الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
اسلام اور جہانگیریت
بد قسمتی سے اس زمانہ میں مغرب کی بعض جہانگیر قوموں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا میں تہذیب و انسانیت کی ترقی، درماندہ قوموں کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کی خاطر جنگ کرتی ہیں۔ مگر اس زبانی دعوے کے برعکس ان کا عمل یہ ہے کہ کمزور قوموں کی آزادی پر ڈاکے ڈالتی ہیں اور تہذیب و انسانیت کی ترقی کے بجائے دنیا سے انسانیت اور انسانی شرافت کی تمام خصوصیات کو ایک ایک کر کے مٹا رہی ہیں۔ اس سے لوگوں کو شبہ ہو سکتا ہے کہ کہیں اسلام کا دعویٰ بھی ایسا ہی نہ ہو کہ زبان پر اصلاح کا وظیفہ ہو اور ہاتھ میں فتنہ و فساد کی تلوار۔ اس شبہ کو مغربی استعمار اور اسلامی جہادِ اصلاح کی یہ ظاہری مماثلت اور بھی زیادہ تقویت پہنچاتی ہے کہ جس طرح اسلام میں عالمگیر اصلاح کا جہاد صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے، اسی طرح مغربی مستعمرین بھی تہذیب و تمدن کی عالم گیر اشاعت کے مشن کو صرف اپنی قوم ہی کا ورثہ سمجھتے ہیں۔ اگر چہ پچھلے مباحث کو بنظر غور مطالعہ کرنے سے یہ بدگمانی پیدا ہونے کی بہت کم گنجائش باقی رہتی ہے، لیکن جس قدر بھی باقی رہتی ہے بہتر ہے کہ اس کو سوء ظن کے لیے خالی چھوڑنے کے بجائے حقیقت کے علم و یقین سے پُر کر دیا جائے۔
جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے جہانگیریت (امپیریلزم) کی اوّلین خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک خاص قوم اور ملک کے افراد کی حکومت کا نام ہے۔ انگریزی جہانگیریت جزیرۂ انگلستان کے باشندوں سے مخصوص ہے۔ جرمن جہانگیریت میں جرمن قوم کے سوا کسی کا حصہ نہیں ہے۔ اطالوی جہانگیریت میں جو کچھ ہے سب اٹلی کے باشندوں کا ہے۔ جس طرح دنیا کی دوسری قوموں کا انگریز، جرمن یا اطالوی ہو جانا محال ہے، اسی طرح ان قوموں کی جہانگیریت میں بھی دوسروں کا حصہ دار ہونا محال ہے۔ انگریز "اشاعت تہذیب و تمدن" کے نام سے جہاں کہیں جائیں گے، انگریزی قومیت ساتھ ساتھ جائے گی۔ حکومت کے اورنگ نشین ہوں گے تو انگریز ہوں گے، سیاست کے صدر انجمن ہوں گے تو انگریز ہوں گے، اختیار و اقتدار کے مالک ہوں گے تو انگریز ہوں گے۔ دوسری نسل اور قوم کے لوگ خواہ انگریزی تہذیب میں کتنی ہی ترقی کر لیں، انگریزی سلطنت میں ان کو قدرت و اختیار حاصل ہونا قطعاً ناممکن ہے۔ یہی حال دوسری قوموں کی جہانگیریت کا بھی ہے۔ اس قسم کے نظام میں لازمی طور پر حکومت و فرمانروائی کا حق ایک ملک کے باشندوں اور ایک نسل کے افراد سے مخصوص ہو جاتا ہے، اور ظاہر ہے کہ نسل اور وطنیت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے کوئی شخص خود اختیار کر سکتا ہو۔ اس کا دائرہ بہر حال انہی لوگوں تک محدود رہتا ہے جنھیں قدرت کسی خاص نسل اور خاص ملک میں پیدا کرنا پسند کرتی ہے۔ اس لیے جہانگیریت کے اس نظام کا دروازہ غیر نسل و وطن کے لوگوں کے لیے ہمیشہ بند رہتا ہے اور ایک قوم کی سلطنت میں دوسری قوم کو صرف اس لیے کوئی حصہ نہیں مل سکتا کہ وہ حکمراں قوم کی نسل سے نہیں ہے۔ پھر اسی چیز سے دوسری خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ محکوم قوم من حیث القوم ذلیل ہو جاتی ہے، اس میں خودداری و شرافت کا احساس باقی نہیں رہتا، اور اگر اس کے حکمران ظلم و ستم اور جور و استبداد کے ساتھ حکمرانی نہ کریں تب بھی اس میں دناءت و پستی کے وہ خصائل قدرتی طور پر پیدا ہو جاتے ہیں جو ایک عرصہ تک حکومت خود اختیاری سے محروم رہنے کا لازمی نتیجہ ہیں اور روحِ ترقی کے لیے مہلک جراثیم کا حکم رکھتے ہیں۔
