مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تحفظِ نفس

مقاصدِ شریعہ میں جان یا انسانی زندگی کی حفاظت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ جان کی حفاظت کا اہتمام اس وقت سے شروع ہوجاتا ہے جب بچّہ رحمِ مادر میں نطفہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ ماں اور اس کے حمل کی دیکھ بھال اور ضرورت کے مطابق مناسب غذا اور طبی دیکھ بھال کا اہتمام کرنا اس لیے ضروری ہے کہ صحت مند بچہ دنیا میں آئے اور اس کی پرورش کی ذمہ دار ماں بھی صحت مند زندگی گزارے۔ پھر ولادت اور ولادت سے لے کر بلوغ کی عمر تک والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو وہ تمام ضروریات مہیا کریں جو اس کی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

قرآن حکیم نے ایک انسانی جان کے قتل کو پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے:

<<مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ۝۰ۚۛؔ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا۝۰ۭ وَمَنْ اَحْيَاہَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا۝۰ۭ (المائدہ۵: ۳۲)>> اس لیے ہم نے بنی اسرائیل پر لازم کر دیا کہ جو شخص کسی ایسے شخص کو قتل کر دے جو نہ کسی کے قتل میں ملوث تھا، نہ زمین ہی میں فساد برپا کر رہا تھا، تو وہ ایسا ہے گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کیا۔ اور جو شخص کسی ایک جان کو بچائے وہ ایسا ہے گویاکہ اس نے تمام انسانوں کی زندگی بچائی۔

قرآن حکیم کی متعدد آیات انسانی جان کو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کو حرام قرار دیتی ہیں۔(بنی اسرائیل ۱۷:۳۱، ۳۳، النساء ۴:۹۳)

فقہاء عام طور پر اس مقصد کے ثبوت کے لیے وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں قانونِ قصاص یا دیت کو بیان کیا گیا ہے (البقرہ۲:۱۷۸، المائدہ ۵:۴۵)۔ حقیقت یہ ہے کہ تحفظِ نفس کا مقصد انسانیت کا تحفظ ہے۔ اس اصول کا احترامِ انسانیت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ بہت سے فقہاء نے انسانی غیرت و وقار کے تحفظ کو ایک مستقل مقصد کے تحت بیان کیا ہے۔ اس لیے کہ شریعت نے اس شخص کے خلاف جو کسی پاک باز انسان کی عزت و آبرو کو پامال کرنے کی کوشش کرے، اسّی کوڑوں کی سزا مقرر کی ہے۔(دیکھیے: النور ۲۴: ۴،۶،۲۳)

قرآن حکیم نے اولادِ آدم کو نہ صرف قابلِ احترام قرار دیا ہے بلکہ دیگر مخلوقات پر اس کی برتری کو بھی بیان کیا ہے (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰)۔ لہٰذا انسان کی عزت و احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔ احترامِ انسانیت ہی کا تقاضا ہے کہ نہ صرف یہ کہ انسانی حیات کو تحفظ فراہم کیا جائے بلکہ اس کی عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنا بھی واجب ہے۔ جس طرح کوئی مجرم کسی انسان کو قتل کرے یا اس کے کسی عضو کو نقصان پہنچائے، تو یہ قابلِ سزا (قصاص و دیت) جرم ہے، اسی طرح انسان کی عزت و آبرو پر حملہ بھی جرم ہے۔

انسانی جان اور عزّت و آبرو کے تحفظ کے لیے تمام تدابیر اختیار کرنے اور اس کے لیے مؤثر قانون سازی کرنے کی ذمہ داری معاشرہ اور حکومت ِوقت پر عائد ہوتی ہے۔ جب کبھی انسانی زندگی کو خطرات لاحق ہونے لگیں تو خطرات سے بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے جو بھی امکانات پائے جاتے ہوں انھیں اختیار کرنا اور معاشرہ کو تحفظ فراہم کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ بعض معاصر فقہاء تحفظِ عزّت کے لیے حفظ کرامۃ البشریہ یعنی انسانی عزت و آبرو کی حفاظت کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں۔ (جاسم عودہ، فقہ المقاصد ، المعہد العالمی للفکر الاسلامی، ہارڈن، امریکا، ۲۰۰۶ء، ص۲۳)

