مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

ذمیوں کے عام حقوق

اب ہم ذمیوں کے وہ حقوق بیان کریں گے جو تمام اہل ذمہ کے لیے عام ہیں خواہ وہ معاہد ہوں یا غیر معاہد، صلحاً فتح ہوئے ہوں یا عنوۃً۔

۱- ذمی کے خون کی قیمت مسلمان کے خون کے برابر ہے۔ اگر کوئی مسلمان ذمی کو قتل کرے گا تو اس کا قصاص اسی طرح لیا جائے گا جس طرح مسلمان کے قتل کرنے کی صورت میں لیا جاتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کیا تو آپؐ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا: << انا احق من وفی بذمتہ >>، ”اس کے ذمہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں“ [عنایہ شرح ہدایہ، ج ۸، ص ۲۵۶۔ دارقطنی نے یہی حدیث ابن عمرؓ کے حوالہ سے نقل کی ہے اور اس میں << انا اکرم من وفی ذمتہ >> کہا ہے]

حضرت عمرؓ کے زمانہ میں قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک ذمی کو قتل کر دیا، اس پر آپ نے حکم دیا کہ قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کیا جائے۔ چنانچہ وہ مقتول کے وارث کو دے دیا گیا اور اس نے اسے قتل کر دیا [ برہان شرح مواہب الرحمٰن، ۳، ص ۲۸۷]

حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں خود عبید اللہ بن عمرؓ کے قتل کا فتویٰ دے دیا گیا تھا، کیوں کہ انھوں نے ہرمزان اور ابولولو کی بیٹی کو اس شبہ میں قتل کر دیا تھا کہ شاید وہ حضرت عمرؓ کے قتل کی سازش میں شریک ہوں ۔

حضرت علیؓ کے زمانہ میں ایک مسلمان پر ایک ذمی کے قتل کا الزام لگایا گیا۔ ثبوت مکمل ہونے کے بعد آپ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ مقتول کے بھائی نے آ کر عرض کیا کہ میں نے خون معاف کیا۔ مگر آپ مطمئن نہ ہوئے اور فرمایا: <<لعلهم فزعوك او هدد وك>> ۔ ”شاید لوگوں نے تجھے ڈرایا دھمکایا ہے ۔“ اس نے جواب دیا: نہیں، مجھے خوں بہا مل چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے قتل سے میرا بھائی واپس نہیں آ جائے گا۔ تب آپ نے قاتل کو رہا کیا اور فرمایا کہ <<من كان له ذمتنا فدمه كدمنا وديته كديتنا>> [برہان، ج ۲، ص ۲۸۷۔ میرے پیش نظر برہان کا وہ قلمی نسخہ ہے جو مدرسہ امینیہ (دہلی) کے کتب خانہ میں موجود ہے] ”جو کوئی ہمارا ذمی ہو اس کا خون ہمارے خون کی طرح اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے ۔“ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے فرمایا: <<انما قبلوا عقد الذمة لتكون اموالهم كاموالنا ودماؤهم كدمنا>> ”انھوں نے عقدِ ذمہ قبول ہی اس لیے کیا ہے کہ ان کے مال ہمارے مال کی طرح اور ان کے خون ہمارے خون کی طرح ہو جائیں ۔“ اسی قول کی بنا پر فقہاء نے یہ جزئیہ نکالا ہے کہ اگر مسلمان کسی ذمہ کو بلا ارادہ قتل کر دے تو اس کی دیت بھی وہی ہو گی جو مسلمان کو خطأً قتل کرنے سے لازم آتی ہے [ درالمختار، ج ۳، ص ۲۷۳]

۲۔ تعزیرات میں ذمی اور مسلمان کا درجہ مساوی ہے۔ جرائم کی جو سزا مسلمان کو دی جائے گی وہی ذمی کو بھی دی جائے گی۔ ذمی کا مال مسلمان چرائے یا مسلمان کا مال ذمی چرائے دونوں صورتوں میں سارق کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ذمی کسی مسلمان عورت سے زنا کرے یا مسلمان کسی ذمی عورت سے زنا کرے، دونوں صورتوں میں سزا یکساں ہو گی [ کتاب الخراج، ص ۱۰۸-۱۰۹]

