مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

جنگ کے بعد ملکوں کی تقسیم

یہ ارادے اور منصوبے تھے جنہیں لے کر "حق پرست" مغربی قومیں جنگ میں شریک ہوئی تھیں۔ آئیے اب ہم دیکھیں کہ جنگ کے بعد انھوں نے اپنی "حق پرستی" کا کس طرح ثبوت دیا۔

جنگ کے آخری ایام میں دو واقعات ایسے پیش آئے جنھوں نے اس نقشہ کو بہت کچھ بدل دیا جو ۱۹۱٥ء اور ۱۹۱٤ء کے درمیان خفیہ معاہدوں کے ذریعے سے قائم کیا تھا۔ ان میں سے ایک واقعہ تو امریکہ کا شریک جنگ ہونا تھا اور دوسرا روس کا انقلاب۔ امریکہ نے یورپ کے معاملات سے بے تعلق رہنے کی قدیم پالیسی کو چھوڑ کر جنگ میں صرف اس لیے شرکت کی تھی کہ اپنی تجارت کی کامیابی کے لیے وہ امن کا خواستگار تھا، لہٰذا اس کی انتہائی کوشش تھی کہ جنگ کے بعد غنائم جنگ کی تقسیم میں ایسی بے اعتدالیاں نہ ہونے پائیں جن سے ایک دوسری جنگ کی بنیاد پڑنے والی ہو۔ دوسری طرف روس جس شاہی حکومت کے ماتحت جنگ میں شریک ہوا تھا ۱۹۱٤ء کے آخر میں اس کا تختہ الٹ گیا اور اس پر بولشیوک جماعت کو غلبہ حاصل ہو گیا جو انگلستان، فرانس اور اٹلی کی اغراض کے لیے جرمنی سے بھی زیادہ خطرناک تھی۔ اس لیے غنائم جنگ کی تقسیم میں روس کا جو حصہ مقرر کیا گیا تھا وہ سارا کا سارا منسوخ کر دیا گیا اور "حق پرست" اتحادیوں کو ایک نیا نقشہ بنانا پڑا جس میں امریکہ کے امن خواہانہ جذبات کی رعایت بھی ضروری تھی۔

بیان کیا جا چکا ہے کہ ۱۹۱٤ء کے خفیہ معاہدے میں فرانس نے روس کے ساتھ مل کر یہ طے کیا تھا کہ دریائے رہائن کے مغربی جانب کا تمام علاقہ جرمنی سے چھین کر فرانس کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا۔ اسی زمانہ میں پرنس مسکتے نے جب صدر جمہوریہ فرانس ایم پوانکارہ کے سامنے علاقہ رہائن کو غیر جانب دار علاقہ قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی تو "حق پرست" فرانس کے صدر محترم نے مسکرا کر فرمایا تھا کہ:

” آدمی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ جو کچھ دل میں ہو اس کو ہمیشہ ظاہر بھی کردیا کرے۔ میرے خیالات بھی وہی ہیں جو آپ کے ہیں.“[Austria's Peace Offer, P. 99]

