مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

گیتا کا فلسفہ جنگ

[میرے پیش نظر گیتا کی دو مستند حامل المتن شرحیں ہیں۔ ایک مسٹر بال گنگادھر تلک کی مشہور شرح جس کا ترجمہ مسٹر شانتی نرائن لاہوری نے کیا ہے۔ دوسری مسٹر کے ٹی تیلنگ کی شرح جو سلسلۂ کتب مقدسہ شرق (Secred Books of the East Series) میں آکسفورڈ سے شائع ہوئی ہے] ہندو مذہب میں گیتا کو جو عظمت حاصل ہے اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ وہ سری کرشن جیسے ممتاز مذہبی پیشوا کی طرف منسوب ہے۔ مسٹر تلک کے بقول وہ ”بھاگوت دھرم کا سب سے بڑا گرنتھ ہے۔“ اس میں ہندو مذہب کے فلسفہ کو جس وضاحت اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس کی مثال پورے سنسکرت لٹریچر میں نہیں ملتی۔ گو اس میں ہندو تصوف کے بیسیوں مسائل زیر بحث آئے ہیں، لیکن اس کا اصل مرکزی نقطہ جنگ ہی ہے، کیوں کہ وہ ایک پست ہمت سپاہی کو جنگ پر ابھارنے اور اس کے خوں ریزی سے بیزار دل میں رزم آرائی کا شوق پیدا کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔

تاریخ ہند کا مشہور واقعہ ہے کہ جب ہندوستان میں قدیم آریہ تہذیب پورے عروج پر تھی تو ہستنا پور کے شاہی خاندان میں دولت و اقتدار کی خواہش نے پھوٹ ڈال دی۔ کورو اور پانڈو دو مقابل فریق بن گئے اور دونوں کی تائید میں ہندوستان کے بڑے بڑے امراء و اعیان کھڑے ہو گئے۔ اوّل اوّل سمجھوتے کی کوششیں کی گئیں مگر کامیابی نہ ہوئی۔ آخر دونوں نے قاضیِ شمشیر کو حکم بنایا اور میدانِ جنگ کی عدالت میں اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے جمع ہو گئے۔ کرشن جی اس جنگ میں پانڈوؤں کے حامی تھے۔ پانڈوؤں کا سردار ارجن ان کا چیلا تھا۔ اس کی فوج کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے کرشن جی نے خود اس کے رتھ کی باگیں اپنے ہاتھ میں لے لی تھیں۔ جب میدانِ کارزار میں دونوں فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہوئی اور ارجن نے اپنی آنکھوں سے اپنے دوستوں، عزیزوں اور بھائیوں کو آمادۂ قتال دیکھا تو اس کا دل ٹوٹنے لگا۔ اس نے محبت کے لطیف جذبات سے متاثر ہو کر ارادہ کیا کہ جنگ سے پھر جائے۔ اس پر کرشن جی نے اس کو ایک طویل اُپدیش دیا جو جنگ کے فلسفے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر حاوی تھا۔ یہی اپدیش بھاگوت گیتا ہے [یہ اپدیش دراصل زبانی دیا گیا تھا۔ مہا بھارت کے مصنف نے اس کے معرضِ تحریر میں آنے اور عام طور پر شائع ہونے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ جب کوروؤں کے بزرگ دھرت راشٹر نے اپنی آنکھوں سے اپنے خاندان کی تباہی کا منظر دیکھنا پسند نہ کیا تو ویاس جی نے ایک رتھ بان کو جس کا نام سنجے تھا، اس کے پاس مقرر کر دیا تا کہ وہ جنگ کی مفصل کیفیت من وعن بیان کرتا جائے۔ اس رپورٹر نے کیفیت جنگ کے سلسلہ میں اس گفتگو کا بھی پورا حال دھرت راشٹر کو سنا دیا جو پانڈوؤں کے لشکر میں کرشن جی اور ارجن کے درمیان ہوئی تھی، اور وہ اُپدیش بھی نقل کر دیا جو ارجن کی ہمت افزائی کے لیے کرشن جی نے ارشاد فرمایا تھا۔ بعد میں یہی سنجے کی روایت مہا بھارت کی پوتھی ”بھیشم پرب“ میں نقل کر دی گئی اور اس کا نام ”بھاگوت گیتا“ رکھا گیا (دیکھو تلنگ کا مقدمہ بھاگوت گیتا، صفحہ ۳، اور تلک کی شرح گیتا، حصہ چہارم، صفحہ اوّل)۔ اس سے معلوم ہوا کہ کرشن جی کا یہ اپدیش براہِ راست ان سے یا ان کے حامیوں کے کیمپ سے نقل ہو کر نہیں آیا ہے بلکہ مخالف کیمپ کے ایک راوی نے اسے (غالباً بطریق الہام) سن کر ان کی طرف سے روایت کیا ہے]۔

اس اپدیش کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ جب ارجن کا دل اپنے عزیزوں کو دیکھ کر جنگ سے بیزار ہونے لگا تو اس نے غمزدہ ہو کر کرشن جی سے کہا:

”ہے کرشن! جنگ کرنے کی خواہش سے جو لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں ان رشتہ داروں کو دیکھ کر میرے اعضاء بے حس و حرکت ہوئے جارہے ہیں، منہ خشک ہو رہا ہے، جسم پر لرزہ چڑھ کر میرا رواں رواں کھڑا ہو گیا ہے، کمان میرے ہاتھ سے گری پڑتی ہے ...... ہے کیشو! مجھے تمام لچھن الٹے نظر آ رہے ہیں۔ اپنے عزیزوں کو مار کر مجھے کوئی بھلائی حاصل ہوتی نظر نہیں آتی۔ کرشن! مجھے فتح کی خواہش نہیں، نہ راج چاہیے اور نہ سکھ۔ ہے گووند! راج بھوگ اور زندگی ہی سے ہمیں کیا لطف مل جائے گا؟ جن کے لیے راج کی، عیش و عشرت کے ساز و سامان کی اور سکھ کی خواہش کی جاتی ہے وہی لوگ زندگی اور خوش حالی کی امید چھوڑ کر یہاں جنگ کے لیے کھڑے ہوئے ہیں ...... اگرچہ یہ ہمیں مارنے کے لیے کھڑے ہیں، مگر پھر بھی اے مدہوسودن! تین لوک کے راج کے لیے بھی میں انھیں مارنا پسند نہیں کرتا، پھر اس دنیا کی تو ہستی ہی کیا ہے۔...... خود اپنے رشتہ دار کورووں کو مارنا ہمارے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہے، کیوں کہ اے مادھو! اپنے عزیزوں کو مار کر ہم کس طرح سکھی ہو سکیں گے؟ ...... ہمیں وہ خرابیاں صاف نظر آ رہی ہیں جو خاندان کی تباہی سے پیدا ہوتی ہیں، اس لیے کیوں کر ممکن ہے کہ ہمارے دل میں اس پاپ سے بچنے کا خیال نہ آئے؟ ...... خاندان کی تباہی سے تمام پرانے خاندانی دھرم تباہ ہو جاتے ہیں اور خاندان کے ان دھرموں کے مٹ جانے سے خاندان پر ادھرم کی دھاک جم جاتی ہے ...... ہے جناردن! ہم ایسا سنتے آئے ہیں کہ جن انسانوں کے خاندانی دھرم غائب ہو جاتے ہیں وہ یقینی طور پر نرک ہو جاتے ہیں۔ دیکھو تو سہی، ہم شاہانہ عیش کے لالچ سے اپنے عزیزوں کو مارنے کھڑے ہوئے ہیں، یہ ہم نے بڑا پاپ کرم کرنے کی تیاری کی ہے۔ اس سے تو میرے لیے یہ زیادہ بہتر ہو گا کہ اپنے ہتھیار پھینک دوں، انھیں کچھ روک ٹوک نہ کروں اور ہتھیار بند کورو مجھے میدانِ جنگ میں مار ڈالیں۔‘‘ (ادھیائے ۱، اشلوک ۲۸-۴۶)

ارجن کے ان پاکیزہ اور لطیف خیالات کو سن کر کرشن جی نے تعجب کے ساتھ پوچھا:

’’ہے اُرجن! اس نازک موقع پر تیرے من میں یہ غلط خیال کہاں سے آ گیا جس کی طرف اعلیٰ انسانوں نے کبھی توجہ نہیں کی اور جو ذلیل حالت کو پہنچانے والا اور بدنامی کا باعث ہے؟ ہے پارتھ! ایسا نامرد نہ بن۔ یہ تیری شان کے شایاں نہیں۔ دل کی کمزوری کو چھوڑ اور کھڑا ہو جا۔‘‘ (۲:۲-۳)

اس پر ارجن نے کہا:

’’ان مہاتما کورووں کو مارنے سے اس دنیا میں بھیک مانگ کر پیٹ بھر لینا اچھا ہے۔ کیوں کہ اگر ان مال و دولت کے لوبھی بزرگوں کو میں نے مار لیا تو مجھے ان کے خون سے رنگے ہوئے سامانِ عیش و عشرت کو اس دنیا میں استعمال کرنا پڑے گا...... جن کو مار کر پھر ہمیں زندہ رہنے کی خواہش نہیں ہو سکتی، وہی کورو ہمارے سامنے صف آرا ہیں۔‘‘ (۲: ۵-۶)

ارجن کی اس تقریر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خانہ جنگی تھی جس میں ایک خاندان کے دو فریق حکومت و بادشاہی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو مٹا دینا چاہتے تھے۔ ارجن کے دل نے اس برادر کشی اور حرصِ جاہ کے خلاف اسے ملامت کی اور ضمیر کی اس سرزنش سے متاثر ہو کر وہ شریف سپاہی جنگ سے متنفر ہونے لگا۔ مگر کرشن جی نے اس کے ان خیالات کی تردید کی اور اس کے سامنے ایک جدید فلسفہ پیش کیا جسے گیتا کے راوی نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے:

