مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اپنے بچوں کو تحریک کا حصہ بنایئے

جماعت اسلامی میں صاحب ِ ثروت لوگ بھی ہیں لیکن زیادہ تر تو متوسط طبقے کے لوگ ہیں جو اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہتے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں تو بہت کم وسائل رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہ لوگ محنت اور تگ و دو کر کے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں پر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کے لیے کیا سوچتے ہیں؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ کہتا ہے:

<<يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَيْہَا مَلٰۗىِٕكَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ۝۶ (التحریم ۶۶:۶)>> اے لوگو جو ایمان لائے ہو،بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے،جس پر نہایت تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اُسے بجا لاتے ہیں۔

وہ آگ کیا ہوگی؟ جس میں ایندھن کے طور پر انسان اور پتھر ڈالے جائیں گے۔ یہ وہ آگ ہے جس سے ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانا ہے۔آخرت کے اس دردناک عذاب اور دُنیا میں ذلّت و رُسوائی کے دردناک عذاب سے بچنے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی جنّت کی بیش بہا نعمتوں اور دُنیا میں امن و سلامتی، عزّت و سربلندی اور زمامِ کار جیسی ربّ ذوالجلال کی بے شمار نعمتوں کے حصول کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ واحد راستہ و منہج سورۃ الصف میں یوں بیان ہوا ہے:

<<يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ہَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَۃٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۝۱۰ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ۝۰ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۱۱(الصف ۶۱:۱۰-۱۱)>> اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتادوں تم کو وہ تجارت جو تمھیں عذابِ الیم سے بچا دے؟ ایمان لائو اللہ اور اُس کے رسولؐ پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔

ہم نے اس راستے کا انتخاب اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے کیا ہے۔ ہماری جدوجہد اور تمام سرگرمیاں اسی غرض کے لیے ہیں۔ ہمیں اس جدوجہد کے تقاضوں کے مطابق ہرمسلمان تک اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے کی دعوت پہنچانا ہے۔ لوگوں کے دلوں پہ دستک دینی ہے، اور ان کی دادرسی بھی کرنی ہے۔ ہمیں ان کے دُکھوں کا مداوا کرنا ہے اور مظلوموں کی آواز بھی بننا ہے۔ اس لیے کہ یہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ یہی طریقہ جماعت اسلامی نے اختیار کیا ہے۔ بنیادی طور پر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم اپنے لیے اللہ کی رضا چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کے لیے کیوں نہیں چاہتے؟

اپنے اہل خانہ اور بچوں کوجہنم کی آگ سے بچانے اور اللہ کی رضا کے حصول کے مشن میں اپنا ساتھی بنانے کے لیے ہمیں ان کی تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ سازی اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق ہی کرنی ہے، تاکہ وہ اپنی علمی استعداد اور فنی مہارتوں کو اسلامی مقاصد کے لیے بروئے کار لاتے ہوئے اس جدوجہد کو آگے بڑھا سکیں۔