۳۔ دیوانی قانون میں بھی ذمی اور مسلمان کے درمیان کامل مساوات ہے۔ حضرت علیؓ کے ارشاد اموالهم كاموالنا کے معنی ہی یہ ہیں کہ ان کے مال کی ویسی ہی حفاظت ہونی چاہیے جیسی مسلمانوں کے مال کی ہوتی ہے۔ اس باب میں ذمیوں کے حقوق کا اتنا لحاظ رکھا گیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ان کی شراب یا ان کے خنزیر کو بھی تلف کر دے تو اس پر ضمان لازم آئے گا۔ درالمختار میں ہے: <<ويضمن المسلم قيمة خمره وخنزيره اذا اتلفه>>۔ ’’مسلمان اس کی شراب اور اس کے سؤر کی قیمت ادا کرے اگر وہ اسے تلف کر دے‘‘ [ جلد ۳، ص ۲۷۳]

۴۔ ذمی کو زبان یا ہاتھ پاؤں سے تکلیف پہنچانا، اس کو گالی دینا، مارنا پیٹنا یا اس کی غیبت کرنا، اسی طرح ناجائز ہے جس طرح مسلمان کے حق میں ناجائز ہے۔ درالمختار میں ہے:

<<ويجب كف الاذى عنه وتحرم غيبته كالمسلم>> [جلد ۳، ص ۲۷۳-۲۷۴]

۵۔ عقد ذمہ مسلمانوں کی جانب ابدی لزوم رکھتا ہے، یعنی وہ اسے باندھنے کے بعد پھر توڑ دینے کے مختار نہیں ہیں۔ لیکن دوسری جانب ذمیوں کو اختیار ہے کہ جب تک چاہیں اس پر قائم رہیں اور جب چاہیں توڑ دیں۔ بدائع میں ہے: <<واما صفة العقد فهو لازم فى حقنا حتى لا يملك المسلمون نقضه بحال من الاحوال واما فى حقهم فغير لازم>> [جلد ۷، ص ۱۱۲]

۶۔ ذمی خواہ کیسے ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کر دینا، مسلمان کو قتل کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا، یا کسی مسلمان عورت کی آبرو ریزی کرنا بھی اس کے حق میں ناقض ذمہ نہیں ہے۔ البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں جن میں عقد ذمہ باقی نہیں رہتا: ایک یہ کہ وہ دارالاسلام سے نکل کر دشمنوں سے جا ملے، دوسرے یہ کہ حکومت اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کر کے فتنہ و فساد برپا کرے [ بدائع ج ۷، ص ۱۱۳۔ فتح القدیر، ج ۴، ص ۳۸۱-۳۸۲]

۷۔ ذمیوں کے شخصی معاملات ان کی شریعت (Personal Law) کے مطابق طے کیے جائیں گے، اسلامی قانون ان پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔ جن افعال کی حرمت ان کے مذہب میں بھی ثابت ہے ان سے تو وہ ہر حال میں منع کیے جائیں گے، البتہ جو افعال ان کے ہاں جائز اور اسلام میں ممنوع ہیں انھیں وہ اپنی بستیوں میں آزادی کے ساتھ کر سکیں گے اور خالص اسلامی آبادیوں [خالص اسلامی آبادیوں سے مراد وہ مقامات ہیں جو اصطلاح شرع میں ’’امصارِ مسلمین‘‘ کہلاتے ہیں۔ اس لفظ کا اطلاق صرف انھی مقامات پر ہوتا ہے جن کی زمین مسلمانوں کی ملک ہو اور جن کو مسلمانوں نے اظہارِ شعائرِ اسلام کے لیے مخصوص کر لیا ہو]میں حکومت اسلامیہ کو اختیار ہو گا کہ انھیں آزادی دے یا نہ دے۔ بدائع میں ہے:

<<ولا يمنعون من اظهار شئ مما ذكرنا من بيع الخمر والخنزير والصليب وضرب الناقوس فى قرية او موضع ليس من امصار المسلمين ولو كان فيه عدد كثير لاهل الاسلام وانها يكره ذالك فى امصار المسلمين وهى التى يقام فيها الجمع والاعياد والحدود ... واما اظهار فسق يعتقدون حرمته كالزنا وسائر الفواحش التى حرام فى دينهم فانهم يمنعون من ذلك سواء كانوا فى امصار المسلمين اوفى امصارهم>> [ بدائع، ج ۷، ص ۱۱۳]

’’جو بستیاں اور مقامات امصارِ مسلمین میں سے نہیں ہیں ان میں ذمیوں کو شراب و خنزیر بیچنے اور صلیب نکالنے اور ناقوس بجانے سے نہیں روکا جائے گا خواہ وہاں مسلمانوں کی کتنی ہی کثیر تعداد آباد ہو۔ البتہ یہ افعال امصارِ مسلمین میں مکروہ ہیں جہاں جمعہ و عیدین اور حدود قائم کی جاتی ہوں ...... رہا وہ فسق جس کی حرمت کے وہ بھی قائل ہیں، مثلاً زنا اور دوسرے تمام فواحش جو ان کے دین میں بھی حرام ہیں تو اس کے اظہار سے ان کو ہر حال میں روکا جائے گا خواہ امصارِ مسلمین میں ہوں یا خود ان کے اپنے امصار میں۔‘‘

لیکن امصارِ مسلمین میں بھی ان کو صرف صلیبوں اور مورتیوں کے جلوس نکالنے اور علانیہ ناقوس بجاتے ہوئے بازاروں میں نکلنے کی ممانعت کی گئی ہے [ امصارِ مسلمین میں یہ قیود عائد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تصادم کے مواقع نہ پیدا ہوں۔ افسوس ہے کہ بعد کے لوگوں نے اس کا منشا کچھ اور سمجھا] اپنے قدیم معابد کے اندر رہ کر وہ تمام شعائر کا اظہار کر سکتے ہیں، حکومتِ اسلامیہ اس میں دخل دینے کی مجاز نہیں ہے۔

۸۔ امصارِ مسلمین میں ذمیوں کے جو معابد پہلے سے موجود ہوں ان سے تعرض نہیں کیا جاسکتا۔ اگر وہ ٹوٹ جائیں تو انھیں اُسی جگہ دوبارہ بنا لینے کا حق ہے۔ لیکن نئے معبد بنانے کا حق نہیں ہے [ بدائع، ج ۷، ص ۱۱۳]

۹۔ جو مقامات امصارِ مسلمین نہیں ہیں ان میں ذمیوں کو نئے معابد بنانے کی بھی عام اجازت ہے۔ اسی طرح جو مقامات ”مصر“ نہ رہے ہوں، یعنی امام نے ان کو ترک کر کے اقامت جمعہ و اعیاد اور اقامت حدود کا سلسلہ بند کر دیا ہو ان میں بھی نئے معابد کی تعمیر اور اظہارِ شعائرِ کفر جائز ہے [ ایضاً] ابن عباسؓ کا فتویٰ یہ ہے کہ:

<<اما مصر مصرته العرب فليس لهم ان يحدثوا فيه بناء بيعة ولا كنيسة ولا يضربوا فيه بناقوس ولا يظهروا فيه خمرا ولا يتخذوا فيه خنزيرا وكل مصر كانت العجم مصرته ففتحه الله على العرب فنزلوا على حكمهم فللعجم ما في عهدهم وعلى العرب ان يوفوا بذلك>> [ کتاب الخراج، ص ۸۸]

