الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
مفتوح قوموں کے ساتھ برتاؤ
اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ منو کا قانون اس عہد میں مدوّن ہوا تھا جب غیر آریہ اقوام کی سیاسی قوت فنا ہو چکی تھی اور ہندوستان میں ان کی ایک بھی حکومت باقی نہ رہی تھی جس سے آریوں کی جنگ ہوتی۔ اس لیے منو کی دھرم شاستر میں ایسے قوانین کی تلاش فضول ہے جو آریہ اور غیر آریہ اقوام کی جنگ کے لیے مقرر کیے گئے ہوں۔ اس زمانہ میں وہ تمام غیر آریہ قومیں جو ویدوں میں داس، دسیو، راکشش اور اُسر وغیرہ ناموں سے یاد کی گئی ہیں، یا تو آبادیوں کو چھوڑ کر پہاڑوں میں پناہ گزین ہو چکی تھیں یا مغلوب ومفتوح ہو کر ملک کی آبادی کا جز بن چکی تھیں اور مجموعی طور پر ان کا نام ”شودر“ رکھ دیا گیا تھا۔ پس منو سے ہم کو جو کچھ معلوم ہو سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہندو قانون ہندوؤں کی باہمی جنگ میں فاتح ہندو کو مفتوح ہندو کے ساتھ کیا سلوک کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس کے احکامِ جنگ ہم کو یہ نہیں بتاتے کہ مفتوح غیر آریہ قوم کے ساتھ فاتح آریہ کو کیا سلوک کرنا چاہیے۔ اس چیز کے معلوم کرنے کے لیے ہمیں شودروں کے متعلق منو کے احکام پر نظر ڈالنی چاہیے:
۱۔ منو شودروں کو فطرتاً ذلیل قرار دیتا ہے۔ وہ اعمال کی بنا پر نہیں بلکہ پیدائش کی بنا پر ان کو سب سے ادنیٰ مخلوق سمجھتا ہے:
”برہما نے اپنے منہ سے برہمن کو، ہاتھ سے کشتری کو، ران سے ویش کو اور پاؤں سے شودر کو پیدا کیا“ [یہی مضمون رگ وید (۱۲:۹:۱۰) اور بھاگوت پران (۵:۲:۷۳) میں بھی آیا ہے]۔
”برہمن کے نام کا پہلا حصہ تقدس کو ظاہر کرنے والا ہو، کشتری کا طاقت کو، ویش کا دولت کو اور شودر کا ذلت کو۔“ (۱۳:۲)
”برہمن کے نام کا دوسرا حصہ خوش حالی کو ظاہر کرے، کشتری کا تحفظ کو، ویش کا دولت کو اور شودر کا غلامی و خدمت گاری کو۔“ (۳۲:۲)
”دویج ذاتیں صرف تین ہیں: برہمن، کشتری اور ویش۔ چوتھی شودر کی ذات کا صرف ایک جنم ہے۔“ (۴:۱۰)
”ہاتھی، گھوڑے، شودر، قابل نفرت ملیچھ لوگ، شیر، تیندوے اور سور (تناسخ کے) وہ ادنیٰ مدارج ہیں جو تاریکی سے حاصل ہوتے ہیں۔“ (۱۲:۴۳)
۲۔ منو شودروں کو بالذات نجس و ناپاک اور کمینہ سمجھتا ہے اور معاشرت میں دویج یعنی شریف آریہ قوموں کو ان سے کامل پرہیز کا حکم دیتا ہے:
”شودر کی لڑکی کو اپنے پلنگ پر بٹھانے سے برہمن نرک میں جاتا ہے۔“ (۱۷:۳)
”وہ کسی برادری سے خارج کیے ہوئے شخص یا چنڈال [جو شخص برہمن عورت کے بطن اور شودر مرد کے نطفہ سے پیدا ہو وہ ”چنڈال“ ہے۔ (منو ۱۲:۱۰)] کے ساتھ ایک درخت کے سایہ میں بھی نہ ٹھیرے۔“ (۷۹:۴)
”جو کوئی شودر کو دھرم کی تعلیم دے گا اور جو اسے مذہبی مراسم ادا کرنا سکھائے گا وہ اس شودر کے ساتھ ہی اسم ورت نامی جہنم میں جائے گا۔“ (۸۱:۴)