حیاتِ انسانی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر دور اور ہر زمانے میں ضرورت اور حالات کے مطابق قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن قانون اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب معاشرے میں نظامِ قضا و عدل مضبوط ہو اور لوگوں کا اخلاقی شعور بیدار ہو۔

حیاتِ انسانی کے تحفظ کا ایک اہم شعبہ صحت اور علاج و معالجہ کا شعبہ ہے۔ علمِ طب میں اُمتِ مسلمہ بہت پیچھے رہ گئی ہے، حالانکہ یہ شعبہ خدمتِ خلق اور تحفظِ حیاتِ انسانی کے لیے بہت بنیادی ہے۔ مقاصد شریعہ میں جان کے تحفظ کے جس حق کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض قتل کی سزا میں قصاص یا اعضائے انسانی کو نقصان پہنچانے کی صورت میں دیت تک محدود نہیں۔ انسانی حیات کو تحفظ دینے کے لیے ایسی بیماریوں کا علاج و معالجہ بھی ضروری ہے، جو حیاتِ انسانی کے لیے خطرات پیدا کرتی ہیں۔ بہت سی بیماریاں آج بھی ایسی ہیں جن کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہوا۔ ایسی مہلک بیماریاں جن کا شکار ہو کر لوگ یا تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر معذور ہو کر بےبسی کی زندگی بسر کرتے ہیں، ان کا علاج دریافت کرنا شرعاً واجب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:

<<مَا اَنْزَلَ اللهُ دَاءً اِلَّا اَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً (سنن ابن ماجہ، ۴۳۴۱)>>، اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری پیدا کی ہے، اس کے شفا کی صورت بھی پیدا کی ہے۔

قدرت نے ہر بیماری کا علاج بھی پیدا کیا ہے۔ انسان بحث و تحقیق اور تلاش و جستجو کے ذریعے اس کا علاج دریافت کر سکتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:

<<لِکُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَاِذَا اُصِیْبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَـرَأ بِـاِذْنِ اللهِ تَعَالٰى (مسلم، الجامع الصحیح، کتاب الطب، باب لکل داء، حدیث: ۵۷۴۱)>>، ہر مرض کا علاج موجود ہے۔ جب صحیح دوا مرض تک پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاء ہوجاتی ہے۔

جس طرح مقاصد کی تکمیل ضروری ہے، اسی طرح حصولِ مقاصد کے لیے اسباب کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ اسباب کو اختیار کیے بغیر نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ وہ امراض جو لا علاج تصور کیے جاتے ہیں، ان کا علاج دریافت کرنے کے لیے بحث و تحقیق کا انتظام کرنا بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ علم طب کے مسلم ماہرین پر پوری تندہی کے ساتھ اس اسلامی ذمہ داری کو ادا کرنا فرض ہے۔

دُنیا بھر میں تیز رفتار ذرائع نقل و حمل کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ان کی وجہ سے بھی انسانی زندگی کے لیے خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بسا اوقات ٹریفک قوانین سے مجرمانہ غفلت بھی انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے قابلِ عمل ٹریفک قوانین بنانا اور ان پر عمل کو یقینی بنانا بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی اسلامی نقطۂ نظر سے تعلیم و تربیت کا فقدان ہے۔ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے خیال میں ٹریفک کے قوانین کو قوانین شریعت کے طور پر نافذ کرنا چاہیے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب لوگ ان قوانین پر عمل دین کا تقاضا سمجھ کر کریں گے تو حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔

سائنس کی ترقی نے انسانوں کے لیے بہت سی سہولتیں مہیا کی ہیں، نفع مند ایجادات سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن سائنس نے تعمیر و ترقی کے علاوہ تخریب و تباہی کا بھی بہت کچھ سامان مہیا کیا ہے۔ ایٹم بم، تباہ کن میزائل، زہریلی گیسیں وغیرہ کی ایجاد نے انسانی زندگی کو تباہی کے خطرات سے دوچار کیا ہے۔ اب تو بعض آلاتِ ابلاغ کو بھی معصوم لوگوں کی تباہی کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔ بعض ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مختلف ممالک میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے مہلک ہتھیار اور آلات دہشت گردوں کو مہیا کر رہی ہیں۔ بعض ممالک کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ خفیہ طور پر لیبارٹریز میں مہلک قسم کے جراثیم تیار کرتے ہیں تاکہ ان ممالک کے لوگوں میں جراثیم پھیلائے جائیں جو ان کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ ایسے جرائم ہیں، جنھیں کوئی ایک ملک اپنے طو رپر ختم نہیں کر سکتا۔ اقوام عالم کی یہ ذمہ داری ہے کہ مل جل کر ایسے ضابطے اور قوانین بنائیں جو سائنس اور ٹکنالوجی کے غلط استعمال کو روک سکیں۔

مصنوعی ذہانت (AI) پر آج کل بہت کام ہو رہا ہے۔ اس سے بہت سے مفید کام لیے جاسکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے ہم علمِ طب، انجینئرنگ اور بعض فنی علوم میں فائدہ اُٹھا سکتے ہیں، اور اپنی صنعت و حرفت کو بھی اس کی مدد سے ترقی دے سکتے ہیں۔ لیکن جہاں اس کے کچھ فوائد ہیں وہاں نقصانات کا بھی اندیشہ ہے۔ مصنوعی ذہانت تعمیر کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے اور تخریب و تباہی کے لیے بھی۔ چند ممکنہ نقصانات کی طرف مختصراً ذکر کرنا ضروری ہے:

۱- سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ انسان میں غور و فکر اور اپنی ذہانت کو استعمال کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جائے گی۔ ہمارا دین ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم اپنی عقل و ذہانت اور استدلال و استنباط کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ استعمال کریں، اور اپنے علم وفکر سے انسانیت کی رشد و ہدایت کی طرف رہنمائی کریں۔

۲- غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈا تیزی سے پھیلا کر تخریب کاری کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

۳- فرقہ پرستی اور تعصبات کو ابھارنے کے لیے اس کا استعمال ہوسکتا ہے۔

۴- لوگوں کے راز تیزی سے افشاں ہوں گے۔ چادر اور چاردیواری کا تقدس ختم ہوجائے گا۔

۵- مصنوعی ذہانت کی مہارت اور ٹکنالوجی چند سرمایہ دار کمپنیوں کے قبضہ میں ہوگی۔ وہ کمپنیاں بعض سرمایہ دار ممالک کو بلیک میل کرکے اپنے ساتھ ملائیں گی، پھر اس ٹکنالوجی کو کمزور اور چھوٹے ممالک کا استحصال کرنے کے لیے استعمال کریں گی۔

یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کا منفی استعمال نہ صرف انسانی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ انسانی زندگی اور اس کی عقلی صلاحیتوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لہٰذا، وہ اہلِ علم جو مصنوعی ذہانت سے متعلق فن میں مہارت حاصل کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ کوئی منفی ذہنیت رکھنے والا یا تخریب کار اس فن کا غلط فائدہ نہ اٹھاسکے۔ اُمت کے اہل علم کی اسلامی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی تباہی یا فساد پھیلانے کے لیے اسے استعمال کرنا چاہے تو ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت بھی موجود ہونی چاہیے، تاکہ کسی بھی ممکنہ جرم کی بروقت روک تھام کی جاسکے۔