اس طرح فرانس نے دورانِ جنگ ہی میں جرمنی کے ساتھ وہی عمل کرنے کی ٹھان لی تھی جو ۱۸۷۱ء میں جرمنی نے اس کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن اسے معلوم تھا کہ رہائن کے زرخیز علاقہ کا فرانس کے ساتھ الحاق امریکا اور انگلستان دونوں کی پالیسی کے خلاف ہے۔ اس لیے اس نے جنگ کے زمانہ میں اپنے اس ارادے کو پوشیدہ رکھا۔ اختتامِ جنگ کے بعد جب اس نے صلح کانفرنس میں یہ مطالبہ پیش کیا تو جیسا کہ امید تھی، امریکا اور انگلستان دونوں نے اس تجویز کی سختی کے ساتھ مخالفت کی۔ صلح کانفرنس میں اس پر تیز تیز گفتگوئیں ہوئیں اور فرانس کے انتہائی اصرار کے باوجود دونوں طاقتیں دائمی الحاق پر کسی طرح راضی نہ ہوئیں۔ آخر موسیو کلیمینشو نے (جو اس وقت فرانس کے رئیس الوزراء تھے) تجویز پیش کی کہ جرمنی پر جو تاوانِ جنگ عائد کیا گیا ہے، اس کی ضمانت کے طور پر رہائن کا علاقہ ۱۵ سال کے لیے فرانسیسی قبضہ میں دے دیا جائے۔ اس تجویز کے منشا کو اولاً خود فرانس کے بہت سے اہل سیاست نہ سمجھ سکے اور فرانس کے ایوانِ ممبرین میں مارشل فوش، ایم ژول کامبوں اور ایم تاردیو جیسے لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ لیکن جب ایم کلیمینشو نے کھڑے ہو کر بتایا کہ ۱۵ سال کی تعیین کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جرمنی کے ہاتھ سے اس کے بہترین علاقے چھین کر اس پر اتنا تاوان ڈال دیا جائے کہ وہ اس کو مدتِ معینہ کے اندر ادا نہ کر سکے، اور ہم پندرہ سال گزرنے کے بعد علاقہ رہائن کو ہمیشہ کے لیے ملحق کر لیں، تو اس پر تمام ایوان مطمئن ہوگیا۔ موسیو کلیمینشو کی اس تقریر کا ایک فقرہ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ملاحظہ ہے جس سے ان کی "حق پرستی" کا حال خوب معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے موسیو پوانکارہ کو خطاب کر کے کہا:

"جناب صدر! آپ مجھ سے عمر میں بہت چھوٹے ہیں۔ 15 سال کے اندر جرمنی کسی طرح معاہدے کی تمام دفعات کو پورا نہ کرسکے گا، اور مجھے یقین ہے کہ 15 سال کے بعد اگر آپ میری قبر پر آنے کی عزت بخشیں گے تو ضرور مجھے خوشخبری دیں گے کہ ہم رہائن پر ہیں اور وہیں رہیں گے۔"

یہ چال کامیاب ہو گئی ۔ فرانس نے اپنے حلیفوں سے اس تجویز کو منظور کرا لیا اور اس کا مقصد پورا کرنے کے لیے جرمنی کو سیلیسیا کے کوئلے کی دولت سے بھی محروم کر دیا گیا تاکہ وہ اس گراں قدر تاوان کو کسی طرح ۱۵ سال کے اندر ادا نہ کر سکے جو معاہدہ فرسائی میں اس پر عائد کیا گیا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے پولینڈ کی نئی ریاست کا نقشہ اس طرح مرتب کرایا کہ اس سے مشرقی پروشیا، دولت پروشیا کے باقی علاقوں سے بالکل منقطع ہو گیا ہے اور ایک ایسی مشکل صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس کا حل بغیر اس کے نہیں ہو سکتا کہ جرمنی جنگ عظیم کے مصائب سے افاقہ پاتے ہی سب سے پہلے پولینڈ کے ساتھ الجھ جائے ۔[ یہ بات فی الواقع ١٩٣٩ء میں پوری ہو گئی ۔ دوسری جنگ عظیم کا آغاز آخر کار پولینڈ ہی پر جرمنی کے حملہ سے ہوا]۔

پھر ١٩٢٢ء میں جب فرانس کو اندیشہ ہوا کہ جرمنی ان تمام باتوں کے باوجود ۱۵ سال کے اندر رہائن کو واگزار کرا لینے میں کامیاب ہو جائے گا تو اس نے اپنے شکار پر ایک اور ضرب لگانے کا فیصلہ کیا ۔ مجلس الوزراء کی مالی کمیٹی کے صدر موسیو ڈاریک اس سوال پر غور کرنے کے لیے مقرر کیے گئے کہ روہر کے علاقہ پر قبضہ کرنا کس حد تک مفید ہو سکتا ہے ؟ انھوں نے کافی عرصہ تک غور کرنے کے بعد مجلس الوزراء کے سامنے ایک خفیہ رپورٹ پیش کی جس میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ روہر کے علاقہ پر صرف عارضی ہی نہیں بلکہ مستقل قبضہ کر لیا جائے ۔ چنانچہ اس سفارش کے مطابق ١٩٢٣ء کی ابتداء میں فرانس نے روہر پر اپنی فوجیں بھیج دیں اور جرمنی کو اس علاقہ سے محروم کر دیا جس پر اس کی صنعتی و معاشی زندگی کا تمام تر انحصار تھا۔ موسیو ڈاریک نے اپنی اس رپورٹ میں جن وجوہ کی بنا پر یہ سفارش کی تھی وہ بھی خود انہی کی زبان سے سننے چاہئیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ

