ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تحفظِ عقل
تحفظِ عقل کا مقصد انسان کی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں یہ بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے انسان کو بہترین ذہن اور عمدہ دماغ عطا فرمایا ہے۔ انسان اپنے فہم و فراست کی وجہ سے نہ صرف اپنے حال کے معاملات کو سمجھنے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے شریعت انسان کی فطری صلاحیتوں کے تحفظ اور ان کی نشو و نما کی طرف توجہ دینے کو لازمی قرار دیتی ہے۔
عقل و دانش کی حفاظت اور نشو و نما کے لیے دین اسلام مختلف پہلوؤں سے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ فقہاء انھیں ایجابی و سلبی یا وجودی و عدمی پہلوؤں سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایجابی پہلوؤں میں تعلیم و تربیت کا وہ اسلوب مطلوب ہے جو انسان میں اجتہادی بصیرت، غور و فکر اور مشاہدہ کی صلاحیت کو بہتر بنائے۔ عقلِ انسانی کو تمام تر ڈیٹا حواس کے ذریعے ملتا ہے، اس لیے حواس کی کارکردگی اور صلاحیتوں کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر انسانی حواس میں ارتقاء کی صلاحیت رکھی ہے۔ انسان اپنی سمع و بصر کی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ وہ اپنے حواس کو جس قدر توجہ کے ساتھ مقصد کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے، حواس اسی لحاظ سے بہتر کام کرنے لگتے ہیں۔ انسانی حواس کی صلاحیت جس قدر مضبوط ہوگی، عقلی استدلال اور نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت بھی اسی لحاظ سے بہتر ہوگی۔
تحفظِ عقل کا دوسرا پہلو سلبی یا عدمی کہلاتا ہے۔ اس کی رُو سے وہ تمام اشیاء ممنوع قرار دی گئی ہیں، جو انسان کی فکری اور دماغی صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہوں۔ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ انسان کی ذہنی اور دماغی صلاحیتوں کو معطل کیا جائے یا انھیں نقصان پہنچایا جائے۔ اسی لیے تمام منشیات اور وہ اشیاء جو انسان کے ادراک کی قوت کو نقصان پہنچاتی ہوں، حرام قرار دی گئی ہیں، بلکہ نشہ آور اور دماغی صحت کے لیے مضر اشیاء کی تیاری اور کاروبار وغیرہ بھی ممنوع ہیں۔ ممنوعہ اشیاء کی تیاری کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی ضروری قرار دی گئی ہے۔ شراب نوشی کی سزا تو قرآن حکیم میں بیان کی گئی ہے، دیگر منشیات کو فقہاء شراب پر قیاس کرتے ہوئے ان کی وہی سزا تجویز کرتے ہیں جو شراب نوشی کی سزا ہے۔ موجودہ دور میں منشیات کی بہت سی نئی نئی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ مقاصد شریعہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسی تمام اشیاء کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے۔ محض قانون سازی کافی نہیں ہوتی بلکہ قانون کے نفاذ کے ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