الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
۳۔غیر محفوظ آبادیوں پر گولہ باری
غیر مقاتلین کا حق مامونیت تسلیم کرنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنگی اعمال میں اس حق کو کس طرح ملحوظ رکھا جائے ؟ اس مسئلہ میں جنگی اور قانونی گروہوں کے درمیان بہت بڑا اختلاف ہے، اور اب خود قانونی گروہ کی رائے بھی جنگی گروہ کی رائے سے مغلوب ہوتی جارہی ہے۔ اگر لڑائی دست بدست ہو یاد و مقابل فوجوں کے درمیان ہو تو غیر مقاتلین کو تلوار کی زد سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن جہاں میلوں کے فاصلہ سے گولہ باری ہو رہی اور خصوصیت کے ساتھ جہاں غنیم کے کسی شہر کو فتح کرنا مقصود ہو وہاں غیر مقاتلین کو مہالک جنگ سے محفوظ رکھنے کی کیا صورت ہے ؟ اس سوال کا جواب قانونی گروہ یہ دیتا ہے کہ گولہ باری کے حق پر قیود عائد کرنی چاہیں۔ اور جنگی گروہ کہتا ہے کہ کسی قسم کی قیود عائد نہ کرنی چاہیں۔ انیسویں صدی کے وسط میں ان کی حفاظت کا یہ طریقہ وضع کیا گیا تھا کہ گولہ باری سے کی یہ گیا تا باری سے قبل غیر مقاتلین کو مہلت دینی چاہیے کہ وہ شہر چھوڑ کر چلے جائیں۔ ۱۸۷۰ ء کی جنگ میں جرمنی نے ایک دو مقامات پر اس تجویز کی تعمیل بھی کی۔ مگر بعد میں فوجی گروہ نے بالا تفاق فیصلہ کیا کہ اس قسم کی مہلت دینا جنگی مصالح کے بالکل خلاف ہے۔ چنانچہ جب جرمن فوجوں نے پیرس پر گولہ باری شروع کی تو غیر مقاتلین کو نکلنے کی اجازت نہیں دی بلکہ بالفاظ صریح یہ کہہ دیا کہ اس موقع پر شہر میں غیر مقاتلین کا موجود رہنا ہی مطلوب ہے تاکہ غنیم فاقہ کی مصیبت میں مبتلا ہو کر شہر کو ہمارے حوالہ کر دے۔ اس کے تھوڑے عرصہ بعد امیر البحر آؤ بے کا وہ مشہور مضمون شائع ہوا جس نے فوجی گروہ میں بڑی مقبولیت حاصل کی۔ اس نے جنگ میں غنیم کے وسائل ثروت کو برباد کرنے کی ضرورت پر بہت زور دیا اور یہاں تک لکھ دیا کہ :
"آئندہ جنگ میں ہمیں توقع رکھنی چاہیے کہ مسلح بیڑے اپنی قوت ضرب و تخریب کا رخ ساحلی شہروں کی طرف پھیر دیں گے، خواہ وہ شہر قلعہ بند ہوں یا نہ ہوں، خواہ وہ وسائل مدافعت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔ وہ ان کو جلائیں گے، تباہ کریں گے اور کم از کم اتنا تو ضرور کریں گے کہ پوری بے دردی سے ان سے فدیہ وصول کریں گے۔" [Revue de deux Mondes, 1882, PP. 314-46]
اس کے چند سال بعد ۱۸۸۸ء میں انگلستان کے بحری بیڑے کی مصنوعی جنگ ہوئی جس میں من جملہ اور کارروائیوں کے ایک یہ بھی تھی کہ ساحلی آبادیوں پر حملے کیے گئے اور ان سے فدیہ وصول کیا گیا۔ اس پر پروفیسر ہالینڈ نے سخت اعتراض کیا، اور لندن ٹائمز میں مسلسل مضامین لکھے جن سے یہ سوال پھر چھڑ گیا کہ آیا شہری آبادیوں پر گولہ باری کرنی جائز ہے یا نہیں؟ قانونی گروہ کی رائے یہ تھی کہ یہ فعل نا جائز ہے، مگر امارت بحریہ کے اعلیٰ افسروں یا نے اس کو بالکل جائز قرار دیا اور ۱۸۸۹ء میں امیر البحر کی ایک کمیٹی نے بالاتفاق اس کے حق میں رپورٹ کی۔ [Birkenhead, P.228]
