مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

لَا اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ

حدود جنگ کی یہ تعیین بجائے خود فیصلہ کن ہے۔ لیکن کتاب الہی کا کمال وضاحت ہے کہ اس نے صرف دلالتاً ہی اس مسئلہ میں ہماری ہدایت کرنے پر قناعت نہیں کی بلکہ صراحت بھی ہم کو بتا دیا کہ اسلام کی تبلیغ میں جبر و اکراہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ میں صاف فرمایا ہے:

<<لَآ إِكْرَاهَ فِى الدِّيْنِ ۖ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ>> (البقرہ: ۲۵۶)

”دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، سیدھی راہ غلط راستے سے ممتاز کر کے دکھائی جا چکی ہے، اب جو کوئی معبودان باطل کو چھوڑ کر اللہ پر ایمان لے آئے وہ ایک ایسے مضبوط رشتہ سے تعلق جوڑتا ہے جو ٹوٹنے والا نہیں ہے، اور اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔“

اس حکم کے الفاظ بالکل صاف ہیں۔ لیکن یہ جس موقع پر اترا ہے اسے پیش نظر رکھنے کے بعد اس کا مدعا اور بھی زیادہ صاف ہو جاتا ہے۔ اہل یثرب کا قاعدہ تھا کہ جب ان میں سے کسی عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تو وہ منت مانتی کہ اگر میرا کوئی بچہ زندہ رہے گا تو اس کو یہودی بناؤں گی۔ مدینہ میں اس طریقہ سے انصار کے بہت سے بچے یہودی بنا دیے گئے تھے۔ جب ۴ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کو ان کی حرکات کی وجہ سے جلاوطن کیا تو ان میں انصار کے وہ بچے بھی شامل تھے جو یہودی مذہب کے پیرو تھے۔ انصار نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم نے ان کو اس وقت یہودی بنایا تھا جب ہم ان کے دین کو اپنے دین سے بہتر سمجھتے تھے، مگر اب جبکہ اسلام کا آفتاب طلوع ہو چکا ہے اور تمام ادیان سے افضل دین ہمارے پاس ہے تو ہم اپنے بچوں کو یہودی نہ رہنے دیں گے اور انھیں اسلام پر مجبور کریں گے۔ اس پر حکم نازل ہوا کہ <<لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ>> انھیں جبراً مسلمان نہ بناؤ کیوں کہ دین میں اکراہ نہیں ہے۔ اس واقعہ کو الفاظ و مضمون کے جزوی اختلاف کے ساتھ ابوداؤد اور نسائی نے اور ابن ابی حاتم اور ابن حبان نے نقل کیا ہے، اور مجاہد، سعید بن جبیر، شعبی اور حسن بصری نے بالاتفاق کہا ہے کہ اس آیت کی شانِ نزول یہی ہے۔ ابن جریر نے بھی اپنی تفسیر میں اسے بیان کیا ہے اور ابن کثیرؒ نے اسی شانِ نزول پر اعتماد کیا ہے۔

محمد بن اسحاق نے حضرت ابن عباسؓ کے حوالہ سے ایک دوسری روایت بیان کی ہے جس کا مستفاد یہ ہے کہ انصار میں سے ایک شخص کے دو بیٹے نصرانی تھے، اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میرے بیٹے نصرانیت کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے، کیا میں انھیں مجبور کر سکتا ہوں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ <<لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ>>۔ یہ واقعہ اگر چہ پچھلے واقعہ سے مختلف ہے لیکن مدعا دونوں کا ایک ہی ہے، اور جیسا کہ علامہ ابن کثیر نے اپنی مشہور و مستند تفسیر میں لکھا ہے، اس شانِ نزول کی روشنی میں اسلام کی تعلیم صاف یہ معلوم ہوتی ہے کہ:

<<لا تكرهوا احدا على الدخول في دين الاسلام فانه بين واضح جلى دلائله وبراهينه لا يحتاج الى ان يكره احد على الدخول فيه بل من هداه الله للاسلام وشرح صدره ونور بصيرته دخل فيه على بينة ومن اعمى الله قلبه وختم على سمعه وبصره فانه لا يفيده الدخول في الدين مكرها ومقشورا>>

”کسی شخص کو دینِ اسلام میں داخل ہونے پر مجبور نہ کرو کیوں کہ وہ اس قدر بین و واضح ہے اور اس کے دلائل و براہین اس قدر روشن ہیں کہ کسی شخص کو اس میں داخل ہونے پر مجبور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اللہ نے جس شخص کو ہدایت دی ہو اور جس کا سینہ قبولِ حق کے لیے کھول دیا ہو اور جس کو بصیرت کا نور عطا کیا ہو وہ دلیل واضح کی بنا پر اسے خود اختیار کرے گا، اور جس کی سماعت و بینائی پر مہر کر دی ہو اس کا مارے باندھے سے دین میں داخل ہونا بیکار ہے۔“

زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں بھی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے اس قول کی تائید کی ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے:

<<لم يجبر الله امر الايمان على الاجبار والقسر ولكن على التمكن والاختيار ونحوه قوله وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ اى لوشاء لقسرهم على الايمان ولكن لم يفعل وبنى الامر على الاختيار>>

”اللہ نے ایمان کے معاملہ میں جبروزبردستی کو دخل نہیں دیا ہے بلکہ اسے تمکن و اختیار پر چھوڑ دیا ہے، اسی مضمون کو یہ ارشاد بھی واضح کرتا ہے کہ <<وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ الخ>> اگر تیرا خدا چاہتا تو تمام روئے زمین کے باشندے ایمان لے آتے، کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لائیں؟“ اگر اللہ کی مصلحت یہی ہوتی کہ لوگوں کو جبراً مسلمان بنایا جائے تو وہ خود ہی لوگوں کو ایمان پر مجبور کر دیتا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا اور سارا معاملہ لوگوں کے اختیار پر ہی رکھا۔“

امام رازی اپنی تفسیر میں اسی آیت کے متعلق ابو مسلم اصفہانی اور قفال کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

”اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دین کا معاملہ جبر اور سختی پر نہیں رکھا بلکہ تمکن اور اختیار پر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب توحید کے دلائل ایسے شافی اور قاطع طریقہ سے بیان کر دیے کہ عذر کی گنجائش نہ رہی تو اس نے فرمایا کہ ان دلائل کی توضیح کے بعد کسی کافر کے لیے کفر پر قائم رہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی ہے، اب بھی اگر وہ ایمان نہ لائے تو اس کو قائل کرنے کی صرف یہی صورت باقی رہ گئی ہے کہ اسے بزور اس پر مجبور کیا جائے، مگر یہ اس دنیا دین پر مجبور کرنا جو امتحان و آزمائش کا گھر ہے، جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ قہر و اکراہ سے دین پر مجبور کرنا امتحان کے مقصد کو باطل کر دیتا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ <<فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْيَكْفُرْ>> (اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر پر قائم رہے)۔ اور ایک دوسری جگہ فرمایا: <<وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِى الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ>> (اگر تیرا رب چاہتا تو تمام روئے زمین کے لوگ ایمان لے آتے۔ کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ مومن بن جائیں؟) اور سورۃ شعراء میں فرمایا: <<لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ ۝ اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ>> (شاید تو اس رنج میں گھل کر جان دے دے گا کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایک ایسی نشانی اتار دیں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھک جائیں مگر ہم ایسا نہیں کرتے)۔

خود امام رازی اس قول کی تائید میں لکھتے ہیں:

<<و ما يؤكد هذا القول انه تعالى قال بعد هذه الآية قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ ظهر الدلائل و وضحت البينات ولم يبق بعدها الا طريق القسر والالجآء والاكراه وذلك غير جائز لانه ينافى التكليف>>