"١٩١٣ء میں تمام جرمنی کی کانوں سے ١٩١ ملین ٹن کوئلہ نکلا تھا جس میں سے ١١٥ ملین ٹن صرف روہر کا تھا۔ اس میں سے ٥٥ ملین ٹن کے قریب روک لیا گیا اور ١٠ ملین ٹن گیس پیدا کرنے میں اور ٥٣ ملین ٹن دوسرے معادن نکالنے میں استعمال کیا گیا۔ دیگر معادن جو جرمنی میں تقریباً ٣٣ ملین ٹن نکلتے تھے ان میں سے ۲ ملین ٹن صرف روہر کے تھے۔ علاوہ بریں عرق کشی کے اشیاء میں روہر کے کارخانوں سے ۵ لاکھ ٹن سلفیٹ آف ایمونیا اور ۳ لاکھ ٹن رال نکلی اور اس سے وہ تمام چیزیں بنیں جو رنگ سازی کے کام آتی ہیں۔ رنگ سازی کے بھی زیادہ تر کارخانے روہر ہی میں جو دنیا میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ عطریات ، ادویہ ، رنگ ، رال اور رال کی تمام مصنوعات اور ایمونیم سلفیٹ جرمن صنعت کے سب سے بڑے اجزاء ہیں ، اور یہ سب کوئلے پر منحصر ہیں ۔ جنگ کے بعد سے ان تمام ضروریات کے لیے کوئلہ حاصل کرنے کا ذریعہ جرمنی کے پاس صرف روہررہ گیا ہے۔ کیوں کہ جنگ میں اس نے سار کے علاقہ کو کھو دیا جہاں سے ۱۸ ملین ٹن کوئلہ ہر سال مہیا ہوتا تھا۔ پس اب سوائے روہر کے جرمنی کے پاس اور کوئی ایسا علاقہ نہیں رہا ہے جو اس کو کوئلہ دے سکتا ہو۔

یہی حال دوسری دھاتوں کا بھی ہے۔ جنگ سے پہلے جرمنی میں ا ملین ٹن لوہا نکلتا تھا جس میں سے 9 ملین ٹن روہر کا تھا، باقی ۱۰ ملین ٹن لورین اور بالائی سلیشیا کا ہوتا تھا۔ سو یہ دونوں علاقے اب اس کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں"۔

اس بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ روہر پر قبضے کا مقصد صرف یہ تھا کہ جرمنی کو اس کے وسائل ثروت سے محروم کر کے بھوکا مار دیا جائے اور فرانس نہ صرف ان وسائل سے مستفید ہو بلکہ اس کے ساتھ ہی تاوان جنگ وصول نہ ہونے کے بہانے وہ رہائن کے مغربی علاقے پر بھی دائمی تسلط قائم کرلے۔

دوسری طرف اٹلی کے حریصانہ مقاصد پورے کرنے کے لیے اسے نہ صرف تریسته اور ترنتینو کے علاقے دیے گئے، بلکہ جنوبی ٹیرول (Tyrol) کا علاقہ بھی اس سے ملحق کر دیا گیا جو زیادہ تر جرمن قوم سے آباد ہے۔ باقی رہے ایڈریاٹک کے سواحل و جزائر، سوا گرچہ خفیہ معاہدات کی رو سے وہ اٹلی کا حصہ قرار پائے تھے لیکن اختتام جنگ پر سربیا کا ایک نئی سلانی قوت کی شکل میں نمودار ہونا اس منصوبے کی تکمیل میں حائل ہو گیا اور ایڈریاٹک کی تقسیم کچھ اس صورت سے کی گئی کہ نہ اٹلی کے مقاصد اس سے پورے ہوتے ہیں اور نہ یوگوسلافیا کے۔ چنانچہ دونوں قوموں کے درمیان پیم کشمکش جاری ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کا انجام کب جنگ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

