الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
غلامی کا مسئلہ
اس سلسلہ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے اسیرانِ جنگ کو لونڈی غلام بنا کر رکھنے کی جو اجازت دی ہے اور جنگ میں پکڑی ہوئی عورتوں کے ساتھ تمتع کو جائز رکھا ہے اس کی کیا اصلیت ہے؟ اور اگر یہ مسئلہ فی الواقع اسلام میں موجود ہے تو یہ کہاں تک اس اسپرٹ کے مطابق ہے جو اسیرانِ جنگ کے متعلق <<فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَ إِمَّا فِدَاءً>> کے قانون میں پیش کی گئی ہے؟ معترضین نے اس سوال کو جس رنگ میں پیش کیا ہے اور اسلام کے بعض وکیلوں نے اس کا جو جواب دیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نے مسئلہ کی حقیقت اور اس کے مالہ و ما علیہ پر پوری طرح غور نہیں کیا۔ یہ واقعہ ہے کہ اسلام میں ’’سبی‘‘ (یعنی اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے) کا قاعدہ موجود ہے اور یہ بھی واقعہ ہے کہ سبایا کو غلام بنا کر رکھنے اور لونڈیوں سے تمتع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن اس کی علت اور اصلیت کو سمجھنے کے لیے چند مقدمات کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہے:
اولاً، اس عہد میں اسیرانِ جنگ کے تبادلہ کا دستور نہ تھا۔ جب مسلمانوں کے آدمی دوسری قوموں کے پاس قید ہوتے تو غلام بنا کر رکھ لیے جاتے تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے بھی اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ دشمن قوموں کے جو لوگ گرفتار ہو کر آئیں انھیں وہ غلام بنا کر رکھ لیں۔ تاہم جہاں کہیں تبادلہ کا موقع آیا ہے مسلمانوں نے اس کو خوشی کے ساتھ منظور کیا ہے۔ فتح الباری میں علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ ”اگر مسلمانوں کے پاس مشرکین کے قیدی ہوتے اور مشرکین کے پاس مسلمانوں کے قیدی ہوتے اور اپنے اپنے قیدیوں کو چھڑانے پر اتفاق ہو جاتا تو اس کا بندوبست کر لیا جاتا“ [ ج ۶، ص ۱۰۱] امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ سب کے سب اس پر متفق ہیں کہ اگر دشمن مسلمان اسیروں سے اپنے اسیروں کا تبادلہ کرنے پر راضی ہو تو تبادلہ کر لینا چاہیے [ فتح القدیر، ج ۴، ص ۳۰۶] خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تبادلہ اساریٰ کا ثبوت ملتا ہے۔ مسلم، ابو داؤد اور ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مسلمانوں کے بدلہ میں ایک دفعہ مشرکین کے ایک آدمی کو رہا کیا۔ ایک اور موقع پر آپؐ نے ایک گرفتار شدہ لڑکی اہل مکہ کو دے کر ان سے دو مسلمان رہا کرائے۔
ثانیاً، بعض اوقات لڑائیوں میں ایک شہر کے مَردوں کا اکثر حصہ کام آ جاتا تھا، بلکہ کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ ایک بستی کے تمام ہتھیار اٹھانے کے قابل آدمی قتل ہو جاتے تھے۔ ایسی حالت میں لاوارث عورتوں اور بچوں کی پرورش کا انتظام اس کے سوا اور کسی صورت سے نہ ہو سکتا تھا کہ خود فاتح قوم اس کی ذمہ داری اپنے سر لے۔ اور جب یہ کام فاتحین ہی کو کرنا تھا تو عورتوں کی حفاظت اور سوسائٹی میں ان کی وقعت قائم رکھنے کے لیے اس سے بہتر صورت اور کیا ہو سکتی تھی کہ مسلمان مردوں کو ان سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت دے دی جاتی [ جنگ میں جو عورتیں اسلامی فوج کے قبضہ میں آئیں ان کے بارے میں اسلامی قانون کا خلاصہ یہ ہے:
۱۔ جب تک حکومت یہ فیصلہ نہ کر لے کہ آیا ان کو فدیہ لے کر چھوڑنا ہے یا انھیں مبادلہ میں دینا ہے یا لونڈیاں بنا کر فوج میں تقسیم کر دینا ہے، اس وقت تک وہ حراست میں رہیں گی۔ اس دوران میں کوئی سپاہی اگر ان میں سے کسی عورت کے ساتھ شہوانی تعلق قائم کرے تو یہ زنا ہے، جس کی وہی سزا اسے دی جائے گی جو اسلام میں زنا کے لیے مقرر ہے۔
۲۔ جب حکومت یہ فیصلہ کر لے گی کہ ان کو لونڈیاں بنانا ہے تو وہ انھیں باقاعدہ تقسیم کرے گی اور قانونی طور پر ایک ایک عورت کو ایک ایک شخص کی ملکیت میں دے گی۔
۳۔ اس طرح جو عورت کسی شخص کی ملک میں دی جائے اس کے ساتھ اس کا مالک اس وقت تک مباشرت کرنے کا حق نہیں رکھتا جب تک اسے ایک مرتبہ ایامِ ماہواری نہ آ جائیں یا اگر وہ حاملہ ہو تو اس کا وضع حمل نہ ہو جائے۔ اس سے پہلے مباشرت کرنا حرام ہے۔
۴۔ اس عورت کے ساتھ مباشرت کرنے کا حق صرف اسی شخص کو ہو گا جس کی ملک میں وہ دی گئی ہو۔ کوئی دوسرا آدمی اگر اسے ہاتھ لگائے تو وہ زنا کا مجرم ہو گا جس کی سزا اسلام میں جو کچھ ہے سب جانتے ہیں۔
۵۔ کوئی سپاہی مذکورۂ بالا قاعدہ کے سوا اگر کسی دوسری صورت سے دارالحرب میں دشمن قوم کی عورتوں کے ساتھ شہوت رانی کرے گا تو وہ مجرم ہو گا اور اس کی سزا پائے گا۔
اس مہذب اور پاکیزہ اور باضابطہ طریقہ سے آخر کیا نسبت ہے موجودہ زمانہ کی ان نام نہاد ”مہذب“ فوجوں کے طریقہ کو جو مفتوح علاقہ میں گھس کر ہر طرف عصمت دری کا طوفانِ عظیم برپا کر دیتی ہیں اور شہوت رانی میں ظلم اور بے حیائی اور بہیمیت اور سنگدلی کے وہ کارنامے انجام دیتی ہیں جن کا ذکر بھی ایک شریف انسان زبان پر نہیں لا سکتا۔ ] اس صورت سے وہ اسلامی سوسائٹی کی رکن بن گئیں اور ان مفاسد کا دروازہ بند ہو گیا جو ہزاروں عورتوں کے بے شوہر رہ جانے سے لازمی طور پر پیدا ہوتے [ اس مسئلہ پر مفصل بحث میں نے اپنے دوسرے مضامین میں کی ہے جس سے تمام ممکن شبہات کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں اس لیے محض اشارہ پر اکتفا کیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیمات جلد دوم، رسائل و مسائل اور تفہیم القرآن۔]
ثالثاً، اسلام نے اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے کی صرف اجازت دی ہے حکم نہیں دیا ہے۔ اس اجازت سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا مسلمانوں کا اختیاری فعل ہے، بلکہ خلفائے راشدینؓ کے طرزِ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ فائدہ نہ اٹھانا افضل ہے۔ مصر، شام، عراق، افریقہ، آرمینیہ اور فارس کی فتوحات میں بے شمار مقامات عنوۃً (بزورِ شمشیر) فتح ہوئے اور ان کے لاکھوں آدمی گرفتار کیے گئے مگر ایک قلیل تعداد کے سوا کسی کو غلام نہیں بنایا گیا۔ متعدد مقامات پر ایسا ہوا ہے کہ کسی امیرِ فوج نے لوگوں کو غلام بنا لیا اور خلیفہ کو خبر ہوئی تو انھوں نے رہائی کا حکم دے دیا۔ بلاذری لکھتا ہے کہ مصر کے بعض دیہات شدید مقابلہ کے بعد فتح ہوئے اور مسلمانوں نے ان کے باشندوں کو غلام بنا کر حضرت عمرؓ کے پاس مدینہ بھیج دیا، لیکن حضرت عمرؓ نے ان کو رہا کر کے ان کے وطن کی طرف واپس کر دیا اور حکم فرمایا کہ انھیں بھی عام قبطیوں کی طرح ذمی بنا لیا جائے [بلاذری کے اصل الفاظ یہ ہیں: <<فوقع سباءھم بالمدينة فردهم عمرؓ بن الخطاب وصيرهم وجماعة القبط اهل الذمة۔>> (فتوح البلدان، طبع مصر، صفحہ ۲۲۳)۔] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسیرانِ جنگ کو غلام بنانا نہ ضروری تھا نہ افضل و احسن، بلکہ تبادلۂ اساریٰ کا دستور نہ ہونے کے باعث اس کو ایک ناگزیر برائی کے طور پر قبول کیا گیا تھا۔
رابعاً، اسلام نے صرف ان لوگوں کو غلام بنانے کی مجبوراً اجازت دی ہے جو جنگ میں پکڑے ہوئے آئیں۔ باقی رہا آزاد لوگوں کو پکڑ کر بیچنا جو زمانہ قدیم میں عموماً رائج تھا، سو اس کو اسلام نے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
<<ثلثة انا خصمهم یوم القیمة، رجل اعطی بی ثم غدر ورجل باع حُرّا فاکل ثمنه، ورجل استاجر اجیرا فاستوفی منہ ولم یعط اجرہ>> (بخاری، کتاب البیوع)
’’تین شخص ہیں جن کے خلاف قیامت میں میں خود مدعی بنوں گا۔ ایک وہ جس نے میرا ذمہ دے کر بدعہدی کی، دوسرا وہ جس نے آزاد انسان کو بیچا اور اس کی قیمت کھائی، تیسرا وہ جس نے کسی مزدور سے پورا پورا کام لیا اور اس کی مزدوری نہ دی۔‘‘
امورِ مذکورۂ صدر سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام نے سبی کے طریقہ کو بعض اہم مجبوریوں اور مصلحتوں سے جائز رکھا تھا۔ تاہم بہت ممکن تھا کہ اس طریقے کو مطلقاً جائز رکھنے سے مسلمانوں میں بھی غلامی کا وہی طریقہ رائج ہو جاتا جو عربِ جاہلیت اور روم و ایران وغیرہ ممالک میں رائج تھا اور شاید ہندوستان کے شودروں کی طرح سبایا کی ایک نیچ ذات الگ بن جاتی۔ لیکن اسلام کا قاعدہ یہ ہے کہ جن امور میں وہ بلا واسطہ اصلاح کو مشکل پاتا ہے ان کو قائم تو ضرور رکھتا ہے مگر علیٰ حالہٖ قائم نہیں رہنے دیتا، بلکہ بالواسطہ اصلاح کے لیے ایسے طریقے اختیار کرتا ہے جن سے اس کی تمام مضرتیں اور خرابیاں دور ہو جاتی ہیں۔ غلامی کے مسئلہ میں بھی اس نے یہی کیا۔ غلامی کو مٹانا چند در چند وجوہ سے مشکل تھا، اس لیے اس نے صورت کو باقی رکھا اور بالواسطہ طریقوں سے مادہ کو اس طرح بدل دیا کہ وہ ایک شدید اجتماعی مضرت کے بجائے ایک شاندار انسانی منفعت بن گئی۔ اس غرض کے لیے اسلام نے بہت سے طریقے اختیار کیے ہیں جن میں سے تین اہم تر ہیں۔
ا۔ غلام کو آزاد کرنے اور آزادی کے حصول میں اسے مدد دینے کو بہت بڑا ثواب قرار دیا اور ہر طریقہ سے اس کی ترغیب دی۔ قرآن مجید میں آیا ہے:
<<وَ مَآ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ ؕ فَكُّ رَقَبَةٍ ۙ اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍ ۙ یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ۙ اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ ؕ>> (البلد: ۱۲ تا ۱۶)