”اس قول کو یہ بات اور بھی زیادہ مضبوط کر دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد ہی فرمایا: ”ہدایت گمراہی سے ممتاز کر کے دکھائی جاچکی ہے“۔ یعنی دلیلیں ظاہر کر دی گئیں، حجتیں کھول کھول کر بیان کر دی گئیں، اب صرف جبرو زور اور اِکراہ کا طریقہ باقی رہ گیا ہے سو وہ جائز نہیں ہے کیوں کہ وہ ذمہ داری کے منافی ہے۔“

اس میں شک نہیں کہ اس آیت کے مفہوم میں بہت کچھ کلام بھی کیا گیا ہے۔ مثلاً بعض لوگ اس کو منسوخ کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا حکم صرف اہل کتاب کے لیے ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ صرف انصار کے حق میں ہے۔ اور بعض نے حد سے گزر کر کلام الہٰی کے ساتھ یہ مذاق بھی کیا ہے کہ دین میں کوئی زبردستی زبردستی نہیں ہے، یعنی تلوار کے نیچے بھی، کسی نے اسلام قبول کیا ہو تو یہ نہ کہو کہ اس نے باکراہ قبول کیا۔ لیکن یہ اقوال صرف کتابوں تک محدود ہیں، عمل کی دنیا میں انھوں نے ۱۳ سو برس کی طویل مدت کے اندر کبھی قدم نہیں رکھا، الا ایک دوشاذ واقعات کے جن سے کوئی اصول نہیں بنتا۔ اگر حقیقت میں اسلام کی تعلیم یہی ہوتی کہ قبولِ اسلام پر لوگوں کو بزورِ شمشیر مجبور کیا جا سکتا ہے تو گزشتہ ۱۳ صدیوں میں کم از کم ایک ہی مرتبہ ملت اسلامیہ اس تعلیم کے مطابق لوگوں کو جبراً مسلمان بناتی، لیکن صرف یہی نہیں کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا بلکہ خلافتِ راشدہ کے عہد مبارک میں بھی، جبکہ اسلام اپنی اصلی شان میں جلوہ گر تھا اور خود سرکارِ رسالت مآب کے مقدس عہدِ حکومت میں بھی جو قرآن اور اس کی تعلیم کی عملی تفسیر تھا، کبھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بار ہا کفار پر قدرت حاصل ہوئی اور ان کی بڑی بڑی جماعتیں آپ کے قبضہ میں آئیں، لیکن آپ نے ان کی گردنوں میں زبردستی اسلام کا پھندا کبھی نہیں ڈالا بلکہ اپنی پاک تعلیم سے صرف ان کے دلوں کی گندگی ہی دور کرنے پر قناعت کی۔ دعوتِ اسلام کے لیے جو سرایا آپ بھیجتے اُن کو تاکید فرمایا کرتے کہ لوگوں پر سختی نہ کرنا۔

ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجا تو فرمایا: <<يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا>> (نرمی کرنا سختی نہ کرنا، خوش کرنا نفرت نہ دلانا) مکہ معظمہ میں جب آپ کا فاتحانہ داخلہ ہوا تو آپ نے ان کافروں کو جو آپ کے خون کے پیاسے تھے <<لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ إِذْهَبُوْا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ>> کہہ کر آزاد چھوڑ دیا اور کسی کو قبولِ اسلام پر مجبور نہ کیا۔ (ان طلقاء میں سے دو ہزار آدمی آپ کے ساتھ غزوۂ حنین میں اپنی مرضی سے شریک ہوئے)۔ نواحِ مکہ میں آپ نے جو جماعتیں دعوتِ اسلام کے لیے بھیجیں انھیں قتال سے منع فرما دیا، چنانچہ علامہ ابن جریر لکھتے ہیں کہ <<بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم فِيمَا حَولَ مَكَّةَ السَّرَايَا تَدعُوهُم إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَم يَأمرهم بالقتال>>۔ قبیلہ بنی جذیمہ میں حضرت خالدؓ نے جب رسول اکرم کی اجازت کے بغیر کشت و خون کیا تو آپ نے علانیہ اظہار براءت کیا اور اس قبیلہ کے کتوں تک کی دیت ادا کی۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں ورنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا کہ آپؐ نے کسی شخص کو قتل کی دھمکی دے کر قبول اسلام پر مجبور کیا ہو۔ یہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کے وہی معنی ہیں جو ظاہر الفاظ سے بصراحت معلوم ہوتے ہیں، ورنہ قرآن مجید کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جس پر عمل کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ایک مثال قائم نہ کر دی ہو۔

