مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

غنیمت کا مسئلہ

اسلام میں مالِ غنیمت کا جواز بھی ان مسائل میں سے ہے جن پر مخالفین نے بہت کچھ حاشیہ آرائیاں کی ہیں اور جن کی خود موافقین نے بھی اکثر غلط وکالت کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ غنیمت کے معاملہ میں بھی اسلام نے وہی تدریجی اصلاح کا طریقہ اختیار کیا ہے جو غلامی کے مسئلہ میں اختیار کیا تھا۔ عرب میں غنیمت کا شوق جس قدر بڑھا ہوا تھا اس کا حال اوپر بیان ہو چکا ہے۔ مالِ غنیمت کا حصول وہ سب سے بڑا لالچ تھا جس کے لیے ایک عرب جنگ کے خطرات برداشت کرنے اور مرنے مارنے پر آمادہ ہوا کرتا تھا۔ عرب کی جنگ کے عین مفہوم میں لوٹ مار داخل تھی، حتیٰ کہ لفظ ”حرب“ کے مدلول کا تصور ہی اس وقت تک دماغوں میں مکمل نہ ہو سکتا تھا جب تک اس میں لوٹ مار کا مفہوم شامل نہ ہو۔ جب اسلام آیا تو عرب اسی موروثی رغبت و شوق کو لیے ہوئے اس میں داخل ہوئے۔ ناممکن تھا کہ اس صدیوں کی متوارث ذہنیت کو دفعۃً بدل دیا جاتا۔ جن نومسلم عربوں کی اصلاح کرنی تھی ان کا حال یہ تھا کہ بلا ارادہ جبلی طور پر غنیمت کی طرف کھنچتے تھے اور میدانِ جنگ میں اموالِ غنیمت کو دیکھ کر ضبط نہ کر سکتے تھے۔ جنگ بدر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن جحش کو ایک جماعت کے ساتھ بطنِ نخلہ کی طرف بھیجا کہ دشمن کی اطلاعات فراہم کریں۔ راستہ میں قریش کے چند تاجروں سے ان کی مڈبھیڑ ہوئی، مالِ غنیمت دیکھ کر ان کے آدمی قابو سے باہر ہو گئے اور ان لوگوں کو قتل کر کے سامان لوٹ لائے۔ مؤرخین نے اس واقعہ کو جنگ بدر کے فوری اسباب میں شمار کیا ہے [ طبری، طبع مصر، ج ۲، ص ۲۶۷۔ ابن اثیر، طبع مصر، ج ۲، ص ۴۲-۴۳] خود جنگ بدر میں ایک طرف قریش کا تجارتی قافلہ شام کی جانب سے آ رہا تھا اور دوسری طرف قریش کی فوجیں مکہ سے آ رہی تھیں۔ باوجودیکہ اس وقت غنیم کا زور توڑنا سب سے زیادہ ضروری تھا مگر لشکرِ اسلام کی عام خواہش یہی تھی کہ قافلہ پر حملہ کر کے اسے لوٹ لیا جائے۔ اسی کے متعلق قرآن مجید میں آیا ہے:

<<وَ إِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ يَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۙ (الانفال: ٧)>>

’’اور جب کہ اللہ وعدہ کر رہا تھا کہ دو جماعتوں میں سے ایک پر تم کو غلبہ ہوگا، اور تم چاہتے تھے کہ کمزور اور غیر مسلح جماعت تمھارے ہاتھ آ جائے ، حالانکہ اللہ چاہتا تھا کہ اپنے کلمات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔‘‘

پھر جب لڑائی میں فتح ہوئی تو صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت کے لیے شوقِ غنیمت کو ضبط کرنا مشکل ہو گیا اور حکمِ الٰہی کا انتظار کیے بغیر غنائم کے لوٹنے میں مشغول ہو گئے۔ اسی کے متعلق یہ آیت اُتری: [طبری ج ۲، ص ۲۷ - کتاب الخراج، ص ۱۲۲ - ترمذی، کتاب التفسیر]