بخلاف اس کے اسلام کسی نسل یا قوم یا وطن کا نام نہیں۔ وہ ایک قانون زندگی اور ایک نظام حیات ہے جس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ عربی، عجمی، حبشی، چینی، ہندی، فرنگی، سب اس کو اختیار کر سکتے ہیں اور اختیار کر لینے کے بعد سب کے حقوق، اختیارات اور مراتب اس کے نظامِ اجتماعی میں یکساں قرار پاتے ہیں۔ اس کو انسان کی نسل یا رنگ یا وطنیت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ وہ انسان کو محض انسان ہونے کی حیثیت سے خطاب کرتا ہے اور اس کے سامنے زندگی بسر کرنے کا ایک طریقہ اور تنظیم حیاتِ انسانی کا ایک قانون پیش کرتا ہے جو اس کے نزدیک بہترین ہے۔ اس طریقہ و قانون کو جو کوئی اختیار کرلے وہ اسلامی جماعت کا رکن ہے، اسلامی حکومت میں برابر کا شریک ہے اور اس کی شخصی قابلیت اسے خلیفہ و امام کے درجہ تک بھی پہنچا سکتی ہے۔ جس طرح دنیا کی حکومتوں میں فرمانروائی کی قابلیت کا معیار سول سروس یا اسی قسم کا کوئی اور امتحان پاس کرنا ہے، اسی طرح اسلام کی حکومت میں فرمانروائی اور منصب اصلاح و ہدایت کی اہلیت کا اصولی معیار اسلام کے نظام حیات کو اختیار کرنا اور اس کے قانون حق کی پابندی کرنا ہے۔ جو کوئی اس معیار پر پورا اترتا ہے وہ بلا لحاظ نسل و رنگ اس منصب پر فائز ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر ہم بتائیں گے، اسلام میں نہ تو ”حکومت قوم بر قوم دیگر“ کا کوئی سوال ہے اور ”نہ حکومت قوم بر قوم خود“ کا، بلکہ وہ ”حکومت صالحہ“ کا اصول پیش کرتا ہے اور اس کے نزدیک ”صالح“، اگر ایک حبشی غلام ہو تو کوئی چیز اسے شرفائے عرب پر حکومت کرنے سے نہیں روک سکتی۔ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح فتویٰ ہے:
<<اسمعوا واطيعوا ولو استعمل عليكم عبد حبشى كان رأسه زبيبة>>
”سنو اور اطاعت کرو، خواہ تمھارے اوپر ایک گنجا حبشی غلام ہی حاکم بنا دیا جائے۔“
اسلام کی آخری دعوت عرب سے اٹھی۔ عربوں ہی کو اس کا علم بلند کرنے کا شرف حاصل ہے۔ مگر اس نے کبھی حکومت و فرمانروائی کو عرب کے ساتھ مخصوص نہیں کیا۔ جب تک عرب ”صالح“ رہے انھوں نے اچھی دنیا پر حکومت کی۔ جب ان میں صلاحیت باقی نہ رہی تو جن عجمی قوموں کو عربوں نے فتح کیا تھا، وہ اسلامی حکومت کی مسند نشین بن گئیں اور انھوں نے خود عرب پر حکومت کی۔ ترکِ اسلام کے شدید دشمن تھے، مگر جب وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے تو دنیائے اسلام کے آدھے سے زیادہ حصہ نے انھیں اپنا حکمران تسلیم کیا اور چائنا گام سے لے کر قرطاجنہ تک ان کی فرمانروائی کے پھر میرے اڑتے رہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آج مسلمان قوموں میں قومیت اور نسل کا امتیاز اچھا خاصا پایا جاتا ہے، مگر اس کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ اسلام نے اپنی کسی تعلیم میں اور اپنے کسی حکم میں اس امتیاز کو ذرہ برابر بھی جگہ نہیں دی ہے۔
یہ تو اسلام اور جہانگیریت کا ظاہری فرق تھا۔ معنوی فرق اس سے بھی زیادہ بین ہے بلکہ تباین کلی کا حکم رکھتا ہے۔ جہانگیریت دراصل ایک قوم کی خواہش توسیع مملکت و حصولِ مال وزیر کا نام ہے۔ جب کوئی قوم اس دولت اور حکومت پر قانع نہیں ہوتی جو اس کو خدا اپنے ملک میں حاصل ہوتی ہے تو وہ دوسرے ملکوں پر حملہ کر کے ان کی دولت پر قبضہ کرتی ہے، ان کے باشندوں کو اپنا محکوم اور غلام بنا لیتی ہے اور اپنی صنعت و تجارت کو ان کے خرچ پر فروغ دیتی ہے۔ یہ کام پہلے بھی ہوتا تھا اور ہمیشہ سے سرکش قومیں یہی کرتی آئی ہیں، مگر اب مغربی قوموں نے اس ملک گیری اور لوٹ مار کا نام ”تہذیب و تمدن کی اشاعت“ اور ”نوعِ بشری کی خدمت“ رکھ لیا ہے۔ ان کے آئین ”تہذیب و تمدن“ کی پہلی دفعہ یہ ہے کہ ”قوت حق ہے“ اور کمزور کو دنیا میں جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کمزور قوموں میں ”تہذیب“ کی اشاعت کا جو طریقہ انھوں نے ایجاد کیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کو جہالت، افلاس، غلمانہ کمینگی اور بے دینی و ضمیر فروشی کے ”جواہر“ سے مالا مال کر دیتی ہیں اور ”نوع بشری کی خدمت“ کے لیے ان کی بہترین کوششوں کا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب ان کی بہیمی قوتیں آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرا کر دنیا کے امن و امان کو غارت کر دیتی ہیں۔
