ماہنامہ ترجمان القرآن، جون 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جون 2026) کا شمارہ ہے، جس میں خاندان کی تربیت اور نوجوان نسل کو تحریکِ اسلامی سے وابستہ کرنے کے تقاضوں پر مضامین شامل ہیں۔
شمارے میں امن و جنگ کے اسلامی تصور، سیرتِ نبویؐ سے امن کی مثالیں، اور اجتہاد بالمقاصد کے تحت دین، جان، مال، عقل اور نسل کے تحفظ پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین میں جنسی تشدد، کشمیر کی صورتحال اور ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات پر بھی مضامین شامل ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ہجرتِ مدینہ کے بعد درپیش مسائل
مکہ میں تو قریش کا ہی طُوطی بولتا تھا، جو کاروباری اور تجارت پیشہ لوگ تھے اور کافی خوش حال۔مکہ کی عظمت اور لاکھوں زائرین کعبہ کی سالانہ آمدورفت متولیوں کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھی۔ ان کے تجارتی قافلے بھی ہرسمت میں جاتے تھے جن سے انھیں بہت کمائی ہوتی تھی۔ اس کے برعکس مدینہ میں عددی اکثریت تو عربوں کو ہی حاصل تھی، لیکن سرمایہ داری کی وجہ سے بالادست یہودی تھے۔عرب کے دو قبائل حمیری یا یمنی قبائل اوس اور خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ زراعت کار اور باغبان تھے اور تجارت سے بالکل بے بہرہ۔ کچھ اپنی جاہلانہ قبائلیت کی وجہ سے اور کچھ طاقت ور یہودیوں کی شہ پر یہ ہمیشہ آپس میں دست و گریباں رہتے تھے۔یہودی انھیں بہ دل و جان سے قرض دیتے اور پھر سُود در سُود کے چکّر سے اُن کی زمینوں اور باغوں کے بھی مالک بن بیٹھتے۔ کاروبارِ امن ہو یا جنگ ِعرب، اُن کے شرمندئہ احسان تھے۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اُن کا یہ نظریہ تھا کہ واقعی وہی نبی ہیں جن کی پیشن گوئی تورات و انجیل میں کی گئی تھی، لہٰذا وہ ایمان لائے بغیر ان کی آمد کو مدنی عربوں پر اپنے استعمار کے لیے کارآمد گردانتے تھے۔
ان دو موجود عناصر کے علاوہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی آمد کی وجہ سے مدینہ میں ایک تیسراعنصر بھی دَر آیا تھا اور وہ تھا مہاجر عنصر! سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اوّلین اور اہم ترین معاشرتی و سیاسی مسئلہ انھی تین عناصر سے معاملہ بندی کا تھا۔ اگر یہودی (اور عیسائی) اپنی الہامی کتب کی پیشن گوئیوں کی بنا پر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آتے تو اسلام اور دُنیا کی تاریخ بالکل مختلف ہوتی لیکن اُن کے مفاد پرست مذہبی پیشوائوں نے قریش مکہ کی طرح نہ ایسا کیا نہ ایسا ہونے دیا بلکہ اُلٹا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی اور اسلام کو اپنی مطلب براری کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، لہٰذا اُن سے معاملہ بندی (جو ’میثاق مدینہ‘ کی صورت میں رُونما ہوئی۔ بجائے خود اسلامی رواداری کی ایک روشن ترین مثال اور اقلیتوں کے تحفظ کے سلسلے میں تاریخ عالم میں پہلا منشور) سے پہلے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے دوعناصر پر توجہ دی۔