الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
۵۔ احتلال اور اس کے قوانین
احتلال (Occupation) ایک جدید اصطلاح ہے اور اس کا تصور بھی جدید ہے۔ عہدِ قدیم میں تو جب ایک سلطنت کسی ملک پر قابض ہو جاتی تھی تو وہ ملک اس کی جائز ملکیت ہو جاتا تھا۔ اسلامی قانون میں بھی کسی ملک کا مفتوح ہو جانا یہ معنی رکھتا تھا کہ وہ دارالاسلام بن گیا اور اس کی رعایا کو ذمیوں کے حقوق حاصل ہو گئے۔ [فقہائے اسلام نے اتنا فرق کیا ہے کہ دورانِ جنگ میں جو علاقہ اسلامی فوجوں کے قبضہ میں آ جائے اور ابھی یہ امر مشتبہ ہو کہ یہ قبضہ عارضی ہے یا مستقل ہے، اس کے احکام دارالحرب کے سے ہوں گے، اور جب قبضہ محکم ہو جائے تو اسلامی حکومت اس کے دارالاسلام ہونے کا اعلان کر دے گی، اور اس وقت سے اس کے احکام اسلامی مقبوضات کے سے ہوں گے۔] مگر یورپی قانون کے مطابق کسی ملک کا غنیم کے تصرف میں آ جانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باضابطہ اس کی سیادت میں آ گیا، بلکہ جس وقت تک حکومتِ سابقہ سے باقاعدہ صلح نامہ ہو کر اس کے حقوقِ ملکیت فاتح کو منتقل نہ ہو جائیں، اس وقت تک وہ صرف اس کے انتظام میں رہتا ہے۔ اس کو اصطلاح میں "احتلال" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس احتلال کے تحت جو علاقہ واقع ہوتا ہے، اس کے باشندے نہ تو عملاً اپنی سابقہ حکومت کی رعیت ہوتے ہیں، نہ اصولاً اپنی موجودہ حکومت ہی کی رعایا بنتے ہیں، بلکہ وہ ایک غیر قانونی فوجی حکومت کے تحت مغلوب و مقہور قوم کی حیثیت سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ ۱۸۹۹ء اور ۱۹۰۷ء کے ضوابطِ ہیگ نے اس مقہوریت کی حد و حدود مقرر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے اور نہ یہ طے کیا ہے کہ حکومتِ محتلہ اپنے حاکمانہ اختیارات کس حد تک ان پر حاوی کر سکتی ہے اور کس حد تک نہیں کر سکتی۔ البتہ چند قوانین مقرر کر دیے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقۂ محتلہ میں حکومت اور باشندوں کے حقوق و فرائض کیا ہیں۔ ذیل میں ہم ان قوانین کو نقل کرتے ہیں:
۱۔ جب کہ لشکرِ احتلال کے ہاتھ میں حکومت کے اختیارات باقاعدہ منتقل ہو جائیں تو وہ اپنے تمام ممکن وسائل سے امنِ عام کو محفوظ رکھنے اور قائم کرنے کی کوشش کرے گا اور حتی الامکان ان قوانین کو ملحوظ رکھے گا جو اس ملک میں پہلے سے نافذ ہوں۔ (دفعہ ۴۳)
یہ دفعہ حکومتِ احتلال کے لیے صرف ایک عام پالیسی وضع کرتی ہے اور دراصل ایک بے معنی دفعہ ہے۔ سابقہ قوانین کو برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے لیے "حتی الامکان" کی جو حد اس نے مقرر کی ہے، وہ بالکل مبہم ہے اور اس سے حکومتِ احتلال کو اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ علاقۂ محتلہ میں بالکل اسی طرح اپنے قوانین نافذ کرے جس طرح باضابطہ سیادت قائم ہو جانے کی صورت میں وہ کرتی، کیونکہ وہ بآسانی کہہ سکتی ہے کہ سابقہ قوانین برقرار رکھنا اس کے "امکان" میں نہیں ہے۔ لہٰذا اس دفعہ سے احتلال اور باضابطہ سیادت میں بہت کم فرق باقی رہ جاتا ہے۔
۲۔ "ایک محارب فریق کے لیے ممنوع ہے کہ اپنے زیرِ احتلال علاقہ کے باشندوں کو دوسرے فریق کی فوج یا اس کے ذرائع و وسائل کے متعلق معلومات بہم پہنچانے پر مجبور کرے۔" (دفعہ ۴۴)
اس دفعہ کو جرمنی، جاپان، روس، آسٹریا اور ہنگری نے اسی وقت مسترد کر دیا تھا۔ فوجی گروہ کو اس پر سخت اعتراض ہے، کیونکہ وہ جنگی مصالح کے لیے اپنے وسائلِ معلومات پر کسی قسم کی پابندی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جرمنی کی "کتابِ جنگ" میں اس پر جو تنقید کی گئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:
"ایک ملک کے باشندوں کو خود اپنی قومی فوج، اس کی جنگی حرکات، اس کے وسائل اور اس کے فوجی اسرار کے متعلق معلومات بہم پہنچانے پر مجبور کرنا یقیناً ایک نہایت سخت کارروائی ہے۔ اس قسم کی کارروائی کو تمام قوموں کے مصنفین کی ایک بڑی اکثریت قابلِ ملامت قرار دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود کوئی جنگی قائد ہمیشہ اس سے احتراز کرنے کا اہتمام نہیں کر سکتا۔ بے شک وہ جب کبھی اس پر عمل کرے گا، افسوس ہی کے ساتھ کرے گا، مگر جنگ کی دلیل بسا اوقات اس کو اس ذریعے سے استفادہ کرنے پر مجبور کر دے گی۔" [Kriegsbrauch, P. 48]
آگے چل کر پھر لکھا ہے:
"ایک شخص کو خود اپنے ملک کی ضرر رسانی اور خود اپنی قومی فوج کی شکست میں آسانی پیدا کرنے پر مجبور کرنا انسانی حیات کے لیے خواہ کتنا ہی تکلیف دہ ہو، مگر کوئی محارب فوج جو غنیم کے ملک میں پڑی ہوئی ہو، اس ذریعے سے معلومات حاصل کرنے سے اجتناب نہیں کر سکتی۔" [Kriegsbrauch, P. 48]
یہ خیالات صرف جرمن محکمۂ جنگ ہی کے نہیں ہیں بلکہ تمام یورپ کا فوجی گروہ یہی رائے رکھتا ہے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے، آج تک کسی جنگ میں ضوابطِ ہیگ کی دفعہ ۳۴ پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
۳۔ "ایک محارب سلطنت کے لیے ممنوع ہے کہ وہ اپنے دشمن کی رعایا کو خود اس کی اپنی قوم کے خلاف جنگی اعمال میں حصہ لینے پر مجبور کرے، خواہ وہ جنگ سے قبل اس کے ملازم ہی کیوں نہ رہ چکے ہوں۔" (دفعہ ۲۳)
پروفیسر مارٹن کے بقول یہ دفعہ صرف ایک "عمومی بیانِ اصول" ہی کی حیثیت رکھتی ہے اور جزئیات و تفصیلات میں حکومتوں کو خود یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیتی ہے کہ جس طرح چاہیں اپنی پالیسی وضع کریں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ جہاں حکومتوں کو، یا دراصل ان کی فوجوں کو، آزادیِ عمل دے دی جائے وہاں اس قسم کا "عمومی بیانِ اصول" بالکل بیکار ثابت ہو جاتا ہے۔ فوجیں تو وہی عمل کرتی ہیں جو جنگی ضروریات کے لحاظ سے وہ اپنے لیے ضروری سمجھتی ہیں۔ چنانچہ جنگِ عظیم میں آزادیِ عمل سے پورا پورا فائدہ اٹھایا گیا اور محارب سلطنتوں نے ایک دوسرے کی رعایا کو صرف خطوط و مواصلات ہی میں کام کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ خندقیں کھودنے اور فوجوں کے عقب میں استحکامات تیار کرنے کا کام بھی زبردستی ان سے لیا۔
۴۔ "علاقۂ محتلہ کے باشندوں کو دشمن سلطنت کی وفاداری کا حلف اٹھانے پر مجبور کرنا ممنوع ہے۔" (دفعہ ۴۵)
۵۔ "خاندانی اعزاز اور حقوق، اور جان و مال، اور مذہبی عقائد کا احترام ملحوظ رکھنا لازمی ہے اور شخصی املاک کو ضبط کرنا ممنوع ہے۔" (دفعہ ۴۶)
۶۔ "غارت گری حسبِ ضابطہ ممنوع ہے۔" (دفعہ ۴۷)
یہ تینوں دفعات ایک "عمومی بیانِ اصول" کی حیثیت رکھتی ہیں اور درحقیقت ان کی کوئی تشریعی قیمت نہیں ہے۔
۷۔ "اگر علاقۂ محتلہ میں حکومتِ احتلالی وہ محصولات و واجبات اور حاصلِ راہداری وصول کرے جو حکومت کے نفع کے لیے عائد کیے جاتے ہیں تو اس کو حتی الامکان وہاں کے رائج الوقت قواعدِ تشخیص و شرح کے مطابق ایسا کرنا چاہیے۔ نیز علاقۂ محتلہ کے نظامِ حکومت کا خرچ اسی پیمانے پر ادا کرنا اس کا فرض ہے جو وہاں پہلے رائج تھا۔" (دفعہ ۴۸)
۸۔ "اگر ان محصولات کے علاوہ حکومتِ احتلال علاقۂ محتلہ کے باشندوں پر کچھ اور مالی نذرانوں کا بوجھ ڈالے تو یہ صرف فوج یا اس علاقہ کے نظم و نسق کے لیے ہونا چاہیے۔" (دفعہ ۴۹)
۹۔ "کسی نذرانہ (Contribution) کی تحصیل ایک تحریری حکم کے بغیر نہیں کی جا سکتی جو ایک کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری پر جاری کیا گیا ہو۔ اس قسم کے نذرانے صرف اس طور پر وصول کیے جا سکتے ہیں کہ وہ اس ملک کے قواعدِ تشخیص و شرحِ محصولات کے مطابق ہوں۔ ہر ایسے نذرانے کے لیے ایک باقاعدہ رسید دی جانی چاہیے۔" (دفعہ ۵۱)