اسلام کی مقدس تعلیم اس جہانگیری کے عیب سے پاک ہے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ عالم انسانی کو اس قسم کی سرکش قوتوں کے استیصال اور ان کی جگہ ایک عادلانہ نظام حکومت کے قیام کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ حکومت و بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے، انِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ، بندوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ کے غلاموں کو اپنا غلام بنائیں۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ اس کے نائب یا خلیفہ کی حیثیت سے اس کے بندوں کی خدمت و اصلاح کریں اور جو قوت انھیں حاصل ہو اسے اپنی نفس پروری کے بجائے خلق اللہ کی فلاح و بہبود میں استعمال کریں۔ اس ”خلافت“ یا ”وراثت ارضی“ کی اہلیت کے لیے اولین شرط عمل صالح ہے:
<<وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ>> (النور:۵۵)
”تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ انھیں زمین میں اسی طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے کے لوگوں کو بنایا تھا۔“
<<وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ ؕ اِنَّ فِيْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِيْنَ ؕ>> (الانبیاء: ۱۰۵-۱۰۶)
”اور ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ زمین کے وارث میرے نیکو کار بندے ہوں گے۔ اس میں عبادت گزار قوموں کے لیے ایک پیغامِ عمل ہے۔“
”یہ ’خلافت‘ و ’وراثت ارضی‘ جن لوگوں کو حاصل ہوتی ہے اُنھیں تاکید کے ساتھ بتا دیا جاتا ہے کہ بندگانِ خدا پر تمھیں جو قدرت عطا کی گئی ہے وہ اللہ کی امانت ہے، اس کو اپنی ذاتی ملک سمجھ کر نفسانی لذتوں کے حصول میں خرچ نہ کرنا۔ حضرت داؤد کو سلطنت عطا ہوئی ہے تو فرمان آتا ہے:
<<يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ ؕ>> (ص: ۲۶)
”اے داؤد! ہم نے تم کو زمین پر اپنا نائب بنایا ہے، پس لوگوں میں راستی و صداقت کے ساتھ حکومت کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمھیں خدا کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ خدا کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے، کیوں کہ وہ اس دن کو بھول گئے جب کہ ان کے اعمال کا حساب ہوگا۔“
حکومت حاصل ہونے کے بعد انسان میں سب سے بڑا عیب یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو عام انسانوں سے ایک بلند تر ہستی سمجھنے لگتا ہے اور اپنی حقیقت کو بھول کر اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ جو لوگ اس کے زیرِ حکم ہیں وہ گویا اس کی بندگی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ اسلام اس عیب سے بچنے کی سخت تاکید کرتا ہے اور حصولِ نجات کو اس سے پرہیز کرنے پر منحصر قرار دیتا ہے:
<<تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ؕ>> (القصص: ۸۳)
”اس دار الاخرۃ کی نعمتوں کو ہم ان ہی لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے۔ آخرت کی کامیابیاں صرف پرہیز گاروں کے لیے ہیں۔“
حکومت کے قیام کا اولین مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ انصاف صرف دو متخاصم فریقوں کے درمیان صحیح فیصلہ کرنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ حقیقی انصاف یہ ہے کہ حاکم اپنے محکوم کے ساتھ برتاؤ کرنے میں حق کو ملحوظ رکھے اور جہاں خود اس کی ذاتی منفعت اور حاکمانہ وقار کا سوال ہو وہاں بھی قدرت و اختیار رکھنے کے باوجود وہی فیصلہ کرے جو حق ہو، خواہ اس سے اس کی ذات کو نقصان پہنچے یا اس کے دوستوں کو یا عزیزوں کو۔ اسلام اس انصاف کی بہترین تعلیم دیتا ہے:
<<يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُواْ الْهَوَى أَن تَعْدِلُواْ ۚ وَإِن تَلْوُاْ أَوْ تُعْرِضُواْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا>> (النساء: ۱۳۵)
”اے ایمان لانے والو! انصاف پر سختی کے ساتھ قائم رہنے والے اور خدا واسطے کی گواہی دینے والے بنو، خواہ یہ انصاف اور یہ گواہی تمھاری اپنی ذات ہی کے خلاف پڑے یا تمھارے والدین یا عزیزوں کے خلاف۔ دولت مند کی رضا جوئی یا فقیر پر رحم کھانے کا جذبہ تمھیں انصاف اور سچی شہادت سے نہ پھیر دے، کیوں کہ اللہ ان کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ تم اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو کہ عدل و انصاف سے پھر جاؤ۔ اگر تم نے اینچ پینچ کی بات کی یا حق سے کترائے تو جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔“
