الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
اہل قتال اور غیر اہل قتال
دوقوموں میں حالتِ جنگ قائم ہو جانے کے بعد سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محارب قوم کے افراد سے کس قسم کا سلوک کیا جائے؟ سترھویں صدی تک یورپ محارب (Belligerent) اور مقاتل (Combatant) کے فرق سے نا آشنا تھا۔ اس کے نزدیک ہر محارب مقاتل تھا، اس لیے اس کا قتل اور اس کی املاک کا سلب و نہب جائز تھا، عام اس سے کہ وہ عورت ہو، بچہ ہو، بوڑھا ہو، بیمار ہو یا دوسرے غیر مقاتل طبقات سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کے بعد سترھویں اور اٹھارویں صدی میں اصلی قانون کے جو مصنفین پیدا ہوئے، انہوں نے مقاتلین اور غیر مقاتلین کے درمیان طبقات کے اعتبار سے فرق کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی ایسی جامع تقسیم نہ ہو سکی جس پر سب کو اتفاق ہو اور جسے حالتِ جنگ میں ملحوظ رکھا جا سکے۔ انیسویں صدی میں اس سوال کو اس طرح حل کیا گیا کہ جو لوگ جنگی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں وہ مقاتل ہیں اور جو اس میں حصہ نہیں لیتے وہ غیر مقاتل ہیں، لیکن یہ اصول اس قدر مجمل تھا کہ جزئیات و تفصیلات میں اس کا قائم رہنا مشکل تھا۔ اس کے بعد پھر یہ اصول قرار دیا گیا کہ صرف غنیم کی باقاعدہ افواج مقاتلین میں شمار کی جائیں گی اور باقی سب طبقات غیر مقاتلین میں داخل ہوں گے، لیکن اس سے چند اور پیچیدہ مسائل پیدا ہو گئے۔ ڈاکٹر لویدر کے بقول: "ایک ملک کے باشندوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کی مدافعت کریں، کسی معقول دلیل سے رد نہیں کیا جا سکتا۔" اس لیے قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی ملک کے باشندے اپنے وطن کو بچانے کے لیے عام طور پر ہتھیار لے کر کھڑے ہو جائیں اور بغیر کسی ضبط و نظام کے غنیم سے جنگ شروع کر دیں تو ان کی حیثیت کیا ہوگی؟ آیا ان کو مقاتلین میں شمار کر کے وہی حقوق دیے جائیں گے جو دشمن کی باقاعدہ فوج کے لیے مقرر ہیں؟ یا انہیں غیر مقاتلین میں شامل کر کے قانونِ جنگ کے مطابق ان کا شمار لٹیروں اور قزاقوں میں کیا جائے گا؟ مذکورہ بالا قانون اس کا یہ جواب دیتا ہے کہ غیر مقاتل (Non Combatant) اگر جنگی کارروائی میں حصہ لے تو اس کو نہ مقاتلین کی رعایات حاصل ہوں گی اور نہ غیر مقاتلین کی۔ یعنی وہ قید ہوگا تو قتل کیا جائے گا، زخمی ہوگا تو معالجہ اور تیمارداری سے محروم رہے گا اور اس کے ساتھ جنگ میں کسی قسم کے جنگی آداب ملحوظ نہ رکھے جائیں گے۔ اس قانون کی رو سے مقاتلین و غیر مقاتلین کے امتیاز کا جو اصول قائم کیا گیا، وہ ان قوموں کے لیے غیر معمولی بربادی و مصیبت کا موجب ہو گیا جو آزادی حاصل کرنے کے لیے یا اپنے وطن کی مدافعت کے لیے محض جذبۂ حبِ وطن سے متاثر ہو کر لڑنے کھڑی ہو جاتی ہیں اور کسی باقاعدہ جنگی نظام میں منسلک نہیں ہوتیں۔
۱۸۷۰ء کی جنگ میں جب فرانس نے اپنی عام آبادی کو بے ضابطہ جماعتوں کی صورت میں بھرتی کرنا شروع کیا اور جرمنی نے ان کو مقاتلین کے حقوق دینے سے انکار کر دیا تو بین الاقوامی قانون کے سامنے یہ مسئلہ اپنی پوری اہمیت کے ساتھ آ گیا۔ ۱۸۷۴ء کی بروسلز کانفرنس میں اس پر زبردست بحث ہوئی۔ آخر مقاتلین و غیر مقاتلین کے درمیان ایک قطعی امتیاز قائم کیا گیا، جس کی رو سے صرف وہی لوگ اہلِ قتال قرار دیے گئے جو:
(۱) ایک ایسے قائد کے زیرِ فرمان ہوں جو اپنے ماتحتوں کے افعال کا ذمہ دار ہو۔
(۲) ایسے مقرر امتیازی نشانات اپنے بدن پر لگائیں جنہیں فاصلے سے پہچانا جا سکے۔
(۳) کھلم کھلا ہتھیار اٹھائیں۔
(۴) جنگ میں قوانین و رسومِ جنگ کی پابندی کریں۔[British State Paper No. 1. (1875) PP. 252-57]
اسی وجہ امتیاز کو ۱۸۹۹ء اور ۱۹۰۷ء کی ہیگ کانفرنسوں میں تسلیم کیا گیا اور ہیگ کے ضوابط (Regulations) کی دفعہ دوم و سوم میں اس امر کی بھی تصریح کر دی گئی کہ:
" اگر کسی غیر مفتوح علاقہ کے باشندے دشمن کی آمد پر اپنے وطن کی حفاظت کے لیے بغیر کسی تنظیم کے ہتھیار لے کر کھڑے ہو جائیں تو ان کو مقاتلین کے حقوق حاصل ہوں گے، بشرطیکہ وہ علانیہ ہتھیار اٹھائیں اور قوانین و رسوم جنگ کی پابندی کریں۔ محارب فریقین کی مسلح فوجیں مقاتلین و غیر مقاتلین دونوں پر مشتمل ہو سکتی ہیں۔ غنیم کے ہاتھوں گرفتار ہونے کی صورت میں دونوں کو اسیران جنگ کے حقوق حاصل ہوں گے"۔
اس طریقہ سے ایک سوال تو بے شک حل ہو گیا، لیکن دوسرا سوال پھر بھی باقی رہا۔ ہتھیار اٹھانے کی ضرورت صرف آزاد قوموں کو ہی پیش نہیں آتی بلکہ بعض اوقات نیم آزاد اور غلام قوموں کو بھی اپنے غصب شدہ حقوق حاصل کرنے کے لیے پیش آیا کرتی ہے۔ آزادی و استقلال کے لیے جنگ کرنا ہر قوم کا حق ہے، اور اگر وہ ایک طاقت ور دشمن سے خلاصی کرنے کے لیے تلوار کی مدد حاصل کرے تو کسی دلیل سے اس کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پس سوال یہ ہے کہ اگر کوئی قوم اپنی غلامی کی زنجیریں کاٹنے کے لیے جنگ کرے تو کیا اس کے تمام افراد مجرم قرار دیئے جائیں گے؟ کیا ان کو اہل قتال کے حقوق نہیں دیے جائیں گے گئے؟ کیا ان کو ترقوں اور لٹروں کی طرح پکڑ پکڑ کر قتل کیا جائے گا؟
ان سوالات کو ہیگ کانفرنسوں نے حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے، اور عملاً دولِ مغرب کا میلان اس طرف ہے کہ ایسی قومیں نہ مقاتلین کے حقوق سے متمتع ہو سکتی ہیں اور نہ غیر مقاتلین کی رعایات سے۔ ان کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ انہیں توپوں اور بندوقوں کا لقمہ بنایا جائے، ان کی آبادیوں کا قتلِ عام کیا جائے اور ان کے افراد کو پکڑ پکڑ کر قتل کر دیا جائے۔ ہندوستان کی شمال مغربی سرحد میں برطانیہ نے، ریف میں ہسپانیہ نے اور شام میں فرانس نے ہماری آنکھوں کے سامنے جو ہولناک مظالم کیے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ مغربی تہذیب کا قانون کسی قوم کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتا کہ وہ حصولِ آزادی کے لیے جنگ کرے۔
