الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
مسیحی سیرت پر علیحدگی کا اثر
سینٹ پال کے مقلدوں نے اس غیر مکمل مذہب کو جو دراصل مسیحی نہیں بلکہ پولوسی مذہب تھا، بنی اسرائیل کو چھوڑ کر روم و یونان کی آزاد قوموں میں پھیلانا شروع کیا۔ لیکن کسی شریعت اور کسی ضابطۂ قانون کے بغیر محض ایک اخلاقی تعلیم اور ایسی تعلیم جو دراصل ایک غلام اور پس ماندہ قوم کے لیے وضع کی گئی تھی آزاد اور صاحب حکومت و سیاست قوموں کے لیے بالکل بیکار اور بے معنی چیز تھی۔ اس میں کوئی ایسی مکمل ہدایت تو تھی ہی نہیں کہ عام انسانی جماعت کے لیے مختلف حالات میں مفید و مناسب ہو سکتی۔ وہ تو صرف چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ تھی جو زیادہ انتہا پسندانہ تھیں، اور ظاہر ہے کہ تنہا ان پر عمل کر کے کسی قوم کا زندہ رہنا محال تھا۔ لہٰذا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدائی ڈھائی تین سو برس تک تو عیسائی ہر قسم کے مظالم و شدائد کے تختہ مشق بنتے رہے۔ کیوں کہ یہی اخلاق ان کو سکھایا گیا تھا اور اس منزل سے آگے چلنے کے لیے ان کے پاس کوئی ہدایت نہ تھی۔ پھر جب ان کی اپنی تدبیر سے نہیں بلکہ محض اتفاقاً ان کو حکومت حاصل ہو گئی تو پولوسی مسیحیت کے نامکمل العمل دائرہ میں زندگی بسر کرنا ان کے لیے ناممکن ہو گیا، اس لیے انہوں نے مسیحیت کی ساری اخلاقی حدیں توڑ ڈالیں اور ظلم و ستم و قتل و غارت گری کی انتہا کر دی۔
ابتدا میں تو مسیحیوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ایک گال کے ساتھ دوسرا گال بھی پیش کردیناا ور شریر کا مقابلہ بھی نہ کرنا مسیح کی دائمی تعلیم ہے۔ اس لیے جب ان کی تعداد خوب بڑھ گئی اور ان کے اثرات وسیع ہو گئے اس وقت بھی ان میں ظلم کا مقابلہ کرنے اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کی روح پیدا نہ ہو سکی۔ ۶۴ء میں جب کہ یونان و روم اور شام و فلسطین میں مسیحیوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہو چکی تھی نیرو نے ان پر حریق روم کا جھوٹا الزام لگایا اور اس کے حکم سے ہر وہ شخص جس نے مسیحی ہونے کا اقرار کیا گرفتار کر لیا گیا۔ کسی کو صلیب پر چڑھا یا گیا، کسی کو زندہ جلا دیا گیا، کسی کو کتوں سے پھڑوا دیا گیا اور سینکڑوں عیسائی عورتوں، مردوں اور بچوں کو روم کے اکھاڑوں میں وحشیانہ کھیلوں کا تختہ مشق بنایا جانے لگا۔ ۷۰ء میں تیطوس (Titus) کے زیر قیادت بیت المقدس پر چڑھائی کی گئی ۹۷ ہزار آدمی گرفتار کر کے غلام بنا لیے گئے، گیارہ ہزار آدمیوں کو بھوکا مار دیا گیا، ہزاروں آدمی پھڑ کر روم کے اکھاڑوں اور ایمفی تھیٹروں میں جنگلی جانوروں کا لقمہ بننے یا سیافوں کی شمشیر زنی کا تختہ مشق بننے کے لیے بھیج دیے گئے۔[Gibbon, Vol. II, Chap. 16, Early Days of Christianity, PP. 488-89]
