الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
رگ وید
رگ وید کے وہ منتر جن میں جنگ کا مضمون پایا جاتا ہے حسب ذیل ہیں:
”اے اندر! وہ دولت لا جو مسرت بخشے، فاتح کی دائمی فاتحانہ دولت جو ہماری خوب مدد کرے، جس کے ذریعہ سے ہم دست بدست لڑائی میں اپنے دشمنوں کو دفع کر سکیں۔“ (۲،۱:۸:۱)
”اے روشن آگ! تو جس پر متبرک تیل ڈالا جاتا ہے ہمارے دشمنوں کو جلا دے جن کی حفاظت خبیث روحیں کرتی ہیں۔“ (۵:۱۳:۱)
”(اندر اور وارونا) کی نصرت سے ہم دولت کا بڑا خزانہ جمع کر لیں اور اس کے کھتے بھر لیں، کافی اور بچا رکھنے کے قابل۔ اے اندر اور وارونا! تم کو میں دولت کے لیے متعدد صورتوں سے پکارتا ہوں، ہم کو تم فتح مند رکھو۔“ (۷،۶:۱۷:۱)
”ہر بد گو کو قتل کر دے اور جو کوئی ہم کو خفیہ طریقوں سے (غالباً جادو سے) تکلیف پہنچائے اسے برباد کر۔ اے اندر! ہم کو خوبصورت گھوڑے اور گائیں دلوا، ہزاروں کی تعداد میں، اے بڑے دولت مند!“ (۷:۲۹:۱)
”تو آریوں اور دسیووں [ ڈاکٹر راجندر لال مترا نے اپنی کتاب (Indo Aryans) میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دسیو سے خود آریوں کے نابکار قبائل مراد ہیں۔ (جلد اوّل، صفحہ ۲۱۰) لیکن خود ویدوں کے مطالعہ سے یہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ آریہ حملہ آور اس لفظ سے ہندوستان کے ان اصلی باشندوں کو یاد کرتے تھے جن سے ان کی جنگ تھی۔ یہ صرف میرا اپنا احساس ہی نہیں ہے بلکہ وید کے دوسرے مطالعہ کرنے والوں نے بھی یہی محسوس کیا ہے۔ گرفتھ لکھتا ہے:
”یہ نام اکثر ان دیسی اقوام کے لیے مستعمل ہوتا ہے جو آریوں کی مہاجرت میں مزاحم ہوئی تھیں۔ بعد میں یہ اُن الفاظ تمام لوگوں کے لیے بولا جانے لگا جو وید کی عبادت اور مخصوص برہمی رسوم ادا نہیں کرتے۔“ (ترجمہ اتھروید، ج ۱، ص ۹)
پروفیسر بلوم فیلڈ لکھتا ہے:
”ایک نامعلوم زمانہ میں جو آج کل کے تخمینہ کے مطابق ۱۵۰۰ قبل مسیح میں شروع ہوا تھا، مگر جوممکن ہے کہ اس سے بھی زیادہ قدیم تاریخ سے شروع ہوا ہو، آریہ قبائل نے ارضِ ایران کی بلندیوں سے جو کوہستانِ ہندوکش کے شمال میں ہیں، شمال مغربی ہندوستان یعنی دریائے سندھ اور اس کے باج گزاروں کی سرزمین میں ہجرت کرنی شروع کی۔ ملک کے اصلی غیر آریہ باشندے جو آریوں سے ممیز کرنے کے لیے دسیو کہے جاتے ہیں آسانی سے مغلوب ہو گئے۔“ (Encyclopaedia of Religions, Vol.VIII (P.107
پروفیسر میکڈانل لکھتا ہے:
”رگ وید میں داس اور دسیو کی اصطلاحیں عموماً ان سیاہ رنگ قدیم باشندوں کے لیے استعمال کی گئی ہیں جنھیں فاتح آریوں نے مغلوب کیا تھا۔“ (Encyclopaedia of Religions, Vol. XII, P.610)
ولیم کروک لکھتا ہے:
”بڑے بڑے دیوتا اپنے پجاریوں کے فیاض مربی ہیں۔ وہ دسیو یا سیاہ رنگ دیسی باشندوں کے خلاف جنگ کرنے میں ہندو آریہ کی قیادت کرتے ہیں۔“ (Encyclopaedia of Religions, Vol. VI, P.691)] کے درمیان امتیاز کر، جو ادھرمی ہیں ان کو سزا دے اور انھیں اس کے حوالہ کر دے جس کی گھاس (دیوتاؤں کے نذرانے کے لیے) کٹی رکھی ہے۔“ (۸:۵۱:۱)
