ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
علمی خدمات اور کتابوں کا تجزیہ
ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات کے مجموعی تسلسل میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کا کام ایک باقاعدہ فکری منصوبے کی صورت میں کارفرما ہے۔ان کی تحریروں میں ایک طرف مغربی نظریات کا تجزیہ اور اُن پر نقد ہے، تو دوسری طرف اسلامی اصولوں کی وضاحت ہے، اور پھر دونوں کے درمیان تقابل، امتیاز اور ممکنہ امتزاج ہے۔ یہی جہتیں ان کی علمی خدمات کا بنیادی ڈھانچا تشکیل دیتی ہیں۔
جیساکہ ہم نے لکھا ہے، ان کی علمی خدمات میں نمایاں ترین پہلو مغربی نظریات کا تنقیدی مطالعہ ہے۔ ان کی کتاب Modern Political Ideologies: An Islamic Critique اسی سلسلے کی ایک اہم کاوش ہے، جس میں انھوں نے مغربی سیاسی افکار جیسے سیکولرزم، لبرلزم وغیرہ کو ان کے فکری پس منظر میں رکھ کر دیکھا ہے۔ اس کتاب میں وہ پہلے کسی نظریے کی داخلی ساخت اور اس کے تاریخی تناظر کو واضح کرتی ہیں، پھر اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی کتاب Colonization to Globalization: Might is Right Continue میں مغربی استعمار کے مسئلے کو ایک مسلسل جاری عمل کے طور پرپیش اور واضح کرتی ہیں کہ استعمار صرف اور نوآبادیات یا محکوموں کے قدرتی وسائل اور زمینوں پر قبضہ کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مقامی معاشروں کی فکری اور تہذیبی بنیادوں کو بدلنا بھی اس کا ایک اہم پہلو تھا۔ ان زیردستوں کے ہاں تعلیم کے نظام، ثقافتی ترجیحات اور سماجی ڈھانچے میں روپذیر تبدیلیاں اسی عمل کا حصہ تھیں۔
اس کتاب میں تاریخی مثالوں کے ذریعے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نوآبادیاتی دور نے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے سوچنے کے انداز کو بھی متاثر کیا۔ اسی لیے آزادی کے بعد بھی بہت سے معاشرے مکمل طور پر اس اثر سے نکل نہیں سکے، بلکہ مختلف صورتوں میں وہی اثرات باقی رہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ’نو استعماریت‘ (Neo-Colonialism) کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، جہاں براہِ راست قبضے کے بجائے معاشی، فکری اور ثقافتی ذرائع کے ذریعے اثر قائم رکھا جاتا ہے، اور عالمگیریت (Globalization) کے تصور کو بھی اسی زاویے سے دیکھا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک عالمی ربط اور تعاون کا نظام معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا اس کے ذریعے واقعی تمام معاشروں کو یکساں مواقع مل رہے ہیں، یا ایک خاص طرزِ فکر اور نظام کو عالمی سطح پر غالب کیا جا رہا ہے؟ یقینا طاقت کے مراکز تبدیل ہونے کے باوجود اس سامراجی قوتوں کا اثر آج بھی برقرار ہے، صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ اس طرح مغربی سامراجیت نے دورِ استعمار سے لے کر موجودہ عالم گیریت تک کے عمل کو برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
ایک اور اہم جہت اسلامی سیاسی فکر ہے، جس کا اظہار انھوں نے Political Development: An Islamic Perspective میں کیا ہے۔ اس کتاب میں وہ سیاسی ترقی کے مغربی تصورات کا جائزہ لیتے ہوئے وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ مسلم معاشروں میں سیاسی نظام کی تشکیل کن اصولوں پر ہونی چاہیے؟ یہاں بھی ان کا انداز تقابلی ہے، جہاں وہ مغربی ماڈلوں کو بیان کرنے کے بعد اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک متبادل زاویہ پیش کرتی ہیں۔
خواتین اور معاشرت کے موضوع پر ان کی متعدد کتابیں ایک دوسرے سے مربوط انداز میں سامنے آتی ہیں۔ اپنی کتاب Muslim Women at the Crossroads میں انھوں نے مسلم معاشرے میں عورت کو درپیش فکری اور سماجی مسائل کا تجزیہ کیا ہے، جہاں ایک طرف مغربی اثرات ہیں اور دوسری طرف بے شمار داخلی کمزوریاں۔ پھر Women in Feminism and Politics: New Directions Towards Islamisation میں وہ ’فیمی نزم‘ کے مختلف رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس بحث کو کس طرح نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ ان کی کتاب Women’s Empowerment and Islam ایک نسبتاً منظم فریم ورک پیش کرتی ہے، جس میں نسوانی اختیاریت کے اسلامی اقدار کے تصور کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کے علمی کاموں کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے افکار کو مختلف زاویوں سے تحقیقی مقالات کے ذریعے بھی پیش کرتی رہیں۔ ان کے مقالات میں اقوامِ متحدہ کے صنفی پروگراموں پر تجزیاتی مطالعے، عالمگیریت کے اثرات، اور جدید فکری مباحث میں اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان مقالات میں ان کا انداز زیادہ براہِ راست اور تجزیے کا ہوتا ہے، جہاں وہ کسی مخصوص مسئلے کو لے کر اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہیں۔ اگر ان کے علمی کام کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ ان کی فکر کا مرکزی محور’اسلامی بنیادوں پر معاصر مسائل کی ہمدردانہ اور مجتہدانہ تفہیم‘ ہے۔
ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات کو مختلف سطحوں پر سراہا بھی گیا، جن میں انھیں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی ملیشیا (IIUM) کی طرف سے Excellent Researcher Award اور Quality Research Award سے نوازا گیا۔ اسی طرح ۲۰۰۶ء میں انھیں نمایاں خدمات انجام دینے کی بناپر Outstanding Author Certificate بھی دیا گیا۔ مزید یہ کہ انھیں Marquis Who’s Who in the World میں بھی شامل کیا گیا۔
زندگی کے آخری زمانے تک ان کے ہاں علمی کام سے وابستگی برقرار رہی۔ مختلف موضوعات پر اپنے فکری دائرے کو مسلسل وسعت دینے میں وہ کوشاں رہیں۔ امت کے مسائل، بالخصوص مسئلۂ فلسطین پر ان کی حساسیت ان کے علمی، عملی اور ملّی شعور کا حصہ رہی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے علمی کام کو ایک مجموعی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت مزید نمایاں ہو جاتی ہے، تاکہ ان کی تحریروں اور افکار سے استفادہ کیا جا سکے اور معاصر مباحث میں ان کے پیش کردہ نکات کو سمجھا جا سکے۔ یہی طرزِ مطالعہ آئندہ علمی کام کے لیے بھی ایک متوازن بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے انتقال سے قبل ان کی زندگی میں ہی ان کی علمی خدمات پر تحقیق کی گئی، جسے انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی آف ملیشیا کے شعبہ قرآن و سنت کی ایک طالبہ مدیحہ شہزادی نے مقالہ کی صورت میں پیش کرکے ۲۰۲۴ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
اللہ تعالیٰ ان کی علمی کاوشوں کو قبول فرمائے، اور اپنی رحمت سے نوازے: <<اللهم اغفر لها وارحمها، وتجاوز عن سيئاتها، واجعل علمها النافع صدقة جارية لها، وارفع درجاتها في الجنة>>. آمين۔