”جن شہروں کو مسلمانوں نے آباد کیا ہے ان میں ذمیوں کو یہ حق نہیں ہے کہ نئے معابد اور کنائس تعمیر کریں، یا ناقوس بجائیں، شرابیں پیئیں اور سؤر پالیں۔ باقی رہے وہ شہر جو عجمیوں کے آباد کیے ہوئے ہیں اور جن کو اللہ نے عربوں (یعنی مسلمانوں) کے ہاتھ پر فتح کیا اور انھوں نے مسلمانوں کے حکم پر اطاعت قبول کر لی تو عجم کے لیے وہی حقوق ہیں جو ان کے معاہدے میں طے ہو جائیں اور عرب پر ان کا ادا کرنا لازم ہے۔“

۱۰۔ جزیہ و خراج کی تحصیل میں ذمیوں پر تشدد کرنا ممنوع ہے۔ ان کے ساتھ نرمی اور رفق کی تاکید کی گئی ہے اور ان پر ایسا بار ڈالنے سے منع کیا گیا ہے جسے اٹھانے کی ان میں قدرت نہ ہو۔

جزیہ کی مقدار مقرر کرنے میں بھی ذمیوں پر تشدد کرنا ممنوع ہے۔ حضرت عمرؓ کی وصیت ہے کہ لا یکلفوا فوق طاقتھم ”جتنا مال دینا ان کی طاقت سے باہر ہو اس کے ادا کرنے کی تکلیف نہ دو“ [ کتاب الخراج، ص ۸ و ۸۲]

جزیہ کے عوض ان کی املاک کا نیلام نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت علیؓ کا حکم ہے کہ لا تبیعن لھم فی خراجھم حمارا ولا بقرۃ ولا کسوۃً شیئا ولا صنفا ”خراج میں ان کا گدھا یا ان کی گائے یا ان کے کپڑے نہ بیچنا“ [فتح البیان، ج ۴، ص ۹۳] ایک اور موقع پر اپنے عامل کو بھیجتے وقت حضرت علیؓ نے فرمایا:

”ان کے جاڑے گرمی کے کپڑے اور ان کے کھانے کا سامان اور ان کے جانور جن سے وہ کھیتی باڑی کرتے ہیں، خراج وصول کرنے کی خاطر نہ بیچنا، نہ کسی کو درہم وصول کرنے کے لیے کوڑے مارنا، نہ کسی کو کھڑا رکھنے کی سزا دینا اور نہ خراج کے عوض کسی چیز کا نیلام کرنا۔ کیوں کہ ہم جو ان کے حاکم بنائے گئے ہیں تو ہمارا کام نرمی سے وصول کرنا ہے۔ اگر تم نے میرے حکم کے خلاف عمل کیا تو اللہ میرے بجائے تم کو پکڑے گا اور اگر مجھے تمھاری خلاف ورزی کی خبر پہنچی تو میں تمھیں معزول کر دوں گا“ [ کتاب الخراج، ص ۹]

حضرت عمرؓ نے شام کے گورنر حضرت ابوعبیدہؓ کو جو فرمان لکھا تھا اس میں من جملہ اور احکام کے ایک یہ بھی تھا کہ

<< وامنع المسلمین من ظلمھم والاضرار بھم واکل اموالھم الا بحلھا>> [ کتاب الخراج، ص ۸۲]

”مسلمانوں کو ان پر ظلم کرنے اور انھیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کے مال کھانے سے منع کرنا۔“

شام کے سفر میں حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ ان کے عامل جزیہ وصول کرنے کے لیے ذمیوں کو سزائیں دے رہے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ان کو تکلیف نہ دو، اگر تم انھیں عذاب دو گے تو قیامت کے دن اللہ تمھیں عذاب دے گا، <<لا تعذب الناس فان الذين يعذبون الناس في الدنيا يعذبهم الله يوم القيامة>> [ کتاب الخراج، ص ۷۱]۔

ہشام بن حکیم نے حمص کے ایک سرکاری افسر کو دیکھا کہ وہ ایک قبطی کو جزیہ وصول کرنے کے لیے دھوپ میں کھڑا کر رہا ہے۔ اس پر انھوں نے اسے ملامت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ <<ان الله يعذب الذين يعذبون الناس في الدنيا>>، ”اللہ عزوجل ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں“ [ ابوداؤد، کتاب الخراج والفی والامارۃ]۔

