مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

مفتوحین کی دو قسمیں

اسلامی قانون نے تمام مفتوحین کو دو اقسام پر منقسم کیا ہے: ایک وہ جو صلح کے ساتھ اطاعت قبول کریں، دوسرے وہ جو بزورِ شمشیر مغلوب ہوں۔ ان دونوں کے احکام میں تھوڑا سا فرق ہے، اس لیے ہم دونوں کے احکام الگ الگ بیان کریں گے:

معاہدین

جو لوگ جنگ سے پہلے یا دورانِ جنگ میں اطاعت قبول کرنے پر راضی ہو جائیں اور حکومتِ اسلامیہ سے مخصوص شرائط طے کر لیں ان کے لیے اسلام کا قانون یہ ہے کہ ان کے ساتھ تمام معاملات ان شرائطِ صلح کے تابع ہوں گے جو ان سے طے ہوئی ہیں۔ دشمن کو اطاعت پر آمادہ کرنے کے لیے چند خاص شرائط طے کر لینا اور پھر جب وہ پوری طرح قابو میں آ جائے تو اس کے ساتھ مختلف برتاؤ کرنا آج کل کی مہذب قوموں کے سیاسی معمولات میں سے ہے، مگر اسلام اس کو ناجائز بلکہ حرام اور گناہِ عظیم قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ جب کسی قوم کے ساتھ کچھ شرائط طے ہو جائیں خواہ وہ مرغوب ہوں یا نہ ہوں تو اس کے بعد ان شرائط سے یک سر مو بھی تجاوز نہ کیا جائے، بلا لحاظ اس کے کہ فریقین کی اعتباری حیثیت اور طاقت و قوت میں کتنا ہی فرق آ جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

<<لعلكم تقاتلون قوما فتظاهرون عليهم فيتقونكم باموالهم دون انفسهم وابناءهم وفى حديث فيصالحونكم على صلح فلا تصيبوا منهم فوق ذالك فانه لا يصلح لكم>> [ ابوداؤد، کتاب الجہاد]

’’اگر تم کسی قوم سے لڑو اور اس پر غالب آ جاؤ اور وہ قوم اپنی اور اپنی اولاد کی جان بچانے کے لیے تم کو خراج دینا منظور کر لے (ایک دوسری حدیث میں ہے کہ تم سے ایک صلح نامہ طے کر لے) تو پھر تم اس مقررہ خراج سے ایک حبہ بھی زائد نہ لینا کیوں کہ وہ تمھارے لیے درست نہ ہوگا۔‘‘

ایک اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

<<الا من ظلم معاهدا او انتقصه او كلّفه فوق طاقته او اخذ منه شيئا بغير طيب نفس فانا حجيجه يوم القيمة>> (ابوداؤد، کتاب الجہاد)

”خبردار! جو شخص کسی معاہد پر ظلم کرے گا یا اس کے حقوق میں کمی کرے گا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا یا اس سے کوئی چیز اس کی مرضی کے خلاف وصول کرے گا اس کے خلاف قیامت کے دن میں خود مستغیث بنوں گا ۔“

ان دونوں حدیثوں کے الفاظ عام ہیں اور ان سے یہ عام حکم مستنبط ہوتا ہے کہ معاہد ذمیوں کے ساتھ صلح نامہ میں جو شرائط طے ہو جائیں ان میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ نہ ان پر ٹیکس بڑھایا جا سکتا ہے، نہ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جا سکتا ہے، نہ ان کی عمارتیں چھینی جا سکتی ہیں، نہ ان پر سخت فوجداری قوانین نافذ کیے جا سکتے ہیں، نہ ان کے مذہب میں دخل دیا جا سکتا ہے، نہ ان کی عزت و آبرو پر حملہ کیا جا سکتا ہے اور نہ کوئی ایسا فعل کیا جا سکتا ہے جو ظلم یا انتقاص یا تکلیف مالا یطاق یا اخذ بغیر طیب نفس کی حدود میں آتا ہو۔ انھی احکام کی بنا پر فقہائے اسلام نے صلحاً فتح ہونے والی قوموں کے متعلق کسی قسم کے قوانین مقرر نہیں کیے اور صرف یہ عام قاعدہ بیان کر کے چھوڑ دیا کہ ان کے ساتھ ہمارا معاملہ بالکل شرائط صلح کے مطابق ہوگا۔ امام ابو یوسفؒ لکھتے ہیں:

<<یوخذ منهم ما صولحوا عليه ويوفى لهم ولا يزاد عليهم>> (کتاب الخراج ، صفحہ ۳۵)

”ان سے وہی لیا جائے گا جس پر ان کے ساتھ صلح ہوئی ہے، ان کے حق میں صلح کی شرائط پوری کی جائیں گی اور ان پر کچھ زیادہ نہ کیا جائے گا۔“

ظاہر ہے کہ صلح نامہ کے لیے قواعد و اصول معین نہیں کیے جا سکتے۔ وقت اور موقع کے لحاظ سے جیسی شرائط مناسب ہوں گی وہی طے کر لی جائیں گی۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفائے راشدینؓ نے مختلف قوموں سے جو صلح نامے کیے ہیں ان سے ہمیں کم از کم وہ عام اصول معلوم ہو جاتے ہیں جن پر اسلام اپنے دشمنوں سے مصالحت کرتا اور کر سکتا ہے۔ ان اصولوں کو واضح کرنے کے لیے ہم چند صلح نامے یہاں نقل کرتے ہیں: اہل نجران کی درخواست پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صلح نامہ لکھ کر انھیں دیا تھا اس میں خراج کی رقم مقرر کرنے کے بعد لکھا ہے:

<< ولنجران وحاشيتها جوار الله وذمة محمد النبى رسول الله على انفسهم وملتهم وارضهم واموالهم وغائبهم وشاهدهم وعيرهم وبعثهم وامثلتهم لا يغير ما كانوا عليه ولا يغير حق من حقوقهم وامثلتهم لا يفتن اسقف من اسقفيته ولا مر هب من رهبانيته ولا واقه من وقاهيته على ما تحت ايديهم من قليل او كثير وليس عليهم رهق ولا دم جاهلية ولا يحشرون ولا يعشرون ولا يطاء ارضهم جيش، من سأل منهم حقًا فبينهم النصف غير ظالمين ولا مظلومين بنجران ومن اكل منهم الربا من ذى قبل فذمتى منه بريئة ولا يوخذ منهم رجل بظلم آخر ولهم على ما فى هذه الصحيفة جوار الله وذمة محمد النبى ابدًا حتى ياتى امر الله، ما نصحوا واصلحوا فيما عليهم >>