یورپ کو اس غیر متناسب نقشہ پر تقسیم کرنے کے خطرات کو خود ان لوگوں نے محسوس کر لیا تھا جو اس وقت دنیا کی قسمت کا فیصلہ کر رہے تھے۔ چنانچہ ۱۹۱۹ء میں برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹرلائینڈ جارج نے صلح کا نفرنس کے سامنے ایک یادداشت پیش کی تھی جس میں انھوں نے جرمن قوم کے لاکھوں افراد کو دوسری حکومتوں کے تسلط میں دینے کو ایک خطر ناک فعل بتایا تھا اور کہا تھا کہ یہ حرکت یورپ کو دوبارہ جنگ کی مصیبت میں مبتلا کر دے گی۔ اس یادداشت کے یہ الفاظ خصوصیت کے ساتھ قابل غور ہیں:

" یورپ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک عام باشندے موجودہ نظام حیات پر سیاسی، معاشی اور اجتماعی تمام حیثیت سے معترض ہیں۔ ........ سب سے بڑا خطرہ جو مجھے اس صورت حال میں نظر آ رہا ہے یہ ہے کہ کہیں جرمنی اپنی قسمت بولشوزم کے ساتھ وابستہ نہ کر دے اور اپنے وسائل ثروت، اپنے دماغ اور اپنی زبردست تنظیمی قوت ان انقلابی مجنونوں کے ہاتھ میں نہ دے دے جو دنیا کو تلوار کے زور سے بولشوزم کے لیے فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں"۔[ یہ نتیجہ اس وقت تو ظاہر نہ ہوا مگر اب دوسری جنگ عظیم میں جو کچھ کیا گیا ہے اس کی بدولت اس کا قوی امکان

پیدا ہو گیا ہے]

یہ مسٹر لائینڈ جارج کوئی بے بس اخبارنویس نہ تھے بلکہ اس وقت صلح کا نفرنس کے اکابر اربعہ میں سب سے زیادہ با اثر شخصیت کے مالک تھے۔ اگر وہ چاہتے تو یورپ کو ایسے غیر متناسب طریقہ پر تقسیم نہ کرتے جس کے خطرات وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ لیکن حرص وطمع نے یا اس "حق پرستی" نے جس کی خاطر یہ لوگ جنگ کی آگ میں کودے تھے، ان کو اور ان کے رفقاء کو وہ سب کچھ کرنے پر آمادہ کر دیا جسے خود وہ بھی ایک دوسری جنگ کا پیش خیمہ سمجھتے تھے ۔

یہ "حق پرستی" کا مظاہرہ تو یورپ میں ہوا ۔ آئیے اب ایشیا کو دیکھیں کہ یہاں "حق" کی خاطر جنگ کرنے والوں نے لڑائی جیتنے کے بعد کیا کیا ۔ عرب کی تقسیم کے متعلق ۱۹۱۵ء اور ۱۹۱۶ء میں جو خفیہ سمجھتے ہوئے تھے ان کا حال اوپر گزر چکا ہے ۔ ان سمجھوتوں کے مطابق دوران جنگ ہی میں عراق، شام اور فلسطین ، برطانیہ اور فرانس کے درمیان تقسیم ہو چکے تھے ۔ لیکن جنگ کے آخر تک عربوں کو برابر یقین دلایا جاتا رہا کہ یہ جنگ محض ان کو ترکی کے پنجہ ستم سے آزاد کرانے اور ان کی ایک مستقل سلطنت بنانے کے لیے لڑی جا رہی ہے ۔ ۱۱ مارچ ۱۹۱۸ء کو جب جنرل اسٹیٹلے ماؤ (Maud) بغداد میں داخل ہوا تو اس نے اہل عرب کے نام ایک عام اعلان شائع کیا جس کے الفاظ یہ تھے:

"ہم آپ کے شہر میں فاتحانہ حیثیت سے داخل نہیں ہوئے ہیں ۔ ہم آپ کے دشمن نہیں ہیں بلکہ نجات دہندہ ہونے کی حیثیت سے آپ کو آزادی دلانے آئے ہیں ..... بغداد کے باشندوں کو جان لینا چاہیے کہ ہم ان کے ملک پر حکومت نہیں کرنا چاہتے ۔ ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ ان کے علماء و فقہاء کی دیرینہ آرزوئیں پوری ہوں ، ان کا ملک ایک مرتبہ پھر آزاد ہو اور اس میں ایسے آئین و قوانین نافذ ہوں جو ان کی مقدس شریعت اور قومی روایات کے مطابق ہوں" ۔

