ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بھلائی کا راستہ اختیار کرنے والے
سچ یہ ہے کہ قرآن کریم کی اُن آیات سے اعمالِ صالحہ ، کارِ خیر یا بھلائی کے کام کرنے کی بڑی ترغیب ملتی ہے، نیکیاں کماتے رہنے کی زبردست تحریک پیدا ہوتی ہے اور اپنی تمام صلاحیتوں اور اپنے زیادہ سے زیادہ وسائل کو اعمالِ خیر میں صرف کرنے کا بے پناہ شوق پروان چڑھتا ہے، جن میں ایمان و اعمالِ صالحہ سے مزین اللہ کے بندوں کو اُخروی زندگی میں حقیقی کامیابی ، پُرسکون و فرحت بخش دائمی مستقر، لازوال نعمتوں کی بلا محنت و مشقّت دستیابی، ہر طرح کے رنج و غم سے دوری اور سب سے بڑی نعمت رضائے الٰہی کے نصیب ہونے کی بشارتیں دی گئی ہیں۔ذیل میں کچھ متعلقہ قرآنی آیات مع اُردو ترجمہ بطور مثال نقل کی جارہی ہیں:
اہلِ ایمان یا دعوتِ الٰہی قبول کرنے والوں کو جامع انداز میں یہ خوش خبری سنائی گئی ہے:
<<يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَــيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۷۷ۚ۞ (الحج۲۲: ۷۷)>> اے ایمان والو! رکوع کرو ا ور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرتے رہو اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح یاب ہو جا ئو ۔
<<لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰى۰ۭؔ (الرعد۱۳:۱۸ )>> جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی ان کے لیے بھلائی یا انجامِ کار کی بہتری ہے۔
<<لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَۃٌ۰ۭ وَلَا يَرْہَقُ وُجُوْہَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّۃٌ۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۰ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۲۶ ( یونس۱۰: ۲۶)>> جن لوگوں نے بھلائی کا راستہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کا مزید فضل و کرم۔ (اُخروی زندگی میں) ان کے چہروں پر نہ سیاہی اور نہ ذلت چھائے گی،وہ جنت کے مستحق ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ کی آیات پر ایمان لانے والوں کو امن و سلامتی، رحمت ِ الٰہی کی خوش خبری دی گئی ہے:
<<وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ۰ۙ (الانعام۶:۵۴)>> اور جب (اے نبیؐ!) تمھارے پاس میری آیات پر ایمان لانے والے آئیں تو ان سے کہو ’ تم پر سلامتی ہے،تم سب کے رب نےاپنے اُوپر رحم و کرم کو لازم کر لیا ہے۔
<<وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَہُوَمُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ يُرْزَقُوْنَ فِيْہَا بِغَيْرِ حِسَابٍ۴۰ ( المؤمن ۴۰:۴۰)>> جو نیک عمل کریں گے خواہ مرد ہوں یا عورت بشرطیکہ وہ صاحبِ ایما ن ہوں، وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں ان کو بے حساب رزق(نعمتو ں کا خزانہ) دیا جائے گا۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کو اپنے مخصوص انعامات و عنایات سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے جو ایمان و عمل صالح سے متصف رہے ، یعنی جو صدقِ دل سے ایمان لا کر اس کے تقاضے بحسن و خوبی پورے کرتے رہے اور ذکرِ الٰہی سے کبھی غافل نہیں رہے۔
مختصر یہ کہ ہرمومن کی دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اسے رضائے الٰہی اور حقیقی کامیابی نصیب ہو اور آخرت کی زندگی میں اسے سرورو سکون سے معمور مستقل ٹھکانا ( جنت) مل جائے اور وہ اللہ کی عطا کردہ غیر محدود اور لازوال نعمتوں سے محظوظ ہوتا رہے۔ <<رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔>>