”اور تو کیا جانتا ہے کہ وہ نیکی کا دشوار گزار راستہ کون سا ہے؟ وہ یہ ہے کہ ایک گردن (یعنی غلام کی گردن) آزاد کی جائے یا بھوک کے دن میں کسی قریبی یتیم یا خاکسار مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔“
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ مختلف طریقوں سے اس کی فضیلت بیان فرمایا کرتے تھے جس سے مسلمانوں میں فک رقاب اور اعتاق عبید کا خاص شوق پیدا ہو گیا تھا۔ ایک دفعہ ایک اعرابی حاضر ہوا اور بولا کہ یا رسول اللہ ! کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں جنت میں داخل ہو سکوں۔ آپؐ نے فرمایا: اعتق النسمة وفك الرقبة، غلام آزاد کر اور گردنوں کو غلامی سے چھڑا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: من اعتق رقبة مسلمة كانت فكاكه من النار عضوا بعضو، جو کوئی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا اس کا ہر عضو اس غلام کے ہر عضو کے بدلے دوزخ سے بچ جائے گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ من اعتق نفسا مسلمة كانت فدية من جهنم، جس نے ایک نفس مسلمہ کو آزاد کیا تو وہ جہنم سے بچنے کے لیے اس کا فدیہ ہو گیا۔ ایک مرتبہ امام زین العابدینؒ نے یہ حدیث سنی کہ ”جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے گا اس کا ہر ہر عضو اس غلام کے ہر ہر عضو کے بدلے بخشا جائے گا ۔“ آپ نے اسی وقت اپنے غلام مطرف کو جسے دس ہزار درہم میں خریدا تھا، بلا کر آزاد کر دیا۔
غلاموں کو آزاد کرنے کا مزید شوق دلانے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قاعدہ مقرر کیا کہ جتنا زیادہ قیمتی اور زیادہ پسندیدہ غلام آزاد کیا جائے گا اتنا ہی زیادہ ثواب ہوگا۔ حضرت ابو ذرؓ نے پوچھا: <<ای الرقاب افضل ؟>> ”کیسے غلام کو آزاد کرنا افضل ہے؟ فرمایا: <<اغلاها ثمنا وانفعها عند اهلها>>...... ”وہ جس کی قیمت زیادہ ہو اور جو مالک کو زیادہ پسند ہو۔“ اسی طرح لونڈی کو عمدہ تربیت دے کر آزاد کرنے اور اس سے نکاح کر لینے کو بڑی نیکی کا فعل قرار دیا، <<من كانت له جارية ادبها واحسن تعليمها واعتقها وتزوجها كان له اجران>>، ”جس نے اپنی لونڈی کو اچھی طرح تعلیم و تربیت دے کر آزاد کیا اور اسے اپنے نکاح میں لے آیا اس کے لیے دوہرا ثواب ہوگا۔“
پھر مختلف گناہوں کے لیے جو کفارے مقرر کیے گئے ہیں ان میں غلام آزاد کرنے کو بہترین کفارہ قرار دیا گیا ہے۔ کسوف شمس اور دوسرے مواقع پر بھی بردہ آزاد کرنے کو دفع بلیات کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ غرض ہر طریقہ سے اعتاقِ عبید کی ہمت افزائی کی گئی ہے۔
۲۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی و ملاطفت کی سخت تاکید کی گئی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحہ میں اپنی امت کو جو وصیت فرمائی تھی اس میں پہلے نماز کی تاکید تھی اور اس کے بعد غلاموں سے حسنِ سلوک کی، <<الصلوٰة وما ملكت ايمانكم>> [ نہایہ میں ہے کہ ما ملکت ایمانکم سے یہاں غلام ہی مراد ہیں اور اس سے حضورؐ کا مقصد احسان فی الرقیق کی تاکید فرمانا تھا۔ بعض لوگوں نے ما ملکت ایمانکم سے مراد زکوٰۃ بھی لی ہے۔ مگر قولِ راجح یہی ہے کہ آپؐ نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت عبادات میں نماز کی تاکید فرمائی اور معاملات میں غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کی] عہدِ جاہلیت سے دماغوں میں غلامی کا جو تصور جما ہوا تھا اس کے اثر سے کبھی کبھی صحابہؓ غلاموں کے ساتھ برا سلوک بھی کر بیٹھتے تھے۔ اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا اپنے معزز ترین صحابیوں کو ڈانٹا ہے۔ معرور بن سوید نے ایک مرتبہ حضرت ابو ذر غفاریؓ کو دیکھا کہ جو چادر وہ اوڑھے ہوئے ہیں ویسی ہی ان کے غلام کے بدن پر بھی ہے۔ پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میں نے ایک غلام کو گالی دی تھی، اس نے جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ سن کر ناراض ہوئے اور مجھے بلا کر فرمایا: ابوذر! تم میں سے ابھی تک جاہلیت کی بو نہیں گئی۔ پھر فرمایا:
<<ان اخوانكم حولكم جعلهم الله تحت ايديكم فمن كان اخوه تحت يده فليطعمه مما ياكل وليلبسه مما يلبس، ولا تكلفوهم ما يغلبهم فان كلفتموهم فاعينوهم>>
”یہ تمھارے بھائی تمھارے خادم ہیں جنھیں اللہ نے تمھارا دست نگر بنایا ہے۔ پس جس کسی کا بھائی اس کے ماتحت ہو اسے چاہیے کہ اس کو وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے۔ تم ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو اور اگر ایسی کوئی بھاری خدمت ان کے سپرد کرو تو خود ان کا ہاتھ بٹاؤ۔“
ابومسعود انصاریؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا، یکا یک میں نے سنا کہ پیچھے سے کوئی کہہ رہا ہے اعلم ابا مسعود الله اقدر علیک منک علیہ ”خبردار ابو مسعود! اللہ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جو تجھ کو اس غلام پر حاصل ہے۔“ پلٹ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے فوراً عرض کیا: ھو حر لوجہ اللہ ”یہ خدا کے واسطے آزاد ہے۔“ اس پر حضورؐ نے فرمایا: اما انک لو لم تفعل لمسک النار ”اگر تو اس کو آزاد نہ کرتا تو آگ کے عذاب میں مبتلا ہو جاتا۔“
ایک مرتبہ ایک شخص نے حاضر ہو کر پوچھا کہ ہم کتنی مرتبہ اپنے خادم کو معاف کیا کریں۔ آپؐ نے جواب دیا: اعفوا عنہ فی کل یوم سبعین مرۃ، اگر وہ روزانہ ستر بار بھی قصور کرے تو معاف کیے جاؤ۔
سویدؓ بن مقرن کا بیان ہے کہ ہم سات بھائیوں میں ایک غلام تھا۔ ایک مرتبہ ہمارے چھوٹے بھائی نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا تو رسولؐ اللہ نے ہم کو حکم دیا کہ اسے آزاد کر دو۔
انھی سویدؓ بن مقرن کے صاحب زادے معاویہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے ہاں کے ایک غلام کو تھپڑ مارا، والد کو خبر ہوئی تو انھوں نے ہم دونوں کو بلایا اور غلام سے کہا: تو معاویہ سے بدلہ لے [ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی حق المملوک۔ ]