اس سے بھی بڑھ کر وہ حکم دیتا ہے کہ جس قوم کے ساتھ تمھاری دشمنی ہو اس سے بھی انصاف کرو:
<<وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُواْ ۚ اعْدِلُواْ ۖ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ>> (المائدہ: ۸)
”کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اس سے انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، کیوں کہ یہی پرہیزگاری سے قریب تر ہے۔“
قوت و طاقت حاصل کرنے کے بعد ایک قوم میں لازمی طور پر یہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اپنی مملکت کی حدود بڑھائے اور کمزور قوموں کے ملک چھینے۔ یہی ملک و مال کا لالچ ظلم و سرکشی کی اصل بنیاد ہے اور اسی کی خاطر قو میں رزم آرائیاں کیا کرتی ہیں۔ مگر اسلام اس کی سختی کے ساتھ مذمت کرتا ہے اور صرف اس سے پرہیز ہی کرنے کی تاکید نہیں کرتا بلکہ ان لوگوں کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں جیسا کہ فتنہ و فساد کی تحقیق میں یہ تشریح بیان ہو چکا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
<<من اقتطع شبرا من ارض ظلما طوقه الله اياه يوم القيمة من سبع ارضين>> (مسلم)
”جس کسی نے ایک بالشت بھر زمین بھی ظلم سے حاصل کی اللہ اس کے گلے میں قیامت کے دن اس جیسی سات زمینوں کا طوق لٹکائے گا۔“
ایک اور حدیث میں ہے:
<<ان هذا المال حلوة من اخذه بحقه و وضعه فى حقه فنعم المؤنة هو و من اخذه بغير حقه كان كالذى ياكل ولا يشبع>>
”یہ مال و دولت ایک لذیذ چیز ہے۔ جس کسی نے اسے حق کے ساتھ حاصل کیا اور حق کی جگہ خرچ کیا اس کے لیے تو وہ بہترین توشہ ہے۔ مگر جس نے اسے بغیر حق کے حاصل کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھائے مگر سیر نہ ہو سکے۔“
قرآن مجید اور احادیث نبوی میں اسلام کے سیاسی اخلاق کی نہایت جزوی تفصیلات تک موجود ہیں، مگر یہ موقع اس قانون کی تفصیل کا نہیں ہے۔ مختصر یہ ہے کہ اسلام نے حکومت و اقتدار کی ان تمام لذتوں کو حرام قرار دیا ہے جن کے لالچ میں انسان اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام کا حکمران نہ تو رعیت کے عام افراد سے ممتاز کوئی بالاتر ہستی ہے، نہ وہ عظمت و رفعت کے تحت پر بیٹھ سکتا ہے، نہ اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنے کسی عزیز یا دوست کو یا خود اپنی ذات کو کسی ادنیٰ سے ادنیٰ ہستی کے جائز مطالبہ سے بچا سکے، نہ وہ حق کے خلاف ایک حبہ لے سکتا ہے، نہ ایک چیہ بھر زمین پر قبضہ کر سکتا ہے۔ اس پر ہر وقت یہ خوف غالب رہتا ہے کہ اس کے اعمال کا سخت حساب لیا جائے گا اور اگر حرام کا ایک پیسہ، جبر سے لی ہوئی زمین کا ایک چیہ، تکبر و فرعونیت کا ایک شمہ، ظلم و بے انصافی کا ایک ذرہ اور ہوائے نفسانی کی بندگی کا ایک شائبہ بھی اس کے حساب میں نکل آیا تو اسے سخت سزا بھگتنی پڑے گی۔
اسلام میں حاکم یا فرماں روا کی اصلی حیثیت اور اس کی منصبی ذمہ داریوں کی صحیح کیفیت حضرت ابو بکرؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد اپنے خطبہ میں بیان کی تھی ۔ انھوں نے فرمایا:
<<يايها الناس قد وليت امركم ولست بخير منكم۔ وان اقواكم عندى الضعيف حتى اخذله بحقه وان اضعفكم عندى القوى حتى اخذ منه۔ ايها الناس ما انا الا كاحدكم فاذا رأيتمونى قد استقمت فاتبعونى وان زغت فقومونى>>
”لوگو! مجھے تمھاری حکومت کا کام سپرد کیا گیا ہے حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ میرے نزدیک ضعیف آدمی تم میں سب سے زیادہ قوی ہے جب تک کہ اس کا حق اسے نہ دلوا دوں، اور قوی آدمی تم میں سب سے زیادہ ضعیف ہے جب تک کہ اس سے حق وصول نہ کر لوں ۔ لوگو! میری حیثیت تمھارے ایک معمولی فرد سے زیادہ نہیں ہے۔ اگر تم مجھے سیدھی راہ چلتے دیکھو تو میری پیروی کرو اور اگر دیکھو کہ ٹیڑھا ہو گیا ہوں تو مجھے سیدھا کر دو۔“
اور خلیفۂ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے ایک خطبہ میں اس کے منصب کی تشریح یوں فرماتے ہیں:
<<انما انا ومالكم كمولى اليتيم ، ان استغنيت استعففت و ان افتقرت اكلت بالمعروف لكم على ايها الناس خصال فخذونى بها لكم على ان لا اجتبى شيئا من خراجكم ولا مما افاء الله عليكم الا من وجهه ولكم على اذا وقع فى يدى ان لا يخرج منى الا فى حقه>>