اہلِ قتال اور غیر اہلِ قتال کے درمیان امتیاز کا یہ قاعدہ اس سے بھی غلط ہے کہ اس میں ان تمام لوگوں کو غیر اہلِ قتال قرار دیا گیا ہے جو جنگ میں ہتھیار نہیں اٹھاتے۔ اگرچہ اہلِ مغرب کو ایک عرصہ تک اس بات پر فخر رہا کہ انہوں نے دشمنی و مخاصمت کو صرف فوجوں تک محدود کر دیا ہے اور غیر فوجی جماعتیں جنگ کے اثرات سے بالکل مستثنیٰ کر دی گئی ہیں۔ [مغربی سیاست دانوں نے غیر فوجی طبقوں کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر جو اس قدر زیادہ زور دیا ہے، اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنی تجارت بہت زیادہ عزیز ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ہر حالت میں اس کا سلسلہ جاری رہے۔ چنانچہ ۱۹۰۷ء کی ہیگ کانفرنس نے بالفاظِ صریح اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ "سلطنتوں کو جنگ کے دوران میں اس امر کی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ محاربین کے درمیان صنعتی و تجارتی تعلقات بدستور قائم رہیں۔" لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ خواہش نہ پوری ہو سکی ہے اور نہ آج تک کسی جنگ میں پوری ہوئی ہے۔ جنگِ عظیم کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ خود یورپی سلطنتیں اس کو پورا کرنے پر قادر نہیں ہیں]۔ لیکن آج وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ فوجی و غیر فوجی کی بنا پر مقاتلین و غیر مقاتلین میں فرق کرنا اصولاً غلط ہے اور عملاً ناممکن ہے۔ اس بارے میں اپنی ذاتی رائے بیان کرنے کے بجائے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم خود ان یورپی مصنفین کے اقوال یہاں نقل کر دیں جنہوں نے جنگِ عظیم کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اس امر کو محسوس کر لیا ہے کہ مقاتلین و غیر مقاتلین کی وہ تفریق، جس پر اب تک ان کو اس قدر ناز تھا، کتنی ناقص ہے۔
پروفیسر نیوولڈ لکھتا ہے:
"جدید تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ تجارتی عہد میں لاکھوں آدمی غیر ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ادھر سے اُدھر گردش کرتے پھرتے ہیں۔ یہ بالکل ناممکن ہے کہ جنگ محض متعلقہ حکومتوں کے فوجی اشخاص کی باہمی لڑائی قرار دی جائے۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ صرف محارب ممالک ہی میں نہیں بلکہ غیر جاندار دنیا میں بھی کوئی شخص کسی نہ کسی صورت میں ایک بڑی جنگ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مختلف اشخاص و افراد کے درمیان آج زندگی کے تمام شعبوں میں ایسے پچ در پچ تعلقات پیدا ہو گئے ہیں کہ کوئی شخص ایسی جنگ کے اثر سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ان اثرات کو محدود رکھنے اور روکنے کی تمام کوششیں بے کار ثابت ہو چکی ہیں۔ لہٰذا یہ نظریہ ایک بے معنی نظریہ ہے کہ جنگ محض سلطنتوں کا ایک معاملہ ہے اور جنگ کا تمام کاروبار صرف فوجی اشخاص ہی سے تعلق رکھتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس تجارت کے عہد میں جنگ دراصل قوموں کا معاملہ ہے جو اس کو اپنی تمام جسمانی اور معاشی قوت سے چلاتی ہیں"۔ [Nippold, P. 114]
مزید چل کر یہی مصنف کہتا ہے:
"جنگ کا مقصد دشمن سلطنت کو مغلوب کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے بے شک اس ضرر رسانی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے جو اس مقصد کے لیے مفید نہ ہو۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سلطنت صرف سپاہیوں سے آباد نہیں ہوتی بلکہ عام باشندوں پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔ اسی بنا پر (Moltke) نے اس نظریہ سے اختلاف کیا ہے کہ "جنگ کا کام محض غنیم کی فوجی قوت کو ضعیف کرنا ہے۔" وہ کہتا ہے: "ہر سر جنگ سلطنت کے لیے اپنے تمام ذرائع، اپنے مالیات، ریل کی سڑکیں، غذا کے وسائل، حتیٰ کہ اپنا اخلاقی اثر بھی جنگ میں استعمال کرنا ناگزیر ہے۔ اگر دشمن کے ارادہ کو زبردستی جھکانا ہی جنگ کا مقصد ہو تو یہ ضروری ہی نہیں بلکہ جائز بھی ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے فوجی ذرائع نہ صرف مخالف فوج کے خلاف بلکہ غنیم کی تمام معاشی قوتوں کے خلاف بھی استعمال کرے۔ ...... اب چونکہ ایک سلطنت کی معاشی قوت اشخاص و افراد کی قوت سے مرکب ہوتی ہے، اس لیے یہ ناگزیر ہے کہ افراد کی ذات و جائیداد اور ان کے معاشی مفاد کو بھی اس حد تک جنگ کا ہدف بنایا جائے جس حد تک کہ وہ جنگ کا مقصد حاصل کرنے کے لیے ضروری اور مفید ہو۔" [Nippold, P. 121]
ایک دوسری جگہ یہی مصنف لکھتا ہے:
"سلطنتوں کو معاشی جنگ میں بھی اسی طرح ضروریات جنگ کی پیروی کرنی چاہیے جس طرح وہ فوجی جنگ میں کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں تمام وہ ذرائع جن سے غنیم کو مغلوب کرنے کی توقع ہو، استعمال کیے جانے چاہیئیں۔ لہذا معاشی جنگ صرف تجارت ہی میں مزاحمت تک محدود نہ رہنی چاہیے بلکہ اس کو غنیم کی معاشی زندگی پر ایک مہلک ضرب لگانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس لحاظ سے اس پرائیویٹ اشخاص (یعنی غیر مقاتلین) پر بھی ضرب پڑنی ناگزیر ہے۔" [Nippold, P. 122]
پروفیسر نیمیر (Neimeyer) اپنی کتاب "بحری جنگ کے قوانین و اصول" میں لکھتا ہے:
"بحری جنگ میں دشمن قوم پر ہر ممکن ذریعہ سے حتیٰ کہ انتہائی وحشیانہ ذرائع سے بھی زندگی دوبھر کر دینی چاہیے۔" >> [Prinzipier Des See Kriegsrecht, P. 17]
برک ہارڈ (Burkhardt) لکھتا ہے:
”یہ خوش آئند اصول کہ جنگ محض مسلح افواج کے درمیان کش مکش کا نام ہے جس کا غیر فوجی لوگوں کے پر امن روابط پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اپنے آپ کو ایک خیالی بہشت ثابت کر چکا ہے۔ فوج نہ اپنے تئیں قوم سے جدا کر سکتی ہے اور نہ سلطنت سوسائٹی سے الگ ہو سکتی ہے۔ تمام نظریات کے علی الرغم جنگ ہمیشہ قوموں کے درمیان ہوا کرتی ہے۔ کیوں کہ آبادی کے تمام طبقات اس میں حصہ لیتے ہیں، اگر چہ ان سب کے ہتھیار مختلف ہوتے ہیں۔ جہاں تک سلطنت سے ان کا گہرا تعلق ہے، سلطنت اور اہل ملک میں کوئی امتیاز قائم نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا جنگ جس طرح دوفوجوں کے درمیان ایک فوجی کش مکش ہے اسی طرح وہ دوقوموں کے درمیان ایک معاشی کش مکش بھی ہے۔“
یک دوسرے موقع پر یہی مصنف لکھتا ہے:
”سمندر کی تہ میں تجارت کو غرق کر دینا آدمیوں کو ڈبو دینے سے بدرجہ ہا زیادہ انسانیت پرور اور لطیف جنگ ہے۔ بلکہ زیادہ گہرا تجزیہ کرو تو دشمن کی فوجی قوت کو مغلوب کرنے کی کوشش ایسی حالت میں بالکل بیکار معلوم ہوگی جب کہ دشمن کی معاشی قوت اتنی مضبوط ہو کہ وہ اسے ہتھیار رکھنے پر مجبور ہونے دے۔ اسی وجہ سے یہ ناگزیر ہے کہ ہر محارب فریق اپنے دشمن کی معاشی قوت برباد کر دینے کی کوشش کرے۔ ...ایک سلطنت کی عسکری قوت دفاع اس کی معاشی قوت کے ساتھ اس طرح گتھی ہوئی ہے کہ ان دونوں کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی صنعتی زندگی جنگ جاری رکھنے میں اس کے لیے اتنی ہی مفید ہوتی ہے جتنی اس کے سپاہی کی زندگی ہو سکتی ہے۔ اس لیے کوئی محارب قوت دشمن کے معاشی وسائل پر حملہ کرنے سے باز نہیں رہ سکتی۔ دشمن کی عام آبادی کو بھوکا مار دینا خواہ کتنا ہی بے رحمی کا فعل ہو مگر میری رائے میں یہ کوئی ممنوع طریق جنگ نہیں ہے۔“ [Nippold, P. 122]
آگے چل کر یہ مصنف پھر لکھتا ہے:
"جنگ کو کلیتاً فوجی طبقہ تک محدود رکھنا بہت سے تخیل پسندوں کا ناقص نظریہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ خشکی اور تری دونوں پر شخصی املاک محفوظ رہیں، محاربین تک اموالِ تجارت کا لین دین جاری رہے، اور جنگ محارب فریقین کی فوجی قوتوں کے درمیان ہو نہ کہ محارب سلطنتوں کی عام رعایا کے درمیان۔ لیکن آج کوئی عملی آدمی اس تخیل کا پرستار نہیں ہے۔ صرف اسی بنا پر نہیں کہ وہ حقیقتِ واقعہ سے بہت دور ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ صراحتاً ایک مصنوعی اور غیر فطری حالت ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جنگی کارروائیوں سے متصل علاقوں کی باہمی تجارت کو لامحالہ ضرب لگتی ہی ہے۔ اور ویسے بھی یہ بات عقل و خرد کے بالکل منافی معلوم ہوتی ہے کہ ایک طرف ایک سلطنت اپنے ہزاروں نوجوانوں کو جنگ کی آگ میں جھونک رہی ہو اور دوسری طرف دشمن کو چین سے تجارت بھی کرنے دے، ایک طرف وہ دشمن کے بندرگاہوں پر گولہ باری کرنے میں اپنی جان و مال قربان کر رہی ہو اور دوسری طرف اس کی درآمد و برآمد کا سلسلہ بھی جاری رہنے دے۔" [Nippold, P. 133]
ایک اور مصنف ایٹز باشلر لکھتا ہے:
”چونکہ دشمن قوم کی دشمن فوج کی مجموعی قوت میں بہت گہری جمی ہوئی ہیں، اس لیے اس قوت کو تمام ممکن ذرائع سے کچل دینا نہایت ضروری ہے۔ اس طرح ایک دشمن فوج کے خلاف جو جنگ شروع کی جاتی ہے وہ اس پوری دشمن قوم کے خلاف جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے، اور جب جنگ اس منزل پر پہنچ جاتی ہے تو عین اصلی قانون اس کے پیچھے چلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پہلے زمانہ میں جو یہ اصول تسلیم کر لیا گیا تھا کہ جنگ محض دشمن کی مسلح فوجوں کے درمیان محدود رہنی چاہیے، اور محاربین کی عام آبادی تک چند مخصوص و متعین صورتوں کے سوا اس کے شدائد کو وسیع نہ ہونا چاہیے، اس پر آج عمادی عارض ہو چکی ہے۔ موجودہ زمانہ کی جنگ نے اس کو دور پھینک دیا ہے۔ وہ صرف انفرادی واقعات ہی میں نہیں توڑا گیا بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے اور کلیتاً توڑ دیا گیا ہے۔ آئندہ لڑائیوں میں اس کا کوئی لحاظ نہ رکھا جائے گا، کیوں کہ ماضی کے ساتھ فنا ہو جانے والی چیز کا پھر اعادہ نہیں ہوا کرتا۔“ [Nippold, PP. 133-134]