<<لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ۝ (الانفال: ٦٨)>>

’’اگر پہلے سے خدا کا نوشتہ نہ آ چکا ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔‘‘

جنگ اُحد میں اسی شوقِ غنیمت نے فتح کو شکست سے بدل دیا۔ قریش کے پاؤں اکھڑتے ہی صحابہؓ اموالِ غنیمت کی طرف متوجہ ہو گئے، اور اُن تیر اندازوں کو بھی عالمِ بے خودی میں سرکارِ رسالت مآبؐ کا حکم یاد نہ رہا جنھیں آپؐ نے عقب کی حفاظت پر متعین فرمایا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی فوج پراگندہ ہو گئی اور لشکرِ کفار نے پلٹ کر ایسا حملہ کیا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے۔ حنین میں بھی یہی ہوا کہ پہلے حملہ سے دشمنوں میں ابتری پھیلی تو معاً جدید الاسلام اعراب غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور ان میں برہمی دیکھ کر بنی ہوازن کے تیر اندازوں نے ایسا حملہ کیا کہ بڑے بڑے جاں نثاروں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ بخاری میں براءؓ بن عازب کی روایت ہے کہ انا لما حملنا عليهم انكشفوا فاكببنا على الغنائم فاستقبلنا بالسهام [ بخاری، کتاب المغازی، باب قول اللہ تعالیٰ : وَ يَوْمَ حُنَيْنٍ الخ]۔

معاذ اللہ، یہ واقعات بیان کرنے سے صحابہ کرامؓ کی تنقیص مقصود نہیں ہے بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ غنیمت کا شوق ایک فطری جذبہ تھا جو صدیوں کی روایات سے طبیعتوں میں اس قدر راسخ ہو گیا تھا کہ کسی انسانی جماعت حتیٰ کہ صحابہ کرامؓ جیسی مقدس اور متاع دنیا کو حقیر جاننے والی جماعت کے لیے بھی اس کے اثرات کو دفعۃً دل و دماغ سے محو کر دینا غیر ممکن تھا۔ جب حال یہ تھا تو ایک حکیمانہ مذہب جو فطرت سے جنگ نہیں بلکہ اس کی اصلاح کرنا چاہتا تھا، اس سے بہتر طریقہ اور کیا اختیار کر سکتا تھا کہ نفس غنیمت کو حلال کر دیتا اور بالواسطہ طریقوں سے اس کے شوق کو گھٹانے اور اس کے حدود کو کم کرنے کی کوشش کرتا؟ یہی راستہ تھا جو اسلام نے اختیار کیا۔ اس نے جس وجہ سے غنیمت کو حلال کیا ہے اس کا حال ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے جس کو امام ابو یوسفؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ کے حوالہ سے نقل کیا ہے:

<< قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم تحل الغنائم لقوم سود الرؤس قبلکم کانت تنزل نار من السماء فتاکلھا فلما کان یوم بدر اسرع الناس فی الغنائم فانزل اللہ عزوجل: لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَا اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۝ فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلاً طَیِّبًا >>

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے کسی کالے سر والی قوم کے لیے غنیمت حلال نہیں کی گئی۔ ایک آگ آسمان سے اترتی اور مالِ غنیمت کو کھا جایا کرتی تھی [ یہ اشارہ ہے ایک واقعہ کی طرف جس کو حضرت ابو ہریرہؓ ہی نے ایک دوسری حدیث میں بیان کیا ہے، دیکھو بخاری، کتاب الجہاد، باب قال النبی : احلت لکم الغنائم۔] جب جنگ بدر واقع ہوئی تو لوگ غنیمت پر ٹوٹ پڑے۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے ہی سے نہ آ چکا ہوتا تو تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا، خیر اب جو کچھ تم نے لوٹا ہے اسے کھاؤ کہ وہ تمھارے لیے حلال و پاک ہے۔“