جنگ کے خاتمہ پر فرانس اور انگلستان کی جانب سے ایک مشترک منشور بلاد عرب میں شائع کیا گیا جس میں نہایت بلند آہنگی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ:

"یہ جنگ جو دنیا کو جرمنی کے توسعی حوصلوں سے بچانے کے لیے[اپنے توسعی حوصلے پورے کرنے کے لیے نہیں!] ۱ برپا کی گئی تھی، اس کے خطرات و مصائب کو مشرق تک وسیع کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ برطانیہ اور فرانس ان تمام قوموں کو جو ایک طویل زمانے سے ترکوں کے جور و ستم کی تختہ مشق بنی ہوئی تھیں ، کامل آزادی دلانا چاہتے تھے اور ان کا مقصد یہ تھا کہ ایسی وطنی حکومتیں اور ادارات قائم کیے جائیں جو خود ان قوموں کی اپنی رغبت و خواہش پر مبنی ہوں اور جن میں کوئی دوسرا داخل نہ ہو"۔

لیکن ان لفظی اعلانات کے ساتھ جب عربوں نے اتحادیوں کا عمل یہ دیکھا کہ شام کے سواحل پر فرانس کی فوجیں مسلط ہیں اور عراق و فلسطین میں انگریزوں کا پنجۂ استبداد مستولی ہے تو ان کو معلوم ہو گیا کہ حقیقتاً ان کے ساتھ غدر کیا ہے اور یہ چال محض ترکوں اور عربوں میں نفاق ڈال کر ملک چھیننے کے لیے چلی گئی تھی۔ آزادی کی جد و جہد شروع کی اور شام میں امیر فیصل بن حسین کے تحت ایک وطنی حکومت قائم کر لی۔ اسی اثنا میں خود اتحادیوں کے درمیان غنائم جنگ کی تقسیم پر تنافس و تباغض کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سائیکس پِیکو کے معاہدہ کی رو سے موصل کا علاقہ فرانسیسی منطقۂ نفوذ میں دیا گیا تھا مگر وہاں تیل کے چشموں کی کثرت دیکھ کر برطانیہ کے جذبۂ حرص کو حرکت ہوئی اور اس نے خود اس پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح فلسطین کے متعلق یہ طے ہوا تھا کہ وہ ایک بین الاقوامی علاقہ رہے گا اور صرف حیفہ پر برطانوی حکومت قائم ہوگی، مگر مصر کی شورش نے برطانیہ کو مجبور کر دیا کہ ہندوستان کے راستے کی حفاظت کے لیے نہر سویز کے دوسری جانب بھی اپنے اقتدار کو مضبوط کر لے اور ممکن ہو تو حیفا سے بصرہ تک ایک دوسرا راستہ اپنے لیے پیدا کرے۔ لہذا فلسطین پر بھی اس نے پورا پورا قبضہ جمانے کا تہیہ کر لیا۔ دوسری طرف شام پر بھی فرانسیسی نفوذ واثر برطانیہ کو ناگوار تھا اور وہ اپنی مصلحت کے لیے زیادہ بہتر یہ سمجھتا تھا کہ اس کے اپنے زیر اثر کوئی وطنی حکومت وہاں قائم ہو جائے ۔ ان مسائل پر تقریباً ڈیڑھ سال تک دونوں دوستوں میں کش مکش ہوتی رہی اور لوٹ کے مال کی تقسیم کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ مگر جب دونوں سلطنتوں نے اس باہمی نزاع کا نتیجہ دیکھا کہ عرب کی وطنی تحریک ترقی کر رہی ہے تو وہ اپنے مشترک فوائد کی خاطر عربوں کے خلاف متحد ہو گئے اور اپریل ۱۹۲۰ء میں بمقام سان ریمو انہوں نے یہ تصفیہ کر لیا کہ عراق و فلسطین برطانیہ کے قبضہ میں رہیں اور شام تماماً فرانس کے قبضہ میں ۔ یہ تقسیم کسی طرح اس تقسیم سے مختلف نہ تھی جو ڈاکوؤں کے گروہ کسی گھر کو لوٹنے کے بعد کیا کرتے ہیں۔ مگر یورپ کے مہذب ڈاکوؤں نے اس کو کبھی ”حق“ اور ”انصاف“ کا رنگ دینے کی کوشش کی اور دنیا کو دھوکا دینے کے لیے ظاہر کیا کہ یہ تینوں ملک ان کو جمعیت اقوام کی طرف سے انتداباً دیے گئے ہیں۔ حالانکہ نہ کسی جمعیت اقوام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ کسی قوم کو بھیڑ بکریوں کی طرح دوسری قوم کی ملک میں دے، نہ اس وقت تک جمعیت اقوام کا کوئی اجتماع ہوا تھا اور نہ انتداب کے متعلق کوئی فیصلہ کیا گیا تھا۔[ انتداب سے متعلق اتحادیوں کی ہر میم کو نسل ۲۵ اپریل ۱۹۲۰ء کو فیصلہ کر چکی تھی حالانکہ جمعیت اقوام کا پہلا عام اجتماع ۱۵ نومبر ۱۹۲۰ء کو جنیوا میں ہوا۔ پس در حقیقت اس انتداب کے معنی یہ نہیں تھے کہ جمعیت اقوام نے انگلستان اور فرانس سے درخواست کی ہو کہ براہ کرم ان پس ماندہ علاقوں کو اپنی سرپرستی میں لے لیں بلکہ اس کے معنی یہ تھے کہ انگلستان اور فرانس نے پہلے خود ان علاقوں پر قبضہ کیا، پھر جمعیت اقوام کی پیدائش سے پہلے اس کی طرف سے اپنے نام انتداب کی درخواست کا مسودہ تیار کیا اور جب ان کے منصوبے کے مطابق جمعیت پیدا ہو گئی تو اس سے اس درخواست پر دستخط کرا لیے] بہر حال اس قرار داد کے مطابق شام، فرانس کی ملک بن گیا۔ اس کے بعد ہی جنرل گورد نے ایک لاکھ فوج کے ساتھ شامیوں کی قومی حکومت پر حملہ کر دیا اور اچھی عربوں کو تلوار کے زور سے اطاعت و بندگی پر مجبور کیا جنہیں چار سال پہلے دوست بنایا گیا تھا جن کی مدد سے ترکوں کو شکست دے کر ملک فتح کیا گیا تھا، جن کو دو سال پہلے یقین دلایا گیا تھا کہ ہم محض تم کو آزاد کرانے کے لیے جنگ کر رہے ہیں، جن سے جنگ کے بعد تک یہ وعدہ کیا جاتا رہا تھا کہ تمہارے ملک پر خود تمہاری حکومت ہوگی۔