”ان خوب صورت شعلوں اور سوم رس کے قطروں سے خوش ہو کر ہمارے گھوڑوں اور گایوں کے افلاس کو دور کر دے۔ ان قطروں کے باعث اے اندر! دسیوں کو منتشر کر دے اور ان کی نفرت سے محفوظ ہو کر ہم وافر سامانِ خوراک حاصل کر لیں۔ اے اِندر! ہم کو خوب دولت اور خوراک جمع کر لینے دے....... ہم بہادروں کی سی طاقت پیدا کر لیں جو مواشی اور گھوڑے حاصل کرنے کا خاص وسیلہ ہے۔“ (۵،۴:۵۳:۱)
”پس اے اندر! ہم کو بڑھنے والی شوکت عطا کر، ہم کو وہ قہر اور طاقت عطا کر جو قوموں کو مغلوب کرے، ہمارے دولت مند سردھروں کو برقرار رکھ، ہمارے راجاؤں کی حفاظت کر، ہم کو دولت اور خوراک شریف اولاد کے ساتھ عنایت کر۔“ (۱۱:۵۴:۱)
”اے اگنی! تیرے مالدار پجاری خوراک حاصل کریں اور امراء بڑی عمریں پائیں۔ ہم اپنے دشمنوں سے لڑائی میں مالِ غنیمت حاصل کریں اور دیوتاؤں کو ان کا حصہ نذر کریں۔ اے اگنی! ہم تیری مدد سے گھوڑوں کے ذریعہ سے گھوڑے، آدمیوں کے ذریعہ سے آدمی اور بہادروں کے ذریعہ سے بہادر فتح کریں۔“ (۱: ۷۳: ۵-۹)
”طاقت ور اِندر راجا نے اپنے حسین رنگ [ حسین رنگ والوں سے مراد وہ گورے رنگ کے آریہ قبائل ہیں جنھوں نے ماوراء النہر سے آ کر ہندوستان پر حملہ کیا تھا۔ ان کے مقابلہ میں ہندوستان کے اصلی باشندے کالے رنگ کے تھے۔ (دیکھو گرفتھ کا ترجمہ رگ وید، جلد اوّل، صفحہ ۱۳۰)] والے دوستوں کے ساتھ مل کر زمین فتح کی، سورج کی روشنی اور پانیوں کو فتح کیا۔ اندر ہمارا محافظ ہو اور ہم بے خوف و خطر مال لوٹیں۔“ (۱: ۱۰۰: ۱۸: ۱۹)
”اے اِندر! تو نے پورو کے لیے، اپنے غلام دیوداس کے لیے، اپنے پجاری کے لیے ۹۰ قلعوں کے پرخچے اڑا دیے۔ اس طاقت ور نے اتِتھگو کے لیے شمبر کو پہاڑوں سے اتارا، اپنی قوت سے زبردست خزانے تقسیم کیے اور تمام خزانوں کو بانٹ دیا۔ اِندر نے جنگ میں اپنے آریہ پجاریوں کی مدد کی، اس نے جو ہر جنگ میں سیکڑوں نصرتیں مہیا رکھتا ہے۔“ (۱: ۱۳۰: ۷، ۸)
”اے اِندر مگھون! ہم جنگ میں تجھ سے امداد پا کر ان لوگوں کو مغلوب کریں جو ہمارا مقابلہ کرتے ہیں، ان کو فتح کریں جو ہم سے لڑتے ہیں۔ آج کے دن سوم رس انڈیلنے والوں کو برکت دے۔ ہم اپنی اس قربانی میں اپنی قوت دکھا کر مالِ غنیمت تقسیم کریں، لڑائی کا مالِ غنیمت۔“ (۱: ۱۳۲: ۱)
”جب اچھے نقشہ کے ساتھ بہادر لوگ فوج کو آگے بڑھاتے ہیں تو وہ باقاعدہ جنگ میں فتح حاصل کرتے ہیں اور شہرت و ناموری کی تلاش میں بڑھتے اور دباتے چلے جاتے ہیں۔“ (۱: ۱۳۲: ۵)
”اے اِندر! تو ہر موقع پر ہمارا ہے، آدمیوں کا محافظ، نہایت شریف دل، ہم کو ہمارے تمام حریفوں پر فتح بخشنے والا۔ ہم نہایت وافر مقدار میں قوت بخش غذا حاصل کریں۔“ (۱۰:۱۷۴:۱)
”تو اے بہادر! مالِ غنیمت لوٹنے والے! آدمی کی گاڑی تیز چلا، ایک جلتے ہوئے جہاز کی طرح بے دین دسیو کو جلا دے، اے فاتح!“ (۳:۱۷۵:۱)