نیرو کے بعد مارکوس آریلیوس، سیپٹیموس، سیوروس، ڈی سیوس اور والیر یان نے مسیحیت اور اس کے پیروؤں کو کچلنے کی کوششیں کیں۔ آخر میں ڈیوکلیشیان نے تو ظلم و ستم کی حد کر دی۔ اس نے عام حکم جاری کر دیا کہ کلیسا مسار کر دیے جائیں، انجیلیں جلا دی جائیں اور کلیساؤں کے اوقاف ضبط کر لیے جائیں۔ ۳۰۳ء میں خود شہنشاہ نے نیکو میڈیا کے مرکزی کلیسا کو پھوند خاک کر دیا اور مقدس کتابیں جلوا دیں۔ ۳۰۴ء میں اس نے عام حکم دے دیا کہ جو شخص مسیحی مذہب پر اصرار کرے وہ قتل کر دیا جائے۔ اس کے بعد سختیاں اور بڑھیں، یہاں تک کہ جو لوگ مسیحی مذہب چھوڑنے سے انکار کرتے ان کے بدن زخمی کر کے ان پر سرکہ اور نمک ڈالا جاتا اور بعد میں ان کی بوٹی بوٹی کاٹی جاتی تھی۔ بعض اوقات ان کو کنیسوں میں بند کر کے آگ لگا دی جاتی اور زیادہ لطف اٹھانے کے لیے ایک ایک عیسائی کو پکڑ کر دیکھتے ہوئے انگاروں پر لٹا دیا جاتا تھا یا لوہے کے کانٹے اس کے بدن میں بھونکے جاتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جبکہ تمام سلطنت میں عیسائی پھیلے ہوئے تھے، سلطنت کے بڑے سے بڑے اور چھوٹےے سے چھوٹے عہدے کے حکمران ان کے ہاتھ میں تھے، اور خود شہنشاہ کے قصر میں عیسائیوں کی ایک کثیر جماعت موجود تھی۔ لیکن مسیحیوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ اس کثرت و قوت کے زمانہ میں بھی وہی شریرہ کا مقابلہ نہ کرنے اور ایک گال کے ساتھ دوسرا گال بھی پیش کر دینے کی تعلیم ہی واجب العمل ہے جو اسرائیلیوں کو انتہائی بے بسی و کمزوری کی حالت میں دی گئی تھی۔ اس لیے شام، فلسطین، عراق، مصر، افریقہ، اسپین، گال، سسلی، اٹلی، الیریا، ایشیائے کو چیک، غرض کہیں بھی عیسائی نے ان مظالم پر دم نہ مارا اور ساری قوم ان تجاوزات کو خود کشانہ بے عملی کے ساتھ برداشت کرتی رہی۔ حالانکہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت، جس کو جہاد کی تعلیم دی گئی تھی، جب ڈھائی تین سو کی تعداد کو پہنچ گئی تو وہ تمام عرب کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑی ہو گئی اور اس نے دنیا کو بتا دیا کہ جس جماعت میں یہ مجاہدانہ اسپرٹ موجود ہو وہ قلت تعداد اور بے سروسامانی کے باوجود کسی سے دب کر نہیں رہ سکتی۔
یہ تو تھی مسیحیت کی تفریط۔ اس کے بعد جب قسطنطینِ اعظم نے اس کو قبول کر لیا اور وہ عملاً سلطنت کا مذہب بن گئی تو وہ تفریط کے انتہائی نقطہ پر جا پہنچی۔ پہلی خرابی تو اس لیے پیدا ہوئی تھی کہ مسیحیت کو سیاست و تمدن سے کوئی تعلق نہ تھا اور اس کے پیروؤں نے اپنے مذہب کی پابندی کرتے ہوئے ایک خالص انفعالی زندگی اختیار کر رکھی تھی۔ مگر جب اتفاقِ وقت سے ان پر سلطنت کی ذمہ داریاں آپڑیں تو دوسری اور پہلے سے زیادہ شدید خرابی پیدا ہو گئی، اور وہ یہ تھی کہ جہاں بانی و حکمرانی کے لیے چونکہ مسیحیت نے ان کی کوئی رہنمائی نہ کی تھی، اس لیے یہ سارا کاروبار انہوں نے شریعتِ خدا کے بجائے شریعتِ نفس کے مطابق انجام دینا شروع کر دیا۔ معاملاتِ سلطنت میں تو جنگ بھی ہے اور صلح بھی، سیاست بھی ہے اور تعزیر بھی، انتقام بھی ہے اور عفو بھی۔ مگر موسوی شریعت سے جدا ہو کر کوئی ضابطۂ قانون اور دستورِ عمل موجود نہ تھا۔ اس نے زندگی کے معاملات کے لیے بجز اس ایک قانون کے کہ "شریر کا مقابلہ نہ کر" اور "کرتا چھیننے والے کو چوغہ بھی اتار دے" اور کوئی قانون نہ بنایا تھا۔ مگر اس انفعال و تذلل کی تعلیم کے تنگ دائرے میں رہ کر مسیحیوں کے لیے کسی کام کے لیے بھی یہ ممکن نہ تھا کہ سلطنت کے اہم معاملات کو انجام دے سکتے۔ اس لیے وہ اس دائرے کو توڑ کر باہر نکلنے پر مجبور ہوئے، اور جب وہ اسے توڑ کر باہر نکل آئے تو اپنے نفس کے فتوے پر عمل کرنے میں بالکل آزاد تھے۔ اس عملی دنیا میں ان کے لیے کوئی ایسی دینی ہدایت اور الٰہی روشنی موجود ہی نہ تھی جو انہیں صحیح راستہ دکھا سکتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیوں نے خدا کی زمین میں فتنہ و فساد برپا کرنا شروع کر دیا اور طغیان و سرکشی کا وہ ہنگامہ برپا کیا کہ آج تک سرد نہ ہو سکا۔
قسطنطین کے عہد میں تو سلطنت کے تقریباً نصف باشندے صنم پرست تھے، اس لیے اس نے ان لوگوں پر زیادہ ظلم کرنے کی جرات نہ کی۔ بس اتنے ہی پر اکتفا کیا کہ مندروں کے دروازے اور ان کی چھتیں منہدم کرا دیں، بتوں کے کپڑے اور زیور اتروا دیے اور ان کو معبدوں سے باہر نکلوا دیا۔ [Rev. Cutts, Constantine the Great, P. 278] مگر چند سال بعد جب کلیسا کو ملک پر پورا تسلط حاصل ہو گیا تو
مسیحیت کے مقتداؤں نے توثیقیت کو کچلنے کا عزم کر لیا اور مذہبی قوانین کے حسب ذیل دواصولل مقرر کیے جن سے غیر مذاہب کو جبراً مٹانے کے بے شمار احکام مستنبط ہوتے تھے:
۱۔ جن گناہوں کو بحریت منع نہ کرے یا ان پر سزا نہ دے ان کی ذمہ داری میں وہ خود بھی ایک حد تک شریک ہوتا ہے۔
۲۔ مصنوعی دیوتاؤں اور حقیقی ارواح خبیثہ کی بت پرستانہ عبادت، خالق برتر کی بزرگی کے خلاف سخت قابل نفرت جرم ہے۔
ان اصولی موضوع کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب سے پہلے رومن سینیٹ نے ضابطۂ قرار داد منظور کی کہ: "رومیوں کا مذہب جوپیٹر (Jupiter) کی عبادت نہیں بلکہ مسیح کی عبادت ہے۔" اس کے بعد بتوں کی پرستش، ان پر نذر و نیاز چڑھانا اور قربانیاں کرنا، سب کچھ قانوناً ممنوع قرار دے دیا گیا اور ان افعال کے مرتکبوں کے لیے شدید سزائیں مقرر کی گئیں۔ شاہ تھیوڈوسیس نے اپنے فرامین میں ہر قسم کی غیر مسیحی عبادتوں کو، خواہ وہ علانیہ کی جائیں یا گھروں میں چھپ کر، حکومتِ وقت کے خلاف بغاوت اور جرمِ مستلزمِ سزائے موت قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مندروں کو توڑنے، ان کی جائیدادیں ضبط کرنے اور عبادت کے سامان کو تباہ کرنے کا بھی عام حکم دے دیا۔ اس حکم کے مطابق سب سے پہلے مرکزِ حکومت میں وثنیت کا جبراً خاتمہ کیا گیا، پھر صوبوں میں بھی اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ گال کے صوبہ میں ٹورس کے بشپ نے دیندار پادریوں کی ایک پوری فوج لے کر مندروں، معبدوں اور بتوں کو، بلکہ ان درختوں کو بھی جو مقدس سمجھے جاتے تھے، پیوندِ خاک کر دیا۔ شام میں مسیحیت کے مقدس پیشوا مارسیلوس (Marcellus)، جو حلقۂ اپامیا (Diocese of Apamea) کا بشپ تھا، نے جوپیٹر کے عظیم الشان مندر کو تباہ کر دیا اور ایک پوری فوج فراہم کی جسے ساتھ لے کر وہ اپنے حلقہ کے غیر مسیحی معابد کو توڑتا پھرتا تھا۔ اسکندریہ میں مصر کے آرچ بشپ تھیوفیلوس (Theophilus) نے سیراپیس کے مندر کو، جو یونانی فنِ تعمیر کا بے نظیر نمونہ تھا، مسمار کر دیا۔ اس کے کتب خانے کو، جس میں خاندانِ بطالسہ نے علوم و فنون کا بہترین ذخیرہ جمع کیا تھا، نذرِ آتش کر دیا۔[اس کتب خانے کو تباہ مارک انتھونی نے نہیں بلکہ اس کی طرف دو لاکھ کتابیں پیش کی تھیں۔ اور ڈریپر (Draper) لکھتا ہے کہ بیس برس بعد اس کتب خانے کی خالی الماریوں کو دیکھ کر ہر وہ دل رنج و الم اور نفرت و غضب سے بھر جاتا تھا جو مذہبی تعصب سے بالکل سیاہ نہ ہو گیا ہو۔ یہی کتب خانہ ہے جس کے جلانے کا الزام بعض عیسائی مورخوں نے مسلمانوں پر لگایا ہے۔] سیراپیس کے بت کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس کے بازوؤں کو اسکندریہ کے بازاروں میں گھمایا تاکہ اس کے معتقدین دیکھ کر جلیں، اور آخر میں اس کے ٹکڑوں کو ہزارہا آدمیوں کے سامنے جلوا دیا۔ اسی طرح دوسرے صوبوں میں بھی "مذہبی دیوانوں کی ایک پوری فوج، کسی باضابطہ اختیار اور کسی نظم و تربیت کے بغیر، پرامن باشندوں پر حملہ کرتی اور قدیم فنِ تعمیر کے بہترین نمونوں کو برباد کرتی پھرتی تھی۔[یہ تمام تفصیلات گیب بن کی تاریخ زوال و سقوط سلطنت روم کے باب ٣٨ سے لی گئی ہیں]۔
ان مظالم کا نتیجہ یہ ہوا کہ بت پرست رعایا نے تلوار کے خوف سے اس مذہب کو قبول کر لیا جس کو وہ دل سے پسند نہ کرتی تھی۔ بددل اور بے اعتقاد پیروؤں سے مسیحی کلیسا بھر گئے۔ ۸۳ برس کے اندر روم کی عظیم الشان سلطنت سے وثنیت کا نام و نشان مٹ گیا اور یورپ، افریقہ اور مشرقِ ادنیٰ میں تلوار کے زور سے مسیحیت پھیل گئی۔
اس کے بعد سے مسیحیوں اور غیر مسیحیوں کے درمیان اور خود مسیحیوں میں باہم جس قدر لڑائیاں ہوئی ہیں ان میں اخلاق و انسانیت کے مبادی و اصول کو بالائے طاق رکھ کر جنگ کے ایسے ایسے وحشیانہ طریقے اختیار کیے گئے ہیں جن کے ہولناک ذکر سے تاریخ کے اوراق سیاہ ہیں۔ غیر مسیحی عقائد کو مٹانے کے لیے قوت کے استعمال کے جن طریقوں کو مسیحیت کے پیروؤں نے جائز کر رکھا تھا ان کا ایک نمونہ وہ مذہبی عدالتیں ہیں جو انکوئزیشن (Inquisition) کے نام سے خود پاپایان روم کے ماتحت قائم تھیں۔ ان میں کفر و الحاد، یہودیت، اسلام اور تعدد ازواج جیسے "جرائم" کی سزا دینے کے لیے جو قانون تعزیرات رائج تھا اس میں جملہ بہت سی سزاؤں کے انسانوں کو زندہ جلا دینا، زبان کاٹ ڈالنا اور مرے ہوئے شخص کی قبر کھود کر ہڈیاں نکال پھینکنا بھی شامل تھا۔ تنہا اسپین میں اس مذہبی عدالت کے حکم سے تین لاکھ چالیس ہزار آدمی مختلف طریقوں سے قتل کیے گئے ہیں جن میں ۳۲ ہزار وہ ہیں جنھیں زندہ جلایا گیا۔ اس کے علاوہ میکسیکو، قرطاجنہ، سسلی، سارڈینیا، مالٹا، نیپلز، میلان، فلانڈرس وغیرہ علاقوں کی مذہبی عدالتوں نے اپنی مدت حیات میں جتنے آدمیوں کو غیر مسیحی عقائد رکھنے کی پاداش میں ہلاک کرایا ان کی تعداد کا کم سے کم اندازہ ڈیڑھ لاکھ کیا گیا ہے۔ [Encyclopaedia Britannica, Art. Inquisition]
