ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ترجیحات کا تعین کیجیے
تمام انبیا اور رسولوں علیہم السلام، خصوصاً محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد ِ بعثت اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنا قرار دیا گیا۔ یہ بات قرآن کریم میں یوں بیان فرمائی گئی:
<<ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ۳۳ (التوبہ ۹:۳۳)>> وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقصد ِ بعثت سورۃ الفتح آیت ۲۸ اور سورۃ الصف کی آیت۹ میں بھی دُہرایا گیا ہے۔ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی مشن، اقامت ِ دین اور غلبۂ اسلام کی دعوت لے کر اُٹھے ہیں۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ کسی بھی بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اگر انسان اپنی زندگی کی ترجیحات اس ہدف کے تقاضوں کے مطابق طے نہیں کرتا، تو اس ہدف کا حصول ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے جماعت اسلامی کے وابستگان کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے اپنی زندگی کا ہدف اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اقامت ِ دین اور غلبۂ اسلام کو بنایا ہے تو اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین اس مبارک اور بہت بڑے ہدف کے مطابق کیجیے۔ آپ اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ اپنے گھروں میں رہتے ہیں اور ایک خاندان اور برادری سے وابستہ ہیں۔ایک لمحے کے لیے رُک کر جائزہ لیجیے۔ اس دعوت کے ساتھ خود ہمارے اپنے گھر اور خاندان کے لوگ کس حد تک چل رہے ہیں؟ درحقیقت اقامت ِ دین کی جدوجہد کوئی ایسا دعویٰ نہیں ہے کہ جو کسی عام سیاسی پارٹی کا دعویٰ ہوتا ہے، بلکہ یہ ایک عہد ہے اللہ کے ساتھ، اور لوگوں کو گواہ بنا کر!
ہم کوئی مذہبی جماعت نہیں کہ جس کے پیش نظر کسی مسلک کا پرچار ہو۔ ہمارے پیش نظر دین کے کسی ایک شعبے کا کام بھی نہیں کہ ہم سمجھیں کہ اگر ہم نے مدرسہ بنا لیا، یا خیر کا کوئی کام کرلیا، یا کوئی سبیل لگا دی یا خدمت خلق انجام دے دی تو ہمارے کام کا حق ادا ہوگیا۔ ذرا سوچیے! یہ کتنی عظیم دعوت ہے کہ دین اسلام کو ایک پورے نظام کے طور پر قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں عدل پر مبنی ایک معاشرہ و ریاست وجود میں آئے گی۔سوال یہ ہے کہ نظام کی اس تبدیلی کے لیے ہمارا وقت کتنا لگتا ہے؟ ہماری صلاحیتیں کتنی لگتی ہیں اور اس راہ میں ہم اپنا جان و مال کتنا کھپاتے ہیں؟
بلاشبہ جماعت اسلامی کے بہت سے کارکنان بڑی قربانی دیتے ہیں، بڑا ایثار کرتے ہیں، بڑا وقت لگاتے ہیں، بڑی جان کھپاتے ہیں، لیکن یہ کام وہ اکیلے کر رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے لیے سوچتے ہیں، تو اور طرح سے سوچتے ہیں، لیکن وہیں پر اپنے گھر والوں اور بچوں کے لیے اُن کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ کیا ہم اپنے اہل خانہ اور بچوں کے لیے وہ پسند نہیں کرتے جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں؟
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں متنبہ کیا: <<لَایُؤمِنُ اَحدُکُمْ حَتّٰی یُـحِبُّ لِاَخِیْہِ مَا یُـحِبُّ لِنَفْسِہٖ (البخاری)>> ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جووہ اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اہل خانہ اور بچوں کے لیے ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں، تو کیا ہمیں واقعی اپنی زندگی کے ہدف پر شرح صدر حاصل ہے؟ کیا ہم اپنی زندگی کے ہدف کے تقاضوں کو پوری طرح سمجھتے ہیں؟
بچوں کی اچھی تعلیم اور روشن مستقبل کی اپنی جگہ اہمیت ہے، لیکن کیا اچھی تعلیم اور روشن مستقبل کسی بھی طریقے سے، چاہے باطل نظام کی خدمت اور سہولت کاری سے ہو، اعلیٰ منصب، مادی آسائشوں اور گاڑیوں میں اضافے کی شکل میں ہو اور ایک گھر سے دوسرے گھر کے حصول کی فکر ہی میں ہو؟ یہ سب کچھ ہم اس دُنیا کے لیے سوچتے ہیں۔وہ دُنیا جس کے بارے میں ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ کب ختم ہوجائے گی، کب سانس رُک جائے گا اور آنکھ بند ہوجائے گی۔ جب اتنی سی زندگی کے لیے ہم اتنی تگ و دو کرتے ہیں تو جہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم، ہمارے اہل خانہ اور ہمارے بچوں نے جانا ہے، اس کی ہم کتنی پیش بندی اور کتنی فکر مندی کرتے ہیں؟
پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس حقیقت پر یقین ہے کہ انسان کے رزق کی مقدار اللہ تعالیٰ ہی مقرر فرماتا ہے؟ <<اَللہُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَيَقْدِرُ لَہٗ۰ۭ اِنَّ اللہَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۶۲ (العنکبوت ۲۹:۶۲)>> ’’اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔ کیا جب ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کو جان کر اور اُن کی دُنیا و آخرت میں کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اقامت ِ دین اور غلبۂ اسلام کی جدوجہد سے مطابقت رکھنے والی اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ مہارتوں اور مناصب کے لیے ان کی رہنمائی اور منصوبہ بندی کریں گے، تو کیا اللہ تعالیٰ انھیں آخرت کی کامیابی کے ساتھ ساتھ دُنیا کی نعمتوں سے نہیں نوازے گا؟ ہم اگر رسولؐ اللہ کی تحریک کا جائزہ لیں تو ہمیں وہاں عثمان غنیؓ اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ جیسے صاحبِ ثروت بھی نظر آتے ہیں،جو ہر دینی ضرورت پر اپنے مال کو بے دریغ خرچ کرتے ہیں، اور دوسری طرف بلالؓ اور عمار بن یاسرؓ اور خالد بن ولیدؓ بھی نظر آتے ہیں جو بہت زیادہ مال و اسباب تو نہیں رکھتے مگر اُن میں سے ہرفرد، اپنے اخلاص،قربانی اور یکسوئی کی بنیاد پر بلند مقام رکھتا ہے۔
ہم نے جب یہ فیصلہ کرلیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبے کا کام کریں گے اور یہی جنت کے حصول کا راستہ ہے، تو ہمارا یہ فیصلہ اپنے بچوں کے لیے کیوں نہیں ہے؟ جب ہم مہنگائی اور بے روزگاری کے عالم میں ان کی بہتری کے لیے سوچ رہے ہوتے ہیں، تو ساتھ ساتھ ان کے لیے جنّت کے حصول کا کیوں نہیں سوچتے؟