”نجران کے عیسائیوں اور ان کے ہمسایوں [ڈاکٹر اسپرنگر نے حاشیہ سے مراد یہودی لیے ہیں (سیرۃ محمدؐ، ج ۳، ص ۵۰۲)۔ مگر دراصل اس سے مراد تمام وہ لوگ ہیں جو عیسائیوں کے ساتھ وہاں آباد تھے] کے لیے اللہ کی پناہ اور اللہ کے رسول محمدؐ نبی کا ذمہ ہے، ان کی جانوں کے لیے، ان کے مذہب، ان کی زمین، ان کے اموال، ان کے حاضر و غائب، ان کے اونٹوں، ان کے قاصدوں اور ان کے مذہبی نشانات [ امثلہ سے مراد صلیبیں اور تصویریں وغیرہ ہیں جو کنیسوں میں رکھی جاتی ہیں]، سب کے لیے۔ جس حالت پر وہ اب تک ہیں اسی پر بحال رہیں گے۔ ان کے حقوق میں سے کوئی حق اور نشانات میں سے کوئی نشان نہ بدلا جائے گا۔ ان کے کسی اسقف کو اس کی اسقفیت سے اور کسی راہب کو اس کی رہبانیت سے اور کسی خادمِ کلیسا کو اس کی خدمت سے نہ ہٹایا جائے گا خواہ اس کے ہاتھ کے نیچے جو کچھ ہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ [ اس سے معاہد کے املاک و اوقاف کا تحفظ مقصود ہے] ان پر عہد جاہلیت کے کسی خون یا عہد کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ان کو فوجی خدمت یا دہ یکی ادا کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا اور ان کی زمین کو کوئی لشکر پامال نہ کرے گا [ اس شرط کا مدعا صرف یہی نہیں ہے کہ اسلامی لشکر ان کی زمین کو پامال نہ کرے گا بلکہ یہ بھی ہے کہ تمام خارجی طاقتوں کے مقابلہ میں ان کی حفاظت و مدافعت کی جائے گی] اگر کوئی شخص ان کے خلاف کسی حق کا دعویٰ کرے گا تو فریقین کے درمیان انصاف کیا جائے گا۔ نہ اہل نجران ظالم بن سکیں گے نہ مظلوم۔ مگر جس شخص نے اس سے پہلے سود کھایا ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں [ اس سے مراد یہ ہے کہ جس نے معاہدہ سے پہلے سود پر رقم دی ہو اور معاہدہ کے بعد وہ مدیون پر سود کا دعویٰ کرے تو ہم اس کو دلوانے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ مگر یعقوبی نے جو معاہدہ نقل کیا ہے اس میں ”اس سے پہلے“ کے بجائے ”اس سال کے بعد“ لکھا ہے۔ دیکھو ج ۲، ص ۶۳] ان میں سے کسی شخص کو دوسرے کے گناہ میں نہ پکڑا جائے گا۔ اس صحیفہ میں جو کچھ ہے اس کے لیے اللہ کی ضمانت اور محمدؐ نبی کا ذمہ ہے، ہمیشہ کے واسطے جب تک کہ اللہ کا حکم آئے اور جب تک وہ خیر خواہ رہیں اور ان کے حقوق کو ادا کرتے رہیں جو اس معاہدہ کی رُو سے ان پر عائد ہوتے ہیں۔"

حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں خالدؓ بن ولید نے اہل حیرہ کو جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس میں انھوں نے تمام باشندوں پر مجموعاً صرف ۶۰ ہزار درہم یعنی محتاجوں اور مفلسوں کو الگ کر کے بقیہ آبادی پر ۱۰ درہم (ڈھائی روپیہ) فی کس کے حساب سے سالانہ خراج مقرر کیا اور اس کے مقابلہ میں حکومت اسلامیہ کی جانب سے یہ عہد کیا کہ:

<<لا يهدم لهم بيعة ولا كنيسة ولا قصر من قصورهم التي كانوا يتحصنون فيها اذا نزل بهم عدو لهم، ولا يمنعوا من ضرب النواقيس ولا من اخراج لصلبان فى يوم عيدهم>> [ امام ابو یوسفؒ کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے اس صلح نامہ کو نافذ فرمایا ، کتاب الخراج ،ص ۸۴]

"ان کا کوئی معبد اور گرجا منہدم نہ کیا جائے گا، نہ ان قلعوں میں سے کوئی قلعہ توڑا جائے گا جن میں وہ اپنے دشمنوں سے بچاؤ کے لیے پناہ گزین ہوا کرتے تھے، نہ انھیں ناقوس بجانے سے روکا جائے گا اور نہ ان کو عید کے دن صلیبیں نکالنے سے منع کیا جائے گا۔"

حضرت عمرؓ نے اہل بیت المقدس کو جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ یہ ہیں :

<<اعطاهم امانا لا نفسهم واموالهم ولكنائسهم وصلبانهم وسقيمها وبريها وسائر ملتهانه لا يسكن كنائسهم ولا تهدم ولا ينتقص منها ولا من حيزها ولا من صلبهم ولا من شىء من اموالهم ، ولا يكرهون على دينهم ولا يضار احد منهم>> [یہ صلح نامہ اس وقت لکھا گیا تھا جب اہل بیت المقدس کی قوتِ مقابلہ بالکل ٹوٹ چکی تھی]

