الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
مسیحی اخلاقیات کا اصلی نقص
اب یہ اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ مسیحیت میں محبت، عفو و درگزر اور تذلل و انفعال کی جو تعلیم دی گئی ہے، وہ ایک ایسے اخلاقی نظام کے اجزاء میں سے ہے جو رہبانیت کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ چونکہ اس نے اخروی نجات کا راستہ دنیاوی فلاح کے راستہ سے الگ اختیار کیا ہے، اس لیے وہ دنیا کے معاملات کو دنیاداروں پر چھوڑ دیتی ہے اور خود اپنے دینداروں کو لے کر الگ ہو جاتی ہے تاکہ گوشہ عزلت میں بیٹھ کر "آسمانی بادشاہت" حاصل کرنے کی تیاری کرے۔ ایسے مذہب میں جنگ نہ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ وہ دنیا اور اس کے معاملات کی ذمہ داریاں قبول کرتا ہے اور اس کے باوجود ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے قوت کے استعمال کی ضرورت نہیں سمجھتا، بلکہ دراصل اس کے معنی یہ ہیں کہ جب اس کو دنیا کے معاملات ہی سے کچھ تعلق نہیں ہے تو قدرتی طور پر جنگ و خونریزی سے بھی انکار ہے۔ وہ نہیں کہتا کہ فساد کو فرو کرنے کے لیے تلوار کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ وہ کہتا ہے کہ خود فساد ہی کو فرو کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ نہیں کہتا کہ شرارت کا استیصال جنگ کے بغیر بھی ہو سکتا ہے، بلکہ وہ کہتا ہے کہ سرے سے اس کے استیصال ہی کی فکر فضول ہے، اس سے لڑنے کے بجائے تم اس کے آگے سر جھکا دو۔ وہ نہیں کہتا کہ ظلم و تعدی کے مقابلہ میں حق کی حفاظت خونریزی کے بغیر بھی ممکن ہے، بلکہ وہ کہتا ہے کہ حق کی حفاظت ہی نہ کرو، اگر ظلم تمھارا حق چھینتا ہے تو چھین لینے دو۔ وہ نہیں کہتا کہ مجرموں کو تشدد کے بغیر بھی سزا دی جا سکتی ہے اور مظلوموں کا قصاص قوت کے بغیر بھی لیا جا سکتا ہے، بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم سرے سے سزا اور قصاص ہی کو چھوڑ دو اور کوئی «سات دفعہ نہیں، سات کے ستر گن تک» قصور کیے جائیں تو اسے معاف کرتے رہو۔ غرض یہ کہ دنیا میں امن قائم کرنا، اس کو بدی و شرارت سے پاک کرنا، اس میں عدل و انصاف کی حکومت قائم کرنا اور انسانیت کو ظلم و فساد کے تسلط سے نجات دلانا، سب کچھ مسیحیت کے دائرۂ عمل سے خارج ہے۔ اس نے اپنے لیے محکومی و مغلوبی اور مظلومی و منکوبی کی زندگی پسند کر لی ہے۔ اس لیے اگر وہ جنگ کی مخالف ہے اور بلا تمیز حق و غیر حق نفسِ جنگ ہی کو برا سمجھتی ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ایسی زندگی کے لیے یہی رویہ زیادہ موزوں ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ تذلل و انفعال کی یہ تعلیم کیا انسان کے لیے ایک دائمی اور عالمگیر قانون بن سکتی ہے؟ اس کا جواب مسیحیت خود اپنے منہ سے دے رہی ہے۔ جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جنگ سے احتراز کا حکم خود کوئی مستقل قانون نہیں ہے بلکہ رہبانیت و ترکِ دنیا کے ایک وسیع قانون کی دفعات میں سے ایک دفعہ ہے، تو اس سے یہ بات خود بخود لازم آتی ہے کہ ترکِ جنگ کا قاعدہ اسی صورت میں نافذ ہو سکتا ہے جب کہ ترکِ دنیا کا پورا قانون نافذ ہو۔ مسیحیت خود بھی یہ نہیں کہتی کہ تم دنیا کا انتظام تو ضرور ہاتھ میں لو، مگر جنگ ہرگز نہ کرو۔ اس کی اپنی تعلیم کی رو سے بھی انسان یہ عاجزانہ انفعالی زندگی اسی وقت اختیار کر سکتا ہے جب کہ وہ دنیا کو چھوڑ دے اور اس کی مختلف تمدنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے۔ ان سب ذمہ داریوں کو قبول کرنے اور پورا کرنے کے ساتھ اس طریقے کو اختیار کرنا نہ ممکن ہے اور نہ خود مسیح کا یہ منشا ہے۔ اب اگر اس کو ایک عالمگیر قانون قرار دیا جائے تو لا محالہ ساری نوعِ انسانی کو تمدن و تہذیب سے کنارہ کش ہو جانا پڑے گا۔ اگر انسان کی منزلِ مقصود "آسمانی بادشاہت" ہو اور یہ بھی مان لیا جائے کہ دنیوی زندگی کے تمام معاملات اس بادشاہت میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، تو ضروری ہو جاتا ہے کہ نوعِ بشر پوری کی پوری اُس منزل تک پہنچنے کے لیے اس روکنے والی چیز سے اجتناب کرے اور راہبانہ زندگی اختیار کر کے نفس کشی و ریاضت میں لگ جائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا ہونا غیر ممکن ہے۔ تمام دنیا بیک وقت اپنے کاروبار بند نہیں کر سکتی، معاش کی فکر چھوڑ کر "ہوا کے پرندوں" اور "جنگلی سوسن کے درختوں" کی سی زندگی اختیار نہیں کر سکتی، تجارت، صنعت، زراعت اور تمام دوسرے مشاغل کو ترک کر کے تعطل و بیکاری کی حالت قبول نہیں کر سکتی، حکومت اور اس کے انتظام کو چھوڑ کر خانقاہوں میں نہیں بیٹھ سکتی، اور اگر بفرضِ محال وہ ایسا کر بھی لے تو ہرگز اُس شرف و عزت کی مالک نہیں رہ سکتی جو اس کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات کے مقابلے میں عطا فرمایا ہے، بلکہ سچ یوں ہے کہ زندہ بھی نہیں رہ سکتی۔ انسانی سوسائٹی کی یہ ایک ایسی حالت ہے جس کا تحقق ہونا ایک شاداب تخیل کے سوا کسی خارجی عالم میں ممکن نہیں ہے، اور جو خدانخواستہ ممکن بھی ہو جائے تو کم از کم وہ کسی ذی عقل انسان کو مطلوب و مرغوب نہیں ہو سکتی۔ پس یہ کہنا بالکل بعید از عقل ہے کہ مسیحیت کا قانونِ اخلاق تمام بنی نوعِ انسان کے لیے ایک دائمی اور عالمگیر قانون ہے، کیونکہ عالمگیر اور دائمی قانون صرف وہی ہو سکتا ہے جس پر تمام دنیا کے باشندے ہر حالت میں عمل کر سکتے ہوں۔
پھر یہ قانون کسی ایک پوری قوم کے لیے بھی قابلِ عمل نہیں ہے۔ اگر کوئی قوم من حیثِ مجموع اس کی پابندی قبول کر لے اور "آسمانی بادشاہت" میں داخل ہونے کے لیے اس کی تمام ہدایات پر عمل پیرا ہونے لگے تو اس کو سب سے پہلے اپنی حکومت کا نظام معطل کرنا پڑے گا۔ اپنی فوج اور پولیس منتشر کرنی ہوگی اور اپنی سرحدوں کی حفاظت اور قلعوں کی نگہبانی چھوڑنی پڑے گی۔ پھر جب اس کی کوئی ہمسایہ قوم میدان خالی دیکھ کر حملہ کر دے گی تو مسیحی تعلیم کے مطابق یہ نیک نہاد قوم شہر پر مقابلہ نہ کرے گی بلکہ ایک گال کے ساتھ دوسرا گال بھی پیش کر دے گی، کرتے کے ساتھ چغہ بھی پیش کر دے گی۔ پھر وہ اپنی ساری دولت، اپنی تجارتی کوٹھیاں، اپنی دکانیں، حتیٰ کہ اپنے گھروں کا مال و اسباب بھی چھوڑ دے گی، کیوں کہ "دولت مند آسمانی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا" اور دولت مند کے لیے حکم ہے کہ "تو اپنا سارا مال بیچ کر خیرات کر دے"۔ اس کے بعد وہ کسبِ معاش کے لیے محنت مزدوری کرنا بھی چھوڑ دے گی، اپنے کارخانے بند کر دے گی، صنعت، حرفت، خدمت، سب کچھ ترک کر دے گی اور اس کے تمام کاروباری آدمی اپنے اپنے کام چھوڑ کر صومعوں میں جا بیٹھیں گے، کیوں کہ "تم خدا اور دولت دونوں کی ایک ساتھ خدمت نہیں کر سکتے" اور مسیح کا حکم ہے: "اپنی جان کی فکر نہ کرو"۔ آخر میں اس کے لیے صرف ایک ذریعۂ معاش رہ جائے گا کہ زمین کی کاشت کرے اور اپنی خوراک کے لیے غلہ حاصل کرے، لیکن آسمانی بادشاہت میں داخل ہونے کے لیے اسے یہ بھی چھوڑنا پڑے گا، کیوں کہ مسیح کا ارشاد ہے کہ "ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں، پھر بھی تمھارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے"۔ اس طرح وہ قوم اپنی حکومت، اپنی زمین، اپنی دولت، اپنی صنعت و تجارت، غرض اپنا سب کچھ ان بیرونی حملہ آوروں کے سپرد کر دے گی اور ساری کی ساری قوم ان کی غلام بن جائے گی۔ پھر وہ "ایک کوس بیگار میں لے جائیں گے" تو یہ "دو کوس" جائے گی، وہ ظلم کریں گے اور یہ ان کے لیے دعا مانگے گی، وہ اس پر "لعنت" کریں گے اور یہ ان کے لیے "برکت" چاہے گی، وہ اس کی عزت و حرمت پر حملے کریں گے اور یہ انھیں خاموشی کے ساتھ برداشت کرتی رہے گی۔ مسیحی نقطۂ نظر سے یہ اس کے اخلاق کا منتہائے کمال ہے، جس کے بعد کوئی چیز اس کو آسمانی بادشاہت میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتی، مگر عقل و دانش کے نقطۂ نظر سے یہ ایک ایسی قوم کی پستی و تنزل کا انتہائی درجہ ہے جس کےحصول کی کوشش کو ایک عقلمند آدمی خودکشی کے سوا کسی اور لفظ سے تعبیر نہیں کرسکتا۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ آخر وہ آسمانی بادشاہت ہے کس قسم کی جس کے ایسے ناکارہ لوگوں کی مانگ اور کھپت ہے۔ بہر حال جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے یہ ظاہر ہے کہ اس معنی میں دنیا کی کوئی قوم بھی مسیحیت کے قانون اخلاق کو اپنا قانون حیات نہیں بنا سکتی، کیوں کہ اس کی فطرت اسے اپنے وجود کی حفاظت اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے اس قانون کی ایک ایک دفعہ کو توڑنے پر مجبور کر دے گی اور عملاً اس کی خلاف ورزی کے بعد اعتقاداً اس پر ایمان رکھنا بے معنی ہوگا۔