اس سلسلہ میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو امام احمدؒ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے روایت کی ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اسلم، اسلام قبول کر لے، اس نے عرض کی کہ انی اجدنی کارھا، اپنے اندر کچھ کراہت محسوس کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: <<وان کنت کارھا اللہ سیرزقک حسن النیۃ والخلاص۔>> ”اس کراہت کے باوجود قبول کر لے پھر اللہ تجھے حسن نیت اور اخلاص بھی بخش دے گا۔“ تعجب ہے کہ اس حدیث کو اکراہ کے ثبوت میں کیونکر پیش کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اس میں مُكْرَهًا کا لفظ نہیں بلکہ کارھا کا لفظ استعمال ہوا ہے اور اس سے وہ کراہت نفس مراد لی گئی ہے جو پوری آمادگی نہ ہونے کی ہم معنی ہے۔ اس سے یہ کب ثابت ہوتا ہے کہ حضورؐ نے اس شخص کو زبردستی اسلام کا حلقہ بگوش بنایا؟

قائلینِ نسخ کے پاس اپنے دعوے کے لیے اس کے سوا کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ اس آیت کو احکام قتال کی آیات سے تطبیق نہیں دے سکتے، ورنہ کوئی صحیح روایت اس کے نسخ کی تائید نہیں کرتی۔ قطع نظر اس بحث کے کہ کسی آیت قرآنی کے نسخ کا دعویٰ کرنے کے لیے کن دلائل کی ضرورت ہے، ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس آیت کا نسخ عہد رسالت کے بعد کی ایجاد ہے۔ عہد رسالت کے اکابر صحابہؓ اس سے واقف نہ تھے۔ اگر اس زمانہ میں بھی لوگوں کو اس کا علم ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے احکام شریعت کے نکتہ داں اپنے مملوک اسبق کو قبول اسلام سے انکار کرنے کی آزادی ہرگز نہ دیتے۔ ابن ابی حاتم کی یہ روایت دعوائے نسخ کے حق میں فیصلہ کن ہے:

<<عن اسبق قال كنت فى دينهم مملوكا نصرانيا لعمر بن الخطاب فكان يعرض على الاسلام فابى فيقول لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ و يقول يا اسبق لو اسلمت لاستعنابک على بعض امور المسلمین>>

”اسبق نے بیان کیا، میں حضرت عمرؓ بن خطاب کا نصرانی غلام تھا۔ آپ مجھے اسلام کی دعوت دیتے تھے مگر میں انکار کر دیتا تھا۔ اس پر آپ فرماتے کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ، پھر آپ کہتے کہ اے اسبق! اگر تو اسلام قبول کر لیتا تو ہم تجھ سے مسلمانوں کے کاموں میں مدد لیتے۔“

امام ابن جریر طبری کا قول اس معاملہ میں امام رازی اور ابن کثیر وغیرہ سے ذرا مختلف ہے، مگر وہ تمام آثار و اقوالِ سلف کو نقل کرنے کے بعد نسخ کے بارے میں یہ فیصلہ دیتے ہیں:

”اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ <<لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ>> کے معنی یہ ہیں کہ جس سے جزیہ قبول کرنا جائز ہے وہ اگر جزیہ ادا کر دے اور حکومتِ اسلام کی اطاعت پر راضی ہو جائے تو اس کو ایمان لانے پر مجبور نہ کیا جائے گا۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ آیت اجازتِ جنگ سے منسوخ الحکم ہو گئی ہے اس کا قول بے معنی ہے۔ اگر کہنے والا یہ کہے کہ پھر ابن عباسؓ نے جو یہ روایت کی ہے کہ ”یہ آیت ان انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنھوں نے اپنی اولاد کو اسلام پر مجبور کرنا چاہا تھا“ اس کے متعلق تم کیا کہو گے؟ تو ہم کہیں گے کہ اس روایت کی صحت سے کسی کو انکار نہیں، یقیناً یہ آیت خاص معاملہ میں نازل ہوئی ہے۔ مگر اس کا حکم ان تمام صورتوں میں عام ہے جن کی نوعیت اس کی شانِ نزول سے ملتی جلتی ہو۔ ابن عباسؓ وغیرہ کی روایت کے مطابق جن لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے انھوں نے اسلام کا حکم جاری ہونے سے پہلے اہلِ تورات کا دین اختیار کر لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے انھیں دینِ اسلام پر مجبور کرنے سے منع فرمایا۔ مگر ممانعت ایسے الفاظ میں فرمائی جن کا حکم ان تمام ادیان پر حاوی ہے جن کے پیرووں سے جزیہ قبول کیا جا سکتا ہے۔“

جو لوگ اس حکم کو اہل کتاب کے لیے مخصوص کرتے ہیں ان کے پاس بھی اپنے دعوے کے لیے کتاب و سنت کی تصریحات میں سے کوئی دلیل نہیں ہے۔ لا إِكْرَاهَ کا حکم بالکل عام ہے۔ محض شان نزول کی خصوصیت اس کو خاص نہیں کرتی۔ ورنہ قرآن مجید کا کوئی حکم بھی ایسا نہ ملے گا جس کی کوئی خاص شان نزول نہ ہو اور پھر ہر حکم کو اسی طرح خاص کرنا پڑے گا۔ رہا یہ خیال کہ حکم جزیہ کی آیت نے اسے خاص بنا دیا ہے، سو اس کے متعلق یہ امر قابل لحاظ ہے کہ خود آیت جزیہ کو بھی اُوْتُوا الْکِتٰبَ کی تخصیص کے باوجود ائمہ مجتہدین نے تمام کفار و مشرکین کے لیے عام قرار دیا ہے۔ اگرچہ جمہور احناف اس عام حکم سے مشرکین عرب کو (جن کا وجود آیت جزیہ کے اترنے سے پہلے ہی ناپید ہو چکا تھا) مستثنیٰ کرتے ہیں، لیکن امام مالکؒ، ابویوسفؒ اور امام اوزاعیؒ وغیرہ نے عرب کے صنم پرستوں تک کو اس دائرۂ رحمت میں شامل کر دیا ہے اور اسی خیال کی بنا پر صدر اوّل سے لے کر اب تک مسلمانوں کا طرز عمل یہ رہا ہے کہ انھوں نے کفار کی تمام اقسام سے جزیہ قبول کر کے انھیں خدا اور رسول کے ذمہ میں داخل کر لیا ہے۔

پھر جب خود آیت جزیہ کا حکم الفاظ کی تخصیص کے باوجود عام قرار دیا گیا ہے تو یہ کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دوسری آیت کو، جس میں الفاظ کی تعمیم بھی موجود ہے، بغیر کسی شرعی دلیل کے خاص کر دے۔ تمام اقسام کفرہ سے جزیہ قبول کرنا خود اس امر کی دلیل ہے کہ کسی شخص پر خواہ وہ اہل کتاب سے ہو یا نہ ہو، قبول اسلام کے لیے جبر و اکراہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اعطائے جزیہ کے بعد عدم اکراہ فی الدین تو شرعاً ثابت ہے۔