مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

فساد کی تحقیق

اب دیکھیے کہ قرآن مجید میں لفظ فساد کس معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

لغت میں فساد کہتے ہیں کسی چیز کے حالت اعتدال سے نکل جانے کو، اور صلاح اس کی ضد ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے تو ہر وہ فعل جو عدل و صلاح کے خلاف ہے فساد ہے۔ لیکن قرآن مجید میں عموماً اس کا اطلاق اجتماعی اخلاق اور نظام تمدن و سیادت کے بگاڑ پر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن فرعون اور عاد اور ثمود کو فساد کا الزام دیتا ہے:

<<اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۝ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۝ الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ۝ وَ ثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ۝ وَ فِرْعَوْنَ ذِي الْاَوْتَادِ ۝ الَّذِيْنَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ۝ فَاَكْثَرُوْا فِيْهَا الْفَسَادَ ۝ (الفجر: ۶ تا ۱۲)>>

”کیا نہیں دیکھا تو نے کہ تیرے رب نے کیا کیا ستونوں والے عاد ارم کے ساتھ جن کے مثل ملکوں میں کوئی پیدا نہیں کیا گیا؟ اور ثمود کے ساتھ جنھوں نے وادی میں پتھر تراشے؟ اور لشکر والے فرعون کے ساتھ؟ ان لوگوں نے ملکوں میں سرکشی کی اور ان میں بہت فساد پھیلایا۔“

پھر مختلف مقامات پر خود قرآن ہی ان کے وہ جرائم بیان کرتا ہے جن کی بنا پر وہ مفسد ٹھہرائے گئے:

۱۔ فرعون کے متعلق فرمایا کہ وہ متکبر تھا، اپنی رعایا کے درمیان نسلی امتیاز قائم کرتا اور ان میں پھوٹ ڈال کر اُن پر حکومت کرتا اور کمزوروں کو ناحق قتل و غارت کرتا تھا:

<<اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِيَعًا يَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ يَسْتَحْيٖ نِسَآءَهُمْ ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ>> (القصص: ۴)

”فرعون نے زمین میں تکبر کیا، اس کے باشندوں کو فرقوں میں تقسیم کر دیا اور ایک جماعت کو کمزور کر کے ان کے لڑکوں کو ذبح کرنے لگا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھنے لگا۔ درحقیقت وہ مفسدوں میں سے تھا۔“

وہ قبولِ حق سے لوگوں کو جبراً باز رکھتا تھا، چنانچہ جب حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھ کر جادوگر ایمان لے آئے تو اس نے کہا:

<<اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۚ اِنَّهٗ لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِيْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ ۙ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَيُّنَآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى>> (طہٰ: ۷۱)

”تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمھیں اجازت دیتا؟ ضرور یہ تمھارا گرو ہے اور اسی نے تمھیں یہ جادو سکھایا ہے۔ اب میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور تمھیں کھجور کے تنوں پر صلیب دوں گا اور تم دیکھ لو گے کہ ہم میں سے کون زیادہ سخت اور دیر پا عذاب دینے والا ہے۔“

اس نے ایک قوم کو کمزور پا کر اپنا غلام بنا لیا تھا۔ چنانچہ جب اس نے حضرت موسیٰ پر احسان جتایا تو آپ نے جواب دیا کہ:

<<وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ>> (الشعراء: ۲۲)

” اور تیری وہ نعمت جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے یہ ہے کہ تو نے میری قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا ہے۔“

وہ اپنی طاقت کے نشہ میں اپنے جیسے انسانوں کا خدا بنا تھا اور محض طاقت کے حق کی بنا پر بادشاہی کرتا تھا، حالانکہ اصلی حق عدل و انصاف اور خدا ترسی کا حق ہے:

<<وَ قَالَ فِرْعَوْنُ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ۚ ......... وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ اِلَيْنَا لَا يُرْجَعُوْنَ>> (القصص: ۳۸-۳۹)