”تمھارے مال سے میرا تعلق وہی ہے جو یتیم کے مال سے اس کے ولی کا ہوتا ہے۔ اگر میں خوش حال ہوں گا تو کچھ نہ لوں گا اور اگر تنگ دست ہوں گا تو جو میرا جائز حق الخدمت ہو گا وہ لے لوں گا۔ میرے اوپر تمھارے کچھ حقوق ہیں اور تم ان کا مجھ سے مطالبہ کر سکتے ہو۔ مجھ پر فرض ہے کہ تم سے خراج کی مد میں اور اس مال میں سے جو اللہ نے تمھیں فے میں عطا فرمایا ہے کوئی ٹیکس بے جا وصول نہ کروں، اور تمھارا مجھ پر یہ حق ہے کہ جو کچھ میرے ہاتھ میں آئے وہ جائز مصرف کے سوا کسی اور صورت سے نہ نکلے۔“
اس طرح ہر قسم کی شاہانہ طمطراق، حاکمانہ مطلق العنانی، مال و دولت کی فراوانی اور نفس کی تمام لذتوں اور راحتوں کو نکال دینے کے بعد حکومت کی ذمہ داریوں کا جو خشک اور بے مزہ حصہ باقی رہ جاتا ہے وہ خود اسلام ہی کی زبان میں یہ ہے:
<<الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ>> (الحج: ۴۱)
”ان کو اگر ہم نے زمین میں قدرت و اختیار عطا کیا تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔“
یہ اسلام کا صرف دعویٰ ہی دعویٰ نہیں ہے بلکہ داعی اسلام علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اور آپ کے خلفائے راشدینؓ نے اس کا پورا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا موضوع قانون کی تشریح ہے نہ کہ تاریخ کا استقصاء، تاہم جب ذکر چھڑ گیا ہے تو ہم چند مثالیں پیش کر کے یہ بتائیں گے کہ اسلامی حکومت کا معیار کیا ہے۔
بنی مخزوم کی ایک معزز عورت فاطمہ بنت اسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چوری کے الزام میں گرفتار ہو کر آتی ہے۔ قریش کو خوف ہوتا ہے کہ کہیں آپ عام لوگوں کی طرح اس کا بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم نہ دے دیں۔ سفارش کے لیے آپ کے سب سے زیادہ عزیز و محبوب شخص (اسامہ بن زیدؓ) کو بھیجتے ہیں۔ مگر آپ ان کی سفارش کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ کم حیثیت لوگوں پر تو تعزیر کا حکم جاری کرتے تھے اور شریف و معزز لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ پھر جوش میں آکر فرماتے ہیں کہ:
<<والذى نفسي بيده، لو ان فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها>> (بخاری وابن ماجه)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“
جنگ بدر میں قریش کے دوسرے سرداروں کے ساتھ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد (ابو العاص) گرفتار ہو کر آتے ہیں۔[ یہ صاحب حضرت زینب بنت رسول اللہ کے شوہر تھے۔ تا جنگِ بدر یہ کافر رہے۔ بعد میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔] عام قیدیوں کی طرح انھیں بھی بند کر دیا جاتا ہے۔ ان کے پاس فدیہ ادا کرنے کے لیے مال نہیں ہوتا تو حکم ہوتا ہے کہ گھر سے منگا کر دو، ورنہ قید رہو۔ وہ اپنی بیوی یعنی رسول اللہ کی بیٹی حضرت زینبؓ کو پیغام بھیجتے ہیں اور ان کے پاس سے شوہر کے فدیہ میں ایک قیمتی ہار آتا ہے جو حضرت خدیجہؓ زوجہ رسول اللہ نے ان کے جہیز میں دیا تھا۔ ہار کو دیکھ کر آپؐ کو اپنی رفیقہ حیات کی یاد تازہ ہو جاتی ہے اور بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں۔ تاہم خود اپنے اختیار سے فدیہ معاف نہیں کرتے۔ عام مسلمانوں سے اجازت مانگتے ہیں کہ اگر تم پسند کرو تو بیٹی کو اس کی ماں کی یادگار واپس کر دی جائے، اور جب عام مسلمان اس کی اجازت دے دیتے ہیں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے داماد کو بغیر فدیہ کے رہائی نصیب ہوتی ہے۔ (طبری، ابوداود)
حدیبیہ کے مقام پر رسول خدا اور کفار قریش کا معاہدہ ہوتا ہے۔ صلح کی شرائط طے ہو چکی ہیں اور معاہدہ کی کتابت ہو رہی ہے۔ عین اس حالت میں ایک مسلمان ابو جندلؓ بن سہیل کفار کی قید سے بھاگ کر آتے ہیں۔ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں، بدن پر مار کے اتنے زخم ہیں کہ چور چور ہو رہا ہے، وہ آکر مسلمانوں کے سامنے گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدارا مجھے ان کی قید سے نکالو۔ رسول اللہ کی رکاب میں ۱۲ سو تلوار بند مسلمان ہیں اور آپ کے ایک اشارہ پر ابو جندلؓ کو رہائی مل سکتی ہے، مگر کفار سے شرط ہو چکی ہے کہ ”قریش والوں میں سے جو شخص مسلمانوں کے پاس جائے گا وہ واپس کر دیا جائے گا اور مسلمانوں میں سے جو شخص مکہ جائے گا وہ واپس نہ کیا جائے گا“۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنی حمایت میں لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے زخم دکھا کر فریاد کرتے ہیں کہ کیا آپ مجھے پھر اسی ظلم کا تختۂ مشق بننے کے لیے واپس کرتے ہیں۔ مگر آپ فرماتے ہیں:
<<يا ابا جندل ! اصبر واحتسب فانا لا نغدران الله جاعل لك فرجا ومخرجا>>
(فتح الباری، ج ۵، باب الشروط فی الجہاد)
”ابو جندل! صبر کرو اور ضبط سے کام لو، ہم بدعہدی نہیں کر سکتے۔ اللہ تمھارے لیے رہائی کی کوئی صورت نکالے گا۔“
جنگ یرموک کے موقع پر قیصر روم لاکھوں کی فوج مسلمانوں کے مقابلہ پر جمع کرتا ہے اور شام و فلسطین سے مسلمانوں کو نکال دینے بلکہ ان کی قوت کو کچل دینے کا عزم کر لیتا ہے۔ اس فیصلے کی گھڑی میں اپنی قوت کے بچاؤ کے لیے مسلمانوں کو ایک ایک پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ حمص کے باشندوں کو جمع کرتے ہیں اور جو خراج ان سے وصول کیا تھا اسے یہ کہہ کر واپس کر دیتے ہیں کہ ہم اب تمھاری حفاظت سے قاصر ہیں اس لیے اب تم اپنا انتظام خود کرو۔ اس پر اہل حمص کہتے ہیں کہ ”تمھارا عدل و انصاف ہم کو ظلم و جور سے زیادہ عزیز ہے جس میں ہم پہلے مبتلا تھے۔ ہم ہرقل کی فوج سے تمھارے عامل کی قیادت میں مقابلہ کریں گے“۔ (فتوح البلدان لبلاذری) یہ بات یاد رہے کہ ہرقل ایک عیسائی بادشاہ تھا اور یہ لوگ بھی جو اپنے مسلمان حکمرانوں کی طرف سے اس کے خلاف لڑنا چاہتے تھے عیسائی تھے اور صدیوں سے رومی سلطنت کے زیر حکومت تھے۔
جنگ صفین میں جاتے وقت خلیفۂ چہارم حضرت علیؓ کی زرہ کھوئی جاتی ہے۔ جنگ سے واپس آتے ہیں تو وہی زرہ دار الخلافہ کے ایک یہودی کے پاس پائی جاتی ہے۔ آپ اس سے زرہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے یہ تو میری ملک ہے اور ہمیشہ سے میرے ہی قبضہ میں ہے۔ خلیفۂ وقت کو یقین ہے کہ یہودی جھوٹ بول رہا ہے اور یہ وہی زرہ ہے جو کھوئی گئی تھی، مگر باوجود اس کے وہ اپنے شاہانہ اختیارات سے کام نہیں لیتے بلکہ ایک بے بس مدعی کی طرح قاضی شریح کی عدالت میں جا کر استغاثہ کرتے ہیں۔ قاضی ان کی جلیل القدر شخصیت کا لحاظ کر کے محض ان کے دعوے پر فیصلہ نہیں کر دیتا۔ کہتا ہے کہ آپ زرہ کی ملکیت کا ثبوت پیش کیجیے۔ وہ اپنے غلام قنبر اور اپنے بیٹے، رسول اللہ کے نواسے، امام حسنؓ کو شہادت میں پیش کرتے ہیں۔ قاضی کہتا ہے: امام حسنؓ کی شہادت معتبر نہیں کیوں کہ وہ آپ کے بیٹے ہیں اور باپ کے دعوے پر بیٹے کی شہادت تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ یہ حال دیکھ کر یہودی باواز بلند کلمہ طیبہ پڑھتا ہے اور پکار اٹھتا ہے کہ جس دین میں یہ انصاف ہے وہ ضرور سچا دین ہے۔ (سیوطی)
خلیفہ دوم حضرت عمرؓ کے پاس ان کا ایک عامل جزیہ کی کثیر رقم لے کر حاضر ہوتا ہے۔ آپ پوچھتے ہیں: ”یہ کیا ہے۔“ وہ کہتا ہے: ”جزیہ ہے جو ذمیوں سے وصول کیا گیا ہے۔“ مال کی کثرت کو دیکھ کر آپ کو گمان ہوتا ہے کہ جبراً وصول کیا گیا ہو گا۔ فرماتے ہیں: ”کہیں تم نے لوگوں کو تباہ تو نہیں کر دیا۔“ وہ کہتا ہے ”خدا کی قسم! ہم نے نہایت نرمی سے وصول کیا ہے۔“ پوچھتے ہیں: ”بغیر مارے باندھے؟“ وہ عرض کرتا ہے: ”واللہ بغیر مارے باندھے۔“ تب کہیں وہ رقم بیت المال میں داخل کی جاتی ہے۔ (فتح البیان) امام ابو یوسفؒ اپنی کتاب الخراج میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے پاس جب عراق کا خراج آتا تھا تو دس ذمہ دار افسر کوفہ سے اور دس بصرہ سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور چار مرتبہ شرعی قسم کھا کر آپ کو یقین دلاتے کہ یہ رقم حلال ہے اور کسی مسلمان یا ذمی سے ظلم کے ساتھ وصول نہیں کی گئی ہے۔
