ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
انفاق کی خصوصی ترغیب
قرآن و حدیث میں اعمال خیر کے اکتساب کی ترغیب کتنے دل کش اور مؤثر انداز میں دی گئی ہے، اسے ہم مثال کے طور پر انفاق ( اپنی جائز ضرورت کی تکمیل اور فقراء و محتاجو ں کی اعانت میں اپنے محبوب مال کو خرچ کرنے ) کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں۔
ان آیات میں انفاق کو باعثِ خیر و برکت اورموجبِ فوز و فلاح قرار دیا گیا ہے، اسے اُن اعمال میں شامل کیا گیا ہے جنھیں اللہ پسند فرماتا ہے۔ اس کے برعکس عمل( حرص و بخل) کو موجبِ خسران اور آخری انجام کی خرابی سے تعبیر کیا گیا ہے (البقرۃ۲: ۱۹۵، النور۲۴:۱۱، الروم ۳۰:۳۸، الحشر۵۷:۹، الصف۶۱:۱۱-۱۲، التغابن۶۴:۱۶)۔ اسی ضمن میں ہم سورئہ بقرہ کی آیت۲۶۱ پر نظر ڈالیں جس میں اللہ رب العزت نے نہایت دل نشیں اسلوب میں ایک مثال کے ذریعے انفاق فی سبیل اللہ کا ثواب( سات سو گنا تک یا اس سے بھی زیادہ) بڑھا کر دینے کو واضح فرمایا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو :’’جو لوگ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،ان کے انفاق [کے اجر] کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں،اس طرح اللہ جس کے عمل[کے اجر و ثواب] کو جتنا چاہتا ہے بڑھاتا ہے، اللہ بڑی فراخی والا اور سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔
آیت کے آخری حصہ ( <<وَاللہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ>>، اللہ بڑی کشادگی والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے ) پر خصوصی توجہ مطلوب ہے کہ اس سے یہ نکتہ دل و دماغ میں نقش کرانا مقصود ہے کہ اللہ مالک الملک زمین و آسمان کے سارے خزانے کا مالک ہے۔ اس کے پاس بندوں کو عطا کرنے کے لیے مال واسباب کے بے حساب خزانے ہیں ۔ وہ جس کو چاہے دے، جتنا چاہے دے ، وہ مختارِ کل ہے۔ دوسرے یہ کہ ربِّ کریم کی عطا کی کوئی حد نہیں۔ وہ دینے میں بہت فراخ دست ہے، سات سو گنا کیا؟ اس سے زیادہ بھی جتنا چاہے عطا کر تا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ہے،نیک عمل کے صلے میں وہ جو کچھ اجر و ثواب عطا کرتا ہے اس کے علم اور اس کی حکمت پر موقوف ہوتا ہے۔ وہ بخوبی اس کی خبر رکھتا ہے کہ انفاق کرنے والا بندہ کارِ خیر میں کتنا مال خرچ کر رہا ہے؟ کس نیت سے کر رہا ہے؟ کس پر خرچ کر رہا ہے؟کس حالت میں خرچ کررہا ہے؟ کسی حاجت مند کو اپنا مال کس طریقے سے دے رہا ہے؟ اسی علم و با خبری کی بنیاد پر انفاق کرنے والے یا نیکی کمانے والے کا اجر و ثواب بڑھتا ،گھٹتا رہتا ہے۔
سچ یہ کہ اس آیت میںانفاق کرنے والے یا کارِ خیر انجام دینے والوں کے لیے بڑی قیمتی ہدایات و نصیحتیں مضمر ہیں، اور وہ اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو جو کچھ مال و دولت عطا کیا ہے، وہ اس کے ذریعے نیکی کمانے کے لیے آگے بڑھے ، انفاق کرتے وقت اپنی نیت درست کرلے، نام و نمود یا کسی دنیوی غرض کے بجائے صرف رضائے الٰہی کی طلب میں اپنا محبوب مال خرچ کرے ۔ انفاق کرتے وقت یہ ذہن میں ر ہے کہ اطاعتِ الٰہی میں مال خرچ کرنے پر مال گھٹتا نہیں یا کم نہیں ہوتا، اس میں اور برکت ہوتی ہے۔ (البقرۃ ۲:۲۷۶، نیز جامع ترمذی، ابواب الزہد)