”وہ شودر کے سامنے وید نہ پڑھے۔“ [ اگر کوئی شودر بالارادہ وید کے الفاظ سن لے تو اس کے کان میں پگھلی ہوئی رانگ یا لاکھ ڈال دی جائے، اگر وید کی عبارت پڑھے تو اس کی زبان کاٹ لی جائے، اور اگر وہ اس کو یاد کرے تو اس کے جسم کے دو ٹکڑے کر دیے جائیں۔“ (گوتم ۱۲: ۴-۶)] (۹۹:۴)
”وہ شودر کا کھانا نہ کھائے۔“ [جو کھانا شودر کا تیار کیا ہوا ہو، خواہ اس کا ہاتھ اسے لگا ہو یا نہ لگا ہو، بہر حال اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔“ (اپستمبھ، ۱: ۵: ۱۶-۲۲) ”اگر کوئی برہمن ایسی صورت میں مرے کہ اس کے پیٹ میں شودر کا کھانا موجود ہو تو آئندہ جنم میں وہ بستی کا سور پیدا ہوگا۔“ (وشٹھ ۶: ۲۷) ”اگر کسی برہمن کو کھانا کھاتے میں کوئی شودر ہاتھ لگا دے تو وہ کھانا چھوڑ دے۔“ (اپستمبھ ۱: ۵: ۱۷)] (۲۱۱:۴)
”شودر کا کھانا روحانی نور کو زائل کرتا ہے۔“ (۲۱۸:۴)
”اگر برہمن بھولے سے شودر کا کھانا کھا لے تو تین دن تک روزہ رکھے، اور اگر عمداً کھا لے تو اس کا وہی کفارہ ادا کرنا چاہیے جو حیض، پاخانہ یا پیشاب پینے اور کھانے والے کے لیے مقرر ہے۔“ (۳۲۲:۴)
”جس شخص نے چنڈال کو چھو لیا ہو وہ صرف نہانے ہی سے پاک ہوسکتا ہے۔“ (۸۵:۵)
”شودر کا جنازہ شہر کے جنوبی حصہ سے جائے اور دویجوں کے جنازے مغربی، شمالی اور مشرقی سمتوں سے۔“ (۹۲:۵)
”اگر کسی برہمن کی اپنی ذات کا آدمی موجود نہ ہو تو اس کی میت کو شودر کے ہاتھ سے نہ اٹھوانا چاہیے، کیوں کہ جو مراسم تجہیز ایک شودر کا ہاتھ لگنے سے آلودہ ہوجائیں وہ بہشت کی طرف نہیں جاسکتے۔“ (۱۰۳:۵)
”شودر مرد سے ویش یا کشتری یا برہمن عورت کے ہاں جو اولاد پیدا ہو وہ مخلوط نسل کی ہوگی، ان کے نام علی الترتیب ایوگو، کشتر اور چنڈال ہیں اور یہ سب سے ادنیٰ مخلوق ہیں۔‘‘ (۱۲:۱۰)
’’چنڈال اور سوپاس لوگوں کی سکونت بستی کے باہر ہونی چاہیے۔ انھیں ثابت برتن استعمال نہ کرنے چاہئیں۔ ان کی جائیداد صرف کتے اور گدھے ہوں۔ ان کو مُردوں کے کپڑے پہنائے جائیں۔ ان کے کھانے کے برتن ٹوٹے ہوئے ہوں۔ ان کے زیور لوہے کے ہوں۔ وہ ہمیشہ خانہ بدوش پھرتے رہیں۔ جو شخص اپنے دینی و دنیوی فرائض کا پابند ہو وہ ان سے کوئی ربط ضبط نہ رکھے۔ ان کے تمام تعلقات آپس ہی میں ہوں اور برابر والوں ہی میں وہ شادی بیاہ کریں۔‘‘
’’ان کو کھانا ٹھیکروں میں دیا جائے، مگر دینے والا اپنے ہاتھ سے ان کے ہاتھ میں نہ دے۔ راتوں کو وہ بستیوں میں نہ پھریں۔ دن کو کام کاج کے لیے آئیں تو راجا کے مقرر کیے ہوئے مخصوص نشانات ان کے بدن پر لگے ہوئے ہوں۔ وہ لاوارث مُردوں کو لے جانے کا کام کریں۔ جن لوگوں کو قانوناً سزائے موت دی گئی ہو انھیں چنڈال قتل کریں اور وہی مقتول کے کپڑے، بچھونا اور زیور لے لیں۔‘‘ (۵۶-۵۱:۱۰)