ان طویل اقتباسات سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ میں تمام غیر فوجی طبقوں کو غیر اہلِ قتال قرار دینا، ان کو جنگی کاروبار سے آزادی سے کاروبار کرنے دینا اور انھیں ان تمام رعایات سے جو غیر اہلِ قتال کے لیے مخصوص ہیں مستفید کرنا، نہ صرف عملاً ناممکن ہے بلکہ اصولاً بھی غلط ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جنگ میں غیر فوجی طبقوں کو خاص طور پر ہدف بنانا اور ان کی اقتصادی زندگی برباد کرنے کی اس حیثیت سے کوشش کرنا کہ گویا یہ بھی جنگ کے مقاصد میں سے ہے، یقیناً ایک زیادتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کچھ کم زیادتی نہیں ہے کہ ان تمام لوگوں کو غیر اہلِ قتال کے حقوق دیے جائیں جو دشمن کی جنگی طاقت کو تقویت پہنچانے میں اتنا ہی حصہ لیتے ہیں جتنا فوجی طبقے لیتے ہیں۔
اس لحاظ سے مغربی قانون نے اہلِ قتال و غیر اہلِ قتال کے درمیان تفریق کا جو خط کھینچا ہے وہ کسی حیثیت سے بھی مستقیم نہیں ہے۔ ایک طرف وہ بہت سے ان طبقات کو اہلِ قتال کے حقوق سے محروم کر دیتا ہے جو در حقیقت اس کے مستحق ہیں۔ دوسری طرف بہت سے ان طبقات کو غیر اہلِ قتال کی رعایات دیتا ہے جو در حقیقت اس کے مستحق نہیں ہیں۔ اس افراط و تفریط کے درمیان اسلام نے ایک مستقیم خط کھینچ دیا ہے۔ اس نے محارب قوم کو "مقاتلے" کے اصول پر تقسیم کیا ہے۔ جو لوگ عملاً مقاتلہ کرتے ہیں یا فطرت اور عادت کے اعتبار سے مقاتلہ کے قابل ہیں وہ سب اہلِ قتال ہیں، اور جو فطرت اور عادت کے اعتبار سے مقاتلہ کے قابل نہیں ہیں وہ غیر اہلِ قتال ہیں۔ اسلام لوگوں کو پیشوں کے لحاظ سے تقسیم نہیں کرتا بلکہ ان کی قابلیتِ جنگ کے اعتبار سے تقسیم کرتا ہے۔اور عادت کے اعتبار سے مقاتلہ کی قدرت نہیں رکھتے، مثلاً عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار، معذور اور فقراء وغیرہ، وہ سب غیر اہلِ قتال میں داخل ہیں۔ دشمن قوم کا ہر فرد جو مسلمانوں سے لڑنے آئے گا، خواہ وہ باقاعدہ فوج سے تعلق رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، اسے بہر صورت مقاتل سمجھا جائے گا اور وہ تمام حقوق اسے دیے جائیں گے جو مقاتلین کے لیے مخصوص ہیں، بشرطیکہ وہ غدر و عہد شکنی کا عادی مجرم نہ ہو۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو جنگ پر قادر ہو گا اہلِ قتال میں شمار کیا جائے گا اور اسے ضروریاتِ جنگ کے ماتحت، نہ کہ لازماً، شدائدِ جنگ سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ ضرور ہے کہ اگر وہ امان مانگے تو اسے امان دی جائے گی۔ اگر وہ دارالحرب اور دارالاسلام کے درمیان پرامن طریقہ سے تجارت کرنی چاہے تو مصالحِ جنگ کی رعایت سے اس کی بھی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اگر وہ جنگی کارروائیوں سے محترز رہ کر اپنے کاروبار میں مشغول رہے تو اس کو غیر اہلِ قتال کی طرح مصئون و مامون بھی رکھا جائے گا۔ لیکن نوعیت کے اعتبار سے وہ اہلِ قتال ہی کے طبقہ میں شمار ہو گا اور غیر مقاتلین کے حقوق اس کو محض رعایتاً دیے جائیں گے۔ اہلِ قتال اور غیر اہلِ قتال کے درمیان تفریق کی یہی ایک فطری صورت ہے اور ان دونوں انتہائی نقطوں کے درمیان اسی ایک متوسط نقطہ پر جنگی اور قانونی گروہوں کا اجتماع ممکن ہے۔