ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جنگ و امن کا مسئلہ
اس نقطۂ نظر سے تاریخ عالم پر نہایت گہرائی سے غوروفکر کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ جنگ و امن کا مسئلہ انسانی فطرت کا مسئلہ ہے جو متصادم عناصر سے عبارت ہے۔ انھیں خیروشر کہیے یا ایثار و استحصال یا مثبت و منفی۔ تمام انسانی جنگیں، در اصل نتیجہ ہیں شر، استحصال اور منفی جذبات اور اُن سے جنم لینے والے عزائم اور جارحانہ کارروائیوں کا۔ اس لیے جب تک یہ تخریبی جذبات مسخر نہ کیے جائیں، اُس وقت تک جنگ اور فساد کا خاتمہ بھی ناممکن ہے اور امن کا قیام بھی محض خواب!
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان ہلاکت خیز اور جہاں سوز جذبات کومسخر کرلیا جائے، انھیں منضبط کیا جائے اور مثبت جذبات کی پشت پناہی پر مامور کیا جائے تو یہ خیروبرکت، ایثار و اقدار، امن و سلامتی، اخوت و مساوات، عدل و احسان اور حُریت و انسانیت کے قوی ترین محرک ثابت ہوتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ناگزیر جذبات کو تابع کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ کیا انسان محض اپنے علم و عقل کی بدولت ایسا کرسکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہوتا تو شاید یورپ اس وقت اس کرئہ ارض کا منضبط ترین حصہ ہوتا، کیونکہ یورپ اس وقت علم و خرد اور طاقت و وسائل کے لحاظ سے ایک بلنددرجے پر فائز سمجھا جاتا ہے۔ مگر کثرت علم و وفورِ عقل نے اسے ان منفی جذبات پر قابو پانے کی توفیق نہیں دی بلکہ اُس نے ان جذبات کو پہلے سے کئی گنا زیادہ مہیب اور گمبھیر بنا دیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عقل و فہم اور علم و فن نے موجودہ انسان کو زیادہ سے زیادہ فوائد بہم پہنچائے ہیں۔ اُس کی تہذیب کو ایک اعتبار سے اعلیٰ درجے تک پہنچایا ہے اور ارض و سما میں مزید پیش قدمی کے راستے کھولے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہوائے نفس بھی بڑھی ہے، اور انسان کے سامنے آج بھی سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ کیا انسان اپنی حرص و ہوا پر قابو پاسکتا ہے؟ کیا بحروبّر، فضا و خلا اور ارض و سما پر کمندیں ڈالنے والا انسان اپنے آپ کو لگام دے سکتا ہے؟ مختصراً کیا انسان اپنے آپ کو اپنے آپ سے بچاسکتا ہے؟
قنوطیت زدہ (Pessimistic)اس کا جواب نفی میں دے گا اور وہ ایک ایسا حل تجویز کرے گا، جس سے انسان اپنی زندگی کے جوہر سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے گا، مگر رجائیت پسند (Optimistic) اس کا جواب مثبت دے گا کیونکہ زندگی اُمید سے ہی پھوٹتی ہے، اور اُمید سے ہی پیہم رواںدواں اور ہردم جواں رہتی ہے۔