ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نیکی میں سبقت لے جانے کی ترغیب
قرآن کریم میں اہلِ ایمان کے خاص امتیازات میں سے مسابقت بِالْخَیْرٰتِ ( نیکیاں کمانے میں ایک دوسرے سے سبقت کر نے کی کوشش کرنا ) اور مسارعت فِي الْخَــيْرٰتِ (نیکیوں کی طلب میں تیزی سے آگے بڑھ جانا) بیان کیا گیا ہے ( اٰل عمرٰن ۳ :۱۱۴، الانبیاء۲۱: ۹۰، المؤمنون۲۳ :۶۱، فاطر ۳۵ :۳۲) ۔ ارشادِ الٰہی ہے: <<يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۱۱۴ ( اٰل عمرٰن ۳ :۱۱۴)>> ’’ وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں،بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں،نیکیوں کی کمائی کے لیے تیزی سے آگے بڑھتے ہیں، یہی نیک لوگ ہیں‘‘۔
قرآن نے اہلِ ایمان کو بار بار نیکی کمانے کے میدان میں مقابلہ آرائی کی ترغیب دی ہے اور اس کے لیے ان الفاظ میں دعوت دی ہے: <<فَاسْتَبِقُوْا الْخَیْرٰتِ ۰ۭ (البقرۃ۲: ۱۴۸، المائدۃ ۵:۴۸)>> ’’ پس بھلائی کے کاموں کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کرو‘‘۔ <<وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۰ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ۱۳۳ (اٰل عمرٰن ۳: ۳۳ا، الحدید ۵۷:۲۱)>> ’’اپنے ربّ کی مغفرت اور اس جنت کے لیے آگے بڑھوجس کی وسعت آسمانوں و زمین کی طرح ہے۔ یہ پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ مغفرت ِ الٰہی اور جنت کی طلب میں تیزی سے آگے بڑھنے سے مراد اُن اعمال کی راہ میں آگے بڑھنا ہے جو اللہ کی مغفرت نصیب کرنے والے اور جنت کا مستحق بنانے والے ہیں۔
یہاں یہ ذکر بھی بر محل معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ فاطر کی آیت۳۲ میں کتابِ الٰہی پر عمل یا اس میں کوتاہی کے لحاظ سے لوگوں کو تین طبقوں میں تقسیم کرکے ان لوگوں کو بہت بڑے فضل سے مشرف قرار دیا گیا ہے جو اکتسابِ خیر میں دوسروں سے آگے بڑھ جانے کی فکر و کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ارشادِ ربّانی ہے: <<فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ۰ۚ وَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ۰ۚ وَمِنْہُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِـاِذْنِ اللہِ۰ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ۳۲ۭ (الفاطر۳۵:۳۲)>> ’’ان میں سے کوئی تو اپنے اوپر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی میانہ روی اختیار کرنے والا ہے، اور کوئی اللہ کی توفیق سے نیکیوں (کی کمائی) میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے‘‘۔
مزید یہ کہ ایک حدیث کے مطابق مومن کو خیر سے کبھی سیری نہیں ہوتی، یہاں تک کہ وہ اپنے راحت بھرے ٹھکانے جنت کو پہنچ جا تا ہے: <<لایشبع المومن من خیر یسمعہاحتّی یَکونَ منتہاہ الی الجنۃ (جامع ترمذی، ابواب العلم)>>، یعنی مومن کو خیر کا کام کیے بغیر چین ہی نہیں ملتا۔