یہ یورپی مسیحیت کی ناقص تعلیم کا دوسرا نتیجہ ہے۔ پہلا نتیجہ تو یہ تھا کہ جب مسیحیوں نے اس مذہب کے احکام کی پابندی کی تو حد سے زیادہ نرم بن گئے، اور مقاومت کی استطاعت کے باوجود ظلم و ستم کو برداشت کر کے تین سو برس تک اپنے آپ کو تباہ کرتے رہے۔ اور دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ جب زمانہ کے انقلاب نے ان کو قوت بخشی اور سلطنت کی ذمہ داریاں ان پر آ پڑیں تو انھیں مسیحیت کے تنگ دائرے سے نکلنا پڑا اور یہاں مذہب کی ہدایت و رہنمائی نہ پا کر انہوں نے اپنے اپنے نوع پر ہر قسم کے ظلم و ستم کرنے شروع کیے اور نفس کی پیروی میں آزادی کے ساتھ جو چاہا کیا۔[تیسرا اور آخری نتیجہ یہ ہے کہ مذہب کے نام سے جبر، ظلم اور جاہلانہ تعصب کا طوفان جب حد سے گزر گیا تو انھیں خود مذہب سے نفرت ہوگئی اور وہ دنیا بھر میں لامذہبی پھیلانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے]۔
اس میں شک نہیں کہ ظلم و ستم بعض مسلمان بادشاہوں نے بھی کیے ہیں۔ جنگ کے وحشیانہ طریقے مسلمانوں کی بھی بعض لڑائیوں میں پائے گئے ہیں۔ مذہب کے نام پر غیر مذہبی جنگ کرنے کے داغ سے مسلمانوں کا دامن بھی پاک نہیں رہا ہے۔ مگر دونوں میں اصولی فرق یہ ہے کہ مسلمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری اسلام پر نہیں آتی، کیوں کہ اس نے ان کی تمام فطری ضروریات کے لحاظ سے مکمل قوانین بنا کر دیے ہیں جن میں نہ تو غیر طبعی حدود و قیود ہیں کہ ان کی پابندی ناممکن ہو اور نہ ایسی بے قیدی اور کھلی ہوئی آزادی ہے کہ انسان جو چاہے کرے۔ اس لیے پیروان اسلام سے جو نامناسب حرکات سرزد ہوئی ہیں وہ دراصل قانون شکنی کی تعریف میں آتی ہیں جن کی کوئی ذمہ داری قانون پر نہیں آتی۔بخلاف اس کے مسیحیت نے اپنے پیروں وں کو ان کی عملی زندگی کے لیے کوئی قانون بنا کر نہیں دیا۔ اس نے نہیں بتایا کہ اگر کمزور ہوں تو طاقت کیسے حاصل کریں، طاقت پائیں تو اسے استعمال کس طرح کریں، دوسری قوموں سے صلح ہو تو کن اصول پر ہو، جنگ ہو تو کن مقاصد کے لیے ہو، میدان جنگ میں جائیں تو دشمن سے کیا برتاؤ کریں، دشمن پر فتح پائیں تو اس کے ساتھ کیا سلوک کریں، غیر مذاہب کے باشندوں سے مراعات کریں تو کس حد تک، اور ان پر سختی کریں تو کن امور میں۔ اس لیے پیروان مسیحیت نے پہلے اس کے دائرے میں رہ کر اور پھر اس کے دائرے سے نکل کر جتنے اخلاقی گناہ کیے ہیں ان کی ذمہ داری میں خود مسیحیت بھی شامل ہے، کیوں کہ اس نے انہیں سیدھی راہ نہیں بتائی۔ اسلام کی طرح مسیحیت اپنے پیرووں کے گناہوں سے اس بنا پر تبریٰ نہیں کرسکتی کہ انھوں نے اس کے بتائے ہوئے اصول و قواعد کی پیروی نہیں کی۔ وہ ان دو صورتوں میں سے ایک کو اختیار کرنے پر مجبور ہے یا تو ان سب عیسائیوں کو گناہ گار قرار دے جنھوں نے سیاست و حکمرانی کی ذمہ داری قبول کی ہے، خواہ حق کے ساتھ اسے انجام دیا ہو یا غیر حق کے ساتھ، یا پھر اسے ان تمام عیسائیوں کو بے گناہ قرار دینا پڑے گا جنھوں نے جہاں بانی و فرماں روائی کے بار کو اٹھایا اور اس کے امور کو انجام دیا خواہ حق کے ساتھ یا غیر حق کے ساتھ۔ وہ ان دونوں کے درمیان کوئی تیسری صورت اختیار نہیں کرسکتی، اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ یہ دونوں صورتیں غیر معقول ہیں۔