مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

نسلی امتیاز

موجودہ زمانہ کے بعض ہندو اہل قلم نے عہد جدید کے افکار سے متاثر ہو کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہندو مذہب میں ذاتوں کی تقسیم پیدائش اور نسل پر نہیں بلکہ گن اور کرم پر ہے۔ اگر واقعہ یہی ہوتا تو ہم کو اس سے بڑی خوشی ہوتی۔ مگر افسوس ہے کہ ہندو قانون کی اصلی کتابیں اپنے الفاظ اور اسپرٹ دونوں میں اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتیں۔ ان سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندو مذہب اعمال اور خصائل کی بنا پر فرق مراتب کے تخیل سے قطعاً نا آشنا ہے۔ اس میں ذاتوں کی تقسیم ”کرم“ پر نہیں بلکہ ”ورن“ پر مبنی ہے۔ ابتدائی زمانہ میں جن لوگوں کو داس اور دسیوں کے خطاب دیے گئے تھے اور بعد میں جنھیں شودر قرار دیا گیا، ان کی یہ تذلیل اس بنا پر نہ تھی کہ وہ بد اعمال تھے، بلکہ اس بنا پر تھی کہ وہ غیر آریہ نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ اوپر قانون وراثت، قانون تعزیرات اور قوانین معاشرت کے جو احکام نقل کیے گئے ہیں، ان پر ایک سرسری نظر ڈال لینے ہی سے یہ حقیقت روشن ہو جائے گی۔ ان میں آپ دیکھیں گے کہ نیکوکار شودر کو بھی وہ حقوق نہیں دیے گئے ہیں جو بدکار اور شدید جرائم کا ارتکاب کرنے والے برہمن کو حاصل ہیں۔ برہمن کا لڑکا اگر شودرانی کے پیٹ سے پیدا ہو تو نیکوکار ہونے کے باوجود اس کو خود اپنے اس بھائی کے برابر حقوق نہیں دیے جاتے جو باپ کی برہمن بیوی سے پیدا ہوا ہے۔ شودر مرد کی اولاد اگر برہمن عورت کے پیٹ سے پیدا ہو تو محض یہ پیدائش ہی اس کو چنڈال بنا دے گی اور اس کو وہ ذلیل زندگی بسر کرنی ہوگی جو منو نے چنڈالوں کے لیے مخصوص کر دی ہے۔ یہ کس لیے؟ کیا یہ کرم کا پھل ہے؟ کیا شودر کے ہاں پیدا ہونا بھی کوئی بدعملی اور برہمن کے ہاں پیدا ہونا کوئی نیکوکاری ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ہم سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ یہ نیکی اور بدی کا نہیں، نسل اور قومیت کا امتیاز ہے۔ ہندو مذہب نے شرافت اور ذلت کو انسان کے ذاتی اعمال و خصائص سے نہیں بلکہ نطفہ اور بطن سے مخصوص رکھا ہے۔ اس باب میں خود منو نے بھی کافی تصریح سے کام لیا ہے۔ وہ کہتا ہے:

”جو شخص شریف مرد اور کمینہ عورت سے پیدا ہو وہ اپنے اچھے اعمال سے شریف ہو سکتا ہے [ اگرچہ حقوق کے لحاظ سے پھر بھی شریف النسل لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتا، دیکھو منو ۹:۱۳۹-۱۵۶ و ۱۱: ۱۲۷]، مگر جو کمینہ مرد سے شریف عورت کے ہاں پیدا ہو وہ کمینا ہی رہے گا۔“ (۶۷:۱۰)

”جس طرح اچھا درخت صرف اچھے بیج اور اچھی زمین ہی سے پیدا ہوتا ہے، اسی طرح جو شخص شریف مرد اور شریف عورت سے پیدا ہو وہی پورے دویج کا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔“ (۶۹:۱۰)

