ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تحفظِ نسل
پُرسکون زندگی گزارنے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے انسان اجتماعی زندگی کا محتاج ہے۔ خاندان، معاشرہ کی اجتماعی زندگی کی ایک بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر معاشرہ کی بنیادی اکائی مستحکم ہے تو معاشرہ بھی مستحکم ہوگا، اور اگر خاندان کی اکائی میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو سارے معاشرے میں اس کے بُرے اثرات سرایت کر جائیں گے۔ اسی لیے قرآن حکیم نے خاندان کی اصلاح و تربیت اور استحکام کے لیے بہت وضاحت اور تفصیل کے ساتھ ہدایات دی ہیں۔
نسل کی حفاظت کے لیے بھی فقہ اسلامی میں دو قسم کی ہدایات ملتی ہیں: ایجابی اور سلبی۔ ایجابی اسلوب میں خاندان کی تشکیل کے لیے بہت حکیمانہ انداز میں ہدایات ملتی ہیں، مثلاً نکاح اور نکاح کے مقاصد، شوہرو بیوی کے باہمی تعلقات اور ایک دوسرے کے فرائض و ذمہ داریاں، تربیت اولاد، نفقہ، کفالت وغیرہ کے احکام۔ اگر بعض معقول وجوہ کی بنا پر باہم مل جل کر رہنا مشکل ہوجائے تو خوش اسلوبی کے ساتھ ازدواجی تعلق کو ختم کرنے کے احکام بھی وضاحت کے ساتھ ملتے ہیں۔
تحفظ نسل کا دوسرا پہلو ’سلبی‘ کہلاتا ہے۔ اس کی رُو سے اللہ کا دین ان تمام افعال کو جرم قرار دیتا ہے، جو خاندان کی عزّت و آبرو کو نقصان پہنچاتے ہوں یا وہ افعال جو حفاظتِ نسل کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے زنا کو حرام قرار دیا ہے، اور اس کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف سخت سزا مقرر کی ہے، اس لیےکہ زنا کا ارتکاب نہ صرف خاندان کی عصمت اور اس کے شرف کو داغ دار کرتا ہے بلکہ نسب کو بھی مشکوک بناتا ہے۔ حدِ زنا پر فقہاء نے تفصیل سے بحث کی ہے اور اس سے متعلق احکام کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
بےحیائی اور فحاشی کے بارے میں قرآن مجید نے اچھوتا اسلوب اختیار کیا ہے۔ ان آیات میں زورِ بیان کے ساتھ ہر قسم کی بےحیائی اور بدکاری کے محرکات کا دروازہ بند کیا گیا ہے۔ نفسِ انسانی کو بھڑکانے، ہیجان اور شہوت پیدا کرنے والی تمام چیزیں، خواہ زبان و بیان کی صورت میں ہوں یا تحریری شکل میں ہوں، تصاویر ہوں یا ڈرامائی تمثیل کی صورت میں ہوں، فحاشی کی طرف جانے والا ہر راستہ بند کرنا ضروری ہے۔
فحاشی کے سدباب اور منکرات کی روک تھام کے لیے اسلام کی تعلیمات میں شرم و حیا کا تصور نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ فضائلِ اخلاق میں اسے روح کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے کہ شرم و حیا برائی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: <<اَلْـحَیَاءُ مِنَ الْاِیْمَانِ ’’حیا ایمان کا جزو ہے‘‘۔ (بخاری، الجامع الصحیح، کتاب الایمان، باب الحیاء من الایمان، حدیث: ۱۲۴)>>
امام مسلم نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: <<اَلْـحَیَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْاِیْمَانِ>> ،’’حیا ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی صحیحین میں موجود ہیں: <<اَلْـحَیَاءُ خَیْرٌ کُلُّهٗ>>، ’’حیا سراسر خیر ہے‘‘۔
محدثین حیا کو ایمان کی ایک اہم خصلت تسلیم کرتے ہیں۔ یہ وہ اہم خصلت ہے جو اعمالِ خیر کے لیے دلوں میں شوق اور رغبت پیدا کرتی ہے اور منکرات و فواحش کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
اسلام کا مقصد نسب کی حفاظت کے ذریعے خاندان کو تحفظ فراہم کرنا اور نسل انسانی کو فحاشی کی تباہ کاریوں سے بچانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے نکاح کا جائز اور پاکیزہ طریقہ مقرر کرکے ناجائز طریقوں کے تمام راستے بند کر دیے۔ اولاد کے حصول میں جائز طریقوں کا استعمال ہی خاندان کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہے۔
’ضروریات‘ کے تحت بیان کردہ تحفظات افراد معاشرہ کے وہ بنیادی حقوق ہیں جو ہرفرد کو بلاتفریق ملنے چاہئیں۔ دوسری طرف یہ برسرِ اقتدار طبقہ کے بنیادی فرائض ہیں جن کی ادائیگی کے لیے وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے بلکہ معاشرہ کے باشعور لوگوں کے سامنے بھی جواب دہ ہے۔