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غنیمت پہلے حلال نہ تھی مگر انسانی فطرت کے ناقابلِ تغیر رجحان کو دیکھ کر اسے حلال کر دیا گیا۔ تاہم محض فطرت کی رعایت ہی کر کے سپر نہیں ڈال دی گئی بلکہ اس رجحان کی اصلاح اور اس کی حد بندی کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے جنھوں نے رفتہ رفتہ دلوں سے شوقِ غنیمت ہی کو دور کر دیا، اور جو تھوڑا بہت باقی رہ گیا اس کی اصلاح اس طرح کی گئی کہ اموالِ غنیمت پر متعدد اقسام کی پابندیاں عائد کر دی گئیں اور خود اموالِ غنیمت کے دائرہ کو بہت محدود کر دیا گیا۔

اس سلسلہ میں خصوصیت کے ساتھ تین طریقے ایسے ہیں جن کا ذکر ضروری ہے:

۱۔ اسلام نے غنیمت کی معنوی قیمت اس قدر گرا دی کہ دین داروں میں حصولِ غنائم کا شوق ہی باقی نہ رہا۔ پہلے کہا کہ جو شخص غنیمت حاصل کرنے کی نیت سے جنگ کرے گا اس کو جہاد کا ثواب نہیں ملے گا، ثواب صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو دل کو دنیوی اغراض سے پاک رکھ کر خاص خدا کے لیے جنگ کریں۔ پھر جب دلوں میں غنیمت سے زیادہ حصولِ ثواب کی قدر پیدا ہو گئی تو بتایا کہ جو شخص دنیا میں اپنی جنگ کا فائدہ حاصل کر لے گا اس کے لیے آخرت کا ثواب کم ہو جائے گا اور جو دنیا میں فائدہ نہ اٹھائے گا اس کو آخرت میں پورا ثواب ملے گا:

<<ما من غازية تغزو فى سبيل الله فيصيبون الغنيمة الا تعجلوا ثلثى بعدهم من الأخرة ويبقى لهم الثلث، وان لم يصيبوا غنيمة تَمَّ لهم اجرهم>> [ مسلم، کتاب الجہاد۔ نسائی، باب السرية المتى تخفق]۔

’’جس فوج نے اللہ کی راہ میں جنگ کی اور مالِ غنیمت پا لیا اس نے اپنے آخرت کے ثواب میں سے دو تہائی حصہ یہیں پا لیا اور اس کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ گیا، اور جس نے غنیمت نہ پائی تو اس کو پورا اجر ملے گا۔‘‘

اس تعلیم نے مسلمانوں میں مال غنیمت کی آرزو سے بڑھ کر ثواب آخرت کی تمنا پیدا کر دی اور وہی عرب جو کبھی غنائم کے انبار دیکھ کر بے قابو ہو جاتے تھے، چند ہی برس کے اندر متاعِ دنیا سے اس قدر بے نیاز ہو گئے کہ مالِ غنیمت ان کے سامنے پیش کیا جاتا تھا اور وہ انکار کر دیتے تھے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری زمانہ میں جب غزوۂ تبوک کے لیے نفیر عام دی گئی تو واثلہؓ بن اسقع نے لوگوں سے کہا کہ جو شخص مجھ کو اپنے ساتھ جنگ میں لے چلے گا اسے غنیمت میں سے آدھا حصہ دوں گا۔ انصارؓ میں سے ایک صحابی نے یہ شرط قبول کر لی اور ان کو اپنے ساتھ لے گئے۔ غزوہ میں لشکر اسلام کو جو کچھ مال ملا اس میں سے واثلہ کے حصہ میں چند نہایت عمدہ جوان اونٹ (قلائص) آئے جنھیں لے کر وہ ان انصاری شیخ کے پاس پہنچے اور کہا کہ یہ وہی مالِ غنیمت ہے جس کا حصہ دینے کی میں نے آپ سے شرط کی تھی۔ مگر انھوں نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ میرا مقصد غنیمت حاصل کرنا نہ تھا محض ثواب مطلوب تھا [ ابوداود، باب الرجل یکری دابته علی النصف او السهم۔]