۱۸۹۹ء میں جب پہلی ہیگ کانفرنس منعقد ہوئی تو یہ مسئلہ از سر نو پیش ہوا۔ اس وقت کا نفرنس پر قانونی گروہ کا غلبہ تھا اور جنگی گروہ بھی سلطنتوں کے سیاہی مصالح کا لحاظ کر کے خاموش ہو گیا تھا ، اس لیے بری جنگ کے ضوابط میں گولہ باری کے حق پر قیود عائد کی گئیں اور ۱۹۰۷ء کی کانفرنس میں بحری جنگ پر بھی ان قیود کو وسیع کر دیا گیا۔ یہ قیود حسب ذیل ہیں:
" ایسے شہروں، قریوں، بستیوں اور عمارتوں پر گولہ باری کرنا یا کسی دوسرے ذریعہ سے حملہ کرنا ممنوع ہے جو غیر محفوظ ہوں (ضوابط بیگ، دفعه (۲۵)
ایک حملہ آور فوج کے امیر پر لازم ہے کہ گولہ باری شروع کرتے وقت محصور آبادی کے حکام کو متنبہ کر دے اور اس کے لیے وہ تمام ذرائع استعمال کرے جو اس کے اختیار میں ہوں، الا اس صورت میں کہ اچانک حملہ ناگزیر ہو (دفعہ (۲۶)
گولہ باری اور قلعہ گیری کے موقع پر تمام ممکن طریقوں سے ایسی عمارتوں کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے جو مذہبی یا علمی وفنی یا خیراتی اغراض کے لیے وقف ہوں، نیز تاریخی یاد گاروں اور ہسپتالوں اور ایسے مقامات کو بھی جہاں زخمی اور بیمار رکھے گئے ہوں حتی الامکان بچانا چاہیے بشر طیکہ ایسی عمارات اس وقت جنگی اغراض کے لیے استعمال نہ کی جارہی ہوں۔ (دفعہ ۲۷)۔"
اسی طرح بحری جنگ کے قوانین کے متعلق دوسری ہیگ کا نفرنس کی مفاہمت نمبر ۹ میں گولہ باری و قلعہ گیری پر حسب ذیل قیود عائد کی گئیں:
دفعه اول: غیر محفوظ شہروں، بندر گاہوں، قریبی، بستیوں اور عمارتوں پر جنگی جہازوں کا گولہ باری کرنا ممنوع ہے۔ کسی بندر گاہ پر صرف اس وجہ سے گولہ باری نہیں کی جاسکتی کہ اس کے پاس خود بخود تصادم سے پھٹنے والی تحت البحر سرنگیں ( Automatic Submarine Contact Mines) لنگرانداز ہیں [اس دفعہ کے آخری فقرے سے برطانیہ، فرانس، جاپان اور جرمنی نے اختلاف کیا]
دفعه دوم: فوجی کار خانے ، فوجی بحری محکمے ، اسلحہ خانے ، سامانِ جنگ کے گودام ، ایسے کارخانے یا انجن جو غنیم کی فوج یا بیڑے کے کام آسکتے ہوں اور بندرگاہ ملیں ٹھہرے ہوئے جنگی جہاز اس ممانعت میں داخل نہیں ہیں۔ بحری قوت کا کمانڈر ابتداء نوٹس دینے اور کافی عرصہ انتظار کرنے کے بعد ان کو برباد کر سکتا ہے اگر دشمن خودان کو بر باد نہ کر دے ایسے حالات میں اگر کچھ نا گزیر نقصان پہنچے تو وہ اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اگر جنگی اسباب کی بنا پر فوری کارروائی ضروری ہو اور دشمن کو کوئی مہلت نہ دی جاسکتی ہو تو شہر کے غیر محفوظ حسہ کی حرمت ملحوظ رکھنی چاہیے اور کمانڈر کو کوشش کرنی چاہیے کہ شہر کو کم سے کم ممکن نقصان پہنچے۔