فقہائے اسلام نے نادہندوں کے حق میں صرف اتنی اجازت دی ہے کہ انھیں تادیباً قید بے مشقت کی سزا دی جاسکتی ہے۔ امام ابو یوسفؒ نے لکھا ہے: <<ولكن يرفق بهم ويحبسون حتى يودوا ما عليهم>> [ کتاب الخراج، ص ۷۰]۔

۱۱۔ جو ذمی محتاج اور فقیر ہو جائیں انھیں صرف جزیہ ہی معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے لیے اسلامی خزانہ سے وظائف بھی مقرر کیے جائیں گے۔ حضرت خالدؓ نے اہل حیرہ کو جو امان نامہ لکھ کر دیا تھا اس میں لکھتے ہیں:

<<وجعلت لهم ايما شيخ ضعف عن العمل او اصابته آفة من الآفات او كان غنيا فافتقر وصار اهل دينه يتصدقون عليه طرحت جزيته وعيل من بيت مال المسلمين هو وعياله>> [ کتاب الخراج، ص ۸۵]۔

”میں نے ان کے لیے یہ حق بھی رکھا ہے کہ جو کوئی شخص بڑھاپے کے سبب ازکار رفتہ ہو جائے، یا اس پر کوئی آفت نازل ہو جائے، یا وہ پہلے مال دار تھا پھر فقیر ہو گیا یہاں تک کہ اس کے ہم مذہب لوگ اس کو صدقہ و خیرات دینے لگے، تو اس کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا اور اسے اور اس کے بال بچوں کو مسلمانوں کے بیت المال سے خرچ دیا جائے گا۔“

ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک ضعیف العمر ذمی آدمی کو بھیک مانگتے دیکھا اور اس سے اس ذلیل حرکت کا سبب دریافت کیا۔ اس نے کہا کہ جزیہ ادا کرنے کے لیے بھیک مانگتا ہوں۔ اس پر آپ نے اس کا جزیہ معاف کر دیا، اس کے لیے وظیفہ مقرر کیا اور خزانچی کو لکھا:

”خدا کی قسم! یہ ہرگز انصاف نہیں ہے کہ ہم اس کی جوانی میں اس سے فائدہ اٹھائیں اور بڑھاپے میں اس کو رسوا کریں“ [ کتاب الخراج، ص ۷۲]۔

دمشق کے سفر میں بھی حضرت عمرؓ نے معذور ذمیوں کے لیے امدادی وظائف مقرر کرنے کے احکام جاری کیے تھے [ فتوح البلدان، طبع یورپ، ص ۱۲۹]۔

۱۲۔ اگر کوئی ذمی مرجائے اور اس کے حساب میں جزیہ کا بقایا واجب الادا ہو تو وہ اس کے ترکہ سے وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے ورثاء پر اس کا بار ڈالا جائے گا۔ امام ابو یوسفؒ لکھتے ہیں: <<ان وجبت عليه الجزية فمات قبل ان تؤخذ منه او اخذ بعضها وبقى البعض لم يوخذ بذلك ورثته ولم تؤخذ من تركته>> [ کتاب الخراج، ص ۷۰]۔

۱۳۔ مسلمان تاجروں کی طرح ذمی تاجروں کے اموال تجارت پر بھی ٹیکس لیا جائے گا، جب کہ ان کا راس المال ۲۰۰ درہم تک پہنچ جائے یا وہ ۲۰ مثقال سونے کے مالک ہو جائیں [کتاب الخراج، ص ۷۰]۔ اس میں شک نہیں کہ قدیم زمانے میں فقہاء نے ذمی تاجر پر تجارتی محصول ۵ فیصدی تجویز کیا تھا اور مسلمان تاجر پر اڑھائی فیصدی، لیکن یہ فعل قرآن وحدیث کی کسی نص پر مبنی نہ تھا بلکہ اجتہاد پر مبنی تھا اور وقتی مصالح اسی کے متقاضی تھے۔ اس زمانہ میں مسلمان زیادہ تر جہاد اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت میں مشغول رہتے تھے اور تمام تجارت ذمیوں کے ہاتھوں میں آ گئی تھی، اس لیے مسلمان تاجروں کی ہمت افزائی اور ان کی تجارت کے تحفظ کے لیے ان پر ٹیکس کم کر دیا گیا۔