"ان کو امان دی ان کی جان و مال اور ان کے کنیسوں اور صلیبوں اور ان کے تندرستوں اور بیماروں کے لیے۔ یہ امان ایلیا کی ساری ملت کے لیے ہے۔ عہد کیا جاتا ہے کہ ان کے کنیسوں کو مسلمانوں کا مسکن نہ بنایا جائے گا، نہ ان کو منہدم کیا جائے گا، نہ ان کے احاطوں اور ان کی عمارتوں میں کوئی کمی کی جائے گی ، نہ ان کی صلیبوں اور ان کے اموال میں سے کسی چیز کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ ان پر دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہ کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کسی کو ضرر پہنچایا جائے گا۔"

اہل دمشق کو حضرت عمرؓ نے جو صلح نامہ لکھ کر دیا اس کے الفاظ یہ ہیں :

<<اعطاهم امانا على انفسهم واموالهم وكنائسهم وسور مدينتهم لا يهدم ولا يسكن شىء من دورهم لهم بذلك عهد الله وذمة رسوله . . . لا يعرض لهم الا بخير اذا اعطوا الجزية >> [یہ صلح نامہ اس وقت لکھا گیا تھا جب آدھا شہر بزور شمشیر فتح ہو چکا تھا]

”ان کو امان دی ان کی جان و مال کے لیے اور ان کے کنیسوں اور ان کے شہر کی فصیل کے لیے۔ ان کے مکانات میں سے نہ کوئی توڑا جائے گا اور نہ مسلمانوں کا مسکن بنایا جائے گا۔ اس پر ان کے لیے اللہ کا عہد اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔...... ان کے ساتھ نیکی کے سوا کبھی کوئی اور سلوک نہ کیا جائے گا جب تک کہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔“

حضرت خالدؓ بن ولید نے اہل عانات کو جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ یہ ہیں:

<<لا يهدم لهم بيعة ولا كنيسة وعلى ان يضربوا نواقيسهم فى اى ساعة شاءوا من ليل او نهارٍ الا فى اوقات الصلوة و على ان يخرجوا الصلبان فى ايام عيدهم>>

”ان کا کوئی معبد اور کوئی گرجا منہدم نہ کیا جائے گا، وہ رات دن میں جس وقت چاہیں اپنے ناقوس بجائیں، مگر اوقاتِ نماز کا احترام ملحوظ رکھیں۔ ان کو حق ہوگا کہ اپنے ایامِ عید میں صلیبیں نکالیں۔“

بعلبک کے لوگوں کو حضرت ابوعبیدہؓ نے جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ یہ ہیں:

<<هذا كتاب امان لفلان ابن فلان واهل بعلبك، رومها وفرسها وعربها على انفسهم و اموالهم وكنائسهم و دورهم داخل المدينة وخارجها وعلى ارحائهم ... من اسلم فله ما لنا وعليه ما علينا ولتجارهم ان يسافروا الى حيث ارادوا من البلاد التى صالحنا عليها و على من اقام منهم الجزية والخراج>>

”یہ امان کی تحریر ہے فلاں ابن فلاں [ غالباً یہاں حاکم بعلبک کا نام ہوگا] اور اہل بعلبک کے لیے، عام اس سے کہ وہ رومی ہوں یا فارسی یا عرب۔ امان ہے ان کی جان، مال، کنائس اور عمارات کے لیے، عام اس سے کہ وہ شہر کے اندر ہوں یا باہر، اور امان ہے ان کی چکیوں کے لیے...... ان میں سے جو مسلمان ہو جائے گا اس کے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں اور اس پر وہی فرائض ہیں جو ہم پر ہیں۔ ان کے تاجروں کو حق ہو گا کہ جن ملکوں سے ہماری صلح ہو چکی ہے ان میں آزادی کے ساتھ آمد و رفت رکھیں ، ان میں سے جو کوئی اپنے دین پر قائم رہے گا اس پر جزیہ اور خراج عائد ہوگا۔‘‘