ایک دفعہ ایک بدوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوا۔ دورانِ جنگ میں کچھ مالِ غنیمت آپؐ کے پاس آیا اور آپؐ نے دوسرے مجاہدین کی طرح اس بدوی کا حصہ بھی لگایا۔ اس کی اطلاع جب اس کو ہوئی تو اس نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ ”میں نے اس مال کے لیے آپؐ کی پیروی اختیار نہیں کی ہے، میں تو چاہتا ہوں کہ (حلق کی طرف اشارہ کر کے) اس جگہ تیر کھاؤں اور شہید ہو جاؤں“ [ نسائی، کتاب الجنائز، باب الصلوٰة علی الشهداء]

۲۔ مالِ غنیمت میں محتاجوں ، معذوروں اور مسکینوں کی پرورش اور عام قومی ضروریات کے لیے پانچواں حصہ مقرر کیا گیا:

<<وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ>> (الانفال: ۴۱)

”جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم کو حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسولؐ اور اہل قرابت اور یتامیٰ ومساکین اور مسافروں کا حصہ ہے۔“

اس طریقہ سے اموالِ غنیمت کا ایک معتد بہ حصہ نیک کاموں کے لیے الگ کر لیا گیا اور افرادِ فوج کے حصہ میں بہت کچھ کمی کر دی گئی۔

۳۔ مالِ غنیمت کا اطلاق پہلے ہر اس مال پر ہوتا تھا جو ایک فوج دشمن کے ملک سے لوٹ لے، خواہ کسی طرح لوٹے۔ لیکن اسلام نے غنیمت صرف اس مال کو قرار دیا جو میدانِ جنگ میں دشمن کی افواج سے فاتح فوج کے ہاتھ آئے۔ اس سے ایک طرف عام سلب و نہب جو پُر امن غیر فوجی آبادیوں میں کیا جائے غنیمت کی جائز حدود سے خارج ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ مال بھی غنیمت کی تعریف سے نکل جاتا ہے جو جنگ کے بغیر صلح یا امان کے ذریعہ سے مسلمانوں کے ہاتھ آئے، یا جس پر میدانِ جنگ کا معاملہ ختم ہونے کے بعد اسلامی فوج کا قبضہ ہو۔ نیز اس تعریف کی رو سے وہ تمام املاک بھی غنیمت کی تعریف سے خارج ہو جاتی ہیں جو جنگی کارروائی کے نتیجہ میں دشمن حکومت کی ملک سے نکل کر اسلامی حکومت کے قبضہ میں آئیں۔ اسلام نے اس دوسری قسم کے مال کو فوج میں تقسیم کرنے کے بجائے حکومتِ اسلامیہ کی ملک قرار دیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:

<< وَمَا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَآ أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ ط وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ مَا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ أَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ لا كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ط >> (الحشر: ۶-۷)

”جو فے کا مال اللہ نے اپنے رسولؐ کو عطا کیا ہے اس پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط بخشتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ سو ایسا مال جو اللہ اپنے رسولؐ کو فے کے طور پر عطا فرمائے وہ اللہ اور اس کے رسولؐ اور اہل قرابت اور یتامیٰ، مساکین اور مسافروں کا حق ہے تاکہ وہ تمھارے مالداروں ہی کے درمیان نہ گردش کرتا پھرے۔“

اس آیت نے یہ تصریح کر دی ہے کہ صرف وہ اموالِ مفتوحہ غنیمت کے تحت آتے ہیں جن کو اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑا کر (یعنی میدانِ جنگ میں لڑ کر) فوج نے حاصل کیا ہو۔ باقی رہے وہ اموال و املاک اور اراضی جو ’’ایجافِ خیل و رکاب‘‘ کا بلاواسطہ نتیجہ نہ ہوں تو وہ حکومت اسلامیہ کی ملک ہیں ، اور خدا اور رسولؐ کے کاموں پر خرچ ہونے کے لیے ہیں۔