حضرت عمرؓ کے بیٹے ابو شحمہ شراب پیتے ہیں تو ایک معمولی مجرم کی طرح گرفتار کر لیے جاتے ہیں۔ خود حضرت عمرؓ اپنے ہاتھ سے انھیں ۸۰ کوڑے لگاتے ہیں اور ان کوڑوں کے صدمہ سے ان کا انتقال ہو جاتا ہے۔ [معارف ابن قتیبہ، ذکر اولاد عمرؓ۔] عمروؓ بن عاص گورنر مصر کے بیٹے عبداللہؓ ایک شخص کو مارتے ہیں۔ وہ دربار خلافت میں استغاثہ کرتا ہے اور حضرت عمرؓ خود اسی شخص کے ہاتھ سے عبداللہؓ کو کوڑے لگوا دیتے ہیں۔ خود عمروؓ بن عاص کے متعلق خبر آتی ہے کہ ان کے پاس بہت دولت اکٹھی ہو گئی ہے۔ حضرت عمرؓ انھیں لکھتے ہیں کہ ”گورنر ہونے سے پہلے تو تمھارے پاس اتنا ساز و سامان نہ تھا، اب یہ کہاں سے آ گیا؟“ وہ جواب دیتے ہیں: ”میرا صوبہ ایک زرخیز علاقہ ہے، اس لیے میرے پاس میرے خرچ سے بہت کچھ مال بچ رہتا ہے۔“ یہ جواب حضرت عمرؓ کو مطمئن نہیں کرتا۔ آپ محمدؓ بن مسلمہ کو پورے اختیارات دے کر بھیجتے ہیں۔ وہ مصر پہنچ کر ان کے مال کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ ان کے پچھلے اثاثہ کا حساب کرتے ہیں، گورنری کے زمانہ میں اس مال پر جو معقول معاوضہ ہو سکتا تھا اس کا اندازہ لگاتے ہیں، اس کے بعد جو زائد مال بچتا ہے اسے ضبط کر کے بیت المال میں داخل کر دیتے ہیں۔ مصر کا با اختیار گورنر جس کی حدودِ مملکت لیبیا تک پہنچی ہوئی تھیں، یہ سب کچھ دیکھتا ہے اور دم نہیں مار سکتا۔ (بلاذری)
مغیرہؓ بن شعبہ والی بصرہ کے خلاف شکایت پہنچتی ہے کہ ان کا ایک عورت سے ناجائز تعلق ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت عمرؓ ابو موسیٰ اشعریؓ کو حکم دیتے ہیں کہ ”بصرہ میں شیطان نے آشیانہ بنا لیا ہے، تم وہاں کی گورنری کا جائزہ لے لو اور مغیرہؓ کو گواہوں سمیت مدینہ بھیجو۔“ حکم کے مطابق مغیرہؓ مدینہ بھیجے جاتے ہیں۔ خود حضرت عمرؓ کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوتا ہے۔ جرح میں گواہ ٹوٹ جاتے ہیں۔ شہادتوں میں شدید اختلاف واقع ہوتا ہے۔ جرم ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے مغیرہؓ کو رہائی دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”اگر شہادت پوری ہو جاتی تو میں یقیناً تم کو سنگسار کر دیتا۔“ [یہ واقعہ طبری اور ابن اثیر میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ بلاذری نے بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے۔] یہ مغیرہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی تھے۔ عرب کے چار مشہور ترین سیاسی مدبروں میں سے ایک تھے۔ [وہ چار اصحاب یہ ہیں: امیر معاویہؓ، عمروؓ بن عاص، مغیرہؓ بن شعبہ اور زیاد بن ابی سفیان۔] اسلام کی بڑی بڑی سیاسی و جنگی خدمات انجام دی تھیں، مگر ان کی عظمت و شان، بیش قیمت خدمات، گورنری کی اعلیٰ پوزیشن، عرب میں ان کی شہرت و عزت، غرض کوئی چیز ان کے کام نہ آئی اور ایک معمولی مجرم کی طرح انھیں پیش ہونا پڑا۔ دنیوی حکومتوں میں کسی افسر کا بدکاری کرنا اس کا شخصی معاملہ ہے۔ بلکہ آج کل کی مہذب ترین حکومتوں کے قوانین میں زنا اگر طرفین کی رضا مندی سے ہو تو سرے سے کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ لیکن جس حکومت کا اصلی مقصد انسانیت کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر تھا اس میں کسی ایسے شخص کے لیے گنجائش نہ تھی جس کا ذاتی عمل درست نہ ہو۔
فارس کے علاقہ میں مسلمان ایک شہر (شہر یاج) کا محاصرہ کرتے ہیں اور محصورین کی مزاحمت اس حد تک کمزور ہو جاتی ہے کہ شہر کا فتح ہونا بالکل یقینی ہو جاتا ہے۔ عین اس حالت میں اسلامی فوج کا ایک غلام شہر والوں کے نام امان نامہ لکھتا ہے اور اسے تیر میں باندھ کر شہر میں پھینک دیتا ہے۔ دوسرے دن جب اسلامی فوج شہر پر حملہ کرتی ہے تو اہل شہر دروازہ کھول کر باہر آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک مسلمان ہم کو امان دے چکا ہے، اب تم کیوں برسر پیکار ہو؟ امان نامہ دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک غلام کی تحریر ہے۔ اس معاملہ میں حضرت عمرؓ سے استصواب کیا جاتا ہے کہ اس امان نامہ کی کیا وقعت ہے؟ جواب میں آپ لکھتے ہیں: ”مسلمان غلام بھی عام مسلمانوں کی طرح ہے، اس کے ذمہ کی وہی قیمت ہے جو عام مسلمانوں کے ذمہ کی ہے، لہٰذا اس کی دی ہوئی امان نافذ کی جائے“۔ (بلاذری ذکر کور فارس)
