مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

بودھ کا فلسفہ

ان احکام سے جنگ کے متعلق بودھ کا مسلک صاف معلوم ہوجاتا ہے لیکن اس مسلک کے حُسن و قبح کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے صرف ان مختصر احکام ہی کا جان لینا کافی نہیں ہے بلکہ اُس پورے نظام فلسفہ کو سمجھنا ضروری ہے جس کا ایک جز اہنسا کا یہ عقیدہ ہے۔ اہنسا خود تو دراصل اُن وسائل میں سے ایک وسیلہ ہے جو اُس خاص شکل میں انسانی زندگی کو ڈھالنے اور اُس مخصوص راستہ پر اُس کو لے جانے میں ممد ہوتے ہیں جسے بدھ نے انسان کے لیے پسند کیا ہے۔ لہٰذا دیکھنا یہ چاہیے کہ وہ کونسی شکل ہے جس میں بدھ انسان کی زندگی کو ڈھالنا چاہتا ہے؟ وہ کونسا راستہ ہے جس پر وہ اس کو لے جانے کی کوشش کرتا ہے؟ وہ کون سی منزل ہے جسے اس نے اپنا نصب العین بنایا ہے؟ اور وہ کیا عملی وسائل ہیں جنھیں اس غرض کے لیے وہ استعمال کرتا ہے؟ ان مسائل کو سمجھے بغیر اہنسا کی اصلی روح اور حیات انسانی پر اس کے عمیق اثرات کو سمجھنا مشکل ہے۔

بدھ نے انسان کی زندگی کا مطالعہ جس نقطۂ نظر سے کیا ہے وہ دنیا کے دوسرے حکما اور معلمین مذہب و اخلاق کے نقطۂ نظر سے بالکل مختلف ہے۔ اس لیے یہ سمجھنے کی سرے سے کوئی کوشش ہی نہیں کی ہے کہ انسان دنیا میں کیوں پیدا ہوا ہے اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اس لیے قدرتی طور پر وہ اس سوال سے بھی کوئی بحث نہیں کرتا کہ اس دنیا میں انسان کے لیے زندگی بسر کرنے کا کونسا طریقہ ہے جو اس کی اور اس کے ابنائے نوع کی حقیقی فلاح کا موجب ہو۔ اس نے اپنی ساری توجہ صرف اس سوال کے حل کرنے میں صرف کر دی ہے کہ انسان کی زندگی میں تغیر و انقلاب کیوں ہوتا ہے؟ بچپن، جوانی، بڑھاپا، تندرستی، بیماری، پیدائش، موت، رنج، خوشی، راحت، مصیبت اور اسی قسم کے مختلف تغیرات کی علت کیا ہے؟ اور اس چکر سے نجات حاصل کرنے کی صورت کیا ہے؟ انسان کی پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کو صرف یہی ایک سوال قابلِ توجہ نظر آیا ہے اور تمام دوسرے عملی و اعتقادی مسائل سے اس نے بالکل آنکھیں بند کر لی ہیں۔

اس بنیادی سوال پر کئی سال تک گیان دھیان کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ زندگی فی نفسہ ایک مصیبت ہے جس میں انسان مبتلا ہو گیا ہے اور پیدائش سے لے کر موت تک اس پر جتنے انقلابات گزرتے ہیں وہ سب اسی مصیبت کے مظاہر ہیں۔ اُس کے دنیا میں آنے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ وہ محض عبث اور بیکار پیدا ہوا ہے۔ یا اگر اس کا کوئی کام ہے تو وہ صرف مصیبت سہنا اور تکلیف اٹھانا ہے۔ اس لیے یہ دُنیا اس کے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ یہاں اس کے لیے حقیقۃً کوئی راحت اور مسرت نہیں ہے۔ کیونکہ ہر راحت کے پیچھے ایک نقصان، ہر شگفتگی کے پیچھے ایک پژمردگی، اور ہر پیدائش کے پیچھے ایک موت لگی ہوئی ہے۔ اور یہ سب کچھ تحوّل و انقلاب کے ایک دائمی عمل کے تابع ہے جو خود ایک مصیبت ہے ۔

اس مصیبت میں انسان کیوں مبتلا ہے ؟ اس کا جواب بدھ یہ دیتا ہے کہ خواہش، احساس اور شعور اس کو زندگی کی مصیبت میں مبتلا کرتے ہیں۔ نفس کی انہی قوتوں کے باعث دنیا سے انسان کا تعلق قائم ہوتا ہے اور یہی تعلّق اسے بار بار دنیا میں لاتا ہے، وہ بار بار اس کو ایک جون سے دوسری جون میں، ایک قالب سے دوسرے قالب میں اور ایک زندگی سے دوسری زندگی میں لیے پھرتا ہے، اور جب تک خواہش کا یہ پھندا اس کی گردن سے نہیں نکلتا اس وقت تک وہ بار بار مرنے اور بار بار زندہ ہو کر کسی نہ کسی شکل میں پھر پیدا ہونے کے سلسلہ سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔

پھر اس مصیبت، اس زندگی کے چکر سے نجات کیسے حاصل ہو؟ اس سوال کو بدھ نے صرف ایک لفظ "نروان" سے حل کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب زندگی مصیبت ہے اور خواہش اس مصیبت کی جڑ، تو انسان کے لیے اصلی راحت صرف نیستی، فنا اور عدم محض میں ہے، اور وہ خواہش، احساس اور شعور کو بالکل مٹا دینے سے حاصل ہو سکتی ہے۔ انسان دنیا کے تمام علائق سے منقطع ہو جائے، کسی چیز کی محبت، کسی شے کی تمنا، کسی لذت کی چاشنی، غرض اس دنیا کی کسی چیز کی طرف اپنے دل میں کشش نہ رکھے اور اپنے تمام جذبات، احساسات اور خواہشات کو اس طرح فنا کر دے کہ اس دنیا سے اس کا کوئی واسطہ و تعلق باقی ہی نہ رہے جو اُسے یہاں دوبارہ لانے کا موجب ہو۔ اس طرح وہ "وجود" کی قید سے نکل کر "عدم" یا "فنائے محض" کی حالت میں چلا جائے گا۔ یہی ”نروان“ [ لفظ ”نروان“ کے مفہوم میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ بنسن ، اولڈن برگ اور رہیں ڈیوڈس وغیرہ کے نزدیک وہ نفس کی ایک حالت ہے جس میں وہ معصیت اور خواہش سے پاک ، دنیوی زندگی سے بے نیاز اور کامل امن وسکون سے متمتع ہو۔ لیکن میکس مولر ، شمسٹ ، ہارڈی ، سان ہلیرا اور برناؤف جیسے محققین اس مبہم تعریف پر اکتفا نہیں کرتے ، بلکہ صاف تصریح کرتے ہیں کہ اس سے مراد انسان کا معدوم ہو جانا یا ہستی کی قید سے بالکل آزاد ہو جانا ہے۔] ہے اور یہی بودھ کے نزدیک انسان کا منتہائے نظر ہے یا ہونا چاہیے۔

اب چوتھا سوال یہ ہے کہ نروان تک پہنچنے کی صورت کیا ہے؟ [یہ چار مسائل یعنی مصیبت ، وجہ مصیبت ، صورتِ دفعِ مصیبت اور طریقِ دفعِ مصیبت ، بودھ مذہب کی اصطلاح میں حقائق اصلیہ (آریہ ستیہ) کہلاتے ہیں۔] یہاں پہنچ کر بودھ کا مذہب عملی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس نے نروان تک پہنچنے کے لیے طریق ہشت گانہ تجویز کیا ہے[Vinaya Texts, Vol. 1, pp 94-97] اور وہ مختصر الفاظ میں یہ ہے :

(۱) صحیح عقیدہ ، یعنی مذکورہ بالا چاروں بنیادی صداقتوں کو اچھی طرح سمجھنا ۔

(۲) صحیح ارادہ ، یعنی ترک لذات کا مصمم فیصلہ اور دوسروں کو تکلیف پہنچانے اور ذی روح ہستیوں کو ایذا دینے سے کامل پرہیز۔

(۳) صحیح گفتار ، یعنی بدزبانی، یاوہ گوئی ، غیبت اور جھوٹ سے احتراز۔

(۴) صحیح چلن ، یعنی بدکاری ، قتل نفس اور خیانت سے اجتناب ۔

(۵) صحیح معیشت ، یعنی جائز طریقہ سے روزی حاصل کرنا ۔

(۶) صحیح کوشش ، یعنی دھرم کے احکام کے مطابق عمل کرنا ۔

(۷) صحیح حافظہ ، یعنی اپنے گزشتہ اعمال کو یاد رکھنا ۔

(۸) صحیح تخیل ، یعنی راحت اور مسرت سے بے نیاز ہو کر عدم محض (نروان) کی طرف دھیان لگانا۔ [Warren, Budhism in Translations, P 373]

اس طریقِ ہشت گانہ کو عملی شکل میں لانے کے لیے بدھ نے دس اخلاقی احکام دیے ہیں ، جن میں سے پانچ مؤکّد ہیں اور پانچ غیر مؤکّد ۔ یہ احکام حسب ذیل ہیں :

(۱) کسی کی جان نہ لو ۔

(۲) چوری نہ کرو ۔

(۳) زنا نہ کرو ۔

(۴) جھوٹ نہ بولو ۔

(۵) نشہ آور چیزیں نہ پیو ۔

(۶) مقرر وقت کے سوا کھانا نہ کھاؤ ۔

(۷) کھیل تماشے اور گانے بجانے سے پرہیز کرو ۔

(۸) پھول ، عطر وغیرہ سے پرہیز کرو ۔

(۹) اچھے اور نرم بستر پر سونے سے پرہیز کرو ۔

(۱۰) سونا چاندی اپنے پاس نہ رکھو [Vinaya Texts, Vol. I, P. 211]