عرب میں دستور تھا کہ غلام کو عَبْدِی (میرا بندہ) اور لونڈی کو اَمَتِی (میری بندی) کہہ کر پکارتے تھے اور اپنے آپ کو رب کہلواتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع کیا اور فرمایا کہ انھیں فَتَایَ (میرا لڑکا) اور فَتَاتِی (میری لڑکی) کہہ کر پکارا کرو اور اپنے آپ کو سیدی یا مولائی کہلوایا کرو۔ اہل عرب غلام کو اپنے پاس جگہ دینا بھی عار سمجھتے تھے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو اپنے ساتھ ایک دسترخوان پر بٹھا کر کھلاؤ اور اگر اتنا نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے کھانے میں سے ایک دو لقمے ہی ان کو کھلا دیا کرو، <<اذا اتی احدکم غلامه بطعام فان لم يجلسه معه فليناوله لقمة او لقمتين ۔>>
ان سب باتوں سے یہی مقصود تھا کہ غلاموں کو عزت و آرام سے رکھا جائے اور وہ خاندان کے رکن بن کر رہیں۔
۳۔ اسلامی قانون میں غلاموں کو وہ وسیع حقوق دیے گئے جن سے وہ آزادوں کے لگ بھگ پہنچ گئے۔ فوجداری قانون ان کو اسی حفاظت کا مستحق قرار دیتا ہے جس کا استحقاق آزادوں کو حاصل ہے۔ ان کا مال چرانے والا، ان کو قتل کرنے والا، ان کی عورتوں کی آبرو ریزی کرنے والا، ان کو جسمانی نقصان پہنچانے والا، خواہ آزاد ہو یا غلام، بہر صورت اس کو وہی سزا دی جائے گی جو آزاد لوگوں کے ساتھ ان جرائم کا ارتکاب کرنے والے کے لیے مقرر ہے۔ اسی طرح دیوانی قانون ان کی املاک پر ان کے مالکانہ حقوق تسلیم کرتا ہے اور خود ان کے آقا کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ ان کے ذاتی مال میں ان کی مرضی کے خلاف تصرف کرے یا ان کو کسی قسم کا جسمانی ضرر پہنچائے (سوائے تادیب کے جس میں رفق اور نرمی کی سخت تاکید ہے) یا ان کی بہو بیٹیوں سے ناجائز علاقہ رکھے [ روم میں یہ عام دستور تھا کہ جب کسی غلام کی لڑکی بیاہی جاتی تو اس کو پہلی شب اس کے آقا کے پاس بسر کرنی پڑتی تھی۔ اس شرمناک ظلم سے عیسائی بشپ تک نہ چوکتے تھے۔ دیکھو امیر علی کی اسپرٹ آف اسلام صفحہ ۲۲۴۔]
قانون سے زیادہ اسلامی سوسائٹی نے ان کو اپنے اندر عملاً مساوات کا درجہ دیا ہے۔ اجتماعی زندگی میں غلاموں کی حیثیت کسی طرح آزادوں سے کم نہ تھی۔ علم، سیاست، مذہب، معاشرت، غرض ہر شعبہ میں ان کے لیے ترقی کی تمام راہیں کھلی ہوئی تھیں اور غلام ہونا ان کے لیے کسی حیثیت سے بھی رکاوٹ کا باعث نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینبؓ کو جنھیں بعد میں ام المومنین ہونے کا شرف حاصل ہوا، اپنے آزاد کردہ غلام زیدؓ بن حارثہ سے بیاہ دیا۔ امام حسینؓ کا نکاح ایران کی ایک شہزادی سے ہوا جو جنگ میں لونڈی بن کر آئی تھیں۔ امام زین العابدینؒ انھی لونڈی کے بطن سے تھے، جن کی اولاد اشرافِ اسلام میں سب سے بالاتر درجہ رکھتی ہے۔ سالم بن عبداللہ اور قاسمؒ بن محمد بن ابی بکرؓ جو فقہائے تابعین کی اولین صف میں ہیں دو لونڈیوں کے پیٹ سے تھے۔ امام حسن بصریؒ جو ائمہ تابعین کے سرخیل اور اصحابِ طریقت کے پیشوا ہیں ایک غلام کے بیٹے تھے۔ امام ابو حنیفہؒ جو کروڑوں مسلمانوں کے مقتدا ہیں اور جن کو اسلامی دنیا امام اعظم کے لقب سے یاد کرتی ہے بنی تیم اللہ کے موالی میں سے بتائے جاتے ہیں۔ مشہور محدث محمد بن سیرینؒ جن کا شمار اکابر تابعین میں ہوتا ہے ایک غلام کے بیٹے تھے۔ ان کے باپ سیرین اور ماں صفیہ دونوں مملوک تھے، مگر اس درجہ کے مملوک تھے کہ حضرت صفیہ کو تین امہات المومنینؓ نے دلہن بنایا تھا اور سیرین سے ان کا نکاح ابیؓ بن کعب جیسے جلیل القدر صحابی نے پڑھایا تھا۔ امام مالکؒ کے استاد نافع حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے غلام تھے اور امام مالکؒ کو جس سلسلۃ الذہب پر ناز ہے اس کی ایک کڑی یہی نافعؒ تھے۔ ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مبارکؒ جن کا شمار اکابر مجتہدین میں ہوتا ہے ایک غلام مبارک نامی کے بیٹے تھے۔ عکرمہ جو ائمہ مفسرین میں سے ہیں خود غلام تھے۔ محمد بن اسحاق مشہور صاحبِ سیرۃ کے دادا یسار معرکہ عین التمر سے پکڑے ہوئے آئے تھے۔ مکہ کے امام المحدثین عطاء بن ابی رباح، یمن کے امام طاؤسؒ بن کیسان، مصر کے امام یزید بن حبیب، شام کے امام مکحولؒ، الجزیرہ کے امام میمونؒ بن مہران، خراسان کے امام ضحاکؒ، کوفہ کے امام ابراہیم النخعی، سب کے سب غلاموں کے گروہ سے تھے۔
سلمان فارسیؓ غلام تھے جنھیں حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ <<سلمان منا اهل البیت>>، ’’سلمان تو ہم اہل بیت میں سے ہیں۔‘‘ بلال حبشیؓ غلام تھے جن کو حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے کہ بلال سیدنا و مولی سیدنا، ’’بلالؓ ہمارے آقا کا غلام اور ہمارا آقا ہے۔‘‘ صہیبؓ رومی غلام تھے جنھیں حضرت عمرؓ نے اپنی جگہ مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا تھا۔ سالمؓ، ابو حذیفہؓ کے غلام تھے جن کے متعلق حضرت عمرؓ نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا تھا کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو میں ان کو خلافت کے لیے منتخب کرتا۔ اسامہ بن زیدؓ غلام زادے تھے جنھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری وقت میں اس لشکر کا سردار بنایا تھا جس میں حضرت ابوبکرؓ جیسے جلیل القدر صحابی شریک تھے، اور جن کے متعلق حضرت عمرؓ نے اپنے صاحب زادے عبداللہؓ سے کہا تھا کہ اسامہؓ کا باپ تیرے باپ سے اور اسامہؓ خود تجھ سے رسول اللہ کو زیادہ محبوب تھا۔ یہ تو قرون اولیٰ کی باتیں ہیں، بعد میں جب کہ اسلامی روح بہت کچھ کمزور پڑ گئی تھی، قطب الدین ایبک، شمس الدین التمش اور غیاث الدین بلبن جیسے جلیل القدر غلاموں نے خود ہمارے ملک ہندوستان پر حکومت کی ہے۔ محمودؒ غزنوی جو اپنے وقت میں دنیا کا سب سے بڑا فاتح تھا نسلاً ترکی غلام تھا۔ مصر میں کئی صدی تک ممالیک کی حکومت رہی ہے اور ان کا نام خود کہتا ہے کہ وہ دراصل غلام تھے جنھوں نے بادشاہی کے تخت پر بار پایا۔
ان غلاموں کو کون غلام کہہ سکتا ہے؟ کیا آزادوں کے لیے ان سے کچھ زیادہ ترقی، عزت اور اقتدار حاصل کرنے کے مواقع تھے؟ کیا ان کی غلامی نے ان کو اجتماعی زندگی میں اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج تک پہنچنے سے روکا؟ اگر غلامی اسی چیز کا نام ہے اور وہ ایسی ہی ہوتی ہے تو آزادی کا نام غلامی رکھ دینے میں کیا حرج ہے؟
یہ طریقے تھے جن سے اسلام نے غلامی کو گھٹاتے گھٹاتے آزادی سے جا ملایا، بلکہ دونوں میں کوئی فرق نہ رہنے دیا۔ لفظ ’’غلامی‘‘ تو بے شک باقی رہا مگر غلامی کی حقیقت بدل کر کچھ سے کچھ ہو گئی۔