’’برہمن شودر سے کبھی دان نہ لے۔ اگر وہ اس سے دان لے کر قربانی کرے گا تو آئندہ جون میں چنڈال پیدا ہوگا۔‘‘ (۲۴:۱۱)
’’اگر کوئی برہمن شودر کا جھوٹا پانی پی لے تو اسے تین دن رات تک کش گھاس کے ابلے ہوئے پانی کے سوا کچھ نہ پینا چاہیے۔‘‘ (۴۹:۱۱)
’’اگر کوئی برہمن شودر کا جھوٹا کھانا کھا لے تو وہ سات دن تک آش جو کے سوا کچھ نہ کھائے پیئے۔‘‘ (۱۵۳:۱۱)
۳۔ منو شودروں کو دویجوں کی غلامی پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے نزدیک شودر کا پیدائشی اور فطری وظیفہ ہی یہ ہے کہ وہ دویجوں کی خدمت کرے:
”قادر مطلق نے شودر کے لیے صرف ایک فرض رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ بے چون و چرا ان تینوں (برہمن، کھشتری اور ویش) کی خدمت کرتا رہے۔“ (۹۱:۱)
”برہمن کی خدمت میں لگا رہنا شودر کا سب سے بہتر کام ہے۔ اس کے سوا جو کام وہ کرے گا وہ اسے کچھ فائدہ نہ دے گا۔“ (۱۲۳:۱۰)
”راجا شودر ذات کے ہر آدمی کو دویجوں کی خدمت کا حکم دے۔“ (۴۸:۸)
”شودر ذات کا ہر آدمی خواہ خریدا ہو یا نا خریدا، اسے برہمن اپنی خدمت پر مجبور کر سکتا ہے، کیوں کہ اس کو واجب الوجود نے برہمن کی غلامی ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔“ (۴۱۳:۸)
”شودر کو اگر اس کا آقا آزاد کر دے تب بھی وہ آزاد نہیں ہو سکتا کیوں کہ جو حالت اس کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے اس سے کون اس کو نکال سکتا ہے؟“ (۴۱۴:۸)
۴۔ منو شودر کو اس کی اپنی کمائی ہوئی دولت و جائداد پر بھی حقوق ملکیت دینے سے انکار کرتا ہے:
”ایک برہمن بلا تامل اپنے شودر غلام کا مال لے سکتا ہے، کیوں کہ کوئی مال بھی شودر کی ذاتی ملک نہیں ہے۔ وہ ایک ایسی ہستی ہے جس کی جائداد اس کا آقا لے سکتا ہے۔“ (۴۱۷:۸)
”شودر اگر مال و دولت حاصل کرنے کی قوت رکھتا ہو تب بھی اسے حاصل نہ کرنا چاہیے، کیونکہ جو غلام دولت جمع کر لیتا ہے وہ برہمن کو اذیت دیتا ہے۔“ (۱۲۹:۱۰)
۵۔ قانون وراثت میں بھی منو نے دویجوں اور شودروں کے درمیان امتیاز رکھا ہے۔ بعض حالات میں وہ شودر کو حق میراث سے بالکل محروم کرتا ہے اور بعض حالات میں دویجوں سے کمتر درجہ دیتا ہے:
”اگر برہمن کی چار بیویاں چاروں ذاتوں کی ہوں اور چاروں سے اس کے ہاں بیٹے پیدا ہوں تو ان کے درمیان تقسیم اس طرح ہو گی: کاشتکار، ملازم، سانڈ، سواری کے گھوڑے، گاڑیاں، زیورات اور مکان، برہمنی کے لڑکے کو ملیں گے، اور ان چیزوں کو الگ کرنے کے بعد جو املاک بچیں گی اس میں بھی اس کی اعلیٰ ذات کے لحاظ سے اس کا حصہ خاص طور پر زیادہ ہو گا۔“
”برہمن لڑکا باقی ماندہ ترکہ میں سے تین سہام، اور کشتری عورت کا لڑکا دو سہام، ویش عورت کا لڑکا ڈیڑھ سہام، اور شودر عورت کا لڑکا ایک سہم۔“
