ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بزرگ اور نئی نسل کے درمیان فاصلہ
کہا جاتا ہے کہ بچوں اور بزرگوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ نئی نسل پرانی نسل سے مطابقت نہیں رکھتی۔ان کے درمیان ایک جنریشن گیپ ہے۔ہرپرانی نسل کو نئی نسل سے کچھ شکایات ہوتی ہیں۔نئی نسل سمجھتی ہے کہ بزرگ نسل کو ہمارے موجودہ دور کے تقاضوں کا علم نہیں ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کی یلغار کے نتیجے میں یہ دُوری بڑھتی جارہی ہے، جو قابلِ تشویش بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔
اسلامی طرزِ زندگی ہمیں ہمدردی، محبت اور تعاون پر مبنی خاندان کا ایک نظام دیتا ہے، جس میں والدین کے لیے بچّے کی پیدائش سے قبل سے لے کر بچوں کے عاقل و بالغ ہوجانے اور اس کے بعد بھی تعلیم و تربیت کے ہرمرحلے کے لیے جامع تعلیمات و ہدایات موجود ہیں، تاکہ وہ ایک بامقصد اور متوازن زندگی گزار سکیں۔گھر کا سربراہ جب ان اسلامی تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ کر ہرمرحلے میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا محبت و ہمدردی سے اہتمام کرتا ہے، تو یہ ذہنی دُوری یا جنریشن گیپ پیدا ہونے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔
ایک ایسے گھر میں جب گھر کا سربراہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کے بچپن سے فاصلہ نہیں رکھتا بلکہ اپنے بچوں اور اپنے گھر والوں کو بامقصد وقت اور توجہ دیتا ہے اور بچوں کی بات پوری توجہ اور محبت اور ہمدردی سے سنتا ہے۔ ان کی باتیں اور سوالات نظرانداز نہیں کرتا،بلکہ سوالات کو اچھی طرح سمجھ کر اسلامی تعلیمات اور اپنے تجربات کی روشنی میں ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس محنت طلب اسلامی عمل سے ہی جنریشن گیپ کے امکانات کم سے کم ہوںگے۔ یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ والدین اور بچوں کے درمیان جنریشن گیپ ہوگا تو بچّے ان کے ہاتھ میں نہیں رہیں گے اور ان کا سیکھنے کا عمل گلی محلے میں پھیل جائے گایا پھر اسکرین تک محدود ہوجائے گا۔