دفعہ سوم : اگر مقامی حکام کسی بحری قوت کے باقاعدہ مطالبہ کے باوجود اس کے لیے ضروری سامان رسید و مایحتاج مہیا نہ کریں تو ان کو مناسب مہلت دینے کے بعد غیر محفوظ بندرگاہ ، شہر ، گاؤں ، بستی، یا عمارت پر گولہ باری کی جاسکتی ہے۔
دفعه چهارم : مالی نذرانہ ادانہ کرنے کی پاداش میں کسی غیر محفوظ مقام پر گولہ باری نہیں کی جاسکتی۔
دفعہ پنجم: جب کوئی بحری قوت کسی شہر پر گولہ باری شروع کرے تو اس کے کمانڈر کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو مقدس عمارات اور عمارات موقوفہ برائے علوم و فنون و امور خیریہ ، اور تاریخی یاد گاروں اور ہسپتالوں اور ان مقامات کو جہاں زخمی اور بیمار رکھے جاتے ہوں ضرر نہ پہنچے بشر طیکہ انہیں جنگی اغراض کے لی استعمال نہ کیا جارہا ہو۔ اس شہر کے باشندوں کو چاہیے کہ اس قسم کی عمارات کو ایسی مرکی علامات سے ممتاز کریں جو بڑے بڑے مستطیل اضلاع پر مشتمل ہوں اور جن میں بشکل و تر دور رنگ کے مثلث بنائے جائیں۔ اوپر کا مثلث سیاہ اور نیچے کا سفید ۔
دفعه ششم: اگر فوجی حالات اجازت دیں تو گولہ باری کرنے سے قبل حملہ آور قوت کے کمانڈر کو چاہیے کہ مقامی حکام کو متنبہ کرنے کی پوری کوشش کرے۔
یہ قیود فی نفسم نہایت ناقص ہیں۔ ان کا سب سے پہلا نقص یہ ہے کہ ان میں غیر محفوظ مقام کی کوئی تعریف و تحدید نہیں کی گئی۔ ان سے بالکل نہیں معلوم ہوتا کہ ایک مقام کن علامات سے محفوظ قرار دیا جائے گا اور کن چیزوں کے موجود نہ ہونے کے باعث وہ غیر محفوظ سمجھا جائے گا۔ دوسرا نقص یہ ہے کہ گولہ باری کرنے سے قبل اہل شہر کو متنبہ کرنے کا معاملہ کلیہ حملہ آور فوج کے کمانڈر پر چھوڑ دیا گیا ہے ( یہاں تک کہ اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ اگر چاہے تو متنبہ نہ کرے)۔ تیسرا نقص یہ ہے کہ ایک طرف مقدس عمارات اور علمی ادارت اور تاریخی یاد گاروں اور ہسپتالوں کی حرمت کی تاکید کی گئی ہے اور دوسری طرف یہ شرط بھی لگا دی گئی ہے کہ یہ عمار تیں جنگی اغراض کے لیے استعمال نہ کی جارہی ہوں۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ایک حملہ آور فوج یا بیڑے کا کمانڈر ہر وقت یہ بہانہ کر سکتا ہے کہ اس کے علم میں وہ عمارات جنگی اغراض کے لیے استعمال کی جارہی تھیں، لہذا وہ ان پر گولہ باری کرنے کا مجاز تھا۔ لیکن ان کی سب سے بری کمزوری یہ ہے کہ ان میں حملہ آور فوج کو ایسی حالت میں غیر محفوظ آبادیوں کو تباہ کرنے کا حق دے دیا گیا ہے جب کہ ان کے باشندے اس کے لیے سامان رسید و مایحتاج مہیا کرنے سے انکار کر دیں۔ اس ایک بات نے ان تمام قیود کو بے معنی کر دیا ہے۔ کیونکہ ایک حملہ آور فوج کے لیے یہ بالکل آسان ہے کہ جب وہ کسی غیر محفوظ آبادی پر حملہ کرنا چاہے تو اس سے اتنا سامان رسد طلب کرے جسے وہ کسی حال میں ادا نہ کر سکتی ہو اور جب وہ ادا نہ کرے تو اس پر گولہ باری شروع کر دے۔ اگرچہ مفاہمت نمبر ۹ کی دفعہ سوم کے دوسرے فقرے میں یہ توضیح بھی کر دی گئی ہے کہ سامان رسد کا مطالبہ اس مقام کے وسائل کی مناسبت سے ہونا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ مقامی وسائل کی " مناسبت " کا فیصلہ کون کرے گا؟ اگر حملہ آور فوج کی رائے میں ایک خاص مقدار کا مطالبہ اس مقام کے لیے مناس ہو اور مقامی حکام کے نزدیک وہ مناسب نہ ہو تو ایسی صورت میں کون سی عدالت یہ فیصلہ کرنے آئے گی کہ فریقین میں سے کس کا قول صحیح ہے ؟ لیکن ان نقائص کے باوجود فوجی گروہ نے ان قیود سے علانیہ اختلاف کیا ہے۔ گولہ باری سے قبل دشمن کو متنبہ کرنے اور مہلت دینے کے متعلق وہ کہتا ہے۔ کہ ایسا کرنا " قیمتی وقت کو کھو دینے کا ہم معنی ہے [Kriegsbrauch, P.19] سامان رسید کا مطالبہ مقامی وسائل کی مناسبت ملحوظ رکھ کر کرنے کی جو شرط لگائی گئی ہے اس کے متعلق یہ گروہ کہتا ہے کہ وہ نظری حیثیت سے بہت خوب ہے مگر اس پر عمل کرنا نا ممکن ہے ہے [Kriegsbrauch, P.62] سب سے زیادہ یہ کہ اس گروہ کے نزدیک گولہ باری کے موقع پر غیر مقاتلین کی رعایت کر ناصرف یہی نہیں کہ غیر ضروری ہے بلکہ ان کو خاص طور پر ہدف بنانا جنگی مصالح کے عین مطابق ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے:
گولہ باری کے وقت محصورن میں عورتوں، بچوں اور دوسرے غیر مقاتلین کا موجود ہونا ہی جنگی نقطہ نظر سے مطلوب ہے ، کیونکہ صرف اسی صورت سے محاصر فوج محصورین کو خوفزدہ کر کے ہتھیار ڈالنے پر جلدی سے جلدی مجبور کر سکتی ہے ہے [Kriegsbrauch, P.21]
یہ خیالات صرف زبان و قلم ہی سے ظاہر نہیں کیے گئے ، بلکہ عمل میں میں بھی ہیگ کا نفرنس کی مقرر کردہ قیود کا تار و پود بکھیر دیا گیا۔ ۱۹۰۷ ء کی ہیگ کا نفرنس کے بعد یورپ میں پہلی جنگ اٹلی اور ترکی کے درمیان ہوئی اور اس میں اٹلی نے شہر بیروت پر گولہ باری کر کے غیر محفوظ شہری آبادی کے ایک حصہ کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد دوسری جنگ دول متحدہ بلقان اور ترکی کے درمیان ہوئی اور تھریس و مقدونیہ میں غیر مقاتلین کو علانیہ قتل وغارت کیا گیا۔ تنہا مغربی تھریس کے متعلق تحقیق ہوا ہے کہ وہاں ۲۴۰۰۰۰ مسلمان غیر مقاتلین تلوار کے گھاٹ اتارے گئے [بمبی کرانیکل مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۲۲ء میں میٹ پکتھال کا مقالہ افتتاحیہ] اس کے بعد جب ۱۴ ء میں یورپ کی مہذب ترین سلطنتوں کے درمیان جنگ عظیم برپا ہوئی تو یہ تمام قیود اس طرح توڑ دی گئیں گویا کہ وہ قائم ہی نہیں ہوئی تھیں۔ برکن ہیڈ اپنی کتاب " بین الملی قانون " میں لکھتا ہے :