دوسری طرف اہل عراق کو جو برطانوی انتداب کا اعلان سنتے ہی بھڑک اٹھے تھے تلوار کے زور سے کچلایا گیا۔ جس زمین پر ”ظالم“ ترکوں نے کبھی ۱۳ ہزار سے زیادہ فوج نہیں رکھی تھی، اس پر ”نجات دہندہ“ سلطنت برطانیہ نے ۹۰ ہزار سے زیادہ فوج مسلط کر دی۔ جس زمین پر ”ظالم“ ترکوں نے سالانہ دو سو سے زیادہ عربوں کو کبھی قتل نہیں کیا تھا وہاں ”من پرسٹ“ برطانیہ نے ایک ہی موسم گرما (۱۹۲۰ء) میں دس ہزار عربوں کو قتل کر ڈالا۔ اور یہ سب کچھ اس وقت کیا گیا جب کہ اچھی عربوں سے یہ کہ کر جنگ میں امداد حاصل کی جا چکی تھی کہ ”ہم تمہارے دشمن بن کر نہیں آئے بلکہ تم کو آزادی دلوانے آئے ہیں۔“ اس طرح عرب کی تحریک آزادی کو کچلنے کے بعد برطانیہ نے ایک طرف اپنے مواعید کی ظاہری حرمت برقرار رکھنے کے لیے اور دوسری طرف اس برطانوی پبلک کو مطمئن کرنے کے لیے جو عراق میں دس کروڑ پونڈ سالانہ کے مدھش اسراف سے سخت ناراض تھی، یہ ضروری سمجھا کہ عراق پر براہ راست حکومت کرنے کے بجائے ایک ایسی نام نہاد قومی حکومت قائم کر دی جائے جو جنرل ماؤ کے اعلان کے برعکس اہل عراق کی نہیں بلکہ اہل برطانیہ کی خواہش کی تابع ہو۔ اس غرض کے لیے ١٩١٣ء کے موسم بہار میں اعلان کیا گیا کہ اہل عراق کو خود اپنا بادشاہ منتخب کرنے کا اختیار ہی حق نہیں دیا گیا۔ ان کی خواہش کے برعکس فیصل بن حسین کو جو شام کے تخت سے محروم ہونے کے بعد کسی اور تخت کا خواہش مند تھا، اس شرط پر تخت عراق کے لیے نامزد کیا گیا کہ وہ برطانیہ کے زیر اثر رہ کر کام کرے گا۔ اہل عراق کی طرح فیصل کی بادشاہت پر راضی نہ تھے مگر برطانیہ نے زبردستی ان کی آواز کو دبایا۔ عراق کے بااثر لیڈر طالب پاشا کو (جس نے جنگ کے زمانہ میں برطانیہ کی عظیم الشان خدمات انجام دی تھیں) گرفتار کر کے لنکا میں قید کر دیا گیا اور عراق کی بڑھتی ہوئی ناراضی کا دف مارنے کے لیے ١٩٢٣ء اگست ١٩٢٢ء کو ایسی حالت میں شاہ فیصل کی تخت نشینی کا اعلان کرادیا گیا جب کہ فی الحقیقت "تخت" تیار بھی نہ تھا اور شراب کے پیسے رکھ کر ایک عارضی "تخت" بنالیا گیا تھا۔