اہل دبیل کے صلح نامہ میں حبیبؓ بن مسلمہ نے لکھا:

<<هذا كتاب من حبيب بن مسلمة لنصارى اهل دبيل ومجوسها ويهودها شاهدهم وغائبهم اني امنتكم على انفسكم واموالكم وكنائسكم وبيعكم وسور مدينتكم فانتم أمنون وعلينا الوفاء لكم بالعهد ما وفيتم واديتم الجزية والخراج>>

’’ یہ تحریر ہے حبیبؓ بن مسلمہ کی جانب سے اہل دبیل کے لیے، عام اس سے کہ وہ عیسائی ہوں یا مجوسی یا یہودی ، حاضر ہوں یا غائب ، میں نے تم کو امان دی تمھاری جانوں اور مالوں اور کنیسوں اور معبدوں اور تمھارے شہر کی فصیل کے لیے ۔ پس تم امان میں ہو اور جب تک تم اپنے عہد پر قائم رہو اور جزیہ و خراج ادا کرتے رہو ہم پر فرض ہے کہ اس عہد کو پورا کریں۔‘‘

آذربائیجان کے صلح نامہ میں حذیفہؓ بن الیمان نے لکھا:

<<الامان علی انفسهم واموالهم ومللهم وشرائعهم>>

’’امان ہے ان کی جان و مال اور ان کی ملتوں اور ان کی شریعتوں کے لیے ۔‘‘

جرجان کے صلح نامہ میں انھی حذیفہؓ نے لکھا:

<<لهم الامان علی انفسهم واموالهم ومللهم وشرائعهم ولا يغير بشيء من ذالك>>

’’ ان کی جان و مال اور ان کی ملتوں اور شریعتوں کے لیے امان ہے ، ان میں سے کسی چیز میں تغیر نہ کیا جائے گا۔‘‘

ماہ دینار کے صلح نامہ میں انھوں نے لکھا:

<<لا يغيرن عن ملة ولا يحال بينهم وبين شرائعهم>>

”ان کو مذہب بدلنے پر مجبور نہ کیا جائے گا اور نہ ان کے مذہبی قوانین میں مداخلت کی جائے گی۔“

ہم نے اتنی تفصیل کے ساتھ یہ معاہدات اس لیے نقل کیے ہیں کہ ناظرین کو اسلام کے اندازِ مصالحت کا ایک عمومی تصور حاصل ہو جائے۔ ایک دو معاہدات کو دیکھ کر یہ خیال پیدا ہونا ممکن ہے کہ شاید کسی خاص حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ نے مجبوراً ایسی شرائط قبول کر لی ہوں گی۔ لیکن یہاں عرب، شام، الجزیرہ اور فارس وغیرہ ممالک کے کئی عہد نامے آپ کے سامنے موجود ہیں اور تاریخوں میں ان کے علاوہ بیسیوں اور عہد نامے مل سکتے ہیں جن کے اندر ایک ہی قسم کی فیاضانہ روح پائی جاتی ہے۔ ہم نے خصوصیت کے ساتھ ان معاہدات کو نقل کیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ نے پوری طرح غالب آ جانے کے بعد کیے تھے۔ نجران کا معاہدہ اس وقت ہوا تھا جب تمام عرب پر اسلام کی دھاک بیٹھ چکی تھی اور خود اہلِ نجران نے خوفزدہ ہو کر اپنے سید اور عاقب کو مصالحت کے لیے بھیجا تھا۔ حیرہ کا معاہدہ اس وقت ہوا جب اس کے اردگرد کے مقامات کو خالدؓ بن ولید کی بے پناہ تلوار فتح کر چکی تھی اور اہلِ حیرہ نے اپنی خیریت اسی میں دیکھی تھی کہ خود آگے بڑھ کر اطاعت قبول کر لیں۔ دمشق اور بیت المقدس کے متعلق تو آپ کو معلوم ہو ہی چکا ہے کہ وہ قریب قریب فتح ہو چکے تھے، اور اگر مسلمان چاہتے کہ انھیں بزورِ شمشیر فتح کر لیں تو یہ ان کے لیے کچھ مشکل نہ تھا۔ ایسی حالت میں صلح کرنا اور ان شرائط پر کرنا جو اوپر کے معاہدات میں درج ہیں کسی ایسی قوم کا فعل نہیں ہو سکتا تھا جس کا مقصد اپنے مذہب کی جبریہ اشاعت کرنا ہوتا یا جس نے غیر مذاہب کا نام و نشان مٹانے کے لیے تلوار اٹھائی ہوتی یا جو محض لوٹ مار اور حصولِ ملک و مال کے لیے نکلی ہوتی۔