جنگ عظیم سے قبل محفوظ اور غیر محفوظ آبادیوں کے درمیان جو امتیاز قائم کیا گیا تھا جنگ عظیم نے اس کا تار و پود بکھیر دیا ہے۔ اب سرے سے محفوظ و غیر محفوظ کی تعریف و تحدید ہی میں بہت بڑا اختلاف پیدا ہو گیا ہے اور جنگ کے بعد سے آج تک ان کے درمیان حد بندی کرنے اور خط امتیاز کھینچنے کی کوئی خاص کوشش بھی نہیں کی گئی ہے [Birkenhead, P.226]
اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ جس چیز نے ہیگ کی قیود کو مٹانے میں حصہ لیا ہے وہ ہوائی جہازوں کا جنگی استعمال ہے۔ ہوائی جہاز دراصل اس معنی میں کوئی آلہ جنگ ہی نہیں ہے کہ اس سے جنگ کے مقصد کی طرف کوئی اقدام ہوتا ہو ۔ جنگ کا اصلی مقصد غنیم کی فوجی طاقت کو توڑنا در غنیم کے زیادہ سے زیادہ علاقہ پر قبضہ کر لینا ہے۔ لیکن ہوائی جہاز یہ دونوں کام نہیں کر سکتا۔ البتہ وہ صرف اتنا کر سکتا ہے کہ فضائے آسمانی سے عام آبادوں پر بلا امتیاز گولے برسائے، عورتوں، بچوں، بیماروں اور زخمیوں سمیت سب کو برباد کر دے، شہروں اور قصبوں کو بم برسا کر تہس نہس کرے، دشمن قوم کے عوام کو اس حد تک خوفزدہ اور پریشان کر دے کہ وہ جنگ سے جی چرانے لگیں، اور اس طرح اپنے دشمن کی اخلاقی قوت توڑ دے۔ جنگ عظیم سے قبل قانونی گروہ اس طریق جنگ کو حرام و ناجائز سمجھتا تھا، مگر جنگ عظیم میں جب یہ ایک عام اور ا معمولی به طریق جنگ بن گیا تو خود قانونی گروہ کے نقطہ نظر میں بھی تغیر واقع ہو گیا اور وہ اس کو ایک ناگزیر طریقہ سمجھنے لگا۔ چنانچہ ایلتر باشر لکھتا ہے :
جنگی کارروائی کی بہت سی اقسام ایسی ہیں جو صرف اس بنا پر جائز ہیں کہ ان کا مدعا عظیم کی قوتِ جنگ کی معنوی بنیاد کو پراگندہ کرنا ہوتا ہے (غیر محفوظ ساحلی شہروں پر گولہ باری بھی اس قسم کی جائز کارروائیوں میں سے ہے، کیونکہ اس سے غنیم کی معاشی زندگی پراگندہ ہو جاتی ہے ، اور اس کے علاوہ دشمن کی رعایا میں ایک خاص قسم کی خوفزدگی پیدا ہو جاتی ہے ) اسی دلیل کی بنا پر ہوائی جہازوں سے بم گرانے پر بھی کوئی پابندی عائلہ نہ ہونی چاہیے۔ ان حملوں کے مسئلہ میں مستحکم یا محفوظ مقامات کے درمیان کوئی امتیاز قائم کرنا بے سود ہے، کیوں کہ اکثر حالات میں کسی مقام پر ہم اس لیے نہیں گرائے جاتے کہ اسے فتح کیا جائے ، بلکہ ان سے محض دشمن کی معاشی زندگی کو پراگندہ کرنا اور دشمن قوم میں ہر اس اور جنگ سے بیزاری پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے، اور یہ مقصد انہی گولوں سے حاصل ہوتا ہے جو غیر مستحکم مقامات پر گرائے جاتے ہیں [Nippold, P.124]