۱۰۔ "میونسپلٹیوں اور عام باشندوں سے عملی خدمات یا اجناس کی شکل میں رسد (Requisitions) طلب نہیں کی جا سکتی، سوائے اس کے کہ فوجِ احتلال کے لیے اس کی ضرورت ہو۔ یہ مطالبہ ملک کے وسائل کی نسبت سے متناسب ہونا چاہیے اور وہ اس نوع کا نہ ہونا چاہیے کہ اس کو پورا کرنا اس ملک کے باشندوں کے خود اپنے وطن کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا ہم معنی ہو۔ جہاں تک ممکن ہو ایسے نذرانوں کی نقد قیمت ادا کرنی چاہیے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایک رسید دینی چاہیے اور بعد میں جس قدر جلد ممکن ہو یہ رقم ادا کر دینی چاہیے۔" (دفعہ ۵۲)
۱۱۔ "ایک فوجِ احتلال صرف ان املاک پر قبضہ کر سکتی ہے جو دشمن سلطنت سے تعلق رکھتی ہوں اور جنگی اغراض کے لیے استعمال کی جا سکتی ہوں۔ البتہ تمام وہ آلات و اسباب جو خشکی یا تری یا ہوا میں خبر رسانی یا نقل و حرکت کے لیے استعمال کیے جاتے ہوں، اور تمام اسلحہ خانے اور سامانِ جنگ کے گودام، خواہ وہ شخصی ملک ہی کیوں نہ ہوں، بے تکلف ضبط کیے جا سکتے ہیں، مگر صلح ہونے کے بعد انہیں واپس کر دینا ضروری ہے۔" (دفعہ ۵۳)
ان تمام دفعات میں حکومتِ احتلال کے حقوقِ قبض و تصرف اور استعمال و انتفاع پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور علاقۂ محتلہ کے باشندوں کو کاغذ پر بڑی حد تک فوجی دست برد سے محفوظ کر دیا گیا ہے، لیکن فوجی گروہ بالاتفاق زمین پر ان ہدایات کی تعمیل کرنے سے صاف انکار کرتا ہے اور اپنی جنگی ضروریات کے مطابق مفتوح علاقہ سے تمام ممکن فوائد حاصل کرنے پر مصر ہے۔ اس گروہ کے خیال کی ترجمانی جرمنی کی "کتابِ جنگ" میں اس طرح کی گئی ہے:
"جنگی ضروریات کے موقع پر ہر قسم کی ضبطی، ہر قسم کا مستقل یا عارضی استحصال، ہر قسم کا استعمال، ہر قسم کی ضرر رسانی اور تخریب جائز ہے۔"
ملک کے وسائل اور اس کی قوتِ برداشت کو ملحوظ رکھنے کا جو مشورہ ہیگ کے ضوابط میں دیا گیا ہے، اس کے جواب میں فوجی گروہ کہتا ہے:
"یہ تناسب کا نظریہ بس نظریہ کی حیثیت سے تو بہت خوب ہے مگر اس کو عمل میں لانا مشکل بلکہ محال ہے۔"
اس معاملہ میں کلاؤسوڈز کی رائے جنگی گروہ میں بہت مقبول ہے۔ وہ فوجوں کی ضروریات کے لیے ہر ایسی چیز کو بے چون و چرا استعمال کرنا جائز رکھتا ہے جو مفتوح ملک میں ہاتھ آئے۔ اس کے لیے وہ صرف مقامی حکام پر دباؤ ڈالنے ہی کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ عام آبادی کو خوف زدہ کرکے اس سے ہر مطلوبہ چیز حوالہ کر دینے پر مجبور کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
"اس وسیلۂ انتفاع کی کوئی حد نہیں ہے، سوائے اس کے کہ مفتوح ملک بالکل مفلس اور قلاش ہو جائے اور اس میں ایک حد ادا کرنے کی بھی قوت نہ رہے۔"
یہاں بھی فوجی گروہ کی رائے حسبِ معمول قانونی گروہ کی تجاویز پر غالب آ گئی ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ کسی جنگ میں کسی مہذب قانونِ احتلال پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔
۱۲۔ "کسی قسم کی عام تعزیر، خواہ وہ مالی ہو یا دوسری قسم کی، ایسے اعمال پر عائد نہیں کی جا سکتی جن کا ارتکاب پرائیویٹ اشخاص نے انفرادی طور پر کیا ہو۔" (دفعہ ۵۰)
جنگِ عظیم میں یہ تہذیبی قاعدہ کالعدم ہو گیا، کیونکہ محاربین نے اپنے زیرِ تصرف و احتلال علاقوں میں نہایت آزادی سے پوری پوری آبادیوں پر تعزیری جرمانے عائد کیے، اور ایسے مواقع پر تو اس طریقِ تنبیہ کو اکثر استعمال کیا گیا جب کہ خاص مجرم کا سراغ نہ مل سکا۔