غیر معاہدین

مفتوحین کی دوسری قسم میں وہ لوگ ہیں جو آخر وقت تک مسلمانوں سے لڑتے رہے ہوں اور جنھوں نے اس وقت ہتھیار ڈالے ہوں جب اسلامی فوجیں ان کے استحکامات کو توڑ کر ان کی بستیوں میں فاتحانہ داخل ہو چکی ہوں۔ ایسے مفتوحین کے بارے میں اسلام نے فاتح قوم کا یہ حق تسلیم کیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو ان کے تمام ہتھیار اٹھانے والے مردوں کو قتل کر دے، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنالے اور ان کی املاک پر قبضہ کرلے، لیکن طریق اولیٰ یہ بتایا ہے کہ ان کو بھی ذمی بنالیا جائے اور اسی حال پر رہنے دیا جائے جس پر وہ جنگ سے پہلے تھے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس زمانہ کا عام دستور ہی یہ تھا کہ مفتوحوں کو غلام بنا لیتے، ان کی املاک پر قبضہ کر لیتے اور شہروں کی تسخیر کے بعد قتل عام کر کے ان کی جنگی طاقت کو فنا کر دیتے تھے۔ اسلام کے لیے اس عام وقتی ذہنیت کو دفعۃً بدل دینا مشکل تھا۔ وقت کی روح سے جنگ کرنا اس کے طریق اصلاح کے خلاف تھا۔ اس لیے اس نے ایک طرف رواجوں اور دستوروں سے متأثر دماغوں کو مطمئن کرنے کے لیے پچھلے طریقہ کو لفظاً برقرار رکھا اور دوسری طرف رسولِ اکرمؐ اور آپؐ کے صحابہؓ نے اپنی رہنمائی سے مسلمانوں میں اتنی فراخ حوصلگی اور فیاضی کی اسپرٹ پیدا کر دی کہ انھوں نے خود ہی اس اجازت سے فائدہ اٹھانا پسند نہ کیا اور رفتہ رفتہ ایک دوسرا جوابی رواج ایسا پیدا ہو گیا جس نے پچھلے رواج کو عملاً منسوخ کر دیا۔ عہدِ رسالت اور عہدِ خلفائے راشدین بلکہ پورے عہدِ اسلامی کی تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے ہزاروں ملکوں اور شہروں کو عنوۃً فتح کیا مگر کسی ایک میں بھی نہ قتلِ عام کیا، نہ باشندوں کو غلام بنایا اور نہ ان کی املاک ضبط کیں [ بنی قریظہ کا معاملہ اس سے مستثنیٰ ہے اور اس پر مفصل بحث آگے آتی ہے] عہدِ رسالت میں خیبر عنوۃً فتح ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باشندوں کو ذمی بنالیا۔ مکہ عنوۃً فتح ہوا مگر نہ زمین فوج میں تقسیم کی گئی نہ باشندوں کو غلام بنایا گیا۔ غزوۂ حنین میں ہوازن مغلوب ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کی جان بخشی کی گئی۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب عراق و شام کے علاقے عنوۃً فتح ہوئے تو پہلی مرتبہ اسلامی فوج میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ حقِ فتح سے فائدہ اٹھا کر زمین تقسیم کر دی جائے اور باشندے غلام بنا لیے جائیں، چنانچہ انھوں نے حضرت عمرؓ سے کہا:

”ہم نے زمین کو اپنا خون بہا کر فتح کیا ہے، اس لیے آپ اسے ہمارے درمیان تقسیم کیجیے اور اس کے باشندوں کو غلام بنائیے“ [طبری، مطبوعہ یورپ، صفحہ ۲۴۷۶۔ فتوح البلدان، ص ۲۷۷]

مگر حضرت عمرؓ نے اپنے زبردست دلائل سے ان کے دلوں کا رخ پھیر دیا اور وہ قدیم ذہنیت ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ امام ابو یوسفؒ نے وہ پورا مباحثہ نقل کیا ہے جو اس مسئلہ پر صحابہؓ کی کونسل میں ہوا تھا۔ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصلاح کا عمل کس طرح انجام پذیر ہوا۔ حضرت بلالؓ اور حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف کا مطالبہ تھا کہ زمین فوج میں تقسیم کی جائے اور باشندوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے، لیکن حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور انصارؓ کے تمام اکابر اس کے مخالف تھے اور سب کی رائے یہ تھی کہ ملک کو تقسیم کرنے اور باشندوں کو غلام بنانے کی پالیسی کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ خود حضرت عمرؓ اس کے سخت مخالف تھے۔ انھوں نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

”میری رائے یہ ہے کہ زمین کو اس کے غیر مسلم باشندوں کے ہاتھ میں چھوڑ دوں، ان کی زمین پر خراج اور ان کی گردنوں پر جزیہ مقرر کر دوں اور اس طرح یہ زمین مسلمانوں کے سپاہیوں اور بال بچوں اور آئندہ نسلوں کی بسر اوقات کے لیے ”فے“ کے حکم میں ہو جائے۔ اب کیا آپ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ ان علاقوں کو لوگوں کی ذاتی ملک بنا دیا جائے؟ آپ کے نزدیک شام، الجزیرہ، کوفہ، بصرہ اور مصر جیسے بڑے بڑے صوبوں کو فوج میں تقسیم کر دینا ضروری ہے؟ اگر ایسا کر دیا گیا تو پھر لوگوں کے وظائف اور غرباء کے روزینے کہاں سے آئیں گے؟“

اس پر پوری کونسل نے بالاتفاق حضرت عمرؓ کی تجویز منظور کر لی اور تمام اہل عراق ذمی بنا لیے گئے۔ شام کی فتح کے بعد بھی یہی جھگڑا اٹھا تھا اور اس وقت حضرت زبیرؓ بن العوام طالبین کے لیڈر تھے۔ مگر حضرت عمرؓ کے تدبر نے اس کا بھی وہی فیصلہ کیا جو مسئلہ عراق کا کیا تھا [ کتاب الخراج، صفحہ ۱۳ - ۱۵] اس کے بعد پھر کبھی مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ ہندوستان سے لے کر اسپین تک یورپ، ایشیا اور افریقہ کی بے شمار زمینوں کو انھوں نے عنوۃً فتح کیا اور کسی جگہ بھی حق فتح کو استعمال نہ کیا۔

اس قسم کے مفتوحین کو جب ذمی بنایا جاتا ہے تو ان کو چند حقوق دیے جاتے ہیں، جن کی تفصیلات کتب فقہیہ میں موجود ہیں۔ ذیل میں ان احکام کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے جن سے ذمیوں کی اس جماعت کی آئینی حیثیت معلوم ہوتی ہے:

