری ہیبت طاری ہوجائے [ان دشمنوں پر بھی جنھیں تم جانتے ہو]، اور ان پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے، ہاں اللہ تعالیٰ انھیں خوب جانتے ہیں۔

جہاد کی تیاری ہر زمانے میں وقت اور بین الاقوامی صورت حال کے تناظر میں کی جاتی ہے۔ سورۂ انفال کی مذکورہ آیت مبارکہ میں جنگ کی زیادہ سے زیادہ تیاری کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس قوت و طاقت کو بلا ضرورت استعمال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ تیاری کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ دشمن پر ہیبت طاری رہے اور وہ مسلم مملکت پر حملہ آور ہونے سے اجتناب کرے۔ لیکن جب جنگ ناگزیر ہوجائے تو پھر پورے عزم و ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے میدانِ جنگ میں اُتر یں اور کامیابی کے لیے دشمن کا استقامت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

کسی ملک کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا فیصلہ دُور رس نتائج کا حامل ہوتا ہے، لہٰذا جنگ شروع کرنے سے پہلے نہ صرف اپنی تیاریوں کا جائزہ لینا ضروری ہے بلکہ دشمن کی جنگی صلاحیت اور اس کی تیاریوں پر بھی کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اور بین الاقوامی حالات، اہم ممالک کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں اور ان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے جنگ کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا جاسکتا۔

<<فقہاء اجتہاد کی تعریف بَذْلُ غَایَةِ الْجُهْدِ>> سے کرتے ہیں یعنی حتمی رائے قائم کرنے میں اپنی ساری فکری صلاحیتوں کو صرف کر دینا اجتہاد ہے۔ یہی عمل آج کے دور میں جنگ کا آغاز کرنے سے پہلے دہرانا ضروی ہے۔ جنگ کا فیصلہ فردِواحد نہیں کرسکتا بلکہ اجتماعی طور پر باقاعدہ شورائی انداز میں فیصلہ کرنے کے لیے اُمورِ حرب میں مہارت اور تجربہ رکھنے والوں کے علاوہ ایسے اہلِ علم فقہاء کی شرکت بھی ضروری ہے، جو قرآن و سنت پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ بین الاقوامی حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہوں، بین الاقوامی سیاست کو بھی سمجھتے ہوں۔ جہاد کا باقاعدہ اعلان حکومتِ وقت ہی ماہرین کی مشاورت سے کرے گی۔ کسی فرد، گروہ یا جماعت کو جہاد (جنگ) کا اعلان کرنے کا کوئی حق نہیں۔

موجودہ زمانے میں مختلف ممالک کے درمیان جنگوں نے مختلف صورت حال اختیار کر لی ہے۔ اب جنگیں میدانِ حرب میں اسلحہ و بارود کے ذریعے کم اور سیاست و معیشت، تجارت، سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں زیادہ لڑی جا رہی ہیں۔ بہت سے ممالک کے خفیہ ادارے اپنے حریف ممالک میں دہشت گردی، تخریب کاری یا غلط معلومات فراہم کرکے اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان پر نظر رکھنا اور ان کی چالوں سے ملک و قوم کی حفاظت کرنا دفاعی تیاریوں کا لازمی حصہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دفاعی یا اقدامی امور سے متعلق تمام معاملات کو انتہائی پوشیدہ رکھتے تھے۔ سیرت طیبہ کا یہ پہلو آج کے دور میں امت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ آج کل خفیہ ادارے نہ صرف حریف ممالک بلکہ دوست ممالک کے بھی راز چُرانے اور ان کے خلاف خفیہ سازشیں کرکے نقصان پہنچانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹکنالوجی اور آلات کو استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا مسلم امہ کو ان کی سازشوں سے بچنے کےلیے جدید ترین ٹکنالوجی اور سائنس پر عبور حاصل کرنے اور اپنے بچاؤ کے لیے حفاظتی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