ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تحریکِ اسلامی کی پیش رفت
دُنیا بھر میں اسلامی تحریکوں نے جہاں جہاں کارکنوں کی نظریاتی اور عملی تربیت و تزکیہ کے مؤثر اندازاپناتے ہوئے انھیں نظریاتی، فکری و عملی یکسوئی کی نعمت سے مزین کیا ہے، اور سنجیدہ مقامی مسائل کے اسلامی حل کو اپنی دعوت و جدوجہد کا ہدف بنایا ہے، وہاں وہاں اسلامی تحریک کو اللہ ربّ العزت نے کامیابیوں سے نوازا۔ بنگلہ دیش، مصر اور فلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو ہمیں دعوتِ فکروعمل دیتی ہیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے قیدوبند کی صعوبتوں اور قیادت کی پھانسیوں کے باوجود اپنی نظریاتی یکسوئی اور محنت سے حالیہ انتخابات میں پونے تین کروڑ ووٹ حاصل کرکے ملک کی سیاست کا نقشہ بدل دیا ہے۔اخوان المسلمون نے ۲۰۱۲ء کے انتخابات میں تقریباً ۵۲ فی صد ووٹ حاصل کرکے ڈاکٹر محمد مرسی کی قیادت میں حکومت بنائی تھی۔
حماس کے لوگ اپنے قیام سے لے کر اب تک قربانیاں اور شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت بھی شہید ہوگئی۔ یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو صہیونیوں نے شہید کر دیا۔ انھیں بے گھر کیا گیا، زندگی گزارنا مشکل کردی گئی، مگر اس سب کے باوجودوہ پیچھے نہیں ہٹے۔ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے انھوں نے دُنیابھر کی رائے عامہ کو جوہری طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
اسلامی تحریکیں ہرجگہ ہر طرح کے حالات میں اپنے اپنے مقام پر ڈٹی ہوئی ہیں اور الحمدللہ، کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔ ہمیں بھی اپنے بچوں کے نظریاتی، فکری و عملی تزکیہ و تربیت پر پوری سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کی اعلیٰ تعلیم اور روشن مستقبل کی پلاننگ اسلامی تناظر میں کرنا اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، تاکہ وہ شعوری طور پر اس جدوجہد میں شمولیت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور دُنیا و آخرت میں اپنی کامیابی کا ذریعہ بھی سمجھیں۔ ہم جب اس طرح کام کریں گے تو اس سے وہ طاقت اور قوت پیدا ہوگی کہ کوئی بھی راستہ نہیں روک سکے گا، ان شاء اللہ!