مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔

شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

سرورِ عالمؐ، امن و اخوت کے داعی

انڈین فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بی ایم کول نے ۱۹۶۷ء میں اپنی کتاب The Untold Story (اَن کہی کہانی) میں لکھا ہے کہ حضرتِ انسان کی پانچ ہزار سالہ تحریری تاریخ میں ۱۵ہزار جنگیں ہوئی ہیں۔ گویا اوسطاً تین جنگیں فی سال ہوتی رہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس پانچ ہزار سالہ دور میں صرف تین سو ایسے خوش قسمت سال تھے، جب باقاعدہ اور گرم جنگ نہیں ہوئی۔ گویا اس دور کا صرف چھ فی صد حصہ جنگ سے محفوظ رہا، لیکن وہ بھی زیادہ تر اس لیے کہ یہ کسی جنگ کے بعد کا وقفہ تھا یا پھر کسی جنگ کی تیاری کا زمانہ تھا۔

جنگ کا مطلب ہے: انسانوں کی موت، مرگِ انسانیت! پہلی عالم گیر جنگ میں دوکروڑ انسان مارے گئے اور دوسری جنگ ِ عالم گیر میں آٹھ کروڑ انسان موت کے گھاٹ اُتار دیئے گئے۔ ۱۹۴۵ء سے تاحال کوئی بڑی اور عالم گیر جنگ تو نہیں ہوئی، لیکن دو سو چھوٹی چھوٹی جنگیں ہوئیں، جن میں ایک کروڑ۵۰لاکھ سے زیادہ انسان کام آئے۔ ۶؍اگست ۱۹۴۵ء کو ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایک ہی ایٹم بم نے (جسے ’مسکراتا بُدھا‘ کا ستم ظریفانہ نام دیا گیا تھا) ایک لاکھ ۴۱ ہزار انسانوں کی جانیں لے ڈوبا اور آج اس زمین پر قریباً ۵۰ہزار ایٹم بم موجود ہیں اور نیوکلیئر آلات کا عالمی ذخیرہ دوسری جنگ ِ عظیم کے مجموعی بارود سے دو ہزارچھ سو گنا زیادہ بارودی طاقت رکھتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ تباہ کاری کے آلات ایٹم بم سے بھی آگے بڑھ کر ہائیڈروجن بم، نیوٹرون بم، کروز میزائل اور سٹاروار تک جا پہنچے ہیں۔

کیا یہ آلات بقائے انسانی کے لیے ہیں؟ کیا یہ پُرخطر اور دہشت انگیز حالات جنگ کے خاتمے یا نقصِ امن کے سد ِ باب یا عالمی امن کے قیام کے لیے ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! کہا جاسکتا ہے کہ دُنیا میں جنگی اعتبار سے طاقت ور ملکوں کے درمیان اسلحے پر کنٹرول کے جو معاہدے ہوئے، ان کی بنا پر جو عملی اقدامات کیے گئے ہیں وہ خوش آیند ہیں اور اس سے کم از کم فوری فنائے انسانیت کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ لیکن یہ صرف خوش فہمی ہے۔ رابرٹ جے اوپن ہمیر کے الفاظ میں: ’ایک ہی بوتل میں یہ بچھو ایک دوسرے کو مارنے پر قادر ہیں، لیکن اپنی موت کا خطرہ مُول لے کر‘‘۔ بقول سابق امریکی صدر رونالڈریگن: ’’یہ ایسے دو آدمی ہیں جو ایک دوسرے کی کنپٹی پر پستول رکھے ہوئے ہیں‘‘۔

مغرب کی سامراجی قوتوں نے لُوٹ مار ، استحصال اور جنگی سازوسامان کے انبار لگاکر گھرپھونک تماشا دیکھنے کا رویّہ اپنا رکھا ہے، خودسوزی اور خودکشی کا یہ رویّہ حضرتِ انسان کے لیے نہ مستحسن ہے اور نہ اُس کے شایانِ شان! انسان کی تو پہچان ہی یہ ہے کہ خطرہ جتنا بڑا ہوگا اُس کی جدوجہد، تدابیر آزمائی اتنی ہی عظیم ہوگی۔ اِس اُمید کو ہم اسلام کہتے ہیں اور اس اُمید کی کرن سورئہ انفال (۸:۲۴) میں ہے جو اس مضمون کی محرک بنی ہے۔

ضرورت یہ ہے کہ موجودہ انسان اپنا اندازِ فکر بدلے۔ انسان اپنی ذات، قبیلے اور قوم سے اُوپر اُٹھ کر انسانیت میں مدغم ہو، جس طرح اسلام نے انسان کو قوم سے اُوپر اُٹھ کر اُمت ِ واحدہ: ’’یہ لوگ ہیں تمھارے دین کے، سب ایک دین پر (اُمت ِ واحدہ) اور مَیں ہوں ربّ تمھارا، سو میری بندگی کرو‘‘ (الانبیاء ۲۱: ۹۲)، ’’اور یہ لوگ ہیں تمھارے دین کے، سب ایک دین پر اور مَیں ہوں تمھارا ربّ، سو مجھ سے ڈرتے رہو‘‘ (المومنون ۲۳:۵۲) میں ضم ہونے کا درس دیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ افراد کی صلاحیتیں خاندان کی فلاح و بہبود پر صرف ہونے لگیں۔ خاندانی صلاحیتیں قبیلے کی اصلاح و ترقی اور قبیلے کی صلاحیتیں قوم کی پیش رفت پر استعمال ہونے لگیں۔ ایسے ہی قوی امکانات اُمت ِ واحدہ کی بہبودی پر مرکوز ہوں۔

اُمت ِ واحدہ کا تصور بے حد روح افروز ہے اور اُس کے نقش و نگار کی نقشہ کشی ایک بہت ہی دلچسپ اور پُراُمید منصوبہ ہے۔ لیکن نہ تو اُمت ِ واحدہ کا ظہوروقیام اتنا آسان ہے اور نہ اُس کا ظہور و شہود ہی ہمہ سطحی قیامِ امن کی ضمانت ہے۔ اُسے واقعی ایک عمل پذیر اور مؤثر ادارہ بنانے کے لیے جنگ کے اصلی (نہ کہ روایتی) محرکات اور قیامِ امن کے اصلی (نہ کہ روایتی) لوازمات کا فہم ایک بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