یہ حکم ابتداءً صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لیے مخصوص سمجھا گیا تھا مگر جب صحابۂ کرامؓ نے غور کیا تو نظر آیا کہ ’’فے‘‘ کے حق داروں میں چھ نام گنائے گئے ہیں، اللہ ، رسولؐ ، ذو القربیٰ ، یتامیٰ ، مساکین اور ابنِ سبیل ۔ ان میں سے صرف ایک ’’رسولؐ‘‘ دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ۔ باقی اللہ حی و لا یموت ہے اور ذی القربیٰ ، یتامیٰ ، مساکین اور ابن سبیل تا قیامِ قیامت موجود ہیں ۔ پس تنہا رسولؐ کے رخصت ہو جانے سے یہ پانچ حق دار کیوں کر بے حق ہو سکتے ہیں ۔ پھر خود رسولؐ کا استحقاق بھی تنہا ان کی ذات کے لیے نہ تھا بلکہ اس کام کے لیے تھا جو وہ اپنی زندگی میں کرتے تھے اور وہ کام بدستور جاری ہے ۔ اس لیے ’’فے‘‘ میں سے رسولؐ کا حق بھی فوت نہیں ہوا۔ علاوہ بریں ’’فے‘‘ کو ان چھ حق داروں کا حق قرار دینے کی جو مصلحت بیان کی گئی تھی وہ یہ تھی کہ یہ مال تنہا مالداروں ہی میں گشت نہ کرتا پھرے بلکہ قوم کے تمام طبقے اس سے مستفید ہوں ، <<كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ>> ۔ یہ مصلحت جس طرح رسولؐ کی زندگی میں تھی اسی طرح اب بھی باقی ہے اور جب تک دنیا آباد ہے باقی رہے گی ۔ اس بنا پر یہ قانون قرار دیا گیا کہ ’’فے‘‘ کا مال خدا اور رسولؐ کے کاموں اور امت کے عام طبقوں کی خدمت کے لیے محفوظ رکھا جائے [ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد تھا۔ جس وقت فوج نے سوادِ عراق کی تقسیم کا مطالبہ کیا تھا تو آپ نے اس کی تردید میں یہی آیت دلیل کے طور پر پیش کی تھی اور کہا تھا : <<هذه عامة فى القرى كلها>> ، كتاب الخراج ص ۱۵ ]

اسی قانون کے مطابق حضرت عمرؓ نے ممالک مفتوحہ کو فوج پر تقسیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور فوجوں کو صرف اس مال پر قناعت کرنی پڑی تھی جو لڑائیوں کے دوران میں غنیمت کے طور پر دشمن کی افواج سے حاصل ہوا تھا۔ اس بارے میں حضرت عمرؓ کا وہ خط جو انھوں نے سعدؓ بن ابی وقاص کو لکھا تھا اسلامی قانون کو بالکل واضح کر دیتا ہے۔ بلاذری نے اس خط کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے :

”تمھارا خط پہنچا۔ تم بیان کرتے ہو کہ لوگ تم سے کہہ رہے ہیں کہ جو کچھ ملک و مال، اللہ تعالیٰ نے ان کو غنیمت میں عطا کیا ہے اس کو تقسیم کر دیا جائے۔ سو تم میرا خط ملنے کے بعد ایسا کرو کہ فوج نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑا کر جو مال، اسباب اور جانور لوٹے ہیں ان کو خمس وضع کرنے کے بعد اہل فوج میں تقسیم کر دو۔ باقی اراضی اور انہار کو کاشتکاروں کے پاس رہنے دو تاکہ مسلمانوں کی تنخواہوں کے کام آئیں، ورنہ اگر ان کو موجودہ زمانہ کے لوگوں میں تقسیم کر دو گے تو بعد میں آنے والوں کے لیے کچھ نہ بچے گا“ [فتوح البلدان، ص ۲۷۴۔ امام ابو یوسفؒ نے کتاب الخراج (صفحہ ۱۳-۱۴) میں بھی تھوڑے لفظی تغیر کے ساتھ اسے نقل کیا ہے]