”خود برہما نے دویجوں کے کرم کرنے والے شودر اور شودروں کے کرم کرنے والے دویج کا موازنہ کر کے فیصلہ کیا کہ ”دونوں نہ مساوی ہیں اور نہ غیر مساوی۔ یعنی نہ وہ رتبہ میں مساوی ہیں نہ برے اعمال میں غیر مساوی“ [ رتبہ میں مساوی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی طور پر دویج اور شودر کا درجہ سوسائٹی میں وہی رہے گا جو ان کے لیے مقرر ہے۔ البتہ شودر کا اچھا عمل بجائے خود دویج کے برے عمل سے ضرور افضل ہو گا، یعنی عمل پر عمل کو فضیلت ہو گی مگر عامل کو عامل پر فضیلت نہ ہو گی]۔

ان تصریحات کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ ہندو مذہب میں انسانی برادریوں کی تقسیم نسل پر نہیں بلکہ عمل پر مبنی ہے؟

نئے زمانہ کے ہندو محققین نے یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ شودر دراصل غیر آریہ دیسی باشندے نہیں تھے بلکہ خود آریہ نسل کے ادنیٰ طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن افسوس ہے کہ علمی تحقیق کی روشنی میں یہ دعویٰ بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ شودروں میں آریہ نسل کے وہ لوگ بھی شامل کر دیے جاتے تھے جو ورن آشرم کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے باعث برادری سے خارج کیے جاتے تھے [Vedic Index of Names and Subjects, Vol. II, P. 265, 391.]۔ مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شودروں کا طبقہ بالعموم ان غیر آریہ اقوام پر مشتمل تھا جنھوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر پہاڑوں میں نکل جانے کے بجائے آریہ فاتحین کی غلامی میں رہنے کو قبول کر لیا تھا۔ لسانی اور تاریخی تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ شودر دراصل ایک قدیم ہندوستانی قبیلہ کا نام تھا جسے آریوں نے آ کر دریائے اٹک کی وادی میں سب سے پہلے مغلوب کیا تھا۔ اس کے بعد جو ہندی قبائل آریوں کی حکومت کے تابع ہو جاتے ان کو شودر کے نام سے موسوم کیا جاتا اور جو قبائل برسر جنگ ہوتے ان کو دسیو اور ملیچھ کہا جاتا تھا [Wilson, Indian Castes, Vol. I, P. III .]۔ تیترے برہمن میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ”برہمن ایک جاتی ہے جو دیوتاؤں سے نکلی ہے اور شودر ایک دوسری جاتی ہے جو اسُروں یا ارواح خبیثہ سے نکلی ہے“ [Muir, Sanskirit Texts, P.14.]۔ یہ عبارت اس بات کو بالکل واضح کر دیتی ہے کہ شودر انھی اسلاف کے اخلاف ہیں جنھیں ابتدائی زمانہ میں ارواح خبیثہ کہا گیا تھا۔

تاریخ ہند قدیم کے تمام ممتاز محققین اسی رائے کے مؤید ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ان میں سے چند کے نتائج تحقیق یہاں نقل کرتے ہیں:

راگوزن لکھتا ہے:

”یہ تقسیم آریوں اور دسیوں کے درمیان ہوتی ہے۔ مقدم الذکر کو تو ہم خوب جانتے ہیں۔ رہے موخر الذکر، سو طبعی مناسبت ہم کو اس نتیجہ کی طرف لے جاتی ہے کہ وہ دیسی باشندوں، یعنی غیر آریہ اقوام کے سوا اور کوئی نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو آریہ مہاجرین نے اس ملک میں پایا اور ایک طویل دورِ جنگ و نزاع کے بعد کم و بیش ایک غیر مرغوب انقیاد کی حالت تک پہنچا دیا۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ یہیں سے ذاتوں کی تقسیم کا ابتدائی سر رشتہ ہمارے ہاتھ لگتا ہے، کیوں کہ یہی مجموعی تقسیم اس تقسیم سے مشابہت تام رکھتی ہے جو موجودہ زمانہ میں دوجوں اور شودروں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ علاوہ بریں جات پات کے لیے آریوں کی زبان میں لفظ ”ورن“ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ”رنگ“ کے ہیں، اور آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ گورے فاتحین اور سیاہ رنگ دیسی باشندوں کے درمیان اسی رنگ کے فرق کو ویدک نظموں میں جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے۔ پھر خود لفظ دسیو بھی ان معنوی تغیرات کے ساتھ جو اس پر گزرے ہیں ہمارے سامنے ایک واضح داستان بیان کرتا ہے۔ یہ ایک قدیم آریہ لفظ ہے جسے ایرانی لوگ اس کے اصلی بے ضرر معنی (قوم اور گروہ) میں استعمال کرتے تھے...... ہندوستان آ کر اس نے ایک معاندانہ رنگ اختیار کر لیا۔ وہ دشمن کے معنی میں بولا جانے لگا [ عربی زبان میں بھی اکثر قوم کا لفظ بول کر دشمن قوم مراد لیتے ہیں]۔ پھر اس معنی سے ترقی کر کے ویدک اوہام کی سرزمین میں اس نے باسانی بھوت پریت اور ارواح خبیثہ کا مفہوم اختیار کر لیا اور اس سے تاریکی اور قحط سالی کی قوتیں مراد لی جانے لگیں جن سے اندر ہمیشہ برسر پیکار رہتا ہے اور جن کو وہ مروتوں، انگیروں اور دوسری روشنی کی قوتوں سے مغلوب کرتا ہے۔ یہ تحول جس قدر منطقی اور فطری ہے، اسی قدر وہ ویدوں کے فہم و تغیر کی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے، کیوں کہ جب اندر یا اگنی سے دسیوں کو نکالنے اور ہلاک کرنے کی درخواست کی جاتی ہے، یا جب بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے دسیوں کی طاقت کو مٹا دیا، تو اکثر اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس سے کون سے دشمن مراد ہیں؟ مادّی دشمن یا خیالی دشمن؟ اس لفظ میں آخری تغیر معنی خیز ہے۔ وہ محض خادم اور غلام کے معنی میں بولا جانے لگا اور ذرا سا لفظی تغیر کر کے اسے داس بنا دیا گیا۔ اس طرح وہ تکمیل فتح کی خبر دیتا ہے اور زیادہ جدید لفظ شودر کے قریب جا پہنچتا ہے۔ پس اس ترتیب کے مطابق ہم یہ صحیح مساوات قائم کر سکتے ہیں:

آریہ۔ دسیو = دوتج۔ شودر

اگر اس امر کا کوئی مزید ثبوت کہ شودر جاتی کو فتح کے ذریعہ سے خادم طبقہ بنالیا گیا تھا، درکار ہو تو وہ ہم کو منو کے مجموعہ قوانین میں ملتا ہے جس میں دوتِج کے لیے ایک شودر کی معیت ہر حال میں ممنوع قرار دی گئی ہے، خواہ وہ شودر راجا ہی کیوں نہ ہو۔ اب ایک شودر راجا اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس سے ایک دیسی حکمراں مراد ہے۔

اگرچہ آریہ اور دسیو یا داس کے الفاظ اور دوتج اور شودر کے الفاظ کا مقابل اصطلاحیں ہونا ایک پوری طرح ثابت اور صریح واقعہ ہے، تاہم یہ سمجھنا ایک غلطی ہے کہ دسیو اور شودر کسی خاص قوم کے نام ہیں۔ دراصل ان کا اطلاق ان تمام قوموں پر ہوتا ہے جو آریہ نہیں ہیں، بالکل اسی طرح جیسے قدیم زمانہ میں وہ تمام لوگ ”برابرہ“ (Barbarians) کہلاتے تھے جو رومی یا یونانی نہ تھے“ [ Vedic India, PP. 282-85]۔

پروفیسر ریپسن لکھتا ہے:

”رگ وید کے شعراء ان محدود معنوں میں جات پات سے واقف نہ تھے جو اس لفظ نے بعد میں حاصل کر لیے۔ مگر وہ اتنا جانتے تھے کہ آدمیوں کے مختلف طبقات ہیں، مذہبی طبقہ یا برہمن، اشراف یعنی راجنیہ یا کشتری، زمین جوتنے والے یعنی وِش یا وَیشیہ اور خدمت پیشہ طبقات یعنی شودر۔ پہلے طبقات اور چوتھے طبقہ کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہے۔ مقدم الذکر آریہ لوگ ہیں اور موخر الذکر محکوم دسیو۔ ان کے درمیان فرق رنگ (ورن) کا ہے۔ آریہ مجموعی حیثیت سے گورے رنگ کے لوگ سمجھے جاتے ہیں اور دسیو کالے رنگ کے۔“ [ Cambridge, History of India, Vol. I, P. 54]