حضرت ابوبکر صدیقؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ملک عرب کی سلطنت کے با اختیار فرماں روا منتخب کیے جاتے ہیں۔ انتخاب کے دوسرے دن حضرت عمرؓ انھیں دیکھتے ہیں کہ سر پر کپڑوں کے تھان لادے ہوئے بازار جا رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ عرض کرتے ہیں کہ ”اب آپ مسلمانوں کے امیر ہیں، آپ کو یہ کام زیبا نہیں ہے۔“ وہ جواب دیتے ہیں ”پھر میں اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ کیوں کر پالوں؟“ حضرت عمرؓ تجویز کرتے ہیں کہ یہ کام آپ کے لیے ابوعبیدہؓ کر دیا کریں گے۔ چنانچہ ان سے خلیفہ اسلام کا یہ معاملہ طے ہوتا ہے کہ وہ ان کی تجارت کا کام سنبھالیں اور ان کے اہل و عیال کے لیے ایک متوسط درجہ کے مہاجر کی خوراک اور گرمی جاڑے کا کپڑا مہیا کر دیں۔ پھر بیت المال سے خلیفہ کے لیے ۵۰۰ درہم (آج کل کے حساب سے سو روپے سے کچھ زائد) ماہانہ تنخواہ مقرر ہو جاتی ہے۔ جب انتقال کا وقت قریب آتا ہے تو لوگوں سے کہتے ہیں کہ خلیفہ ہونے کے بعد سے میرے مال میں جو کچھ اضافہ ہوا ہے اس کا حساب کرنا اور وہ سب نئے خلیفہ کے سپرد کر دینا۔ چنانچہ انتقال کے بعد جب حساب کیا جاتا ہے تو ایک اونٹنی، ایک زنگی غلام اور ایک پرانی چادر کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ (فتح الباری، ج ۵، کتاب البیوع)
حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسلامی فتوحات کا سیلاب ایران سے لے کر شمالی افریقہ تک پھیل گیا تھا۔ غنائم اور اموال خراج کی اس قدر کثرت تھی کہ کروڑوں درہم سالانہ خزانہ میں داخل ہوتے تھے۔ قیصر و کسریٰ کے سارے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آ گئے تھے۔ مگر خود اس سلطنت کے فرماں روا کا یہ حال تھا کہ بدن پر بارہ بارہ پیوند لگے ہوئے کپڑے ہوتے تھے۔ پاؤں میں پھٹی ہوئی چپل اور سر پر بوسیدہ عمامہ پہنے ہوئے، یتیموں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کی خبر گیری کرتے پھرتے تھے۔ روم و عجم کے لوگ آتے تو انہیں عام مسلمانوں میں فرمانروائے عرب کو پہچاننا مشکل ہوتا تھا۔ شام کا سفر کیا تو اس شان سے کہ لوگ خلیفہ اسلام اور اس کے غلام میں تمیز نہ کر سکے۔ فتح بیت المقدس کے موقع پر شہر میں داخل ہوئے تو پیادہ پا تھے اور ایسے موٹے کپڑے پہنے ہوئے تھے کہ مسلمانوں کو عیسائیوں کے خیال سے شرم آنے لگی۔ اونٹنی کا دودھ، زیتون کا تیل، سرکہ اور گیہوں کی روٹی، یہ بہتر سے بہتر غذائیں تھیں جو انہیں نصیب ہوتی تھیں۔ جب انتقال ہوا تو گھر میں اتنا اثاثہ نہ تھا کہ قرضے ادا کیے جاتے، اس لیے رہنے کا مکان بیچا گیا اور اس سے قرضے ادا کیے گئے۔
یہ واقعات قصہ و افسانہ نہیں، تاریخ کے مستند حقائق ہیں۔ انھیں دیکھ کر بتاؤ کہ دنیا میں اس سے بہتر حکومت کا کوئی اور بھی نمونہ موجود ہے؟ جن لوگوں کا آئین ملک داری اس تقویٰ و طہارت، اس خدا ترسی، اس بے نفسی و بے غرضی، اس حریت و مساوات، اس عدل و انصاف، اس وفائے عہد اور اس دیانت و امانت پر قائم ہو، کیا ان کا یہ دعویٰ چھوٹا ہے کہ دنیا پر حکومت کرنا یا بالفاظ صحیح تر دنیا کی خدمت کرنا صرف ابھی کا حق ہے؟ اگر انھوں نے عجم کے عیش پرست اور ظالم حکمرانوں سے عجم کا تخت خالی کرا لیا، اگر انھوں نے روم کے سیاہ کار اور جفا پیشہ فرمانرواؤں کو روم کی حکومت سے بے دخل کر دیا، اگر انھوں نے آس پاس کی تمام شیطانی حکومتوں کے تختے الٹ دیے اور ان کی جگہ یہ منصفانہ حکومت قائم کی، تو بتاؤ کہ یہ انسانیت پر ظلم تھا یا اس کی خدمت؟ ان کے مقابلہ میں مغرب کے ان جھوٹے مدعیوں کی کیا وقعت ہے جن کو تقویٰ و پرہیز گاری سے واسطہ نہیں، وفائے عہد کی ہوا تک نہیں لگی، عدل و انصاف اور دیانت و امانت سے بعد تام ہے اور بجز ملک گیری کی ہوس، مال و زر کی حرص اور حصول اقتدار کی خواہش کے کسی اور جذبہ سے آشنا نہیں ہیں؟
ہم کو تسلیم ہے کہ بعد کے زمانوں میں مسلمانوں کی اکثر حکومتوں کا عمل اس اصول جہانبانی کے مطابق نہیں رہا ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔ مگر یہ نقص اسلام کا نہیں اس کے پیرووں کا ہے۔ اسلام تو ایک قانون ہے جو قرآن اور سنت رسول سے ماخوذ ہے۔ جو حکومت اس قانون کے مطابق عمل کرتی ہے وہ اسلامی حکومت ہے اور جس کا عمل اس کے خلاف ہے وہ اسلامی حکومت نہیں ہے۔ ہمارے لیے مسلمان بادشاہوں کا عمل حجت نہیں ہے بلکہ اسلام کا قانون حجت ہے۔ اس میں اگر کوئی نقص ہو تو اسے پیش کیا جائے۔