”یا پھر ایک عالم قانون دان آدمی مجموعی طور پر تمام جائداد کو دس حصوں میں تقسیم کر کے اس طرح بانٹے: برہمنی کے لڑکے کو چار حصے، چھترانی کے لڑکے کو تین حصے، ویشنی کے لڑکے کو دو حصے، اور شودرانی کے لڑکے کو ایک حصہ۔“
”اس برہمن کے ہاں خواہ پہلی تین ذاتوں کی بیویوں سے بیٹے ہوں یا نہ ہوں بہر صورت شودرانی کے لڑکے کو دسواں سے زیادہ نہ ملے گا۔“
”شودر عورت کے پیٹ سے برہمن، کشتری یا ویش مرد کا لڑکا باپ کے ترکہ میں سے کوئی حصہ نہ پا سکے گا۔ اس کا باپ جو کچھ اسے دے دے وہی اس کی ملک ہے“ [اس اشلوک کا مضمون اوپر کے اشلوک سے صراحتاً متناقض ہے۔ اس تناقض کو منو کے شارحین (کلوکا اور مدھاتیتھی) نے بھی محسوس کیا ہے اور اس کی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ شودرانی کے لڑکے کو حصہ ملنے کا انحصار اس کے اعمال پر ہے۔ اگر وہ نیکو کار ہو اور اس کی ماں باقاعدہ باپ کے نکاح میں آئی ہو تو اسے حصہ مل سکتا ہے]۔
”دویج ذات کے مردوں کی جو اولاد خود اپنی ذات کی عورت سے پیدا ہوئی ہو وہ باہم ترکہ کی مساویانہ تقسیم کرے۔“ (۱۵۶-۱۴۹:۹)
۶۔ فوجداری قوانین میں منو نے شودروں کے ساتھ انتہائی سختی برتی ہے۔ وہ ان کی جان اور عزت کو قانون کی پناہ دینے میں حد درجہ بخل سے کام لیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں دویجوں کے حقوق کی تعیین اور تحفظ میں اتنی فیاضی برتتا ہے کہ شودروں کی آئینی حیثیت بالکل صفر کے برابر رہ جاتی ہے:
”ایک شودر اگر دوتج کی شان میں گستاخی کرے تو اس کی زبان کاٹ دی جائے، کیوں کہ وہ برہما کے حصہ اسفل سے پیدا ہوا ہے۔“ (۲۷۰:۸)
”اگر وہ ان کا نام اور ان کی ذات کا نام لے کر توہین کرے تو دس انگل لمبی لوہے کی سلاخ آگ میں سرخ کر کے اس کے حلق میں اتار دی جائے۔“ (۲۷۱:۸)
”اگر وہ غرور کی راہ سے برہمن کو اس کے فرائض کے متعلق ہدایت دے تو راجا اس کے منہ اور کان میں جلتا ہوا تیل ڈالنے کا حکم دے۔“ (۲۷۲:۸)
”جو ادنیٰ ترین ذات کا آدمی (شودر) اعلیٰ ذات کے آدمی (برہمن) کے برابر بے ادبی سے ایک ہی جگہ بیٹھ جائے، اس کے پچھلے حصہ پر نشان لگا کر راجا یا تو اس کو ملک بدر کر دے یا اس کے سرین کٹوا دے۔“ (۲۸۱:۸)
”اگر وہ برہمن پر غرور سے تھوک دے تو راجا اس کے دونوں ہونٹ کٹوا دے، اگر وہ اس پر پیشاب کرے تو اس کی شرمگاہ کو قطع کرا دے، اگر وہ برہمن کی طرف گوز صادر کرے تو اس کی جائے مخصوص کٹوا ڈالے۔“ (۲۸۲:۸)
”اگر وہ برہمن کے سر کے بال یا اس کے پاؤں یا اس کی ڈاڑھی یا اس کا گلا یا اس کے بیضے پکڑے تو راجا بلا تامل اس کے ہاتھ کٹوا ڈالے۔“ (۲۸۳:۸)
”اگر ایک شودر کسی دوتج عورت سے زنا کرے تو اس عورت کے غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں اس کا وہ عضو کاٹا جائے گا جس سے اس نے ارتکاب جرم کیا ہے اور اس کی تمام جائداد ضبط کی جائے گی۔ اور اگر وہ عورت شادی شدہ ہو تو وہ اپنی ہر چیز حتیٰ کہ جان سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔“
