ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فیمینزم پر فکری موقف
یہی نقطۂ نظر ان کے ہاں خواتین اور معاشرت میں ان کے رواجی و سماجی مسائل کے مطالعے میں بھی سامنے آتا ہے۔ وہ مغربی ’فیمی نزم‘ (نسائیت) کو ایک فکری ڈھانچے کے طور پر دیکھتی ہیں، جس کی بنیاد خاص تاریخی اور سماجی تجربات پر قائم ہے۔ اس سلسلے میں ان کی کتاب Women’s Empowerment and Islam اور تحقیقی مقالات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ عورت کے مسئلے کو صرف ’مساوات مردوزن‘ کے تصور تک محدود کر دینا کافی نہیں بلکہ اسے خاندانی نظام، سماجی توازن اور اخلاقی اقدار کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ضروری ہے۔
مغربی فیمی نزم کے تجزیے میں وہ اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ اس تحریک کی بنیاد ایک خاص تاریخی پس منظر میں رکھی گئی، جہاں عورت کو طویل عرصے تک معاشرتی اور قانونی سطح پر محرومی کا سامنا رہا۔ اس طرح پیدا ہونے والی تحریک نے مساوات اور آزادی کے مطالبات کو مرکزی حیثیت دی، لیکن وقت کے ساتھ اس میں ایک ایسا رجحان بھی پیدا ہوا، جس میں مرد اور عورت کے تعلق کو باہمی تعاون اور اعتماد کے بجائے ایک طرح کے تصادم (conflict) کے زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ ان کے نزدیک یہی وہ پہلو ہے جہاں فیمی نزم کا تصور اپنا انسانی توازن کھو دیتا ہے۔
ڈاکٹر زینت کوثر اس کے مقابلے میں اسلامی تصورِ عورت کو پیش کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسلام میں عورت کی حیثیت نہ محض حقوق کی فہرست سے متعین ہوتی ہے اور نہ اسے کسی ایک سماجی کردار تک محدود کیا جاتا ہے، بلکہ اسے ایک ایسے نظام کا حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں فرد، خاندان اور معاشرہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اس تناظر میں وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عورت کے حقوق اور ذمہ داریوں کو اس کے فطری کردار اور معاشرتی توازن کے ساتھ ہی دیکھنا ضروری ہے۔ یہ بات انھوں نے اپنی کتاب Women’s Empowerment and Islam میں واضح کی ہے۔
اسی بنیاد پر ان کی فکر میں ’مساوات‘ (Equality) کو ’یکسانیت‘ (Sameness) کے ہم معنی نہیں سمجھا جاتا۔ وہ اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ مرد و عورت کے درمیان بعض فطری اور معاشرتی فرق اور فطری امتیازات کو نظر انداز کر کے مکمل یکسانیت پر زور دینا نہ تو عملی طور پر ممکن ہے اور نہ معاشرتی توازن کے لیے مفید۔ اس کے بجائے وہ ایک ایسے توازن (balance) کی بات کرتی ہیں، جس میں دونوں کی حیثیت اور کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ہم آہنگ نظام تشکیل دیا جائے۔