اب تیسری صورت یہ ہے کہ اس کو ایک پوری قوم کے لیے بھی ہمہ گیر قانون نہ مانا جائے بلکہ ایک خاص گروہ کے لیے مخصوص سمجھ لیا جائے، جیسا کہ خود "مسیح" کی تصریحات سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ صورت یقیناً ممکن العمل ہے۔ اگر انسانی جماعت کے مختلف گروہ اس کی مختلف ضروریات کو انجام دیتے رہیں، کوئی تجارت میں مشغول رہے، کوئی صنعت و حرفت کا کام کرے، کوئی زراعت کرتا رہے، کوئی سیاسی امور کی تنظیم میں لگا رہے، اور اس طرح تمدن کا کارخانہ برابر چلتا رہے، تو یہ ممکن ہے کہ سوسائٹی اپنے ایک قلیل حصے کو "ہوا کے پرندوں" اور "جنگلی سوسن کے درختوں" کی طرح بے عمل اور بے کار زندگی بسر کرنے کے لیے چھوڑ دے، اور اس کے چند افراد یعنی اخلاق کے اس منتہائے کمال تک پہنچنے کی کوشش میں مشغول ہو جائیں جو ترکِ اسباب، قطعِ علائق، تذلل و انفعال، اور نفس کشی و خود انکاری سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر ایک مخصوص گروہ کے لیے اس قانون کو محدود مان لینے، اور دوسری طرف اسی کو برحق اور واحد ذریعۂ نجات تسلیم کرنے کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نجات یا "آسمانی بادشاہت" پر راہبوں اور سنیاسیوں کی ایک مختصر جماعت کا اجارہ تسلیم کر لیں، اور یہ مان لیں کہ اس چھوٹی سی "بادشاہت" کے تنگ دائرے میں عالمِ انسانیت کے سوادِ اعظم کو جگہ نہیں مل سکتی۔ جو لوگ ہمہ تن قوم و ملک کی خدمت و سیاست کی تدبیر کرتے ہیں، قوم و ملک کی حفاظت میں جان لڑاتے ہیں، اور مختلف انسانی ضروریات کو مہیا کرنے کے لیے مختلف قسم کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں، ان کے لیے اس "بادشاہت" کے دروازے بند ہیں، کیوں کہ مسیحیت کا اصل الاصول یہ ہے کہ انسان بیک وقت دنیا اور دین دونوں میں پاؤں نہیں رکھ سکتا، اور "آسمانی بادشاہت" کا دروازہ اسی وقت کھل سکتا ہے جب کہ وہ دنیا کو چھوڑ کر مسیح کی بتائی ہوئی دینی زندگی اختیار کر لے۔ اس طرح صرف ایک مختصر سے گروہ کو "آسمانی باپ کی بادشاہت" میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے اور باقی اللہ کی ساری مخلوق اس سے محروم کر دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی وہاں بار نہیں مل سکتا جو دنیا میں نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ رہتے ہیں، قتل نہیں کرتے، زنا نہیں کرتے، چوری اور جھوٹ وغیرہ منہیات سے پرہیز کرتے ہیں، ماں باپ کی عزت کرتے ہیں، اپنے پڑوسی سے اپنے مانند محبت رکھتے ہیں، مگر اپنا سارا مال بیچ کر خیرات نہیں کر دیتے۔
اس نظریے کو صحیح مان لینے کے معنی یہ ہیں کہ ہم پھر پہلی صورت کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ”آسمانی بادشاہت“، یعنی نجات کی منزل تک پہنچنے کا ذریعہ صرف مسیحیت کا قانونِ اخلاق ہی ہے، اور جو کوئی اس پر عمل نہیں کرتا وہ اس منزل تک نہیں پہنچ سکتا، تو پھر لازمی طور پر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ نوعِ انسانی کے لیے ایک عالمگیر قانون نہیں ہے۔ کیوں کہ نجات ہر انسان کی منزلِ مقصود ہے اور کسی راستے کو اس تک پہنچنے کا واحد راستہ قرار دینا ہی معنی رکھتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لیے بنایا گیا ہے اور سب کو اس کی طرف دعوت دینا مطلوب ہے۔ لیکن یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس راستے پر تمام نوعِ انسانی کا جمع ہو جانا اور بالاتفاق گامزن ہونا عقلاً و عملاً ناممکن ہے۔ لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ مسیحیت کا بنایا ہوا قانون جس طرح دائمی اور عالمگیر نہیں ہے، اسی طرح برحق اور واحد ذریعۂ نجات بھی نہیں ہے۔ [اس اشکال کو خود مسیحیوں نے بھی محسوس کیا ہے اور اسی لیے یہ مسئلہ پیدا کیا گیا ہے کہ نجات کے لیے مسیحیت کے قانون پر پوری طرح عمل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ مسیح نے خود صلیب پر چڑھ کر تمام اہلِ ایمان کا کفارہ ادا کر دیا ہے اور مسیح ان تمام لوگوں کے نجات دہندہ ہیں جو ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر اس مسئلے کی کمزوری ظاہر ہے۔ اس کو تسلیم کر لینے کے بعد تو مسیحیت کے قانونِ اخلاق کی کوئی ضرورت باقی ہی نہیں رہتی۔ اگر یہ کفارے کا عقیدہ صحیح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی قتل کر کے، چوری اور زنا کر کے، ہمسائے کو ستا کر اور حرام کی کمائی کے ذخیرے جمع کر کے بھی ”آسمانی بادشاہت“ میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں وہ ساری اخلاقی تعلیم بھی غلط ہو جاتی ہے جو مسیح نے اپنے مواعظ میں دی ہے، بلکہ خود مسیح کا اپنا قول بھی غلط ہو جاتا ہے کہ ان اعمال کے ساتھ کوئی شخص آسمانی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اور اگر مسیح کی یہ بات سچی ہے تو یقیناً کفارے کا عقیدہ باطل ہے۔ بہرحال یہ دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں اور منطق کی رو سے کسی طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ صریح تناقض کے بغیر یہ دونوں ایک ہی مذہبی نظام کا جزو بنیں۔] دائمی اور واحد ذریعۂ نجات تو صرف وہی قانون ہو سکتا ہے جس پر حاکم حاکم رہتے ہوئے، تاجر تاجر رہتے ہوئے، کسان کسان رہتے ہوئے، اور ہر شخص اپنے اجتماعی و انفرادی فرائض ادا کرتے ہوئے عمل پیرا ہو سکتا ہو، اور جس کی تعمیل میں کسی انسان کے لیے ناقابلِ عبور مشکلات، ناقابلِ برداشت خطرات و مصائب، اور مالایطاق تکالیف نہ ہوں۔ جو قانون ایسا نہیں ہے وہ نہ حق کا سیدھا راستہ ہے، نہ نجات کا واحد ذریعہ ہے، نہ فطرت کا سچا قانون ہے۔
لیکن ہم اس نقطہ پر بھی نہیں ٹھیر سکتے۔ ہم کو ایک قدم اور آگے بڑھ کر کہنا چاہیے کہ مسیحیت کا قانونِ اخلاق اپنی موجودہ شکل میں فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ وہ دراصل اخلاقی فضیلت کے ایک غلط تصور کا نتیجہ ہے جس میں بے اعتدالی کے ساتھ بعض فضائل پر ضرورت سے زیادہ زور دیا گیا ہے اور بعض کو بلا ضرورت معطل کر کے انسانیت کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ اس نے انسانی اخلاق کی جن خوبیوں پر زور دیا ہے، ان کی فضیلت یقیناً مسلم ہے۔ فروتنی، عجز و انکسار، عفو و درگزر، حلم و بردباری، صبر و تحمل کی فضیلت سے کس کو انکار ہو سکتا ہے؟ مگر تنہا انہی صفات پر انسانی زندگی کی تعمیر کرنا صحیح نہیں ہے۔ اگر دنیا سے بدی و شرارت بالکل مٹ جائے، زمین پر انسانوں کی جگہ فرشتے بسنے لگیں اور شیطان اپنی ذات کو لے کر کسی اور کرے میں چلا جائے، تب تو یہ ممکن ہے کہ انسان اپنی جسمانی قوت و شدت کا استعمال کیے بغیر اپنے حقوق، اپنی عزت اور خود اپنے وجود کی حفاظت کر سکے۔ لیکن جب دنیا میں نیکی کے ساتھ بدی بھی موجود ہے اور انسانی فطرت سے وہ شیطانی ملکات مٹے نہیں گئے ہیں جو ملکوتی فضائل کو مغلوب کرنے کے لیے ہر وقت مستعد رہتے ہیں، تو ایسی صورت میں نیکی کو نہتا چھوڑ دینا اور اللہ ہی دی ہوئی قوتوں کو اس کی حفاظت کے لیے استعمال نہ کرنا صرف خودکشی ہی نہیں ہے بلکہ بدی و شرارت کی بالواسطہ امداد بھی ہے۔ حقیقتاً کوئی نیکی، نیکی ہی نہیں ہے اگر ظالموں کو عمداً ظلم کا موقع دیا جائے اور مفسدوں کو جان بوجھ کر فساد پھیلانے کی آزادی دے دی جائے۔ اس کو ہم کمزوری کہہ سکتے ہیں، بزدلی و کم حوصلگی سے موسوم کر سکتے ہیں، مگر خیر و صلاح اور نیکی و احسان سے تعبیر نہیں کر سکتے۔ نیکی دراصل اصلاح کا دوسرا نام ہے اور وہ محبت و غضب دونوں کے معتدل امتزاج سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر بدی کی اصلاح عفو و درگزر، صبر و تحمل اور لطف و رحم سے ہو سکے تو اسی سے کرنی چاہیے، اور اگر یہ محبت کی قوتیں اس میں کامیاب نہ ہو سکیں تو پھر سیاست و تعزیر اور قصاص و انتقام کی قوتوں سے کام لینا ضروری ہے، کیوں کہ اصل مقصود اصلاح ہے، اور انسان کا فرض ہے کہ ضرورت کی حد تک ہر اس طریقے کو استعمال کرے جو اس مقصد کے حصول کے لیے مفید اور ناگزیر ہو۔ اس میں طریقوں کا امتیاز کرنا اور ایک ہی طریقے پر اس حد تک اصرار کرنا کہ وہ اصلاح کے بجائے مزید فساد کا موجب ہو جائے، نہ تو عقلمندی ہے اور نہ نیکی۔
مسیحیت کا یہ نظریہ کہ دین کا اصل الاصول "محبت" ہے اور اس کے سوا انسان کے تمام جذبات اور اخلاقی خصائص باطل ہیں، جن کو مٹا دینے ہی سے دینداری کو نشو و نما حاصل ہو سکتا ہے، دراصل ایک غلط تخیل پر قائم ہے۔ اس نظریہ کے موجدوں کی نظر اس حقیقت تک نہیں پہنچ سکی کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی چیز عبث نہیں پیدا کی ہے۔ انھوں نے سمجھ لیا کہ انسان کے اندر غضب، شہوت اور حبِ نفس وغیرہ جذبات خواہ مخواہ بلا ضرورت پیدا ہو گئے ہیں اور انسانی زندگی میں شجاعت و خودداری، جرات و شہامت، تدبر و سیاست، عدل و انصاف وغیرہ کا کوئی مصرف نہیں ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ انسان کے اندر جتنے ملکات و قویٰ اور عواطف و جذبات ودیعت کیے گئے ہیں، سب کے سب اپنا ایک مصرف اور مدعا رکھتے ہیں۔ جس طرح انسان کا کوئی عضو، حتیٰ کہ کوئی رونگٹا بھی بیکار نہیں ہے، اسی طرح انسان کی کوئی ذہنی و جسمانی قوت، اس کا کوئی ظاہری و باطنی ملکہ، اور کوئی نفسانی جذبہ و داعیہ بھی بیکار نہیں ہے۔ فاطرِ کائنات نے اس کو بغیر کسی مصلحت کے نہیں بنایا ہے۔ اگر یہ قوتیں غلط صورتوں میں ظاہر ہوں اور غلط راستے اختیار کر لیں تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ وہ فی نفسہٖ غلط اور مذموم ہیں، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسان نے ان کا صحیح مصرف نہیں سمجھا اور اس کے شعور نے اتنی ترقی نہیں کی کہ وہ ان کے صحیح استعمال کی طرف اس کی رہنمائی کرے۔ مثال کے طور پر شہوت ایک جذبہ ہے جس کی بدولت انسان نے اتنے گناہ کیے ہیں کہ شاید کسی اور جذبہ کے اثر سے نہ کیے ہوں گے، مگر اس کی بنا پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو بالکل مٹا دینا چاہیے، کیونکہ اسی پر بقائے نوع کی بنیاد قائم ہے۔ حرص ایک جذبہ ہے جو انسان کو بندۂ غرض بنا کر بدترین گناہوں پر آمادہ کرتا ہے، مگر اس کو بالکل فنا کر دینے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ یہی چیز عمل کی اصلی محرک ہے۔ غضب ایک جذبہ ہے جس نے دنیا میں بے شمار جھگڑے اور ظلم و ستم کرائے ہیں، مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ وہ سراسر بدی ہی بدی ہے اور اس میں کوئی فائدہ مخصوص نہیں ہے، کیوں کہ یہی چیز دنیا میں امن و امان کی ضامن ہے، ورنہ بدی و شرارت کی قوتیں اس کو تباہ کر ڈالیں۔ بالکل یہی حال ان جذبات و ملکات کا ہے جو لطیف اور افضل سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں بھی جہاں بہت سی خوبیاں ہیں وہاں بہت سی خرابیاں بھی ہیں۔ شجاعت اگر حد سے بڑھ جائے تو تہور اور حماقت کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔ دور اندیشی اگر افراط کا پہلو اختیار کر لے تو بزدلی و نامردی بن جاتی ہے۔ رحم اگر اپنی قدرتی حدود میں نہ رہے تو جرائم و معاصی کا مددگار بن جاتا ہے۔ فیاضی اگر حد سے گزر جائے تو اسراف و تبذیر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کفایت شعاری اگر زیادہ ہو جائے تو بخل اور کنجوسی سے بدل جاتی ہے۔ محبت اگر اپنی حدود میں نہ رہے تو انسان کی عقل کو اندھا کر دیتی ہے۔ مروت اگر بے موقع استعمال کی جائے تو بدکاریوں میں جسارت و بے باکی پیدا کر دیتی ہے۔ حلم و بردباری اگر بے محل ہو تو گستاخی اور ظلم کی محرک بن جاتی ہے۔ فروتنی و انکساری اگر بے محل ہو تو خودداری و عزتِ نفس خاک میں مل جاتی ہے۔ غرض یہ کہ نفسِ انسانی کو جتنی قوتیں عطا کی گئی ہیں، سب اپنے اچھے اور برے دونوں پہلو رکھتی ہیں، اور ان کے ایک ہی پہلو کو دیکھ کر نہ تو ان کی اچھائی یا برائی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی کے ترک اور کسی کے اختیار کا فتویٰ دیا جا سکتا ہے۔ جس طرح ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انسان کے لیے صرف ہاتھ پاؤں اور قلب و دماغ ہی مفید ہیں، آنکھ، ناک، معدہ و جگر وغیرہ کی ضرورت نہیں، محض قوتِ سامعہ اور لامسہ ہی کافی ہے، باصرہ اور شامہ کی ضرورت نہیں، محض شعور و ادراک کفایت کرتا ہے، حافظہ، تمیز اور دوسرے قویٰ کی ضرورت نہیں، بالکل اسی طرح ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ انسان میں صرف محبت و رحم، عفو و درگزر، عجز و فروتنی ہی کی ضرورت ہے، نفرت و غضب، شجاعت، خودداری و عزتِ نفس، غیرت و حمیت وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر معدہ کی کمی جگر پورا نہیں کر سکتا، اگر دل کی جگہ دماغ کام نہیں دے سکتا، تو یقیناً غضب و انتقام کی جگہ محبت و رحم اور سیاست و تعزیر کی جگہ عفو و درگزر بھی مفید نہیں ہے۔ جس طرح بدن کی صحت کا انحصار تمام جسمانی قوتوں کے اعتدال پر ہے، اور جس طرح صحتِ عقل اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب تمام قوائے ذہنی تناسب کے ساتھ اپنا اپنا کام کرتے رہیں، ٹھیک اسی طرح کمالِ اخلاق بھی اسی وقت متحقق ہوتا ہے جب جذبات و خواہشات میں اعتدال ہو، نفس کی تمام قوتیں اپنے اپنے موقع و محل پر توازن کے ساتھ استعمال کی جائیں، اور قدرت کے دیے ہوئے تمام ملکات کو اپنی اپنی حدود میں کام کرنے کا پوری طرح موقع دیا جائے۔ ایک فطری مذہب کا کام اسی اعتدال کی طرف رہنمائی کرنا ہے، نہ کہ ایک بے اعتدالی کے جواب میں دوسری بے اعتدالی اور افراط کے مقابلے میں تفریط پیدا کر دینا۔
مسیحیت اس حقیقتِ کبریٰ کے فہم سے قاصر رہی ہے۔ اسی لیے اس نے انسان کو ترکِ دنیا اور رہبانیت کی تعلیم دی اور فیصلہ کر دیا کہ انسان محض تذلل و انفعال ہی کو اپنی زندگی کا دستورالعمل بنا لے۔ مگر یہ نہ تو کمالِ اخلاق کا کوئی درجہ ہے اور نہ انسانیت کی کوئی خدمت، بلکہ سچ یہ ہے کہ یہ انسانیت پر ایک ظلمِ عظیم ہے۔ اس طریقِ زندگی کو اختیار کرنے والے ایک طرف اپنی ذات کو ان جائز لذتوں اور آسائشوں سے محروم کر دیتے ہیں جو اللہ نے ان کے لیے پیدا کی ہیں، اور دوسری طرف اپنے وجود کو بیکار و معطل کر کے انسانی جماعت کو اپنی خدمات سے محروم کر دیتے ہیں۔ مسیحیت نے دنیوی بادشاہت کو آسمانی بادشاہت سے الگ کر دیا ہے، خدا اور دولت دو متضاد قوتیں قرار دی ہیں، اور سچے دینداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ دولت کو چھوڑ کر خدا کے ہو جائیں اور دنیوی بادشاہت سے دست کش ہو کر صرف آسمانی بادشاہت کے ہو رہیں۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ نیک نہاد، شریف الطبع، دین دار، خدا ترس، ایمان دار اور سچے لوگ تو دنیا کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں اور دنیا کا تمام کاروبار سوسائٹی کے ان بدترین طبقوں کے ہاتھ میں چلا جائے جو خدا ترسی و ایمان داری کے جوہر سے خالی ہوں۔ حکومت پر جابروں اور ظالموں کا قبضہ ہو، تجارت طماع اور بددیانت لوگوں کے حصے میں آئے، صنعت و حرفت پر دھوکے باز اور جعل ساز قابض ہو جائیں، اور شر و فساد کی قوتیں سوسائٹی کے ہمارے نظام کو خراب کر کے رکھ دیں۔ جب وہ نیکوکار لوگ، جو سوسائٹی کو صحیح راستے پر چلا سکتے ہیں، ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جائیں گے تو یقیناً بدکار لوگ برسرِکار آئیں گے، اور ان کی بدکاریوں کی کم از کم آدھی ذمہ داری ان نیکوکاروں پر بھی عائد ہو گی جنہوں نے ذمہ داریوں سے جی چرا کر میدانِ عمل کو بدمعاشوں کے لیے خالی چھوڑ دیا۔