جنگ عظیم کے بعد خاص طور طور پر ہوائی جہازوں کی گولہ باری کے لیے حدود مقرر کرنے کا سوال پیدا ہوا اور یورپ و امریکہ کی رائے عام نے پیدا زور دیا کہ اس کے لیے قواعد و ضوابط مقرر کیے جائیں۔ ۱۹۲۲ ء میں واشنگٹن کا نفرن نے اس غرض کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا جس میں برطانیہ، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، جاپان اور امریکہ کے نمائندے شامل تھے۔ انہوں نے بہت کچھ غور و خوض کے بعد ۱۹۲۳ ء میں چند سفارشات پیش کیں جن کا خلاصہ یہ ہے :
(۱)۔ ہوائی جہازوں سے گولہ باری کر نا صرف اس صورت میں جائز ہے کہ ان کے ہدف فوجی مقامات ہوں، فوجی مقامات سے مراد ہیں چھاؤنیاں، جنگی کار خانے، جنگی گودام ، جنگی محکمے اور عملے ، آلات و اسباب جنگ بنانے والے کارخانے ، خطوط و ذرائع حمل و نقل جو جنگی اغراض کے لیے مستعمل ہوں۔
(۲)۔ ان فوجی مقامات پر بھی ایسی حالت میں گولہ باری نہیں کرنی چاہیے جب کہ وہ ایسی جائے وقوع میں ہوں جہاں شہری آبادی کو نقصان پہنچائے بغیر ان پر ضرب نہ لگائی جاسکتی ہو۔
(۳)۔ ایسی بستیاں اور عمارتیں جو عین حلقہ جنگ میں واقع ہوں، اور جن کے متعلق یہ یقین کرنے کی وجہ موجود ہو کہ ان میں اجتماع افواج ہوا ہے ، ہوائی گولہ باری کے لیے جائز ہدف بن سکتی ہیں، مگر حلقہ جنگ سے باہر کسی آبادی پر گولہ باری نہیں کی جاسکتی۔ اس لحاظ سے ہر وہ گولہ باری جس کا مقصد شہری آبادیوں کو پریشان کرنا اور شخصی املاک کو برباد کرنا ہو ممنوع ہے۔
(۴) جو ہوائی جہازراں چھتری (Parachute) کے ذریعہ جان بچار ہا ہو ، اس پر حملہ کرنا ممنوع ہے [Birkenhead, PP.226-227]
مگر یہ قوانین اب تک محض زیب قرطاس ہی ہیں، کسی سلطنت نے ان کو قبول کر کے اپنی کتاب آئین میں داخل نہیں کیا ہے [Birkenhead, PP.205] اور صرف یہی نہین ابھی یہ بھی مشکوک ہے کہ جنگ میں ان کی پابندی کی بھی جاسکتی ہے یا نہیں؟ چنانچہ بر کن ہیڈ لکھتا ہے :
ان مجوزہ قوانی پ، جن کا مقصد ہوائی گولہ باری کو ضابطہ کا پابند بنانا ہے ، ان کی فیاضانہ روح کے باعث بہت کچھ نکتہ چینی کی گئی ہے۔ یہ بات صراحی مشکوک ہے کہ اگر ان کو منظور کر لیا جائے تو آیا کسی ایسی جنگ میں ان کی پابندی کی بھی جاسکتی ہے جس میں اس سے زیادہ بڑے پیمانہ پر ہوائی قوتیں استعمال کی جائیں جس کا تصور ۱۹۱۸ ء کے خاتمہ پر کیا جا سکتا تھا [Birkenhead, PP. 227]
اس مفصل بحث سے یہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ مغربی قانون جنگ میں محفوظ و غیر محفوظ آبادیوں کا جو امتیاز قائم کیا گیا ہے ، اور غیر محفوظ آبادیوں کے لیے جو حقوق مقرر کیے گئے ہیں وہ محض ایک فریب نظر ہیں اور عملاً مغربی قانون اپنے دامن میں اس ایک نظریہ سے زیادہ کوئی محض اور میں سرمایہ نہیں رکھتا کہ " غیر مقاتلین کی جان و مال قابل درعایت ہے۔ " رہا اس کا واقعی لحاظ ، تو وہ آج اسی قدر مفقود ہے جس قدر گروٹیوس کے زمانہ میں تھا۔