”اے مگھون! اے اِندر! تیری مدد سے ہم اپنے دشمنوں کو، جو اپنے تئیں طاقتور سمجھتے ہیں زیر کریں۔ تو ہمارا محافظ بن، ہمیں بڑھا، ہمیں قوی بنا، ہم وافر مقدار میں قوت بخش غذائیں حاصل کریں۔“ (۵:۱۷۹:۱)
”ہم تیری مدد سے دولت حاصل کریں، تیری اعانت سے اور آریوں کی قوت سے اپنے تمام دشمن دسیوں کو مغلوب کر کے۔“ (۱۹:۱۱:۲)
”اے بہادر! تو ہمارے من چلے بہادروں کے ساتھ مل کر وہ شجاعانہ کارنامے دکھا جنھیں تجھ کو پورا کرنا ہے۔ وہ (یعنی دشمن) اپنی قوت کے زعم باطل سے پھولے ہوئے ہیں ان کو قتل کر اور ان کی املاک یہاں ہمارے پاس لے آ۔“ (۱۰:۳:۲)
”اے اندر! تو جنگ کے میدانوں میں مواشی حاصل کرنے کے لیے لڑتا رہا ہے، کیوں کہ بہت لوگ تیری حمد و ثنا کرتے ہیں۔“ (۴:۳۳:۵)
”اِندر نے سورج اور گھوڑوں پر قبضہ کر کے اس گائے کو حاصل کیا جو بہت سوں کو سیر کرتی ہے۔ اس نے سونے کے خزانے فتح کیے، اس نے دسیوں کو زیر کیا اور آریہ ورن کو محفوظ کر دیا۔“ (۹:۳۴:۳)
”اے آگ کے دیوتا! جو کوئی خفیہ طور سے ہم پر حملہ کرے، جو ہمسایہ ہم کو ضرر پہنچائے اس کو تو مترا طاقت سے، ہمیشہ مشتعل رہنے والے شعلہ سے، جلانے والی تیز حرارت سے، جلا دے...... ہماری مدد کر تا کہ ہم یہ خواہش پوری کریں! دولت حاصل کریں بہادروں کے ذخیرہ کے ساتھ۔“ (۷-۴:۵:۶)
”اے اندر! ہم کو بہادرانہ سطوت عطا کر۔ آزمودہ کاری اور اس روز افزوں قوت کے ساتھ جو مالِ غنیمت حاصل کرتی ہے۔ تیری مدد سے ہم جنگ میں اپنے دشمنوں کو مغلوب کریں، چاہے وہ اپنے ہوں یا پرائے۔ ہم ہر دشمن پر فتح مند ہوں۔ اے بہادر! ہم تیری مدد سے دونوں قسم کے دشمنوں کو قتل کر کے خوش حال ہوں، بڑی دولت کے ساتھ۔“ (۸:۱:۶-۱۳)
”تو نے داس [ دسیوں کی طرح لفظ داس بھی ان دیسی قوموں کے لیے بولا جاتا تھا جو آریہ حملہ آوروں سے برسر پیکار تھیں۔ بعض لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ داس اور دسیو سے مراد ارواح خبیثہ ہیں مگر یہ تاویل محتاج دلیل ہے۔
گرفتھ کہتا ہے:
”یہ اصطلاح اصلاً ان خاص بدروحوں کے لیے وضع کی گئی تھی جو اندر اور انسانوں کی دشمن سمجھی جاتی تھیں، مگر بالعموم اس سے وہ وحشی لوگ مراد لیے جاتے تھے جو اس ملک کے اصلی باشندے تھے اور جن سے ابتدائی آریہ مہاجرین کی جنگ تھی۔“
دوسری جگہ یہی مصنف ”داسہ ورن“ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
”اس سے مراد وہ وحشی بدشکل باشندے ہیں جنھیں آریہ مہاجرین نے بھوت پریت کی جماعت میں شامل کر دیا تھا۔“ (گرفتھ کا ترجمہ اتھروید، جلد اوّل، صفحہ ۱۷۱)
اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم شیطان کا لفظ اصلاً جن کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جب کبھی شیاطین کا لفظ ان انسانوں کے لیے بولا جائے گا جن کے متعلق ہم بری رائے رکھتے ہیں تو سیاق و سباق سے خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ یہاں شیاطین سے مراد انسان ہیں نہ کہ جن۔ ایسے مواقع پر یہ کہنا کہ شیاطین کے اصل معنی شیاطین جن کے ہیں ایک بے جا تاویل ہوگی۔