”برہمن عورت سے زنا کرنے کا جرم اگر ویش سے سرزد ہو تو اسے ایک سال قید اور کل جائداد کی ضبطی کی سزا دی جائے گی۔ اگر کشتری یہ فعل کرے تو اس پر ایک ہزار پن جرمانہ کیا جائے گا، یا گدھے کے پیشاب سے اس کی ڈاڑھی مونچھ مونڈی جائے گی۔ اور اگر وہ برہمن عورت غیر شادی شدہ ہو تو ویش کو ۵۰۰ اور کشتری کو ۱۰۰۰ پن جرمانہ دینا ہو گا۔ اگر ایک برہمن مرد کسی شادی شدہ عورت سے زنا بالجبر کرے تو اس پر ۱۰۰۰ پن جرمانہ کیا جائے گا، اور اگر اس کی مرضی سے کرے تو صرف ۵۰۰ پن۔‘‘ (۸: ۳۷۴-۳۷۸)
’’راجا کسی برہمن کو ہرگز نہ قتل کرے خواہ وہ کیسی ہی شدید معصیت کا مرتکب ہوا ہو۔ وہ برہمن مجرم کو اس کی ذات و جائداد سے ادنیٰ تعرض کیے بغیر صرف جلاوطن کر سکتا ہے۔ روئے زمین پر برہمن کے قتل سے زیادہ عظیم گناہ اور کوئی نہیں ہے۔ اس لیے بادشاہ اپنے دل میں اس حرکت کا خیال بھی نہ لائے۔ [ اپستمبھ دھرم شاستر سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل، چوری اور ڈاکا کے شدید جرائم کی پاداش میں برہمن کو صرف اتنی سزا دی جاسکتی ہے کہ اسے اندھا کر دیا جائے۔ (۱۷:۲) لیکن اگر شودر انھی جرائم کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے موت کی سزا ہے۔ (۱۶،۲۷:۲)] (۳۸۱-۳۸۰:۸)
’’نیچ ذات کا آدمی اگر ارادتاً برہمن کو دکھ پہنچائے تو راجا اس کو مختلف قسم کی عبرت ناک جسمانی سزائیں دے۔‘‘ (۲۴۸:۹)
’’ایک کشتری کو قتل کرنے کا کفارہ اس سے چوتھائی ہے جو برہمن کو قتل کرنے والے کے لیے مقرر ہے۔ ویش کو قتل کرنے کا کفارہ اس کا آٹھواں حصہ ہے۔ اور شودر اگر نیکوکار ہو تو اس کو قتل کرنے کا کفارہ اس سے سولھواں حصہ۔‘‘ (۱۲۷:۱۱)
’’اگر برہمن کسی کشتری کو بلا ارادہ قتل کرے تو وہ اپنے آپ کو گناہ سے پاک کرنے کے لیے ایک سانڈ اور ایک ہزار گائیں دان دے یا تین سال تک نفس کش ریاضتیں کرے۔ اور اگر وہ بلا ارادہ کسی نیکوکار ویش کو قتل کرے تو ایک سال نفس کش ریاضت کرے یا سو گائیں اور ایک سانڈ دان دے۔ اور اگر شودر کو بلا ارادہ قتل کر دے تو یہی ریاضت چھ مہینا تک کرے یا دس سپید گائیں اور ایک سانڈ برہمنوں کو دان دے۔‘‘ (۱۱: ۱۲۷-۱۳۱)
”اگر برہمن کسی بلی یا نیولے یا چوہے یا مینڈک یا کتے یا چھپکلی یا الو یا کوے کو مار ڈالے تو اس کا وہی کفارہ ہے جو شودر کو مارنے پر مقرر کیا گیا ہے۔“ (۱۳۲:۱۱)
یہ احکام اپنی تفسیر و تشریح آپ کر رہے ہیں۔ ہندو قانون مفتوح قوموں کو جس ذلت کی نظر سے دیکھتا ہے اور سوسائٹی میں ان کو جو ادنیٰ درجہ دیتا ہے اس کی کیفیت ان احکام سے صاف ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں اگر اسلام کے ماتحت غیر مسلم ذمیوں کے حقوق کو دیکھا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