مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تحریک اسلامی کا ہدف

اقامت ِ دین کی اس تحریک کو ہم نے اپنے اختیار سے قبول کیا ہے۔ سیّد مودودیؒ نے قرآن و سنت سے اخذ کر کے ہمیں دین اسلام کی جو تعلیمات سمجھائیں، ان کو پڑھ سمجھ کر ہم نے اس بات کا عہد کیا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ دنیا میں دو الٰہ ہوں: ایک ’الٰہ ‘وہ کہ جس کا اسلام کے بنیادی کلمہ لاالٰہ الا اللہ پر ایمان لاتے ہوئے ہم اقرار کرتے ہوں، اور دوسرے ’الٰہ‘ وہ ہوں جن کی دنیا اور انسانوں پر حکمرانی قائم ہو۔ لہٰذا، ہم اس دنیا میں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اللہ کی حاکمیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں اور یہی جدوجہد ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔

جماعت اسلامی کے دستور میں یہ نصب العین بہت واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ ’’ہماری تمام سعی و جہد کا مقصود عملاً اقامت ِ دین (حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضائے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول ہوگا‘‘۔ گویا ہم اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی خوش نو دی اور جنت کا حصول چاہتے ہیں۔اس دنیا کے بعد جو ہمیشہ کی زندگی ہے اس میں اگر ہم جنّت کے حق دار نہیں ٹھیرتے تو ہماری اس ساری بھاگ دوڑ کا کیا حاصل؟ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت ملے گی کیسے؟ قرآن و سنت کے مطابق اللہ کی رضا اور جنّت کے حصول کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ہم حق اور سچ کے گواہ بن کر اللہ کے دین کی نصرت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ ہم دعوت کا کام کریں۔ ہم خود بھی اسلامی طریق زندگی اپنائیں اور دوسروں کی اصلاح کی بھی کوششیں کریں۔ ہم اپنے اہل خانہ، بچوں اور خاندان کے ساتھ اس کام میں پوری یکسوئی کے ساتھ لگ جائیں تو ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوش نودی کے حصول کے مستحق ٹھیرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی گزارنے کا طریقہ ’اسلام‘ کی صورت میں نازل فرمایا ہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرت کی شکل میں ایک کامل نمونہ پیش کیا ہے۔ اس لیے زندگی کے ہرہر معاملے میں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں جو راہ نمائی قرآن و سنت نے دی ہے، ہم اسے اپنائیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ دین کا جو طریقہ اور اسلوب ہمیں بتایا ہے ، اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح آپؐ اپنے ہی عزیزوں اور رشتہ داروں کے مقابلے پر آکھڑے ہوئے اور آپؐ نے ان سب کو اللہ کے راستے کی طرف بلانے کے لیے ہرمصیبت برداشت کی۔ یہ سب ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں پر طرح طرح سے تشدد بھی ہوا اور آپؐ کو شعب ابی طالب میں عملاً تین برس قید میں بھی گزارنا پڑے، جس میں آپ کا مکمل سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت بھی فرمائی۔ آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے تو پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ۔

آپؐ نے مدینہ میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی، مگر اس سے پہلے اہل یثرب کو اسلام کی دعوت، تعلیمات اور طرزِ زندگی سے روشناس کراتے ہوئے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب روانہ کیا تاکہ وہ وہاں دعوت اور تعلیم و تربیت کا کام کریں۔ جب اہل یثرب کی اکثریت نے اسلام کی دعوت کو قبول کر کے اسلامی طرزِ زندگی اپنانے کا راستہ اختیار کیا تو وہاں ایک اسلامی ریاست کی ابتدا ہوئی۔ وحی الٰہی کی رہنمائی میں وقت کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی تفصیلات طے ہوتی گئیں۔ دشمن اس ریاست کو ختم کرنے کے لیے اُمڈ آئے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے آپؐ نے جہاد اور قتال بھی کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان بنیادی اُمور پر پوری توجہ دی کہ خاندان کا نظام کیسے تشکیل پائے؟ عائلی قوانین کیسے ہوں گے؟ بین الاقوامی سطح پر لوگوں سے کیسے معاملات طے ہوں؟ کس طریقے سے اپنی معیشت کو چلائیں اور عدالتی نظام کیا ہو؟ ۱۰سال کی مختصر مدت میں، جو مدینہ منورہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے گزاری، آپؐ نے نظام کی پوری تبدیلی عملاً کرکے دکھا دی۔ پھر حجۃ الوداع کے موقع پر پوری انسانیت کو گواہ بھی بنایا کہ آپؐ نے دین کو مکمل طور پر نہ صرف قولاً انسانیت کے سامنے پیش کردیا ہے بلکہ عملاً اس کو ایک اسلامی معاشرے اور ریاست کی صورت میں نافذ بھی کردیا ہے۔