الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
حیاتِ اجتماعی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا درجہ
پھر یہی وہ چیز ہے جس پر اجتماعی فلاح و بہبود کا دارو مدار ہے، جو ایک قوم اور ایک جماعت کو ہلاکت میں مبتلا ہونے سے بچاتی ہے، جس کے بغیر انسانیت کی حفاظت نہیں کی جا سکتی۔ جب تک ایک قوم میں یہ اسپرٹ موجود رہتی ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے کا اہتمام کریں، یا کم از کم اس قوم میں ایک جماعت ایسی موجود رہے جو اس فرض کو مستعدی کے ساتھ انجام دیتی رہے تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں ہو سکتی۔ لیکن اگر یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اسپرٹ اس میں سے نکل جائے اور اس میں کوئی جماعت بھی ایسی نہ رہے جو اس فرض کو انجام دینے والی ہو تو رفتہ رفتہ بدی کا شیطان اس پر مسلط ہو جاتا ہے اور آخر وہ اخلاقی و روحانی اور مادی تباہی کے گڑھے میں ایسی گرتی ہے کہ اُبھر نہیں سکتی۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:
<<فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُولُو بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ ﴿١١٦﴾ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ ﴿١١٧﴾>> (ہود: ۱۱۶-۱۱۷)
”پس کیوں نہ تم سے پہلے کی قوموں میں (جن پر عذاب نازل ہوا) ایسے نیکو کار لوگ اٹھے جو انھیں زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے؟ ایسے لوگ بہت تھوڑے تھے جنھیں ہم نے ان سے بچا لیا، ورنہ سارے ہی ظالم لوگ ان لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انھیں عطا کیے گئے تھے اور وہ بڑے خطا کار تھے۔ سو تیرا رب ظالم نہیں ہے کہ بستیوں کو یوں ہی ہلاک کر دے حالانکہ ان کے باشندے نیکو کار ہوں“۔
ایک دوسری جگہ بنی اسرائیل کے مبتلائے لعنت ہونے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ:
<<لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ بَنِي إِسْرَآءِيْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ >> (المائدہ: ۷۸-۷۹)
”بنی اسرائیل میں سے کفر کرنے والے لوگوں پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی تھی کیوں کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے بڑھ جاتے تھے، وہ ایک دوسرے کو ان بری باتوں سے نہ روکتے تھے جو وہ کیا کرتے تھے اور یہ بہت بری بات تھی جو وہ کرتے تھے“۔
اس آیت کی تفسیر میں امام احمد، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے جو احادیث نقل کی ہیں ان سب میں تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یہ بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں پہلا نقص جو پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ ان کے دلوں سے برائی کی نفرت دور ہوگئی تھی، اور وہ چھوٹی رواداری پیدا ہو گئی تھی جو برائی کو برداشت کرتے کرتے خود برائی میں مبتلا ہو جانے پر انسان کو آمادہ کر دیتی ہے۔ <<كان الرجل يلقى الرجل فيقول يا هذا اتق الله و دع ما تصنع فانه لا يحل لك ثم يلقاه من الغد فلا يمنعه ذالك ان يكون اكيله وشريبه وقعيده>> یعنی جب ان میں کا ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا کہ اے شخص اللہ سے ڈر اور یہ فعل چھوڑ دے جو تو کرتا ہے کیوں کہ یہ تیرے لیے جائز نہیں ہے۔ مگر دوسرے دن جب اس سے ملتا تو اسی کا ہم پیالہ و ہم نوالہ اور ہم نشین بننے سے کوئی چیز اسے باز نہ رکھتی۔ آخر ان پر ایک دوسرے کی برائی کا اثر پڑ گیا اور ان کے ضمیر مردہ ہو گئے، <<ضرب الله قلوب بعضهم ببعض>> جس وقت حضور یہ فرما رہے تھے تو دفعۃً لیٹے لیٹے اٹھ بیٹھے اور جوش میں آ کر فرمایا:
<<والذى نفسى بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتأخذن على يد المسيء ولتطرنه على الحق اطرا او ليضربن الله قلوب بعضكم على بعض اوليلعنكم كما لعنهم>>
”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تمھیں لازم ہے کہ نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو اور بدکار کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے حق کی طرف موڑ دو، ورنہ اللہ تمھارے دلوں پر بھی ایک دوسرے کا اثر ڈال دے گا، یا تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح ان لوگوں پر کی تھی۔“
اسی مثال پر تمام دنیا کو بھی قیاس کر لینا چاہیے۔ جس طرح ایک قوم کی فلاح و بہبود اور نجات کا انحصار امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی عملی روح پر ہے، اسی طرح تمام عالم انسانی کی نجات و فلاح بھی اسی چیز پر منحصر ہے۔ دنیا میں کم از کم ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہیے جو بدکاروں کا ہاتھ پکڑنے والا، بدی کو روکنے والا، اور نیکو کاری کا حکم دینے والا ہو، اللہ کی طرف سے اس کی زمین پر گواہ ہو، لوگوں کی دیکھ بھال کرتا رہے، شرارت کے عناصر کو قابو میں رکھے، انصاف قائم کرے اور بدی کو کبھی سر نکالنے کا موقع نہ دے۔ اللہ کی مخلوق کو عام تباہی سے بچانے اور اس کی زمین کو شر و فساد اور ظلم و زیادتی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسے گروہ کا وجود نہایت ضروری ہے:
<<وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ>> (آل عمران: ۱۰۴)
”اور تم میں ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور بدی سے روکے۔“
پس امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی حقیقت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ فی نفسہٖ ایک اچھی چیز ہے اور ہمدردی بنی نوع کا ایک پاکیزہ جذبہ ہے، بلکہ درحقیقت وہ نظام تمدن کو فساد سے محفوظ رکھنے کی ایک بہترین اور ناگزیر تدبیر ہے اور ایک خدمت ہے جو دنیا میں امن قائم کرنے، دنیا کو شریف انسانوں کی بستی کے قابل بنانے اور دنیا والوں کو حیوانیت کے درجہ سے انسانیت کاملہ کے درجہ تک پہنچانے کے لیے اللہ نے ایک بین الاقوامی گروہ کے سپرد کی ہے، اور یقیناً انسانیت کی اس سے بڑی خدمت اور کوئی نہیں ہوسکتی۔