۱۴۔ ذمی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہیں اور دشمن سے ملک کی حفاظت کو تنہا مسلمانوں کے فرائض میں داخل کیا گیا ہے [ اس مسئلے کے صرف ایک پہلو سے یہاں بحث کی گئی ہے، اس کے دوسرے پہلوؤں پر میں نے اپنے دوسرے مضامین میں روشنی ڈالی ہے]۔ چونکہ ان سے جزیہ اسی حفاظت کے معاوضہ میں وصول کیا جاتا ہے، اس لیے اسلام نہ تو ان کو فوجی خدمت کی تکلیف دینا جائز سمجھتا ہے اور نہ ان کی حفاظت سے عاجز ہونے کی صورت میں جزیہ وصول کرنا۔ اگر مسلمان ان کی حفاظت نہ کر سکیں تو انھیں ذمیوں کے اموالِ جزیہ سے فائدہ اٹھانے کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔ جنگ یرموک کے موقع پر رومیوں نے مسلمانوں کے مقابلہ پر ایک زبردست فوج جمع کی اور مسلمانوں کو شام کے تمام مفتوح علاقے چھوڑ کر ایک مرکز پر جمع ہونے کی ضرورت لاحق ہوئی تو حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنے امراء کو لکھا کہ جو کچھ جزیہ و خراج تم نے ذمیوں سے وصول کیا ہے انھیں واپس کر دو اور ان سے کہو کہ ”اب ہم تمھاری حفاظت سے عاجز ہیں، اس لیے ہم نے جو مال تمھاری حفاظت کے معاوضہ میں وصول کیا تھا اسے واپس کرتے ہیں“ [ کتاب الخراج، ص ۱۱۱]۔ اس حکم کے مطابق تمام اجناد کے امراء نے جمع شدہ رقم واپس کر دی [بلاذری نے لکھا ہے کہ جب مسلمانوں نے حمص میں جزیہ کی رقم واپس کی تو وہاں کے باشندوں نے کہا کہ ”تمھاری حکومت کی انصاف پسندی ہم کو اس ظلم و ستم کے مقابلہ میں زیادہ محبوب ہے جس میں ہم مبتلا تھے، اب ہم ہرقل کے عامل کو اپنے شہر میں ہرگز نہ گھسنے دیں گے تاوقتیکہ لڑ کر مغلوب نہ ہو جائیں۔“ فتوح البلدان، طبع یورپ، صفحہ ۱۳۷]۔

اسلامی قانون سے یہ چند احکام صرف یہ دکھانے کے لیے نقل کیے گئے ہیں کہ اسلام نے اپنی مفتوح قوموں کے ساتھ جس انصاف اور عدل و مساوات کا سلوک روا رکھا ہے اس کی نظیر گزشتہ قوموں میں اور اکثر حیثیات سے موجودہ زمانہ کی مہذب قوموں میں بھی نہیں ملتی۔ یہ قانون محض ایک کاغذی قانون نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ عملی نفاذ کی ایک شاندار تاریخ بھی موجود ہے۔ چنانچہ ہم نے اس قانون کی ہر ہر دفعہ کے ساتھ حدیث و تاریخ کی مستند کتابوں سے متعدد نظائر بھی پیش کر دیے ہیں تاکہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے کس طرح اس قانون کو عملی جامہ پہنایا۔ عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عہدِ صحابہؓ کے بعد بھی فقہائے اسلام ہمیشہ اس قانون کو ٹھیک ٹھیک نافذ کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، اور جب کبھی سرکش امراء نے اس کے خلاف عمل کیا ہے تو علماء و فقہاء نے انھیں اس سے باز رکھنے یا کم از کم ان سے اس کی تلافی کرانے کی کوشش کی ہے۔ تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ ولید بن عبدالملک اموی نے دمشق کے کنیسۂ یوحنا کو زبردستی عیسائیوں سے چھین کر مسجد میں شامل کر لیا۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز تخت خلافت پر متمکن ہوئے اور عیسائیوں نے ان سے اس ظلم کی شکایت کی تو انھوں نے اپنے عامل کو حکم دیا کہ مسجد کا جتنا حصہ گرجا کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے اسے منہدم کر کے عیسائیوں کے حوالہ کر دو [ فتوح البلدان، صفحہ ۱۲۲]۔