’’جن کا شوک نہیں کرنا چاہیے تو انھی کا شوک کر رہا ہے اور پھر گیان کی باتیں بھی بگھارتا ہے۔ حالانکہ چاہے کسی کی جان جائے یا رہے گیانی اس کا کچھ افسوس نہیں کرتے...... جس طرح جسم میں رہنے والے کو اسی جسم میں بچپن، جوانی، بڑھاپا حاصل ہوتا ہے، اسی طرح آئندہ دوسرا جسم بھی ملا کرتا ہے، اس لیے گیانی لوگ اس بارے میں کچھ موہ نہیں کرتے۔“ (۱۳:۱۱:۲)

”جسم کی مالک آتما غیر فانی اور ناقابل ادراک ہے اور اس کو حاصل ہونے والے اجسام فانی ہیں، اس لیے اے ارجن! تو جنگ کر۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ آتما مارتی ہے یا آتما ماری جاتی ہے، اس کو سچا گیان حاصل نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ آتما نہ تو مرتی ہے اور نہ ماری جاتی ہے۔ یہ آتما نہ کبھی پیدا ہوتی ہے اور نہ مرتی ہے۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ ایک مرتبہ ہونے کے بعد کبھی پھر نہ ہوتی ہو۔ یہ کبھی بوڑھی نہ ہونے والی، دائم، مسلسل اور قدیم ہے۔ اس لیے جسم کے مارے جانے سے یہ نہیں ماری جاتی۔ ہے پارتھ! جس نے یہ جان لیا کہ یہ آتما غیر فانی، دائم، کبھی نہ بوڑھی ہونے والی اور کبھی نہ مٹنے والی ہے وہ ایک انسان کو کیسے مار ڈالے گا یا مروا دے گا؟ جس طرح کوئی شخص پرانے کپڑوں کو اتار کر نئے کپڑے پہن لیتا ہے، اسی طرح جسم کی مالک آتما بھی پرانے جسم کو چھوڑ کر نیا جسم اختیار کر لیتی ہے۔ اس آتما کو ہتھیار نہیں کاٹ سکتے، آگ نہیں جلا سکتی، نہ اسے پانی تر کر سکتا ہے اور نہ ہوا خشک کر سکتی ہے...... اس لیے اس آتما کو اس طرح کا سمجھ کر اس کے لیے افسوس کرنا تجھے مناسب نہیں ہے۔“ (۲۵-۱۸:۲)

”اگر تو یہ خیال کرتا ہے کہ آتما دائمی نہیں ہے، جسم کے ساتھ ہی پیدا ہوتی اور اس کے ساتھ ہی مر جاتی ہے، تب بھی، اے مہاباہو! اس کے لیے افسوس کرنا تجھے مناسب نہیں، کیوں کہ جو پیدا ہوا ہے اس کی موت یقینی ہے اور جو مرتا ہے اس کا پیدا ہونا لابد ہے، اس لیے اس اٹل بات پر افسوس کرنا تیرے شایان شان نہیں ہے۔“ (۲۷:۲-۲۶)

”سب کے جسموں میں رہنے والی جسم کی مالک آتما کو کبھی کوئی نہیں مار سکتا، اس لیے اے بھارت! کسی جاندار کے لیے افسوس کرنا تجھے مناسب نہیں۔“ (۳۰:۲)

آگے چل کر کرشن جی نے ایک اور فلسفہ بیان کیا جس کی تقریر خود ان کے الفاظ میں نقل کی جاتی ہے:

”اگر تو سب پاپیوں سے بھی زیادہ پاپ کرنے والا ہو تب بھی اس گیان کی کشتی سے ہی تو پاپوں کو پار کر جائے گا۔ جس طرح روشن کی ہوئی آگ تمام ایندھن کو جلا کر خاک کر دیتی ہے، اسی طرح اے ارجن! یہ گیان روپ کی آگ بھی سب کاموں کی نیکی وبدی کی قیود کو جلا ڈالتی ہے۔“ (۴:۳۶-۳۷)

”اے دھننجے! اُس آتم گیانی شخص کو کرم اپنی قیود میں نہیں پھنسا سکتے جس نے کرم یوگ کے سہارے سے کرموں کی قیود کو ترک کر دیا ہے، اور جس کے سب شکوک و شبہات گیان سے دور ہو گئے ہیں۔ اس لیے تیرے دل میں آگیان (عدم عرفان) سے جو شبہ پیدا ہو گیا ہے اسے تو گیان روپ کی تلوار سے کاٹ دے اور کرم یوگ کا سہارا لے کر جنگ کے لیے کھڑا ہوجا۔“ (۴:۴۱-۴۲)

”جو کرم یوگ میں لگ گیا، جس کا دل پاک ہو گیا، جس نے اپنے من اور اپنے حواس پر قابو پا لیا اور سب جانداروں کی آتما ہی جس کی آتما ہو گئی وہ سب کام کرنے کے باوجود کرموں کے عذاب و ثواب سے غیر متاثر رہتا ہے۔“ (۵:۷)

”جو برہم کے ارپن کر کے اور کرم کے تعلق سے بالاتر ہو کر کام کرتا ہے، اس کو اسی طرح پاپ نہیں لگتا جس طرح کمل کے پتے کو پانی نہیں لگتا۔“ (۵:۱۰)