اس حقیقت پر یقین رکھے کہ جس ذات تبارک و تعالیٰ نے انفاق کا حکم دیاہے،اس کے خزانے میں سب کچھ ہے۔ وہ انفاق کرنے والے اپنے بندے کو مزید عطا فرمائے گا اور خوب عطا فرمائے گا۔ سب سے اہم یہ حقیقت یا د رکھے کہ انفاق کے صلے میں جو کچھ اجر و ثواب ملے گا، اس کا حقیقی فائدہ انفاق کرنے والے کو آخرت میں ملے گا جہاں نیکی کے علاوہ اور کوئی چیز کام آنے والی نہ ہوگی۔ واقعہ یہ کہ آیت(البقرۃ۲:۲۶۱) کے آخری حصے میں بڑی تسلی ہے،اطمینان بخش خبر ہے بھلائی کے کاموں میںمال خرچ کرنے یا نیکی کی راہ میں سبقت کرنے والوں کے لیے کہ ان کے اعمالِ حسنہ کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں محفوظ ہوگیا جو انھیں ہمیشہ کی زندگی میں خوب نفع پہنچائے گا۔ یہی حقیقت بعض دیگر آیات میں بھی واضح کی گئی ہے۔ (النحل: ۱۶:۹۶-۹۷، الشوریٰ۴۲:۳۶)
سو رئہ بقرہ کی مذکورہ بالا آیت ۲۶۱ کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس نکتہ کی جانب ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: ’’دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ کی راہ میں جو چھوٹی یا بڑی،علانیہ یا پوشیدہ نیکی کی جاتی ہے، سب اس کے علم میں رہتی ہے۔ اس وجہ سے ہر شخص اجر کی طرف سے مطمئن رہے۔ جب دینے والے کا خزانہ بھی غیر محدود ہے، اور اس کا علم بھی غائب و حاضر سب پر محیط ہے، تو تشویش کی گنجائش کہاں باقی رہی‘‘(تدبرِ قرآن، اوّل، ص۶۱۳)
حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے مروی ایک حدیث میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک کام میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بڑے حکیمانہ انداز اور سوال کے پیرایہ میں اس کی اہمیت و نافعیت ذہن نشیں فرمائی ہے ۔ آپؐ نے مجلس میں موجود صحابہ کرامؓ سے سوال فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو؟ صحابہؓ کا یہ جواب سننے پر کہ ’’ اے اللہ کے رسولؐ! ہم میں سے ہر شخص کو اپنا ہی مال محبوب ہے‘‘، آپؐ نے فرمایا کہ جب تم میں سے ہر شخص کو اپنا ہی مال زیادہ محبوب ہے تو جان لو،سمجھ لو کہ تمھارا مال صرف وہی ہے جسے تم نے نیک کام میں خرچ کر کے آگے بھیج دیا( یعنی جس کا اجر اللہ کے یہاں محفوظ کردیا اور وہ آخرت میں کام آئے گا)، اور وارث کا مال وہ ہے جسے تم نے پیچھے چھوڑدیا(اور وہ وارث کی ملکیت میں چلاگیا، اب وہ اسے کس کام میں خرچ کرتا ہے،اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔
ریاض الصالحین کے اردو مترجم نے اس حدیث کی تشریح کے آخر میں بہت صحیح تحریر کیا ہے کہ’’اس میں اِس امر کی ترغیب ہے کہ انسان کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہو تو اسے اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا چاہیے‘‘۔ (یحییٰ ابن شرف النووی،ریاض الصالحین، اوّل، ترجمہ و تشریح:حافظ صلاح الدین یوسف، ص ۴۸۱)