ڈاکٹر بریڈیل کیتھ لکھتا ہے:

”آریوں اور داسوں میں بڑا اور اہم فرق رنگ کا ہے۔ آریہ ورن اور کالے رنگ کا امتیاز بلاشک و شبہ ہندوستان کے ورن آشرم (Caste System) کے اہم ترین ماخذ میں سے ایک ہے۔ کالے چمڑے کو مغلوب کرنا دراصل ویدک ہندو کے نہایت اہم اعمال میں سے ہے...... اگرچہ رگ وید میں زیادہ تر داسوں کے خلاف جنگ و پیکار اور ان سے نئی نئی زمینیں چھیننے کے لیے دریاؤں کے عبور کرنے کا تذکرہ آتا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ آریوں نے اصل باشندوں کو بالکل تہس نہس کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بے شک بہت سے قدیم باشندے آریوں کے حملوں سے بھاگ کر شمال و جنوب کے پہاڑوں میں پناہ گزیں ہو گئے، مگر دوسرے لوگ (جو باقی بچ رہے) غلام بنا لیے گئے“ [ Cambridge, History of India, Vol. I, P. 84-86]۔

پروفیسر ہاپکنس لکھتا ہے:

”غلام شودر اور نیچے طبقے کے لوگ اجتماعی عمارت کے اجزاء تسلیم کیے گئے ہیں۔ خود یہ نام ہی بتاتا ہے کہ شودر دراصل مفتوح قوم کے لوگ تھے۔ جس طرح ایتھنز میں لفظ ”کارین“ (Karian) غلام کا مترادف ہو گیا تھا، اسی طرح شودر بھی غلام کا ہم معنی ہو گیا ہے۔ تاہم شودر پاریاہ (انسانی جماعت سے خارج) نہیں تھے بلکہ گھریلو زندگی میں شامل کر لیے گئے تھے اور بعض خانگی رسموں میں حصہ لیتے تھے“ [Cambridge, History of India, Vol. I, P. 234]۔

آگے چل کر یہی مصنف لکھتا ہے:

”گوتم (۲:۱۲) نے ایک آریہ عورت سے ایک شودر کے ناجائز تعلقات پیدا کرنے کے متعلق جو قوانین بیان کیے ہیں ان کو جب اپستمبھ دھرم شاستر (۲۰،۲۶:۲، ۹،۲۷) سے مقابلہ کر کے دیکھا جاتا ہے تو قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ آریہ نسلاً برتر ہے اور سیاہ رنگ لوگوں سے ممتاز ہے...... مسٹر کیتکر نے اپنی کتاب ”ہندوستان میں ذاتوں کی تقسیم کی تاریخ“ (ص ۲۸) میں یہ رائے ظاہر کرنے میں بے احتیاطی سے کام لیا ہے کہ ”آریوں اور ڈراوڑوں کے درمیان کوئی نسلی امتیاز محسوس نہیں ہوتا تھا۔“ یہ سچ ہے کہ جو لوگ جات برادری سے خارج کر دیے جاتے وہ پھر آریہ نہیں کہلاتے تھے۔ مگر کوئی شودر کبھی آریہ نہیں سمجھا گیا۔ آریہ قوم نے رگ وید کے زمانہ سے لے کر بعد تک ہمیشہ نسلی امتیاز ظاہر کیا ہے [Cambridge, History of India, Vol. I, P. 246]۔

ان شہادتوں کے مطالعہ سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ ہندو قانون میں جن لوگوں کو شودر قرار دیا گیا ہے وہ دراصل غیر آریہ مفتوح اقوام ہیں۔ لہٰذا ان کے لیے جو قوانین ہندو دھرم شاستروں میں بیان کیے گئے ہیں وہ ان قوموں کے ساتھ ہندو دھرم کے برتاؤ کو ظاہر کرتے ہیں جو مفتوح و مغلوب ہو کر اس کی حکومت کے تابع ہو جائیں۔