حضرت ابو عبیدہؓ نے جب شام فتح کیا تو اس وقت بھی فوج نے تمام ملک کو غنیمت قرار دے کر یہ مطالبہ کیا تھا کہ اسے تقسیم کر دیا جائے۔ اس کی اطلاع انھوں نے حضرت عمرؓ کو دی اور حکم دریافت کیا۔ جواب میں آپ نے ایک طویل خط لکھا جس میں آیت مذکورہ سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

<<فاقر ما افاء الله عليك فى ايدى اهله واجعل الجزية عليهم بقدر طاقتهم>> [ کتاب الخراج ص ۸۲]

”پس تم ان املاک کو جو اللہ نے تم کو ’’فے‘‘ میں عطا کی ہیں، اہل ملک کے ہاتھ میں رہنے دو اور ان پر ان کی طاقت کے مطابق ٹیکس لگا دو۔“

اس طرح ایک طرف تو اسلام نے غنیمت کے شوق کو کم کیا جو لوٹ مار اور غارت گری کا اصلی محرک تھا، دوسری طرف ایسے قوانین مقرر کیے جن سے غنیمت کا دائرہ گھٹ کر صرف ان اموال تک محدود رہ گیا جو جنگی اعمال کے سلسلہ میں غنیم کی شکست خوردہ افواج سے حاصل ہوتے ہیں۔ اور تیسری طرف اس مال غنیمت میں سے بھی پانچواں حصہ نیک کاموں کے لیے لے لیا [ اس موقع پر یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ اسلام اس بات کو جائز نہیں رکھتا کہ جنگ میں جو کچھ جس سپاہی کے ہاتھ لگے وہ اسے لے لے۔ یہ غنیمت نہیں بلکہ غلول ہے جسے اسلامی قانون قطعی حرام قرار دیتا ہے۔ غنیمت کے لیے جو ضابطہ اسلام میں مقرر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ لڑائی کے دوران میں جو جو کچھ سپاہیوں کے ہاتھ لگے لڑائی ختم ہونے کے بعد وہ سب امیرِ لشکر کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے، حتیٰ کہ سوئی اور تاگا تک اور رسی کا ایک ٹکڑا تک کوئی شخص چھپا کر نہ رکھے۔ پھر امیرِ لشکر اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال کے لیے نکال لے اور بقیہ چار حصے انصاف کے ساتھ سپاہیوں میں تقسیم کر دے۔ اس قاعدے سے صرف کھانے پینے کی چیزیں مستثنیٰ ہیں۔ انھیں سپاہی حسب ضرورت استعمال کر سکتے ہیں۔] اب اسلامی اصطلاح میں لفظ غنیمت جس چیز پر بولا جاتا ہے وہ بعینہٖ وہی ہے جسے مغربی قانون میں ”غنائم جنگ“ (Spoils of War) کہا جاتا ہے اور جسے تمام دنیا کے مقننوں نے فاتح کا فطری حق تسلیم کیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مغربی قانون تمام اموالِ غنیمت کو حکومت کا حصہ قرار دیتا ہے اور اسلامی قانون ان میں سے پانچواں حصہ لے کر باقی چار حصے ان جاں باز سپاہیوں میں تقسیم کر دیتا ہے جنھوں نے اپنا خون بہا کر انھیں حاصل کیا ہے۔ [ مغربی قانون کی رُو سے مالِ غنیمت چونکہ حکومت کا حصہ ہے اس لیے سپاہیوں میں خواہ مخواہ چوری کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ وہ اموالِ غنیمت کو چھپا کر رکھتے ہیں اور اس طرح ان کے اندر بد اخلاقی اور خیانت پرورش پاتی ہے۔ اسلامی قانون اس کے برعکس سپاہیوں کو ان کے حصہ سے محروم نہیں کرتا، اور انھیں اس طرح دیانت و امانت کی مشق کراتا ہے کہ پہلے ان سے سب کچھ رکھوا لیتا ہے اور پھر غریبوں کے لیے ۱/۵ حصہ ان سے لے کر باقی ۴/۵ ان میں تقسیم کر دیتا ہے۔]