داس اور دسیو کے مسمّیٰ کی تعیین میں اس وقت کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی جب ہم خود رگ وید میں ان کے انسان ہونے کے متعلق بین شہادتیں دیکھتے ہیں۔ ان کو جگہ جگہ بے دین اور ادھرمی کہا گیا ہے۔ وہ دیوتاؤں کو نہ ماننے والے، اجنبی قوانین کی پابندی کرنے والے اور عقل سے محروم قرار دیے گئے ہیں۔ ان کے پاس گائے، بیل اور مواشی کی کثرت ہے۔ ان کے پاس قلعے ہیں جن کو آریہ فتح کرتے ہیں۔ ان سب سے زیادہ روشن دلیل یہ ہے کہ ان کی ناکیں چپٹی، ان کے جبڑے چوڑے اور رنگ کالے بتائے گئے ہیں جو بعینہ قدیم ڈراویڈین نسل کے لوگوں میں ہم کو آج بھی نظر آتے ہیں۔ رگ وید میں ایک جگہ لکھا ہے:
”اے بہادر! تو نے لڑائیوں میں بیل جیسے جبڑے والے داسوں کے جادو ٹونے تک کو مغلوب کر لیا۔“ (۴:۳۹:۷)
دوسری جگہ دسیو کا حلیہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے:
”تو اپنے ہتھیار سے نکٹے دسیوں کو قتل کرتا ہے۔“ (۱:۲۹:۵)
ایک اور جگہ داسوں کے غلامی میں دیے جانے کا ذکر اس طرح کیا جاتا ہے:
”یادو اور توروانے بھی ہم کو خدمت کے لیے دو داس دیے ہیں اور بہت سی گائیں۔“(۱۰:۲۶:۱۰)
پھر ایک جگہ داس عورتوں کے بھی غلامی میں دیے جانے کا ذکر ہے۔ چنانچہ ایک شخص تراسادسیو کو ہم پچاس لونڈیوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ (۳۶:۱:۹:۸)
ان بین شہادتوں کی موجودگی میں خواہ مخواہ یہ تاویل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ یہ لوگ آدمی نہ تھے بلکہ بھوت پریت تھے] قبائل کے سات گرمائی قلعے توڑ دیے جو ان کی جائے پناہ تھے۔ تو نے ان کو تہ تیغ کر دیا اور پور دکنا کی مدد کی۔“ (۱۰:۲۰:۶)
”اے اندر! ہم کو وہ دولت دے جو دشمن کو جنگ میں اس طرح مغلوب کر دے جیسے آسمان زمین پر چھایا ہوا ہے، دولت جو ہزاروں مال لاتی ہے، جو غلہ پیدا کرنے والی زمینیں فتح کرتی ہے، وہ دولت جو دشمن کو شکست دیتی ہے۔“ (۱:۲۰:۶)
”اے دیوتاؤ! ہم ایک ایسے ملک میں آ پہنچے ہیں جو چراگاہوں سے خالی ہے، ایسی سرزمین جو وسیع ہونے کے باوجود ہمیں پرورش کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اے برہسپتی! مواشی حاصل کرنے کے لیے جنگ میں مدد کر۔ اے اندر! اس بھجن گانے والے کے لیے ایک راہ نکال۔ روز بروز وہ ان کی (یعنی آریوں کی) جائے سکونت سے اس سیاہ رو مخلوق کو دور بھگا رہا ہے۔ اس بہادر نے ان کمینے پھیری پھرنے والے داسوں یعنی ورچین اور شامبر کو دریاؤں کے سنگم پر قتل کر ڈالا۔“ (۲۱-۲۰:۴۷:۶)
”تیر کمان کی مدد سے ہم مواشی حاصل کریں، تیر کمان کی مدد سے ہم لڑائی جیتیں، تیر کمان کی مدد سے اپنی گھمسان کی لڑائیوں میں فتح مند ہوں، تیر کمان دشمنوں کو غمگین کرتی ہے، اس سے مسلح ہو کر ہم تمام ممالک فتح کریں۔‘‘ (۷۵:۶: ۱-۴ نیز یجروید ابیض، ادھیائے ۲۹ منتر ۳۹)
