ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فتح مکّہ
ایک طرف بیس سالہ ظلم و تشدد، وحشت و سفاکیت، ریشہ دوانی اور دوسری طرف رحمت للعالمینؐ کا یہ اعلان، جس پر حرف بحرف عمل ہوا کہ ’’آج تم پرکوئی ملامت نہیں۔ جائو تم سب آزاد ہو‘‘۔ انتقام کا شائبہ تک نہیں۔ محبت و مودّت، رافت و رحمت اور امن و سلامتی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ ایک ایسی فتح جس میں نہ کوئی فاتح تھا نہ مفتوح،نہ کوئی غالب تھا نہ مغلوب، نہ کوئی قابض تھا نہ مقبوض، نہ کوئی غاصب تھا نہ مغضوب۔ ایک ایسی فتح جسے فتح الفتوح کہا جاسکتا ہے، ایک ایسی فتح جو فتح الخیر تھی، فتح الایمان تھی،فتح الاسلام تھی، اور یہ اس لیے کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانِ الٰہی پر ایسے عمل کرتے تھے جیسے فنا فی العمل ہوگئے ہوں، انتہائی حد تک انتہا الانتہا کی حد تک۔
یہیں پر بس نہیں، یہ تو خارجی دُنیا کے ساتھ تعلقات کا پہلو تھا، داخلی دُنیا میں کیا لیل و نہار تھے، کیا کیفیت و کمیت تھی؟ اہل مکہ کی ستم رانیوں اور سازشوں کی وجہ سے آں حضوؐر فرمانِ الٰہی کے مطابق مکہ سے ہجرت فرما کر یثرب (جسے اُن کی آمد پر ’مدینۃ النبیؐ ‘ کا نام دیا گیا) تشریف لاچکے تھے۔ جہاں ایک مکمل معاشرہ و مملکت اسلامی کو ظہورپذیر و جلوہ نما ہونا تھا۔ وہ چودہ روزِ قبا میں ٹھیرے تو انھوں نے مسجد قبا تعمیر فرمائی اور مدینہ میں تشریف آوری ہوئی تو یہاں بھی اوّلین عملی اقدام مسجد نبویؐ کی صورت میں رُونما ہوا۔ مسجد جو عبادت گاہ بھی تھی اور درس گاہ بھی، دارالمشاورت بھی اور جامع الناس بھی، اسمبلی بھی اور کمیونٹی ہال بھی۔ بعد کی مسجدیں تعداد میں تو بڑھتی گئیں اور کرئہ ارض کے ہرحصے میں پھیلتی گئیں لیکن افسوس کہ چند مساجد کے سوا وہ اپنے اس ہمہ گیر منصب سے ہٹ کر جوئے کم آب بن کر رہ گئیں۔ مسجد کی تعمیر کے بعد پہلا معاشرتی اقدام مواخات تھا جو جتنا اہم، بنیادی اور امکان پرور تھا، اُتنا ہی اُسے تاریخ، حکومتوں اور بعد کے اسلامی معاشروں نے نظرانداز کیا۔