”اور فرعون نے کہا کہ لوگو! میں تو اپنے سوا تمھارے کسی خدا کو جانتا نہیں ...... اور اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر حق کے بڑائی کی اور سمجھ بیٹھے کہ گویا اُنھیں کبھی ہمارے پاس واپس آنا ہی نہیں ہے۔“

اس نے اپنی رعایا کی ذہنی و اخلاقی حالت کو بگاڑ کر اتنا ذلیل کر دیا تھا کہ وہ اس کی غلامانہ اطاعت پر راضی ہو گئی:

<<فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ>> (الزخرف: ۵۴)

”اس نے اپنی قوم کو ہلکا (یعنی عقل و اخلاق میں گھٹیا) بنا دیا جس کے باعث انھوں نے اس کی اطاعت کی، یقیناً وہ بدکار قوم تھی۔“

اس کی حکومت کی بنیاد ناجائز اور غلط قوانین پر قائم تھی:

<<فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ ۚ وَ مَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ>> (ہود: ۹۷)

”ان لوگوں نے فرعون کے احکام کی تعمیل کی، حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا۔“

۲۔ اسی طرح عاد کا جرم یہ بتایا گیا ہے کہ وہ جابر و سرکش حاکموں کی پیروی کرتے تھے:

<<وَ اتَّبَعُوْٓا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ>> (ہود: ۵۹)

”اُنہوں نے ہر جبار دشمن حق کے حکم کی پیروی کی۔“

وہ جابر و ظالم تھے اور عدل و انصاف سے اُنھیں واسطہ نہ تھا، چنانچہ حضرت ہودؑ اُنھیں ملامت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

<<وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ>> (الشعراء : ۱۳۰)

”اور تم جس پر بھی ہاتھ ڈالتے ہو جابرانہ ہی ڈالتے ہو۔“

وہ اپنی قوت کے گھمنڈ میں بغیر کسی حق کے کمزور قوموں پر حکومت قائم کرتے تھے:

<<فَاسْتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۙ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً>> (حم سجده : ۱۵)

”وہ زمین میں حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہا کہ ہم سے زیادہ طاقت والا کون ہے۔“

۳۔ ثمود کے مفسدانہ اعمال کی تشریح قرآن مجید میں یہ ملتی ہے کہ ان کے حاکم اور سردار ظالم و بدکار تھے اور وہ اُنہی سرداروں کی اطاعت کرتے تھے، چنانچہ حضرت صالحؑ ان کو نصیحت کرتے ہیں:

<<وَ لَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَ ۙ الَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَ لَا يُصْلِحُوْنَ>> (الشعراء : ۱۵۱-۱۵۲)

”تم اُن حد سے گزر جانے والوں کے حکم کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔“

وہ ایسے سرکش تھے کہ ایک حق گو انسان کو صرف اس لیے قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے کہ وہ انھیں برائیوں سے روکتا اور نیکی کی تلقین کرتا تھا، پھر اس ظالمانہ فعل کے ارتکاب کے لیے کذب و فریب کے بدترین حیلے اختیار کرنے میں بھی انھیں باک نہ ہوا:

<<وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُوْنَ فِي الْأَرْضِ وَ لَا يُصْلِحُوْنَ ؕ قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَيِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ>> (النمل: ۴۸-۴۹)

”اور اس شہر میں ۹ آدمی (جتھوں کے سردار) تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے۔ انھوں نے کہا: یارو! قسم کھا لو کہ رات صالح اور اس کے گھر والوں پر چھاپا ماریں گے اور اس کے خون کے دعوے داروں سے کہہ دیں گے کہ ہم کو اس کی اور اس کے گھر والوں کی ہلاکت کا کچھ حال معلوم نہیں اور ہم بالکل سچ بولتے ہیں۔“

۴- قرآن مجید میں قوم لوط کو بھی مفسد کہا گیا ہے اور اس کے فساد کی تشریح اس طرح کی ہے:

<<اَئِنَّكُمْ لَتَأْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ ۙ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَأْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ ۙ وَ تَأْتُوْنَ فِىْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ>> (عنکبوت ۲۸-۲۹)

”تم لوگ تو وہ بدکاری کرتے ہو جو دنیا میں تم سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ کیا تم مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا برے کام کرتے ہو؟“

یہ تھا اس قوم کا فساد کہ اس میں فعل خلاف فطری کا عام رواج ہو گیا تھا، تجارتی شاہراہوں پر وہ ڈا کے بھی مارتی تھی اور اس کا اجتماعی اخلاق اس قدر بگڑ گیا تھا کہ کھلم کھلا اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے تھے اور کوئی ٹوکنے والا نہ تھا۔

۵- مدین کے لوگ بھی مفسد کہے گئے ہیں اور حضرت شعیبؑ انھیں ان الفاظ میں نصیحت کرتے ہیں:

<<فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ>> (الاعراف: ۸۵-۸۶)

”پیمانوں سے پورا ناپو اور ترازو میں ٹھیک تولو، لوگوں کو ان کی خریدی ہوئی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ، یہ تمہارے لیے اچھا ہے اگر تم ایمان دار ہو۔ اور راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو نہ ڈراؤ (یعنی راہزنی نہ کرو)۔ تم اللہ کے راستہ سے ان لوگوں کو روکتے ہو جو ایمان لائے ہیں اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔“

پھر جب حضرت شعیبؑ نے انھیں نیکوکاری کی ہدایت کی تو انھوں نے کہا کہ:

<<وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ>> (ہود: ۹۱)

”اگر تیری برادری کے لوگ نہ ہوتے تو ہم تجھے پتھراؤ کر کے مار ڈالتے۔ تو ہم پر بھاری نہیں پڑ سکتا۔“

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدین والوں کا فساد یہ تھا کہ وہ عام طور پر خائن تھے، ان کے تجارتی کاروبار میں بے ایمانی بہت بڑھ گئی تھی۔ تجارتی شاہراہوں پر، جو ان کے علاقہ سے گزرتی تھیں، ڈاکے ڈالتے تھے۔ ایمانداروں کو راہِ الہی سے روکتے تھے اور انھیں حق سے اس قدر دشمنی تھی کہ ایک صالح انسان نے جب انھیں برائیوں پر ٹوکا اور بھلائی کی طرف دعوت دی تو وہ اپنے درمیان اس کے وجود کو برداشت نہ کر سکے اور اسے سنگسار کرنے پر آمادہ ہو گئے۔

۶- چوری کو بھی فساد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت یوسف کے بھائیوں پر جب گلاس چرانے کا الزام رکھا گیا تو انھوں نے کہا کہ <<تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ>> (یوسف: ۷۳) ”خدا کی قسم! تم جانتے ہو کہ ہم زمین میں فساد پھیلانے نہیں آئے اور ہم چور نہیں ہیں۔“

۷- بادشاہوں کی ملک گیری سے جو تباہی پھیلتی ہے اور اس کے اثر سے مفتوح قوموں کے اخلاق میں جو دناءت پیدا ہو جاتی ہے اس کو بھی فساد کہا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت سلیمانؑ کا خط وصول ہونے پر ملکہ سبا اپنے درباریوں سے کہتی ہے: <<إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ>> (النمل: ۳۴) ”بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے فساد سے بھر دیتے ہیں، اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور وہ ایسی ہی حرکتیں کرتے ہیں۔“

۸- فساد کی ایک جامع تعریف قرآن میں یہ کی گئی ہے کہ اُن روابط اور تعلقات کو خراب کرنا اور اُن رشتوں پر تیشہ چلانا جو فی الحقیقت انسانی تمدن کی بنیاد ہیں۔ چنانچہ فرمایا:

<<وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۙ أُولَٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ>> (الرعد: ۲۵)