ا۔ جب امام ان سے جزیہ قبول کر لے تو ہمیشہ کے لیے عقد ذمہ قائم ہو جائے گا اور ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر فرض ہو گا، کیوں کہ قبول جزیہ کے ساتھ ہی عصمت نفس و مال ثابت ہو جاتی ہے [ بدائع الصنائع، ج ۷، ص ۱۱۱] اس کے بعد امام کو یا مسلمانوں کو یہ حق باقی نہیں رہتا کہ ان کی املاک پر قبضہ کریں یا انھیں غلام بنائیں۔ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو عبیدہؓ کو صاف لکھا ہے کہ <<فاذا اخذت منھم الجزیۃ فلا شئ لک علیھم ولا سبیل>> [ کتاب الخراج، ص ۸۲]

۲۔ عقد ذمہ قائم ہو جانے کے بعد اپنی زمینوں کے مالک وہی ہوں گے، ان کی ملکیت ان کے ورثاء کو منتقل ہو گی، اور ان کو اپنی املاک میں بیع، ہبہ، رہن وغیرہ کے جملہ حقوق حاصل ہوں گے [فتح القدیر، ج ۴، ص ۳۵۹]، حکومت اسلامیہ کو ان پر کسی قسم کے تصرف کا حق نہ ہو گا۔

۳۔ جزیہ کی مقدار ان کی مالی حالت کے لحاظ سے متعین کی جائے گی۔ جو مال دار ہیں ان سے زیادہ، جو متوسط الحال ہیں ان سے کم، اور جو غریب ہیں ان سے بہت کم لیا جائے گا، اور جو کوئی ذریعہ آمدنی نہیں رکھتے یا جن کی زندگی کا انحصار دوسروں کی بخشش پر ہے ان پر جزیہ معاف کر دیا جائے گا۔ اگرچہ جزیہ کے لیے کوئی خاص رقم متعین نہیں لیکن اس کی تعیین میں یہ امر مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ ایسی رقم مقرر کی جائے جس کا ادا کرنا ان کے لیے آسان ہو۔ حضرت عمرؓ نے مالداروں پر ایک روپیہ ماہانہ، متوسط الحال لوگوں پر آٹھ آنہ مہینہ اور غریب محنت پیشہ لوگوں پر چار آنہ مہینہ جزیہ مقرر کیا تھا [ کتاب الخراج، ص ۳۶]

۴۔ جزیہ صرف ان لوگوں پر لگایا جائے گا جو اہل قتال ہیں۔ غیر اہل قتال مثلاً بچے، عورتیں، مجانین، اندھے، اپاہج، عبادت گاہوں کے خدام، ازکار رفتہ بوڑھے، فقراء اور سنیاسی لوگ، ایسے بیمار جن کی بیماری سال کے ایک بڑے حصہ تک ممتد ہو جائے، اور لونڈی غلام وغیرہ جزیہ سے مستثنیٰ ہیں [ بدائع، ج ۷، ص ۱۱۱-۱۱۲۔ فتح القدیر، ج ۴، ص ۳۷۲-۳۷۳۔ کتاب الخراج]

۵- عنوۃً فتح ہونے والے شہر کی عبادت گاہوں پر مسلمانوں کو قبضہ کر لینے کا حق ہے، لیکن اس حق سے استفادہ نہ کرنا اور بطریق احسان ان کو علیٰ حالہٖ قائم رہنے دینا اَولیٰ اور افضل ہے۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جتنے ممالک فتح ہوئے ان میں کوئی معبد نہ توڑا گیا اور نہ اس سے کسی قسم کا تعرض کیا گیا۔ امام ابو یوسفؒ نے لکھا ہے: << ترکت علی حالہا ولم تہدم ولم یتعرض لہم >> ”ان کو بحال رکھا گیا، انھیں نہ توڑا گیا اور نہ کسی قسم کا تعرض کیا گیا“ [ کتاب الخراج، ص ۸۲ ] قدیم معابد کو مسمار کرنا بہرحال ناجائز ہے [ بدائع، ج ۷، ص ۱۱۴]