’’اے اندر! جب میدانِ جنگ گرم ہو تو تو ہمارے دشمنوں کو ان فانی لوگوں کو جو ہماری ہجو کرتے ہیں ہلاک کر دے۔ بدگؤوں کی بددعائیں ہم سے دور رکھ، ہمارے پاس مال و دولت کے جمع کیے ہوئے خزانے لا، ہمارے فانی حریفوں کے ہتھیار توڑ دے، ہمیں عظیم الشان شہرت اور مال و دولت عطا کر، ہمارے حریفوں کو آسانی کے ساتھ مغلوب ہو جانے والا بنا۔ اے بہادر! ہم فتح مند ہوں، مالِ غنیمت حاصل کریں۔ اس طرح اے اندر! قیمتی چیزوں سے ہم کو مطمئن کر، ہم تیری بلند پایہ مہربانی حاصل کریں، ہمارے بہادروں کو بکثرت سامانِ خوراک اور بہادر اولاد حاصل ہو۔‘‘ (۲۵:۷: ۲-۳-۵-۶)
’’اے مگھون! ہمارے دشمنوں کو بھگا دے، مال و دولت کی فتح کو آسان کر، تو مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے لڑائی میں ہمارا اچھا محافظ بن۔‘‘ (۲۵:۳۲:۷)
’’اے بہادر! ہم تیری دوستانہ معیت میں اس شخص کا مقابلہ کریں جو ہمارے خلاف غصہ سے بھڑک رہا ہے اور اس قوم کے ساتھ لڑائی میں ثابت قدم رہیں جو کثرت سے گائیں رکھتی ہے۔‘‘ (۱۱:۲۱:۸)
’’تو گھن کھائے درخت کو ریزہ ریزہ کر دے، داسوں کی قوت کا قلع قمع کر دے۔ ہم اندر کی مدد سے وہ سب خزانے بانٹ لیں جو انھوں نے جمع کیے ہیں۔‘‘ (۶:۴۰:۸)
’’اے اگنی! اے دیوتا! لوگ قوت حاصل کرنے کے لیے تیری حمد کے ترانے گاتے ہیں۔ تو دشمن کو ڈراوے دے کر پریشان کر دے۔ اے اگنی! کیا تو مواشی حاصل کرنے اور دولت فتح کرنے میں ہماری مدد نہیں کرے گی؟‘‘ (۱۱-۱۰:۶۳:۸)
”ہم جنگ میں ایسے ہو جائیں کہ تیری کرپا کے یقینی مستحق ہوں۔ دیوتاؤں کے لیے متبرک نذرانوں اور مناجاتوں سے ہمارا مدعا یہ ہے کہ ہم مالِ غنیمت حاصل کر سکیں۔“ (دال کھیلہ ، ۵:۷)
”اے اندر! خزانوں کے خزانچی! ہم نے خزانوں کی خواہش سے تیرا سیدھا ہاتھ تھام لیا ہے کیوں کہ ہم تجھ کو جانتے ہیں۔ اے بہادر! مویشیوں کے مالک! ہم کو زبردست درخشاں زر و مال عطا کر، نامور رشیوں کے ساتھ مضبوط ہو کر ہمارے دشمنوں کو مغلوب کر کے ہمیں زبردست درخشاں زر و مال عطا کر۔ سچے اندر! قلعوں کو مسمار کر کے، دسیوں کو قتل کر کے، ہم کو زبردست درخشاں زر و مال عطا کر۔“ (۱۰: ۷۴: ۱-۳-۴)
”ہمارے گرد وہ دسیو ہیں جن کا کوئی دھرم نہیں ہے، عقل سے محروم، انسانیت سے خارج، غیر مانوس قوانین کے پابند ہیں۔“ (۸:۲۲:۱۰)
”دشمنوں کو قتل کرنے والے درتیرا! دسیو کو ہلاک کرنے والے! تو ہمارے پاس ہر قسم کی دولت اور خزانے لا۔“ (۳:۸۳:۱۰)
”تو ہمارے دشمنوں کو قتل کر، ان کی جائداد املاک بانٹ دے، اپنی قوت کے کرشمے دکھا، ان لوگوں کو منتشر کر دے جو ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ اے مینو! ہم سے لڑنے والوں پر غالب آ، توڑے جا، قتل کیے جا، دشمنوں کو کچلے جا۔“ (۲-۳:۸۴:۱۰)
”لڑ، اے صداقت سے مضبوط ہو کر لڑنے والے، تو لڑائی لڑ اور ہم کو اس دولت سے حصہ دلوا جو ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے۔“ (۱۰:۱۱۲:۱۰)
”اے اِندر! تو سور یہ کے ساتھ داس قوموں پر غالب آ۔“ (۱۰:۱۱۲:۱۰)
”مجھ کو اپنے ہمسروں میں سانڈ بنا۔ مجھ کو اپنے حریفوں کا فتح کرنے والا بنا۔ مجھ کو اپنے دشمنوں کا قتل کرنے والا، با اختیار حکمراں، مویشیوں کا مالک بنا۔“ (۱:۱۶۵:۱۰)