اس طرح فیصل کو عراق کا بادشاہ بنانے کے بعد برطانیہ نے، اسی برطانیہ نے جو عراقیوں کو نجات دلانے کے لیے عراق گیا تھا، تخت شاہی کی قیمت طلب کی۔ وہ قیمت کیا تھی؟ وہ صرف یہ تھی کہ عراق کو ایک ایسا معاہدہ کرنے پر مجبور کیا گیا جس کی رو سے وہ بالواسطہ پورے طور پر برطانوی اثر و اقتدار کے تحت آ جاتا ہے اور اس کی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ کے لیے برطانیہ کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ یہ معاہدہ عراقی قوم کو ایک لمحہ کے لیے بھی منظور نہ تھا مگر دنیا کو دھوکا دینے کے لیے اس پر عراقی قوم کی رضا مندی ثبت کرانے کا یہ انوکھا طریقہ ایجاد کیا گیا کہ اس سے آدمی رات کو عراق کی مجلس وطنی میں پیش کیا گیا، ارکان مجلس کو بستروں سے اٹھا اٹھا کر پولیس کی معرفت بلوایا گیا اور جبراً ان سے ووٹ لے کر اعلان کر دیا گیا کہ عراقی پارلیمنٹ نے معاہدہ کی تصدیق کر دی ہے۔

اب رہی ترکی کی دوسری تقسیم جس کے متعلق ١٩١٥ء میں روس سے سمجھوتا ہوا تھا، سو اس کو بالشویک انقلاب کے باعث منسوخ کر دیا گیا اور ایک دوسری اسکیم بنائی گئی جس میں روس کے بجائے یونان کو ترکی کے ترکہ کا وارث قرار دیا گیا۔ اس اسکیم کے مطابق یونان نے مشرقی تھریس اور سمرنا (ازمیر) پر حملہ کیا اور ترکوں کو ان کے اصلی وطن کے ایک بڑے حصے سے محروم کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی برطانیہ، فرانس اور یونان کی متحدہ فوجوں نے خاص شہر قسطنطنیہ پر بھی قبضہ کر لیا اور درہ دانیال و باسفورس کے وہ راستے ترکوں سے چھین لیے جنہیں پہلے روس کو دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ دوسری تقسیم بعد کو لوزان کا نفرنس میں منسوخ ہو گئی، لیکن اس تنسیخ میں انصاف پسندی کے جذبہ کو کوئی دخل نہ تھا بلکہ حقیقتاً اس کی ذمہ داری محض ترکی تلوار پر تھی۔ جس نے یونان اور اتحادیوں کو ترکی خاک سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