یہی طریقِ ہشت گانہ اور احکامِ عشر بدھ مذہب کے پورے اخلاقی نظام کی بنیاد ہیں ۔ بدھ نے اپنے پیرووں کو معیشت و معاشرت کے متعلق جتنی ہدایات دی ہیں ان سب کا بنیادی پتھر "نفس کشی" اور "ترکِ دنیا" ہے ۔ چونکہ اس کی منزلِ مقصود "نروان" ہے اور وہ بغیر نفس کشی کے حاصل نہیں ہو سکتی ، اس لیے وہ خودی کو مٹانے کے لیے نہایت سخت ریاضتیں تجویز کرتا ہے۔ مثلاً داڑھی ، مونچھ اور سر کے بالوں کو نوچنا تاکہ غرورِ حسن خاک میں مل جائے ، ہمیشہ کھڑے رہنا ، کانٹوں یا کیلوں کے بستر پر لیٹنا ، ہمیشہ ایک ہی پہلو پر سونا ، بدن پر خاک ملے رہنا اور اسی قسم کے دوسرے اعمال جو جسم کو انتہائی تکلیف میں مبتلا کر کے روح کو مضمحل اور احساس کو باطل کرنے والے ہوں۔ [بدھ نے اس قسم کی بہت سی ریاضتیں تجویز کی تھیں جن کی تفصیل ”مکالمات بدھ“ (Dialogues of Buddah, PP. 226-32) میں ملے گی۔] ان کے علاوہ زندگی بسر کرنے کے عام طریقوں کے متعلق بھی بدھ نے ایسے ہی احکام دیے ہیں۔ اس جگہ ان سب کی تفصیل دینا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ کئی جلدوں پر محیط ہیں، تاہم مثال کے طور پر چند نقل کیے جاتے ہیں :

چار چیزیں جن سے پرہیز کی سخت تاکید ہے یہ ہیں : (۱) عورت اور مرد کا فطری تعلق [اس میں جائز اور ناجائز کا کوئی امتیاز نہیں ہے۔ ونائی پٹک میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بھکشو نے مذہبی زندگی اختیار کرنے کے بعد جب اپنی منکوحہ بیوی سے خلوت کا تعلق باقی رکھنا چاہا تو بدھ نے اس فعل سے اس کو سختی سے منع کر دیا (حصہ اوّل، صفحہ ۲۳۴) ۔] چوری حتیٰ کہ گھاس کے ایک تنکے کی بھی (۳) کسی جاندار حتیٰ کہ چھوٹے سے چھوٹے کیڑے کو بھی عمداً ہلاک کرنا (۴) اپنی طرف کسی فوق العادت کیفیت کو منسوب کرنا ۔ [Vinaya Text, Pa t I, PP. 235-36]

مذہبی زندگی اختیار کرنے کے بعد انسان نئے کپڑے نہ پہنے، کوڑے پر پڑے ہوئے چیتھڑے یا قبرستان سے مُردوں کے کفن لے کر ان کی گدڑیاں سی لینی چاہئیں [بدھ مذہب کی روایات میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ جب اُرویلا کے سردار کی لڑکی مر گئی اور ایک قریب کے قبرستان میں اُسے دفن کر دیا گیا تو ایک روز بدھ نے اس کی قبر کھولی ، اس کا کفن نکالا ، قریب کے ایک تالاب میں لے جا کر اس کو دھویا اور اپنے ہاتھ سے اس کا کرتہ سی کر پہن لیا (Sant Hilaire, Buddha and His Religion, P. 50)] مگر اس قسم کی گدڑیاں بھی ایک وقت میں تین سے زیادہ نہ ہوں۔

بسر اوقات کے لیے کوئی پیشہ نہ کرے ، ایک لکڑی کا چنبل لے کر خاموشی کے ساتھ در بدر بھیک مانگتے پھرنا چاہیے ۔ یہ بھیک کی روزی ہی بودھ مذہب میں سب سے زیادہ پاک روزی ہے لے ۔[ خود بودھ اپنے وہار سے نکل کر روزانہ بھیک مانگنے جایا کرتا تھا ۔ اسی لیے وہ اپنے پیرووں کو بھکشو اور خود اپنے آپ کو مہا بھکشو یعنی سب سے بڑا بھکاری کہتا ہے ۔]

رہنے کے لیے کوئی مکان نہ بنائے، جنگل میں رہنا چاہیے اور درختوں کے سایہ میں پناہ لینی چاہیے، بیمار ہو تو کوئی دوا استعمال نہ کرے، پیشاب کی تحلیل اس کے لیے کافی وسیلہ علاج ہے ۔[Sant Hilaire, Buddha and His Religion, P. 101]

اپنے جسم کو صاف رکھنے کی کوشش بھی نہ کرے، حد سے حد پندرہ دن میں ایک مرتبہ نہانا جائز ہے ۔ [Vinaya Texts, Part I, PP. 173-74]

اپنے پاس روپیہ پیسہ بالکل نہ رکھے ۔ تجارت ، لین دین، خرید و فروخت اور تمام ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں چاندی سونا استعمال کیا جاتا ہو۔ [Vinaya Texts Part I, PP 26-27]

اچھی قسم کا بستر بھی نہ رکھے ، ایک موٹا جھوٹا کمبل رکھنا چاہیے اور اس ایک کمبل کو کم از کم چھ سال چلانا چاہیے [Vinaya Texts Part I, PP-24-25]