ولید بن یزید نے رومی حملہ کے خوف سے قبرص کے ذمی باشندوں کو جلاوطن کر کے شام میں آباد کیا تو اس پر فقہائے اسلام اور عام مسلمان سخت ناراض ہوئے اور اسے گناہِ عظیم سمجھا۔ پھر جب یزید بن ولید نے ان کو دوبارہ قبرص میں لے جا کر آباد کر دیا تو اس کی عام طور پر تحسین کی گئی اور کہا گیا کہ یہی انصاف کا تقاضا ہے۔ اسمعیل بن عیاش کا بیان ہے کہ

<<فاستفضع ذلك المسلمون واستعظمه الفقهاء فلما ولى يزيد بن الوليد بن عبدالملك ردهم الى قبرص [ یہ لفظ س اور ص دونوں سے لکھا جاتا ہے] فاستحسن المسلمون ذلك من فعله ورأوه عدلا >> [ فتوح البلدان، مطبوعہ یورپ، صفحہ ۱۵۶]۔

بلاذری کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ جبل لبنان کے باشندوں میں سے ایک گروہ نے بغاوت کر دی۔ اس پر صالح بن علی بن عبداللہ نے ان کی سرکوبی کے لیے ایک فوج بھیجی جس نے ان کے ہتھیار اٹھانے والے مردوں کو قتل کر دیا اور باقی لوگوں میں سے ایک جماعت کو جلاوطن کیا اور ایک جماعت کو وہیں آباد رہنے دیا۔ امام اوزاعیؒ اس زمانہ میں زندہ تھے۔ انھوں نے صالح کو اس ظلم پر سخت تنبیہ کی اور ایک طویل خط لکھا جس کے چند فقرے یہ ہیں:

”جبل لبنان کے اہل ذمہ کی جلاوطنی کا حال تم کو معلوم ہے۔ ان میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے بغاوت کرنے والوں کے ساتھ کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ مگر باوجود اس کے تم نے کچھ کو قتل کیا اور کچھ لوگوں کو ان کی بستیوں سے نکال دیا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ عام لوگوں کو بعض خاص لوگوں کے جرم کی سزا کیوں کر دی جا سکتی ہے اور کس بنا پر انھیں ان کے گھروں اور ان کی جائدادوں سے بے دخل کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اللہ کا یہ حکم ہے کہ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْریٰ، اور یہ ایک واجب التعمیل حکم ہے۔ تمھارے لیے بہترین نصیحت یہ ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو یاد رکھو کہ جو کوئی کسی معاہد پر ظلم کرے گا اور اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا اس کے خلاف میں خود مدعی بنوں گا“ [ فتوح البلدان، ص ۱۶۹]۔

یہ اور ایسی ہی بے شمار مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ اسلام نے ہمیشہ اہل الذمہ کے حقوق کی حمایت کی ہے اور اگر کبھی کسی امیر یا بادشاہ نے ان پر جبر و ظلم کیا بھی ہے تو وہ اسلامی قانون کے صریح خلاف تھا جس سے اسلام بری الذمہ ہے۔