”اور جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان تعلقات کو قطع کرتے ہیں جنھیں جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، انہی پر اللہ کی لعنت ہے اور وہ ہی ہیں جن کے لیے برا ٹھکانا ہے۔“

>>وَ يَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ<< کے معنی عام مفسرین نے بہت محدود لیے ہیں۔ وہ اسے صرف قطع رحم کے معنی میں لیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے وہ تمام جائز تعلقات مراد ہیں جو مختلف تمدنی اور عمرانی حیثیات سے بنی نوع انسان کے افراد اور جماعتوں میں قائم ہوتے ہیں، مثلاً عزیزوں اور رشتہ داروں کے تعلقات، میاں اور بیوی کے تعلقات، دوستوں اور ہمسایوں کے تعلقات، لین دین اور کاروباری معاملہ کے تعلقات، عہد و پیمان اور باہمی اعتماد کے تعلقات، مختلف ملکوں اور حکومتوں کے تعلقات۔ چونکہ یہی روابط انسانی تمدن کی بنیاد ہیں، انہی کے بہترین طریقے سے قائم رہنے پر دنیا کے امن اور خوشحالی کا انحصار ہے، اور انہی کو توڑنے اور خراب کر دینے سے دنیا میں لڑائی جھگڑے پھیلتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قطع کرنے کو فساد سے تعبیر کیا اور اس پر لعنت کی وعید فرمائی۔

۹۔ اس طرز حکومت کو بھی فساد سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں حاکمانہ طاقت کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ظلم و ستم اور غارت گری کے لیے استعمال کیا جائے۔ چنانچہ فرمایا:

<<وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ ٱلْحَرْثَ وَٱلنَّسْلَ ۚ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ>> (البقرۃ: ۲۰۵)

”اور جب وہ حاکم بنتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتا ہے اور کھیتوں اور نسلوں کو تباہ کرتا ہے اور اللہ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔“

۱۰۔ صَدٌّ عَنْ سَبِیلِ اللہ کے لیے بھی، جس کی تشریح اوپر گزر چکی ہے، فساد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

<<أَلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدْنَٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفْسِدُونَ>> (النحل: ۸۸)

”جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ان پر ہم اُس فساد کے باعث جو وہ کرتے تھے، عذاب پر عذاب نازل کریں گے۔“

۱۱۔ سورۂ مائدہ میں جن لوگوں کی طرف فساد کی نسبت دی گئی ہے کہ وہ يَسْعَوْنَ فِى الْأَرْضِ فَسَادًا ”وہ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں“ اور جن کے متعلق فرمایا ہے کہ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ”اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا“ ان کی خصوصیات یہ بیان کی ہیں:

<<وَتَرَىٰ كَثِيرًا مِّنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ ٱلسُّحْتَ>> (المائدہ: ۶۲)

”اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا کہ وہ گناہ اور حد سے تجاوز کرنے میں اور حرام کے مال کھانے میں جلدی کرتے ہیں۔“

<<وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ ٱلْعَدَاوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَامَةِ ۚ كُلَّمَآ أَوْقَدُواْ نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا ٱللَّهُ>> (المائدہ: ۶۴)

”اور ہم نے ان کے درمیان بغض و عداوت کا بیج قیامت تک کے لیے ڈال دیا، اور جب کبھی انھوں نے جنگ کے لیے آگ بھڑکائی ہم نے اسے بجھا دیا۔“

اس سے معلوم ہوا کہ اثم یعنی وہ گناہ جو آدمی کے ذاتی اخلاق کو غارت کرتے ہیں، اور عدوان یعنی وہ گناہ جن کا برا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے، اور اکل سحت یعنی رشوت اور سود خوری جیسے ناجائز طریقوں سے لوگوں کے مال کھانا اور نفسانی اغراض کے لیے باہم بغض و عداوت رکھنا اور ان کی خاطر جنگ کی آگ بھڑکانا، یہ سب اعمال فساد ہیں۔